Aseer_e_Muhabbat 2

1656 Words
✦ ایپی سوڈ 4 ✦ شام کے ساڑھے سات بجے کا وقت تھا۔ ریحان کے وسیع و عریض محل نما گھر کی راہداریوں میں ہلکی ہلکی روشنی جگمگا رہی تھی۔ سفید ماربل کے فرش پر قدم پڑتے تو ہلکی سی گونج محسوس ہوتی۔ دیواروں پر لگے قیمتی فن پارے اور چھت سے لٹکے بڑے بڑے جھاڑ فانوس دیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگا سکتا تھا کہ یہ گھر صرف گھر نہیں بلکہ دولت کی نمائش کا ایک شاہکار ہے۔ ریحان اپنی کالے رنگ کی برانڈڈ شرٹ کے بازو موڑتے ہوئے، جیب میں ہاتھ ڈال کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔ اس کی چال میں ایک عجیب سا غرور اور لاپرواہی تھی، جیسے اسے اس دنیا کے کسی شخص کی پرواہ نہ ہو۔ ہاتھ میں موبائل پکڑے وہ کسی دوست سے اونچی آواز میں انگریزی میں بات کر رہا تھا، اور نوکر اس کے سامنے چائے کا کپ رکھتے ہوئے تقریباً جھک ہی گیا تھا۔ "یہ کپ لانے میں تمہیں تین منٹ لگ گئے؟" ریحان کی سرد اور کاٹ دار آواز نکلی۔ نوکر نے گھبرا کر جواب دیا، "صاحب… چائے ابھی ابھی بنی تھی—" "بکواس بند کرو اور نکل جاؤ۔" اس نے تیور بدل کر کہا، اور کپ کو میز پر زور سے رکھ دیا۔ اسی وقت سامنے سے ایک لڑکی تیز قدموں سے اندر آئی۔ نیلی سلک کے کپڑوں میں ملبوس، گلے میں ہیروں کا ہار، چہرے پر میک اپ کی ہلکی جھلک— یہ ماہم تھی، ریحان کی پھوپھو زاد کزن۔ مہرو ہمیشہ سے ریحان کے قریب رہتی تھی، بچپن سے ہی اس پر دِل ہار بیٹھی تھی۔ مگر ریحان کے رویے میں وہی ٹھنڈا غرور تھا، جو اسے کسی کے آگے جھکنے نہیں دیتا تھا۔ "ریحان! تم نے کل کال کیوں نہیں پک کی؟" ماہم نےخفگی سے پوچھا۔ ریحان نے موبائل سے نظر اٹھائے بغیر کہا، "مصروف تھا۔" "اتنا بھی کیا مصروف کہ اپنی کزن کو وقت نہ دے سکو؟" وہ سوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔ ریحان نے ہلکی مسکراہٹ دی، مگر وہ مسکراہٹ عجیب حد تک بے مروت تھی۔ "مہرو، تمہیں پتا ہے نا… میں اپنے حساب سے جیتا ہوں، کسی کے حساب سے نہیں۔" ماہم نے آنکھیں تنگ کیں، "تمہیں لگتا ہے تمہاری یہ بدتمیزی ہمیشہ برداشت کی جائے گی؟" ریحان نے کاندھے اچکائے، "جسے برداشت نہیں کرنی، وہ جا سکتا ہے۔" محل نما گھر کی اس خاموش فضاء میں ریحان کی یہ کڑوی بات گونجی۔ ماہم نے گہری سانس لی، مگر جانے سے پہلے بس اتنا کہا، "یاد رکھنا ریحان… سب تمہاری مرضی سے نہیں ہوتا۔ کبھی وقت بھی اپنی مرضی دکھاتا ہے۔" ریحان نے اس کی طرف دیکھا، مگر آنکھوں میں کسی پشیمانی کا شائبہ تک نہ تھا۔ اسے خبر نہ تھی کہ وہ وقت جلد آنے والا ہے… اور ایک عام سی غریب لڑکی اس کے غرور کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی۔ سکول کی چھٹی کا وقت تھا۔ عینہ، نیلے رنگ کے سادہ کپڑوں میں ملبوس تھکی ہوئی واپس گھر جا رہی تھی۔ وہ گاؤں کے چھوٹے سکول میں پڑھاتی تھی، جہاں بچوں کو علم کی روشنی پہنچانے کا اس کا فرض تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن کے باوجود ایک عزم تھا، اور آنکھوں میں پاکیزہ معصومیت۔ گاؤں کی پتلی گلی میں چلتے ہوئے، اچانک ریحان شاہ کی مہنگی اور چمکدار گھڑی اس کے سامنے زمین پر گرتی ہوئی دکھائی دی۔ وہ گھڑی، جو کلائی پر پہننے کے لیے ہوتی ہے، اچانک اس خاموش گلی میں زور سے زمین سے ٹکرائی اور چمک اٹھی۔ عینہ نےگھڑی اٹھانے کی کوشش کی تو ریحان شاہ، جو اپنی قیمتی کار میں کھڑا تھا، تیزی سے باہر نکلا اور زوردار آواز میں بولا، "تم یہ گھڑی کیوں اٹھا رہی ہو؟" عینہ نے ادب سے جواب دیا، "سر، یہ زمین پر پڑی تھی، میں صرف اٹھا رہی تھی تاکہ گرا نہ جائے۔" ریحان نے طنزیہ انداز میں کہا، "تمہیں کیسے پتہ یہ میری گھڑی ہے؟" عینہ نے آنکھیں جھکا کر کہا، "یہ بہت مہنگی لگتی ہے، شاید آپ کی ہو۔" ریحان نے ایک تلخ مسکراہٹ دی اور کہا، "گاؤں کی کسی معمولی ٹیچر کو میرے بارے میں بات کرنے کا حق نہیں۔" عینہ کی آنکھوں میں ناراضی جھلکی، "سر، میں صرف اپنے کام سے واپس جا رہی تھی، مجھے آپ کے بارے میں کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں۔" ریحان نے تیز لہجے میں کہا، "یہاں تمہیں ہر چیز کی عزت کرنی پڑے گی۔" عینہ نے پختہ لہجے میں جواب دیا، "عزت وہی ہوتی ہے جو دوسروں کے جذبات کا خیال رکھے، نہ کہ صرف دولت کی نمائش کرے۔" ریحان کچھ کہنے لگا مگر اس وقت عینہ کی آواز گاؤں کی خاموش گلی میں گونجتی رہی، "میری عزت اس لیے نہیں کہ میں دولت دار ہوں، بلکہ اس لیے کہ میں اپنے کام سے کوئی کم نہیں۔" ریحان کی آنکھوں میں جھنجھلاہٹ تو تھی مگر اس کی زبان پر الفاظ نہ آ سکے۔ عینہ بغیر کسی خوف کے اپنے راستے چلتی رہی، جبکہ ریحان اپنی گھڑی کو مضبوطی سے تھامے کھڑا رہا۔ اگلی صبح گاؤں میں ایک خاموش سی سرگوشی پھیلی ہوئی تھی—"ریحان شاہ اور رحمت مزدور کی بیٹی کے بیچ کل کوئی تکرار ہوئی ہے۔" یہ خبر گاؤں کے چوک سے نکل کر حویلی تک جا پہنچی۔ ریحان، جو ناشتے کی میز پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا، اپنے والد امجد صاحب کی تیز نگاہوں سے بچ نہ سکا۔ "یہ کیا سن رہا ہوں میں؟" امجد صاحب نے بھاری آواز میں کہا۔ ریحان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اخبار فولڈ کیا، "کچھ نہیں، ایک بدتمیز لڑکی تھی… سبق سکھانا ضروری تھا۔" امجد صاحب نے آنکھیں تنگ کیں، "بیٹا، ہماری عزت صرف دولت سے نہیں بلکہ لوگوں کے دل جیتنے سے بھی ہے۔ تمہارا غرور کسی دن ہمیں مہنگا پڑے گا۔" ریحان نے گردن اکڑاتے ہوئے کہا، "میں اپنی عزت خود سنبھال سکتا ہوں، بابا۔" اس گفتگو کے بعد بھی ریحان کے دماغ میں وہ لمحہ بار بار گھوم رہا تھا جب عینہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عزت کی تعریف بدلی تھی۔ دوسری طرف، عینہ صبح اسکول پہنچی تو چند ساتھی اساتذہ سرگوشیاں کر رہے تھے۔ فاہد کی بہن، جو اسکول میں پڑھاتی تھی، نے مزاقاً کہا، "کل تو تم نے ہمارے زمیندار کو ہی چپ کرا دیا۔" عینہ نے مسکرا کر کہا، "میں نے بس سچ کہا تھا۔" مگر دل میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی کہ یہ بات کہاں تک پھیل گئی ہے۔ ✦ ایپی سوڈ 7 ✦ دوپہر ڈھل چکی تھی۔ گاؤں کی سنسان گلیوں میں ہلکی سی ہوا چل رہی تھی۔ عینہ آنگن میں چارپائی پر بیٹھی سلائی میں مصروف تھی لیکن دماغ کہیں اور بھٹک رہا تھا۔ ریحان شاہ کے ساتھ ہونے والی بحث بار بار ذہن میں گونج رہی تھی۔ رحمت بابا کمرے سے باہر آئے، ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ "عینہ بیٹا، ذرا آنا۔" انہوں نے آہستگی سے پکارا۔ عینہ نے سلائی کا کپڑا نیچے رکھا اور ان کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ "جی بابا؟" رحمت بابا نے چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ "میں نے سنا ہے آج تمہارا ریحان شاہ سے جھگڑا ہوا ہے۔" ان کی آواز میں نرمی تھی مگر آنکھوں میں فکر صاف دکھائی دے رہی تھی۔ عینہ نے نظریں جھکا لیں۔ "بس بابا، بات ہی ایسی ہو گئی تھی… وہ بہت بدتمیزی کر رہا تھا۔" رحمت بابا نے گہرا سانس لیا۔ "بیٹا، ریحان شاہ… وہ عام آدمی نہیں ہے۔ اس کی زبان اور مزاج دونوں سخت ہیں۔ ایسے لوگ چھوٹی بات پر بڑی دشمنی پال لیتے ہیں۔ تم عورت ذات ہو، تمہارا کام یہ نہیں کہ ان کے ساتھ زبان لڑاؤ۔" عینہ نے آہستگی سے کہا، "لیکن بابا، میں غلط برداشت نہیں کر سکتی۔" رحمت بابا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "میں جانتا ہوں تم حق پر ہو، مگر کبھی کبھی حق چھپانا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اس سے دور رہو۔ اس کی راہ میں مت آنا۔ تمہاری عزت اور سکون سب سے قیمتی ہیں۔" عینہ خاموش رہی، لیکن دل کے اندر کہیں ایک ضد اور تجسس کی لہر ابھر آئی۔ وہ جانتی تھی کہ ریحان شاہ کے بارے میں سن کر بھی، اس کا دماغ اس شخص کو بھولنے والا نہیں۔ ✦ ایپی سوڈ 8 ✦ شہر کے سب سے بڑے فائیو اسٹار ہوٹل کے کانفرنس ہال میں ایک خاص سا وقار اور سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ لمبی لمبی کرسٹل کی جھاڑ فانوسیں چھت سے لٹک رہی تھیں اور نیچے، شاندار گول ٹیبل پر لیپ ٹاپس، فائلز اور منرل واٹر کی بوتلیں سجی ہوئی تھیں۔ کمرے میں بیٹھے تمام لوگ ایک ہی چہرے کی طرف منتظر نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ دروازہ دھیرے سے کھلا اور ریحان شاہ اپنے مخصوص انداز میں اندر داخل ہوا۔ سیاہ تھری پیس سوٹ، چمکتی گھڑی، اور آنکھوں میں وہی اَن کہی برتری… جیسے یہ کمرہ، یہ لوگ اور یہ میٹنگ سب اس کی مرضی کے محتاج ہوں۔ اس کے قدموں کی چاپ سن کر ہر طرف ہلکی سی کھسر پھسر بند ہو گئی۔ ریحان شاہ کرسی پر بیٹھا تو ایک ہلکی سی نگاہ سب پر ڈالی — وہ نگاہ جو بیک وقت جانچ بھی لیتی تھی اور پرکھ بھی۔ "چلیں… ٹائم ضائع کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں۔" اس کی آواز بھاری اور رعب دار تھی۔ پروجیکٹر آن ہوا، سلائیڈز چلنے لگیں، اور جونیئر مینیجرز میں سے ایک نے نئے پروجیکٹ کی تفصیل پیش کرنا شروع کی۔ چند منٹ سننے کے بعد ریحان شاہ کی نظریں سخت ہو گئیں۔ "یہ جو تم نے رپورٹ تیار کی ہے، اس میں نمبر غلط ہیں… اور یہ غلطی صرف نااہلی نہیں، لاپرواہی ہے۔" اس نے جونیئر کی طرف اشارہ کیا، جو فوراً گھبرا گیا۔ "سوری سر… میں—" "سوری سے بزنس نہیں چلتا۔ اگلی بار یہ سب تیار کر کے آؤ تو ذہن میں رکھو کہ یہ ریحان شاہ کا پروجیکٹ ہے۔ سمجھ آئی؟" کمرے میں ایک لمحے کو سکوت چھا گیا۔ باقی سب لوگ مزید محتاط ہو کر نوٹس لینے لگے۔ میٹنگ کے دوران اس کے دماغ میں بار بار ایک چہرہ ابھر رہا تھا — انا کا۔ کیا واقعی اس لڑکی کے رویے میں اتنا غرور تھا، یا اسے صرف اپنی بات منوانا نہیں آتا تھا؟ اس نے فوراً خود کو جھٹکا دیا۔ بزنس میٹنگ میں ذاتی خیالات کی کوئی جگہ نہیں۔
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD