✦ ایپی سوڈ 9 — "امتحان کا دن" ✦
صبح کی ہلکی ہلکی دھوپ گاؤں کے کچے راستوں پر پھیل رہی تھی۔ دور کھیتوں میں کسان ہل چلا رہے تھے اور پرندے اپنی روز کی چہچہاہٹ سے ماحول کو زندگی دے رہے تھے۔ عینہ صحن میں بیٹھی اپنے بھائی فاہد کی قمیض کا بٹن ٹانک رہی تھی۔ آج اسکول میں رزلٹ ڈے تھا اور فاہد کا دل گھبراہٹ اور جوش میں ڈوبا ہوا تھا۔
"باجی… نمبر اچھے نہ آئے نا تو امی ناراض ہو جائیں گی؟" فاہد نے آہستہ سے پوچھا۔
عینہ نے سلائی کا دھاگہ کاٹ کر مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
"امی ناراض نہیں ہوں گی اگر تم نے محنت کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم نے کوشش کتنی کی۔"
فاہد نے ہلکی سی شرمندگی سے کہا، "پچھلے پیپر میں میرا میتھ کمزور تھا… لیکن باقی سب اچھا گیا ہے۔"
"تو پھر فکر کس بات کی؟" عینہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "چلو، میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔"
---
گاؤں کے راستے پر دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ دھوپ اب ذرا تیز ہو چکی تھی مگر ہلکی سی ہوا کے جھونکے انہیں سکون دے رہے تھے۔ راستے میں کچھ گاؤں والے ملے، جنہوں نے عینہ کو سلام کیا اور کہا،
"آج رحمت کی بیٹی اور بیٹے دونوں کا دن ہے۔"
اسکول کا گیٹ سامنے آیا۔ وہی پیلی دیواریں، چھوٹا سا سبز گیٹ، اور اندر صحن میں ہلچل۔ والدین، بچے، اور اساتذہ سب اپنی اپنی گفتگو میں مصروف تھے۔
عینہ چونکہ یہاں پڑھاتی تھی، اس لیے سب اسے عزت سے دیکھ رہے تھے۔ وہ سیدھا اسٹاف روم میں گئی اور وہاں سے پرنسپل صاحب کے ساتھ رزلٹ ڈیسک پر آ بیٹھی۔ اس کا دل اپنے بھائی کے نام کے انتظار میں دھڑک رہا تھا۔
جب بچوں کے نام پکارے جانے لگے تو فاہد قطار میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے ہاتھ پسینے سے بھیگ گئے تھے۔ عینہ نے دور سے اشارہ کر کے اسے حوصلہ دیا۔
"فاہد بن رحمت!" پرنسپل صاحب نے بلند آواز میں نام پکارا۔
فاہد آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ پرنسپل صاحب نے رجسٹر میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا،
"شاباش فاہد! تم نے اس سال 83 فیصد نمبر لیے ہیں۔ بہت عمدہ!"
فاہد کی آنکھوں میں خوشی کی چمک آ گئی۔ اس نے فوراً پیچھے مڑ کر عینہ کو دیکھا، جیسے کہنا چاہتا ہو، "میں نے کر دکھایا۔"
عینہ کا دل فخر سے بھر گیا۔ وہ فوراً ڈیسک سے اٹھی اور بھائی کے پاس جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،
"یہی تو وہ دن ہے جس کے لیے ہم محنت کرتے ہیں۔"
---
رزلٹ لینے کے بعد دونوں اسکول کے صحن میں تھوڑی دیر رکے۔ باقی بچے بھی اپنے اپنے نتائج دکھاتے پھر رہے تھے۔ کسی کے چہرے پر خوشی تھی، کسی پر مایوسی۔ عینہ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنے بھائی کو الگ لے جا کر کہا،
"دیکھو فاہد، یہ نمبر تمہاری کامیابی کا آغاز ہیں، انجام نہیں۔ اگلے سال اس سے بھی بہتر کرنے کا وعدہ کرو۔"
فاہد نے فوراً کہا، "وعدہ، باجی۔"
اسی وقت اسکول کے باہر ایک چمکتی ہوئی سیاہ گاڑی آ کر رکی۔ گاؤں میں ایسی گاڑی کا مطلب تھا کہ یا تو کوئی شہر سے خاص مہمان آیا ہے یا پھر… ریحان شاہ۔
ریحان اپنی مخصوص مغرور چال سے باہر نکلا۔ سفید شرٹ، سیاہ شلوار، اور آنکھوں میں وہی برتری کا احساس۔ اس نے اسکول کے گیٹ کے پاس چند لمحے رک کر اندر جھانکا، اور جیسے ہی اس کی نظر عینہ پر پڑی، اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
عینہ نے نظر انداز کرنے کی کوشش کی اور بھائی کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکلنے لگی۔ مگر ریحان نے راستے میں آ کر کہا،
"کیا بات ہے، آج اتنی خوش کیوں ہو؟"
عینہ نے بغیر رکے جواب دیا، "میرے بھائی نے اچھے نمبر لیے ہیں۔"
ریحان نے ایک نظر فاہد پر ڈالی، پھر طنزیہ لہجے میں کہا،
"اچھا ہے… کم از کم کوئی تو تمہارے گھر سے کامیاب ہو رہا ہے۔"
یہ جملہ سن کر فاہد کا چہرہ اتر گیا۔ عینہ کے قدم رک گئے۔ اس نے گہری نظر ریحان پر ڈالی اور کہا،
"کامیابی نمبر یا دولت سے نہیں، محنت سے ہوتی ہے۔ اور اس معاملے میں میرا بھائی تم سے آگے ہے۔"
ریحان کی مسکراہٹ لمحہ بھر کو مدھم پڑ گئی۔ عینہ بغیر ایک لمحہ ضائع کیے آگے بڑھ گئی، مگر ریحان کی نظریں اس کے مضبوط لہجے کو محسوس کر رہی تھیں۔
ریحان نے طنزیہ انداز میں ہنستے ہوئے کہا،
"اچھا؟ اور یہ تمہاری خوشی کی کیا وجہ ہے؟ کیا وہ تمہاری طرح اتنا خاص ہے؟"
عینہ نے پلکیں جھکا کر کہا،
"ہاں، وہ میرے لیے بہت خاص ہے۔ اور اس نے محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ تم سے کہیں زیادہ۔"
ریحان کے چہرے پر مسکراہٹ مدھم پڑ گئی، مگر وہ فوراً اپنی بات پر زور دیتا ہوا بولا،
"تمہیں لگتا ہے کہ تمہیں کسی کو نظرانداز کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہیں سمجھنا ہوگا کہ یہاں سب کچھ طاقت اور اثرورسوخ سے چلتا ہے۔"
عینہ نے قدم بڑھایا، اور اپنی آنکھوں میں پختگی لیے کہا،
"ریحان شاہ ، طاقت وہ نہیں جو دوسروں کو دباتی ہے، بلکہ وہ ہے جو دوسروں کی عزت کرتی ہے۔ میں تمہیں نظرانداز اس لیے کر رہی ہوں کیونکہ تم نے عزت نہیں دی۔"
ریحان کے چہرے پر غصہ ابھر آیا،
"تمہاری یہ اکڑ تمہیں مہنگی پڑے گی۔ تمہیں میری طاقت توڑنی پڑے گی۔"
عینہ نے اپنے بیگ کو مضبوطی سے پکڑا،
"میری طاقت میرے اصول ہیں۔ اور وہ کبھی نہیں ٹوٹتے۔"
ریحان نے گہری سانس لی اور کہا،
"تو پھر دیکھتے ہیں کون کس کو توڑتا ہے…"
عینہ نے آنکھیں جھکا لیں اور خاموشی سے اپنی راہ لے لی، اور ریحان تنہا کھڑا رہ گیا، اپنے غرور اور احساس شکست کے درمیان لڑتا ہوا۔
---
"ہم اگلے ہفتے فائنل ڈیل سائن کریں گے،" اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ "اور یاد رکھیں… میں ہر چیز پرفیکٹ چاہتا ہوں۔"
یہ کہہ کر وہ اپنے مخصوص اعتماد کے ساتھ کمرے سے نکل گیا، پیچھے موجود سب اس کی سختی کے باوجود اس کی صلاحیت کے معترف رہ گئے۔
✦ ایپی سوڈ 11 — "گھر کی نرم چھاؤں" ✦
رات کے آہستہ آہستہ گہرے سناٹے میں، گاؤں کا ہر گوشہ سکون میں ڈوبا ہوا تھا۔ عینہ تھکی ہوئی اپنے چھوٹے سے کچے گھر میں داخل ہوئی۔ دن بھر کی محنت اور ذہنی تھکن نے اس کے جسم کو بوجھل کر دیا تھا۔ اس کے قدم نرم چپکے چپکے صحن کی طرف بڑھ رہے تھے۔
گھر کا دروازہ کھولا تو ماں شگفتہ بیگم چولہے کے پاس بیٹھی تھیں۔ ان کی بیماری کی حالت آج کچھ زیادہ ہی نازک نظر آ رہی تھی۔ مگر ان کی آنکھوں میں بیٹی کے لئے محبت اور فکر کی وہی چمک تھی جو ہر دن ان کے دل کو زندہ رکھتی تھی۔
عینہ نے آہستہ سے کہا، "امی، میں آ گئی۔"
شگفتہ بیگم نے اپنی کمزور آواز میں جواب دیا، "بیٹی، تم بہت دیر سے آ رہی ہو۔ کھانا کھا لیا؟"
عینہ نے تھوڑا سا مسکرا کر کہا، "ہاں، لیکن کچھ دن سے نیند نہیں آ رہی۔ سوچوں کا بوجھ زیادہ ہو گیا ہے۔"
ماں نے آہستگی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، "بیٹا، نیند ہماری سب سے بڑی دوا ہے۔ تم ذرا آرام کرو۔"
عینہ تھکاوٹ سے صوفے پر بیٹھی تو ماں اس کے قریب آ کر اپنی نرم انگلیوں سے اس کے ماتھے کو سہلا رہی تھی۔ وہ کبھی کبھی اپنی بیماری کو بھول کر بیٹی کو چھوتی، جیسے کہ اپنی تمام پریشانیاں اس کے سینے میں دفن کر دے۔
عینہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر اس نے چپ چاپ انہیں روک لیا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے آنسو ماں کے دل کو اور زیادہ توڑ دیں گے۔
ماں نے آہستہ سے کہا، "بیٹی، اللہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔ تم بھی خود کو کمزور مت سمجھو۔ تم میں وہ طاقت ہے جو ہمیں ہمیشہ آگے لے جائے گی۔"
عینہ نے ماں کی بات کو دل سے لگایا اور آہستہ سے کہا، "امی، میں آپ کی دعاؤں کی قدر کرتی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔"
شگفتہ بیگم نے مسکرا کر کہا، "یقین رکھو بیٹا، تمہاری محنت رنگ لائے گی۔"
عینہ نے اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے دل میں عہد کیا کہ وہ کبھی ہار نہیں مانے گی۔ آج وہ تھکی ہوئی تھی، مگر کل کے لئے اس کے جذبے میں نئی روشنی تھی۔
بستر پر لیٹتے ہی وہ خاموشی سے اپنے ہاتھوں کو دعا کے لئے جوڑتی رہی، اور اس کے دل میں ایک امید کی کرن نے جنم لیا کہ محبت اور محنت کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔
---
ایپی سوڈ 12 — "دھوپ چھاؤں کا سودا" ✦
ریحان شاہ اپنے دفتر کے کمرے میں کھڑا تھا، اس کی آنکھیں کھڑکی سے باہر شہر کی روشنیوں پر جمائی ہوئی تھیں، مگر دل کہیں اور الجھا ہوا تھا۔ چند منٹ پہلے ہی اس کے والد، امجد صاحب، سخت مگر محبت بھرے لہجے میں اس سے بات کر کے گئے تھے۔
امجد صاحب نے اپنے کمرے کے دروازے سے باہر جاتے ہوئے کہا تھا،
"بیٹا، تمہیں سمجھنا ہوگا کہ طاقت صرف دولت یا اثرورسوخ نہیں ہوتی، بلکہ اپنے خاندان کی عزت اور ذمہ داری بھی ہے۔"
ریحان نے جھنجھلا کر جواب دیا،
"بابا، میں وہ کام کر رہا ہوں جو مجھے کرنا ہے۔ کاروبار میں نرم دل ہونا کمزوری ہے۔"
امجد صاحب نے پیچھے مڑ کر کہا،
"نرمی اور کمزوری میں فرق ہوتا ہے، ریحان۔ تم جو طریقے اختیار کر رہے ہو، وہ ایک دن ہمیں نقصان پہنچائیں گے۔"
ریحان نے بازوؤں کو کراس کرتے ہوئے کہا،
"میں جانتا ہوں کیا کر رہا ہوں، ابا۔ تمہاری باتوں سے نہیں ڈرنا۔"
امجد صاحب کی آواز میں درد تھا،
"بیٹا، میں تمہیں دنیا کی سب طاقت دے سکتا ہوں، مگر وہ طاقت تب تک نہیں رہتی جب تک اس کے ساتھ عاجزی اور احترام نہ ہو۔ تم نے اپنی طاقت کو کبھی نرم دلائی سے آزمایا ہے؟"
ریحان نے منہ بگاڑ کر کہا،
"میں اپنی طاقت سے ہی سب کچھ سنبھال سکتا ہوں۔ لوگوں کی عزت اور محبت ایک عارضی چیز ہے۔"
امجد صاحب نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا،
"یہ سوچ تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔ یاد رکھو، اصل کامیابی وہ ہے جو دل جیت کر حاصل کی جائے، صرف پیسوں سے نہیں۔"
ریحان نے سخت لہجے میں کہا،
"میں اپنے انداز میں کامیاب ہوں گا، چاہے کوئی کچھ بھی کہے۔"
امجد صاحب نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
"بھئی، میں تمہاری ہمت کو سلام کرتا ہوں، مگر تمہیں اپنے فیصلوں پر غور کرنا ہوگا۔ زندگی میں کبھی کبھی نرم دل ہونا بھی بہادر پن کی نشانی ہوتی ہے۔"
ریحان خاموش رہا، مگر اس کے دل میں کہیں ایک شک کے بیج بو دیے گئے تھے۔ کیا واقعی اس کی طاقت اس کے غرور کو قابو کر سکتی ہے؟ یا اس کی دنیا اس غرور کی زنجیروں میں جکڑی جا رہی ہے؟
کمرے کی دیواروں پر لٹکے خاندان کے قدیم تصویروں میں سے ایک پر اس کی نظر پڑی۔ دادا کی تصویر، جو کبھی زمینداری اور عزت کی علامت تھی، مگر اس کے ساتھ ایک روشن آنکھوں والی عورت کی تصویر بھی تھی، جو نرم دلی اور محبت کی علامت تھی۔
ریحان نے دل میں خود سے کہا،
"شاید اب وقت آ گیا ہے کہ میں اپنی طاقت کے مطلب کو دوبارہ سمجھوں۔"
اسی لمحے اس کے موبائل پر ایک پیغام آیا — ایک نامعلوم نمبر سے:
"طاقت تب تک ہے جب تک محبت اور عزت ساتھ ہو۔"
ریحان نے گہری سانس لی، اور اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا،
"یہ لڑائی صرف بزنس کی نہیں، بلکہ اپنے آپ سے بھی ہے۔"