✦ ایپی سوڈ 13 ✦
گاؤں کی صبح کچے راستوں پر دھند کا ہلکا سا جال بچھا رہی تھی۔ ریحان شاہ کے بنگلے میں مگر یہ صبح عام نہ تھی۔
رات کو امجد صاحب کے الفاظ اب بھی اس کے دماغ میں گونج رہے تھے —
"انسان کے پاس سب کچھ ہو مگر دل نہ ہو، تو وہ خالی ہوتا ہے، بیٹا!"
ریحان نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ چہرہ سخت، نظریں تیز، مگر دل کے اندر ہلکی سی بےچینی۔
"بزرگوں کی فلسفیانہ باتیں… میرے لیے نہیں!" وہ بڑبڑایا، مگر دل کے اندر ایک ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوا۔
نیچے لان میں ماہم بیٹھی تھی، نازک چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے، آنکھوں میں چمک لیے۔
"صبح بخیر،" اس نے نرمی سے کہا۔
ریحان نے ہلکی سی گردن ہلائی اور میز پر بیٹھ گیا۔
"کل گاؤں کی طرف جا رہی تھی،" ماہم نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا، "راستے میں ایک لڑکی نظر آئی… اسکول سے واپس آ رہی تھی۔ عجیب سا اعتماد تھا اس میں۔"
ریحان نے بےپروائی سے پانی کا گلاس اٹھایا۔ "ہوگا کوئی استاد یا گاؤں کی عورت۔"
ماہم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ "ہو سکتا ہے۔ لیکن… اس کی آنکھوں میں تمہیں دیکھ کر ایک لمحے کو جو تبدیلی آئی… وہ عام نہیں تھی۔"
ریحان کا ہاتھ لمحہ بھر کو رکا، مگر اس نے چہرے پر کوئی تاثر نہ آنے دیا۔
"میں ہر بات پر غور نہیں کرتا، ماہم۔" اس کا لہجہ ٹھنڈا تھا، مگر دل میں ایک چنگاری ضرور لگی۔
دوپہر کے قریب، گاؤں کے بیچوں بیچ ریحان کی گاڑی کھڑی تھی۔ وہ زمین کے معاملات دیکھنے آیا تھا، مگر نظر بار بار اس طرف اٹھتی جہاں اسکول کا راستہ تھا۔
اتنے میں وہی قدموں کی چاپ سنائی دی — ہلکی، مگر باوقار۔
عینہ۔
نظریں جھکی ہوئی، مگر قدم تیز۔
ریحان نے یونہی بات کرتے ہوئے کسان کو روکا اور آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔
"کافی جلدی میں لگتی ہو۔"
عینہ رکی، ایک لمحے کو اس نے سیدھا دیکھا، پھر کہا — "گھر جا رہی ہوں۔"
ریحان کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر آنکھوں میں عجیب سا چیلنج۔
"گاؤں میں سب کی رفتار دیکھی ہے… تم سب سے الگ ہو۔"
عینہ نے بغیر کچھ کہے قدم بڑھا دیے، مگر اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی — کیونکہ وہ جانتی تھی، یہ شخص اسے پہچانتا ہے… اور شاید جان بوجھ کر انجان بن رہا ہے۔
دور کھڑی ماہم نے یہ منظر دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی اور خود سے سرگوشی کی —
"کھیل تو ابھی شروع ہوا ہے۔"