فیصلہ تقدیر

2084 Words
فیصلہِ تقدیر - مکمل ناول - Full Episode* لاہور گلبرگ میں چوہدری حسین کی حویلی تھی۔ عمر 48 سال، کروڑوں کا کاروبار، نوکر چاکر، گاڑیاں۔ مگر دل خالی تھا۔ 15 سال شادی ہو گئی، اللہ نے اولاد نہیں دی تھی۔ نسرین بیگم ہر رات تہجد میں روتیں "یا اللہ، ایک بیٹی دے دے"۔ اللہ نے سن لی۔ نسرین کے گھر بیٹی پیدا ہوئی۔ چاند کا ٹکڑا۔ گورا رنگ، گھنگریالے بال، اور توتلی زبان۔ جب بولتی تو "چوہدری حسین" کو "ابو" کہتی، "نسرین" کو "اماا"، ۔ چوہدری حسین دفتر سے آتے ہی پکارتے "میری توتلی گڑیا کہاں ہے" اور ماریہ دوڑ کر ان کی گود میں چلی جاتی۔ نام رکھا ماریہ۔ ماریہ 3 سال کی ہوئی تو پورے گھر کی جان بن گئی۔ گلے میں سونے کا لاکٹ ڈالا ہوا تھا۔ بائیں بازو پر چھوٹا سا تل تھا۔ پیدائشی نشان۔ نسرین بیگم اسے ایک سیکنڈ کے لیے بھی نظر سے اوجھل نہ کرتیں۔ بسنت کا دن تھا۔ باہر میلہ لگا ہوا تھا۔ ڈھول شہنائی، رنگ برنگے جھولے۔ ماریہ نے ضد کر دی "ابو، میلاا جاؤں گی، جھولاا جھولوں گی"۔ چوہدری حسین نے نسرین سے کہا "بیگم، بیٹی کو لے جاؤ"۔ نسرین نے ماریہ کو پنک فراک پہنایا، سر پر ربن باندھا، ہاتھ میں پکڑ کر باہر نکل گئیں۔ میلہ میں دھکم پیل تھی۔ ماریہ کو غبارہ چاہیے تھا۔ "اماا، غباارا دوو"۔ نسرین نے ایک ہاتھ سے پرس پکڑا، دوسرے سے ماریہ کا ہاتھ۔ اچانک پیچھے سے دھکا لگا۔ نسرین کا پاؤں مڑا۔ ہاتھ چھوٹ گیا۔ ماریہ غبارے والی دکان کی طرف بھاگی۔ "ابو، غباارا"۔ "ماریہ! بیٹا رک جاؤ!" نسرین چیخیں۔ مگر ڈھول کی آواز میں آواز دب گئی۔ ایک پل میں 3 سال کی بچی ہزاروں کے ہجوم میں گم ہو گئی۔ نسرین پاگل ہو گئیں۔ "میری بیٹی! میری توتلی گڑیا!" وہ دوڑتی رہیں، گرتی رہیں۔ پولیس آئی۔ مائیک پر اعلان ہوا۔ "3 سال کی بچی گم ہے۔ نام ماریہ۔ باپ کا نام چوہدری حسین۔ توتلی بولتی ہے۔ گلے میں سونے کا لاکٹ، بازو پر تل ہے۔ جسے ملے 20 لاکھ انعام"۔ ساری رات تلاش ہوتی رہی۔ ماریہ نہ ملی۔ چوہدری حسین جب گھر آئے تو حویلی میں ماتم تھا۔ نسرین زمین پر پڑی تھیں۔ ماریہ کا جھولا خالی تھا۔ اس کے جوتے، اس کی گڑیا، سب بکھرے پڑے تھے۔ چوہدری حسین نے بیٹی کے جوتے اٹھا کر سینے سے لگا لیے۔ "میری توتلی گڑیا کہاں ہے؟ وہ ابو کیوں نہیں کہے گی؟" ان کی آواز بند ہو گئی۔ داڑھی آنسوؤں سے بھیگ گئی۔ اخبار میں اشتہار لگے۔ ٹی وی پر خبر چلی۔ مسجدوں میں اعلان ہوا۔ 1 مہینہ، 2 مہینہ، 6 مہینہ، 1 سال، 2 سال، 3 سال۔ ماریہ کا پتہ نہ چلا۔ نسرین بیگم نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ رات کو ماریہ کے کمرے میں جا کر اس کا تکیہ چومتیں۔ "بیٹا، اماں سے بات کر لے۔ ایک بار توتلی زبان میں اماا کہہ دے"۔ چوہدری حسین رات رات بھر جاگتے۔ موبائل میں ماریہ کی ویڈیو دیکھتے۔ 3 سال کی ماریہ توتلی زبان میں کہہ رہی تھی "ابو، چااند دوو"۔ پھر خود ہی ہنس دیتی۔ چوہدری حسین وہ ویڈیو دیکھ کر رو پڑتے۔ 3 سال بعد نسرین بیگم نے شوہر کا ہاتھ پکڑا۔ "حسین، اب ہم کیا کریں؟ گھر ویران پڑا ہے۔ اللہ ہمیں اولاد نہیں دے رہا۔ چلو یتیم خانے سے کسی بچے کو گود لے لیتے ہیں۔ کسی کا سہارا بن جائے گا، ہمارا دل بہل جائے گا"۔ چوہدری حسین نے ہاں کر دی۔ دونوں یتیم خانے گئے۔ 2 سال کا بچہ سہیل انہیں مل گیا۔ معصوم آنکھیں، مسکراہٹ۔ نسرین نے اسے گود میں اٹھا لیا۔ "بیٹا، آج سے تم ہمارے ہو"۔ چوہدری حسین نے سہیل کو اپنا نام دیا، اپنی دولت دی، اپنی محبت دی۔ سہیل کو کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ سگا بیٹا نہیں ہے۔ سہیل بھی ماں باپ کو جان سے زیادہ چاہتا تھا۔ "ابو، اماا" کہہ کر سارا گھر سر پر اٹھا لیتا۔ سہیل بڑا ہوا تو چوہدری حسین نے اسے BSc کے لیے England بھیج دیا۔ سہیل 4 سال بعد ڈگری لے کر واپس آیا تو ماں باپ خوشی سے پاگل ہو گئے۔ "میرا بیٹا ڈاکٹر بن گیا"۔ سہیل نے باپ کا کاروبار سنبھال لیا۔ ادھر 400 کلومیٹر دور فیصل آباد کی کچی آبادی میں شمیم بی رہتی تھی۔ بیوہ تھی۔ 2 بیٹے تھے۔ گھر میں فاقے تھے۔ وہی بسنت کے دن وہ میلے میں گئی ہوئی تھی۔ اسے سڑک کے کنارے ایک بچی روتی ہوئی ملی۔ 3 سال کی، فراک گندا، گلے میں لاکٹ، بازو پر تل۔ بچی توتلی زبان میں رو رہی تھی "اماا، گھر جاؤں گی، ابو"۔ شمیم بی کا دل پگھل گیا۔ اس نے بچی کو گود میں اٹھا لیا۔ دودھ پلایا۔ نام پوچھا تو بچی بولی "ماا... ریہ"۔ شمیم بی سمجھی شاید "ماریہ" کہہ رہی ہے۔ مگر غریبی میں کون اخبار پڑھتا؟ کون ٹی وی دیکھتا؟ اس نے بچی کو گھر لا کر پال لیا۔ نام رکھ دیا زینب۔ مگر زینب کو کیا پتہ تھا کہ وہ چوہدری حسین کی بیٹی ماریہ ہے۔ 10 سال گزر گئے۔ زینب 13 سال کی ہو گئی۔ شمیم بی بیمار ہو کر مر گئی۔ زینب یتیم ہو گئی۔ محلے والوں نے رحم کر کے اسے ایک بیوہ کے گھر برتن دھونے پر لگا دیا۔ زینب توتلی تو نہیں بولی، مگر بچپن کی عادت سے کبھی کبھی "اماا" کہہ دیتی تھی۔ لوگ ہنستے "پاگل ہے"۔ زینب 18 سال کی ہوئی تو محلے کے ایک آدمی وقاص نے اس سے شادی کر لی۔ وقاص نشے کا عادی تھا۔ ہیروئن پیتا تھا۔ 2 مہینے بعد اس نے زینب کو لاہور کے ایک کوٹھے پر 5 لاکھ میں بیچ دیا۔ "یہاں کام کر، پیسے ملیں گے"۔ زینب کو جب کوٹھے میں بند کیا گیا تو مالکن نے کہا "ناچو"۔ زینب چیخی "نہیں! میں تائیف نہیں ہوں! میں ایسی نہیں ہوں! میرے ماں باپ نے مجھے بیچ دیا تھا جب میرے سگے اپنے نہیں تھے۔ اب تم کیوں مجھ سے یہ کروا رہی ہو؟" مالکن ہنسی "سب یہی کہتے ہیں۔ پھر ناچتی ہیں۔ تمہیں یہی بننا پڑے گا"۔ زینب نے پہلی بار مجبور ہو کر ناچا۔ آنسو بہتے رہے۔ دل مرتا رہا۔ رات کو روتی رہی "یا اللہ، موت دے دے"۔ ایک رات زینب کوٹھے سے بھاگی۔ ننگے پاؤں، پھٹے کپڑوں میں۔ سڑک پر بھاگتی رہی۔ روتی رہی "ابو، اماا، بچا لو"۔ اسی سڑک پر رات 2 بجے سہیل جا رہا تھا۔ England سے BSc کر کے واپس آیا تھا۔ مہنگی گاڑی چلا رہا تھا۔ اچانک ایک لڑکی گاڑی کے آگے آ گئی۔ بریک لگی۔ ٹائر چرچرائے۔ سہیل دوڑ کر نکلا۔ لڑکی بے ہوش پڑی تھی۔ گلے میں لاکٹ تھا۔ بازو پر تل تھا۔ چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ سہیل نے اسے ہسپتال پہنچایا۔ علاج کروایا۔ زینب کو ہوش آیا تو سہیل نے پانی پلایا۔ زینب نے توتلی زبان میں کہا "شکریا بھائییا"۔ سہیل کا دل پگھل گیا۔ اس نے زینب کو اپنے گھر لے آیا۔ نسرین بیگم نے زینب کو دیکھا تو ماں کا دل تڑپ اٹھا۔ مگر 15 سال گزر چکے تھے۔ ماریہ تو 3 سال کی بچی تھی۔ یہ تو 18 سال کی لڑکی تھی۔ پھر بھی نسرین نے زینب کو گلے لگا لیا۔ "بیٹی، تمہارے ساتھ کیا ہوا؟" زینب نے ساری کہانی سنائی۔ کوٹھے والی، شوہر والی، ناچنے والی۔ نسرین روتی رہیں۔ چوہدری حسین خاموش رہے۔ ان کے دل میں ایک ہلکی سی امید جاگی۔ مگر انہوں نے دبا دی۔ "نہیں، میری ماریہ تو 3 سال کی تھی"۔ سہیل زینب سے محبت کرنے لگا۔ زینب کی آنکھوں کا دکھ دیکھ کر اس کا دل بھر آیا۔ 6 مہینے بعد سہیل نے زینب سے نکاح کر لیا۔ نکاح کے وقت مولوی نے پوچھا "لڑکی کا نسب کیا ہے؟" سہیل نے کہا "یتیم ہے، اللہ کی بندی ہے"۔ نکاح ہو گیا۔ شادی کے بعد زینب حویلی میں رہنے لگی۔ مگر اس کے دل میں کوٹھے کی ٹھوکر کا زخم تھا۔ اسے ہر امیر سے نفرت تھی۔ وہ نسرین بیگم سے بدتمیزی کرتی۔ "تم امیر لوگ غریبوں کی عزت نہیں کرتے"۔ چوہدری حسین خاموش رہتے۔ سہیل سمجھاتا "زینب، یہ تمہارے ماں باپ ہیں"۔ زینب ہنس دیتی "ماں باپ تو مر گئے۔ جس ماں باپ نے بیٹی بیچ دی وہ ماں باپ کیا"۔ دل میں سوچتی "اس دنیا میں کوئی کسی کا نہیں۔ ہاں ماں باپ بھی نہیں۔ جو ماں باپ بیچ سکتے ہیں میرا کوئی نہیں"۔ ایک دن صفائی کرتے ہوئے زینب کے ہاتھ ماریہ کا پرانا البم لگ گیا۔ 3 سال کی بچی کی تصویر۔ پنک فراک، سر پر ربن، گلے میں لاکٹ، بازو پر تل۔ نیچے لکھا تھا "میری ماریہ، 3 سال کی، باپ چوہدری حسین"۔ زینب نے لاکٹ ہاتھ میں لیا۔ وہی لاکٹ جو اس کے گلے میں تھا۔ اس نے بازو پر تل دیکھا۔ وہی تل جو تصویر میں تھا۔ زینب کی چیخ نکل گئی۔ "اللہ! یہ میں ہوں! میں ماریہ ہوں! چوہدری حسین کی بیٹی!" وہ دوڑ کر نسرین کے پاس گئی۔ البم دکھایا۔ اپنا لاکٹ دکھایا۔ بازو پر تل دکھایا۔ نسرین بیگم نے تصویر دیکھی۔ پھر زینب کا چہرہ دیکھا۔ 15 سال پرانی یاد تازہ ہو گئی۔ وہی توتلی زبان، وہی انداز "ابو، اماا"۔ "میری ماریہ!" نسرین چیخ کر بیٹی سے لپٹ گئیں۔ چوہدری حسین دوڑے آئے۔ انہوں نے زینب کا بازو دیکھا۔ وہی تل۔ انہوں نے لاکٹ دیکھا۔ وہی لاکٹ جو انہوں نے خود 3 سال کی بیٹی کے گلے میں ڈالا تھا۔ انہوں نے زینب کو گود میں اٹھا لیا جیسے 15 سال پہلے اٹھاتے تھے۔ "میری توتلی گڑیا مل گئی"۔ حویلی میں کہرام مچ گیا۔ 15 سال بعد بیٹی مل گئی تھی۔ نوکر رو رہے تھے۔ محلے والے مبارکباد دے رہے تھے۔ مگر پھر سب کے چہرے اتر گئے۔ سہیل اور ماریہ کا نکاح ہو چکا تھا۔ اگر سہیل بھائی نکلا تو نکاح حرام۔ ماریہ زمین پر گر کر چلانے لگی "نہیں! تقدیر تو نے کیا مذاق کیا! کاش میں نے ساس سسر کی خدمت بیٹی بن کر کی ہوتی"۔ چوہدری حسین نے فوراً ڈاکٹر کو بلایا۔ DNA ٹیسٹ کروایا۔ سہیل کا خون، ماریہ کا خون، دونوں کا سیمپل لیا گیا۔ 3 دن سب نے سانس روک کر انتظار کیا۔ تیسرے دن رپورٹ آئی۔ چوہدری حسین نے لفافہ کھولا۔ پڑھا اور سجدے میں گر گئے۔ "یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے"۔ رپورٹ میں لکھا تھا: سہیل اور ماریہ میں کوئی خون کا رشتہ نہیں۔ وہ بہن بھائی نہیں ہیں۔ سب حیران رہ گئے۔ چوہدری حسین نے بتایا "سہیل میرے بچپن کے دوست اقبال کا بیٹا ہے۔ اقبال اور اس کی بیوی 3 سال پہلے حادثے میں مر گئے تھے۔ سہیل یتیم ہو گیا تھا۔ میں نے دوست کا بیٹا سمجھ کر گود لے لیا تھا۔ اس لیے سہیل ہمارا سگا بیٹا نہیں ہے"۔ ماریہ روتے ہوئے سہیل سے لپٹ گئی۔ "سہیل، میں ڈر گئی تھی۔ مجھے لگا میرا نکاح حرام ہو گیا"۔ سہیل نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ "ماریہ، تقدیر نے ہمیں ملایا ہے۔ اللہ نے ہمارا فیصلہ پہلے ہی کر دیا تھا۔ 15 سال تم گم رہیں، 3 سال میں گود آیا، اور آج اللہ نے ہمیں ایک کر دیا"۔ نسرین بیگم سجدے میں گر گئیں۔ "یا اللہ تیرا شکر ہے۔ میری بیٹی بھی مل گئی، بیٹے کی بیوی بھی حلال رہی"۔ چوہدری حسین نے دونوں کا سر چوما۔ "بیٹا، تقدیر کا فیصلہ یہ تھا کہ تم دونوں ایک ہو۔ اللہ نے 15 سال بعد بیٹی دی، اور 3 سال بعد بیٹے کی بیوی بھی"۔ ماریہ یعنی زینب نے ساس سسر کے قدم چومے۔ "امی، ابو، معاف کر دو۔ میں نے نفرت کی۔ میں نے کہا تھا ماں باپ کوئی نہیں ہوتے۔ اب میں بیٹی بن کر خدمت کروں گی"۔ نسرین نے بہو کو سینے سے لگایا۔ "بیٹی، توتلی زبان میں اب اماں کہہ دے"۔ ماریہ نے روتے ہوئے کہا "اماا"۔ اس دن کے بعد حویلی میں خوشی ہی خوشی تھی۔ ماریہ اور سہیل نے مل کر یتیم خانہ کھولا۔ نام رکھا "فیصلہِ تقدیر"۔ ماریہ کوٹھے والی عورتوں کو سمجھاتی "تقدیر کا فیصلہ برا نہیں لگتا، بس ہم سمجھ نہیں پاتے۔ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ ماں باپ کی خدمت کرو، صبر کرو، اللہ بہتر کر دیتا ہے"۔ سالوں بعد جب نسرین فوت ہوئیں تو ماریہ نے ان کے قدموں میں بیٹھ کر قرآن ختم کیا۔ آخری سانس پر نسرین نے بیٹی کا ہاتھ پکڑا۔ "بیٹا، توتلی زبان میں ایک بار اماا کہہ دے"۔ ماریہ نے کہا "اماا"۔ نسرین مسکرا کر چلی گئیں۔ چوہدری حسین نے مرتے وقت وصیت کی "حویلی کا نام فیصلہِ تقدیر رکھ دینا۔ ہر آنے والے کو بتانا کہ اللہ کا فیصلہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے"۔ آج بھی حویلی کے دروازے پر لکھا ہے "تقدیر یتیم خانہ"۔ اور اندر ماریہ ہر یتیم بچی کو گلے لگا کر کہتی ہے "بیٹا، تم اکیلی نہیں ہو۔ اللہ تمہارا والی ہے۔ تقدیر سے لڑو مت، اس پر راضی رہو"۔ *ختم شد - سبق: تقدیر کا فیصلہ اللہ بہتر کرتا ہے۔ ماں باپ کی خدمت کرو، صبر کرو، اللہ بہتر کر دیتا ہے۔
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD