صدقہ

533 Words
صدقہ Full Episode - Chapter 2 --- *"وہ 10 روپے جو محل بن گئے"* *Chapter 2: 5 سال بعد... محل بن گیا* 5 سال گزر گئے۔ رخسانہ کی وہ ٹپکتی چھت اب بھی ٹپک رہی تھی۔ احمد اب 13 سال کا ہو گیا تھا۔ پتلون چھوٹی ہو گئی تھی، قمیض پر پیوند لگے تھے۔ مگر احمد کی آنکھوں میں روشنی تھی۔ وہ روز مسجد جاتا، قرآن پڑھتا، لوگوں کے جوتے سیدھے کرتا۔ مولوی صاحب اسے بہت دعائیں دیتے "بیٹا، تیری ماں بہت نیک ہے"۔ ایک دن شہر میں بہت بڑا تاجر آیا۔ نام تھا حاجی کریم۔ کروڑوں کا مالک۔ اس کا بیٹا روڈ پر بے ہوش ہو گیا۔ اتفاق سے احمد وہیں تھا۔ اس نے اپنا کرتا پھاڑ کر حاجی کے بیٹے کا خون روکا۔ گود میں اٹھا کر ہسپتال لے گیا۔ اپنا خون دیا۔ 3 دن جاگا۔ حاجی کریم کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے پوچھا "بیٹا، تمہارا نام؟" احمد نے سر جھکا کر کہا "احمد۔ امی رخسانہ کا بیٹا۔ ہم مسجد والی گلی میں رہتے ہیں"۔ حاجی کریم حیران۔ "رخسانہ؟ وہی رخسانہ جس نے 5 سال پہلے مسجد میں آخری 10 روپے صدقہ کیے تھے؟ میں اس دن مسجد میں تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ایک عورت نے سردی میں کانپتے بچے سے 10 روپے مسجد میں ڈلوائے تھے۔ سب لوگ ہنس رہے تھے۔ میں رو پڑا تھا"۔ احمد کی سمجھ نہیں آئی۔ حاجی نے احمد کا ہاتھ پکڑا اور بولا "بیٹا، اس دن کے بعد میرا کاروبار چل نکلا۔ میں نے منت مانی تھی کہ جس عورت کے 10 روپے نے میرا دل ہلا دیا، میں اس کا قرض اتاروں گا"۔ اگلے دن حاجی کریم کی 10 گاڑیاں رخسانہ کے گھر کے باہر کھڑی تھیں۔ محلے والے جمع ہو گئے۔ سب حیران۔ حاجی کریم نے رخسانہ کے قدموں میں نوٹوں کی گڈیاں رکھ دیں۔ بولا "باجی، یہ 10 روپے کا سود ہے۔ اللہ نے 70 گنا کر کے دیا۔ بلکہ 70 لاکھ گنا کر کے دیا"۔ رخسانہ رو پڑی۔ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر بولی "یا اللہ، میں نے تو بس تجھے 10 روپے دیے تھے۔ تو نے محل دے دیا"۔ حاجی نے اسی جگہ احمد کے نام پر اسکول بنوا دیا۔ رخسانہ کے نام پر مسجد کا نام رکھ دیا۔ "رخسانہ صدیقہ مسجد"۔ پرانا گھر گرا کر محل بن گیا۔ مگر رخسانہ آج بھی اس پرانے 10 کے نوٹ کو فریم کروا کر دیوار پر لٹکاتی ہے۔ بیٹے سے کہتی ہے "احمد، یاد رکھنا۔ جب جیب خالی ہو، دل مت خالی کرنا۔ جب کچھ نہ ہو، تب بھی اللہ کی راہ میں دے دو۔ کیونکہ دینے سے گھٹتا نہیں، بڑھتا ہے"۔ آج احمد ڈاکٹر ہے۔ غریبوں کا مفت علاج کرتا ہے۔ اور ہر مریض سے کہتا ہے "میرے علاج کی فیس 10 روپے صدقہ کر دینا"۔ لوگ پوچھتے ہیں "کیوں؟" احمد مسکرا کر کہتا ہے "کیونکہ میری امی کے 10 روپے نے ہمیں محل دلوا دیا تھا"۔ --- *سبق کہانی میں:* رخسانہ کے پاس صرف 10 روپے تھے، مگر یقین پورا تھا۔ اللہ نے خالی ہانڈی دیکھی، بھرا دل دیکھا۔ اس نے روٹی نہیں مانگی، جنت مانگ لی۔ اور اللہ نے روٹی بھی دی، عزت بھی دی، محل بھی دے دیا۔ صدقہ مال کم نہیں کرتا بہن۔ صدقہ تو تقدیر لکھ دیتا ہے۔ .........ختم شد
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD