ik mohabat

1995 Words
جی ضرور! یہ رہی پوری کہانی: دھوپ وقت نے پردہ لگایا اور بچپن کی وہ شرارتیں اب سنجیدہ خاموشیوں میں بدل چکی تھیں۔ سعد اور عائشہ اب ایک ہی کالج میں تھے۔ سعد نے انجینئرنگ چنی تھی، جبکہ عائشہ کو اردو ادب اور شاعری سے لگاؤ تھا۔ کالج کی کینٹین میں بیٹھ کر جب عائشہ پروین شاکر کی غزل سنتی، تو سعد اسے دیکھتا رہتا۔ اسے لگتا کہ عائشہ کے ہونٹوں سے نکلتا ہر لفظ اس کی اپنی کہانی ہے۔ ایک دن، بارش ہو رہی تھی۔ عائشہ نے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا: "سعد، کبھی سوچا ہے کہ اگر ہم الگ ہو گئے تو کیا ہوگا؟" سعد کا ہاتھ کافی کے کپ پر ٹھہر گیا۔ اس نے باہر گِرتی بوندوں کو دیکھا اور پھر عائشہ کی پرنور آنکھوں میں۔ "سمندر سے موج الگ نہیں ہوتی، عائشہ۔ اور اگر ہو جائے، تو وہ کنارے پر دم توڑ دیتی ہے۔" جدائی کا پہلا سایہ خوشی کے دنوں کو نظر لگتے دیر نہیں لگتی۔ سعد کے والد چاہتے تھے کہ وہ مزید تعلیم کے لیے لندن جائیں۔ یہ خبر عائشہ کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی۔ جس شام سعد نے یہ بتایا، اس شام لاہور کی ہوا میں عجیب سی اُداسی تھی۔ "میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گی؟" عائشہ نے لڑکھڑاتی آواز میں پوچھا۔ سعد نے اس کا ہاتھ تھام لیا—ہاں۔ پہلی بار اتنے یقین کے ساتھ۔ "میں واپس آؤں گا۔ صرف تمہارے لیے۔ یہ صرف دو سال کی بات ہے۔" لندن کا سفر اور خطوں کا سلسلہ سعد چلا گیا۔ شروع میں دونوں کے درمیان لمبے خطوں اور فون کالز کا سلسلہ رہا۔ عائشہ ہر روز اس پرانی گلی کے موڑ پر کھڑی ہوتی جہاں سے سعد گزرا کرتا تھا۔ مگر وقت اور فاصلہ ہمیشہ امتحان لیتے ہیں۔ لندن کی مصروف زندگی میں سعد تھرا گیا۔ وہاں کی چمک دمک اور پڑھائی کا بوجھ اسے اتنا مصروف کر گیا کہ کالز کم ہونے لگیں۔ دوسری طرف، عائشہ کے گھر والوں نے اس کی شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ اس کا چچا زاد، زبیر، جو ایک امیر بیزنسمین تھا، عائشہ کے لیے رشتہ لے کر آ گیا۔ غلط فہمی کا زہر زبیر نے چال چلی۔ اس نے سعد کے بارے میں جھوٹ پھیلایا کہ وہ لندن میں کسی لڑکی کے ساتھ مصروف ہے۔ عائشہ نے یقین نہیں کیا، مگر جب سعد نے کئی ہفتوں تک فون نہیں اٹھایا، تو اس کا دل ٹوٹنے لگا۔ ایک رات عائشہ نے سعد کو آخری خط لکھا: "اگر تمہارا خاموش رہنا ہی تمہارا فیصلہ ہے، تو میں بھی اب سوال نہیں کروں گی۔" حقیقت کا انکشاف اندار آئےشہ نے جب سعد کی آواز سنی، تو وہ نکاح کے رجسٹر پر قلم رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ بھاگتی ہوئی باہر آئی۔ سب گھر والے حیران رہ گئے۔ آئےشہ نے سعد کی حالت دیکھی—اس کا زخمی چہرہ اور کمزوری—تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ ٹھیک اسی وقت، سعد کے ایک پرانے دوست نے (جو لندن میں اس کے ساتھ تھا) وہاں پہنچ کر زبیر کا سارا جھوٹ اور فیک پیغامات کا راز کھول دیا۔ زبیر کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ آئےشہ کے باب نے غصے میں زبیر کو گھر سے نکال دیا۔ سعد نے عائشہ کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک آس تھی۔ عائشہ نے اس کی طرف دیکھا اور پھر اس کے قدموں میں گر پڑی۔ "سعد، میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔" سعد نے آئےشہ کو اٹھایا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ "میں بھی تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، آئےشہ۔ ہم کبھی الگ نہیں ہوں گے۔" لندن کی عدالت نے سرمد اور اس کے گروہ کو سخت سزائیں سنائیں۔ زبیر جو پہلے ہی پاکستان میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا، اب ہمیشہ کے لیے تنہا ہو چکا تھا۔ مگر اس دشمنی نے سعد اور عائشہ کے دلوں پر گہرے زخم چھوڑے تھے۔ صحت یابی اور لندن کی خاموش صبح ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد، سعد کافی کمزور ہو گیا تھا۔ عائشہ نے دن رات اس کی خدمت کی۔ وہ لندن کی ان ٹھنڈی صبحوں میں سعد کو ویل چئیر پر بٹھا کر پارک لے جاتی۔ ایک دن، بارش کے بعد دھوپ نکل آئی تھی۔ سعد نے عائشہ کا ہاتھ تھاما اور دھیرے سے کہا: "عائشہ، ہم نے بہت لڑائی لڑ لی۔ اب میں سکون چاہتا ہوں۔ کیا ہم واپس اپنے گھر جا سکتے ہیں؟ وہی پرانی گلیاں، وہی دھوپ اور وہی بچپن کا سکون۔" عائشہ کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ "میں بھی یہی چاہتی تھی، سعد۔ لندن کی یہ چمک ہماری محبت کے لیے نہیں بنی۔ ہمارا سکون ہماری مٹی میں ہے۔" پاکستان واپسی: پرانی گلیوں کا خوش آمدید تین سال بعد، جب سعد اور عائشہ لاہور کے ایئرپورٹ پر اترے، تو ہوا میں وہی پرانی مٹی کی خوشبو تھی۔ ان کا گھر اب بھی ویسا ہی تھا، مگر دیواروں پر اب وقت کی دھول تھی۔ انہوں نے مل کر اپنا گھر دوبارہ سجایا۔ عائشہ نے اس پرانی چھت پر نئے پھولوں کے گملے رکھے جہاں کبھی وہ سعد کا انتظار کرتی تھی۔ محلے کے لوگ، جو ان کی داستان سے واقف تھے، انہیں دیکھ کر فخر محسوس کرتے تھے۔ اختتامی موڑ: محبت کی کامیابی وقت گزرتا گیا۔ سعد نے اپنا کنسٹرکشن بیزنز شروع کیا اور عائشہ نے اردو ادب کی استاد کے طور پر ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا۔ ان کی زندگی اب پر سکون تھی۔ ایک شام، جب سورج غروب ہو رہا تھا، عائشہ نے دیکھا کہ ان کا بیٹا، زریاب، بالکل ویسا ہی کتابی کرا تھا جیسا سعد بچپن میں تھا۔ اور ان کی بیٹی، حانیہ، بالکل عائشہ کی طرح چنچل اور زندہ دل تھی۔ سعد نے عائشہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: "دیکھو عائشہ، دشمنی نے ہمیں توڑنا چاہا، فصلوں نے ہمیں آزمایا، مگر 'محبت' نے ہمیں بچا لیا۔ اگر دل میں سچائی ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت دو دلوں کو الگ نہیں کر سکتی۔" عائشہ نے مسکراتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا: "سچ کہا تم نے۔ محبت صرف ایک لفظ نہیں، یہ ایک عبادت ہے جو صرف صبر سے مکمل ہوتی ہے۔" 😊جی ضرور! یہ رہی پوری کہانی: دھوپ وقت نے پردہ لگایا اور بچپن کی وہ شرارتیں اب سنجیدہ خاموشیوں میں بدل چکی تھیں۔ سعد اور عائشہ اب ایک ہی کالج میں تھے۔ سعد نے انجینئرنگ چنی تھی، جبکہ عائشہ کو اردو ادب اور شاعری سے لگاؤ تھا۔ کالج کی کینٹین میں بیٹھ کر جب عائشہ پروین شاکر کی غزل سنتی، تو سعد اسے دیکھتا رہتا۔ اسے لگتا کہ عائشہ کے ہونٹوں سے نکلتا ہر لفظ اس کی اپنی کہانی ہے۔ ایک دن، بارش ہو رہی تھی۔ عائشہ نے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا: "سعد، کبھی سوچا ہے کہ اگر ہم الگ ہو گئے تو کیا ہوگا؟" سعد کا ہاتھ کافی کے کپ پر ٹھہر گیا۔ اس نے باہر گِرتی بوندوں کو دیکھا اور پھر عائشہ کی پرنور آنکھوں میں۔ "سمندر سے موج الگ نہیں ہوتی، عائشہ۔ اور اگر ہو جائے، تو وہ کنارے پر دم توڑ دیتی ہے۔" جدائی کا پہلا سایہ خوشی کے دنوں کو نظر لگتے دیر نہیں لگتی۔ سعد کے والد چاہتے تھے کہ وہ مزید تعلیم کے لیے لندن جائیں۔ یہ خبر عائشہ کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی۔ جس شام سعد نے یہ بتایا، اس شام لاہور کی ہوا میں عجیب سی اُداسی تھی۔ "میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گی؟" عائشہ نے لڑکھڑاتی آواز میں پوچھا۔ سعد نے اس کا ہاتھ تھام لیا—ہاں۔ پہلی بار اتنے یقین کے ساتھ۔ "میں واپس آؤں گا۔ صرف تمہارے لیے۔ یہ صرف دو سال کی بات ہے۔" لندن کا سفر اور خطوں کا سلسلہ سعد چلا گیا۔ شروع میں دونوں کے درمیان لمبے خطوں اور فون کالز کا سلسلہ رہا۔ عائشہ ہر روز اس پرانی گلی کے موڑ پر کھڑی ہوتی جہاں سے سعد گزرا کرتا تھا۔ مگر وقت اور فاصلہ ہمیشہ امتحان لیتے ہیں۔ لندن کی مصروف زندگی میں سعد تھرا گیا۔ وہاں کی چمک دمک اور پڑھائی کا بوجھ اسے اتنا مصروف کر گیا کہ کالز کم ہونے لگیں۔ دوسری طرف، عائشہ کے گھر والوں نے اس کی شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ اس کا چچا زاد، زبیر، جو ایک امیر بیزنسمین تھا، عائشہ کے لیے رشتہ لے کر آ گیا۔ غلط فہمی کا زہر زبیر نے چال چلی۔ اس نے سعد کے بارے میں جھوٹ پھیلایا کہ وہ لندن میں کسی لڑکی کے ساتھ مصروف ہے۔ عائشہ نے یقین نہیں کیا، مگر جب سعد نے کئی ہفتوں تک فون نہیں اٹھایا، تو اس کا دل ٹوٹنے لگا۔ ایک رات عائشہ نے سعد کو آخری خط لکھا: "اگر تمہارا خاموش رہنا ہی تمہارا فیصلہ ہے، تو میں بھی اب سوال نہیں کروں گی۔" حقیقت کا انکشاف اندار آئےشہ نے جب سعد کی آواز سنی، تو وہ نکاح کے رجسٹر پر قلم رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ بھاگتی ہوئی باہر آئی۔ سب گھر والے حیران رہ گئے۔ آئےشہ نے سعد کی حالت دیکھی—اس کا زخمی چہرہ اور کمزوری—تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ ٹھیک اسی وقت، سعد کے ایک پرانے دوست نے (جو لندن میں اس کے ساتھ تھا) وہاں پہنچ کر زبیر کا سارا جھوٹ اور فیک پیغامات کا راز کھول دیا۔ زبیر کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ آئےشہ کے باب نے غصے میں زبیر کو گھر سے نکال دیا۔ سعد نے عائشہ کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک آس تھی۔ عائشہ نے اس کی طرف دیکھا اور پھر اس کے قدموں میں گر پڑی۔ "سعد، میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔" سعد نے آئےشہ کو اٹھایا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ "میں بھی تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، آئےشہ۔ ہم کبھی الگ نہیں ہوں گے۔" لندن کی عدالت نے سرمد اور اس کے گروہ کو سخت سزائیں سنائیں۔ زبیر جو پہلے ہی پاکستان میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا، اب ہمیشہ کے لیے تنہا ہو چکا تھا۔ مگر اس دشمنی نے سعد اور عائشہ کے دلوں پر گہرے زخم چھوڑے تھے۔ صحت یابی اور لندن کی خاموش صبح ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد، سعد کافی کمزور ہو گیا تھا۔ عائشہ نے دن رات اس کی خدمت کی۔ وہ لندن کی ان ٹھنڈی صبحوں میں سعد کو ویل چئیر پر بٹھا کر پارک لے جاتی۔ ایک دن، بارش کے بعد دھوپ نکل آئی تھی۔ سعد نے عائشہ کا ہاتھ تھاما اور دھیرے سے کہا: "عائشہ، ہم نے بہت لڑائی لڑ لی۔ اب میں سکون چاہتا ہوں۔ کیا ہم واپس اپنے گھر جا سکتے ہیں؟ وہی پرانی گلیاں، وہی دھوپ اور وہی بچپن کا سکون۔" عائشہ کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ "میں بھی یہی چاہتی تھی، سعد۔ لندن کی یہ چمک ہماری محبت کے لیے نہیں بنی۔ ہمارا سکون ہماری مٹی میں ہے۔" پاکستان واپسی: پرانی گلیوں کا خوش آمدید تین سال بعد، جب سعد اور عائشہ لاہور کے ایئرپورٹ پر اترے، تو ہوا میں وہی پرانی مٹی کی خوشبو تھی۔ ان کا گھر اب بھی ویسا ہی تھا، مگر دیواروں پر اب وقت کی دھول تھی۔ انہوں نے مل کر اپنا گھر دوبارہ سجایا۔ عائشہ نے اس پرانی چھت پر نئے پھولوں کے گملے رکھے جہاں کبھی وہ سعد کا انتظار کرتی تھی۔ محلے کے لوگ، جو ان کی داستان سے واقف تھے، انہیں دیکھ کر فخر محسوس کرتے تھے۔ اختتامی موڑ: محبت کی کامیابی وقت گزرتا گیا۔ سعد نے اپنا کنسٹرکشن بیزنز شروع کیا اور عائشہ نے اردو ادب کی استاد کے طور پر ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا۔ ان کی زندگی اب پر سکون تھی۔ ایک شام، جب سورج غروب ہو رہا تھا، عائشہ نے دیکھا کہ ان کا بیٹا، زریاب، بالکل ویسا ہی کتابی کرا تھا جیسا سعد بچپن میں تھا۔ اور ان کی بیٹی، حانیہ، بالکل عائشہ کی طرح چنچل اور زندہ دل تھی۔ سعد نے عائشہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: "دیکھو عائشہ، دشمنی نے ہمیں توڑنا چاہا، فصلوں نے ہمیں آزمایا، مگر 'محبت' نے ہمیں بچا لیا۔ اگر دل میں سچائی ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت دو دلوں کو الگ نہیں کر سکتی۔" عائشہ نے مسکراتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا: "سچ کہا تم نے۔ محبت صرف ایک لفظ نہیں، یہ ایک عبادت ہے جو صرف صبر سے مکمل ہوتی ہے۔" 😊
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD