Episode 3

1740 Words
============================================================================= ================================================================================= کچھ دیر میں رات کی سیاہی پھیل چکی تھی۔ عائشہ دفتر کے کپڑوں میں ہی بستر پر لیٹی تھی جبکہ شانزے چھت سے نیچے آئی اور اُس کمرے کی طرف بڑھی جہاں عائشہ لیٹی ہوئی تھی۔ اُسے اس وقت عائشہ کے پاؤں دبانے تھے۔ وہ دھیرے سے اندر داخل ہوئی۔ کمرے میں نیم اندھیرے کی روشنی میں عائشہ کا چہرہ چمک رہا تھا۔ شانزے آگے آئی اور اُسے دیکھنے لگی۔ اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور عائشہ کے چہرے پر آئے بال پیچھے کرنے لگی۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ عائشہ کے وجود میں حرکت ہوئی تو وہ فوراً سیدھی ہو گئی اور اُس کے پاؤں کے پاس کھڑی ہو گئی۔ عائشہ کو ہلکی سی ہوش آ چکی تھی: "شانزے، پاؤں دباؤ، کہاں مر گئی تھی تم، ہاں؟" شانزے ہانپتی ہوئی نیچے بیٹھی اور اُس کے پاؤں دبانے لگی۔ اُس کے ہاتھ ابھی بھی کانپ رہے تھے۔ "ایسے پاؤں دباتے ہیں؟" عائشہ نے دوسری ٹانگ سے اُسے دھکا دیا تو شانزے پیچھے پڑے اسٹینڈ سے ٹکرا گئی، لیکن جلدی سے سیدھی ہوئی۔ درد اتنا تھا کہ اُس سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا۔ جیسے تیسے کر کے اُس نے پاؤں دبائے اور رات کے دو بجے تک وہاں سے اُٹھنے لگی تو چکر آ گئے۔ وہ وہیں عائشہ کے پاؤں میں ہی سو گئی۔ اُس کے اندر اب اُٹھنے کی ہمت ختم ہو چکی تھی۔ صبح اذانوں کی آواز سے اُس کی آنکھ کھلی۔ وہ ابھی تک وہیں بستر پر سر رکھے سوئی ہوئی تھی۔ عائشہ ابھی تک نہیں اٹھی تھی۔ شانزے نے کمر پر ہاتھ رکھا جہاں درد حد سے زیادہ بڑھ چکا تھا، لیکن خیر، یہ تو اُس کا روز کا تھا۔ عائشہ سے لگاؤ اور پیار اُسے بہت بھاری پڑ گیا تھا۔ وہ جلدی سے اٹھی، اپنے بال سیٹ کیے۔ شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی تو دیکھا اُس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، جس سے پتہ چلتا تھا کہ وہ کافی دیر تک روئی تھی۔ اُس نے مڑ کر عائشہ کی طرف دیکھا، جو سفید شارٹ شرٹ اور پینٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ بس، اُسے دیکھنے کے لیے ہی تو وہ روز اتنا درد سہتی تھی۔ اُس کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر شانزے کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ الارم کی آواز نے اُسے چونکا دیا۔ پتا نہیں کب سے عائشہ کو ایسے ہی دیکھتی جا رہی تھی۔ وہ تھی ہی اتنی خوبصورت کہ کوئی بھی اُسے دیکھے تو دیکھتا ہی رہ جائے، اور یہ تو پھر شانزے تھی جو اُس کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی۔ عائشہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو شانزے وہاں سے پلٹی اور کچن میں جا کر اُس کے لیے چائے بنانے لگی۔ عائشہ اٹھی اور باتھ روم میں گھس گئی۔ شانزے چائے کی ٹرے کے ساتھ اندر داخل ہوئی، بڑھ کر میز پر رکھا جہاں ایک فریم پڑا تھا۔ جس میں ایک جوان عورت، ایک خوبرو مرد اور ساتھ ایک چھوٹی بچی کھڑی تھی۔ وہ سب کیمرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ شانزے نے دھیرے سے اُس پر اپنی انگلیاں پھیریں اور پھر اُسے واپس رکھ دیا۔ کمرے سے نکلنے کے بعد وہ کپڑے بدلنے دوسرے کمرے میں گئی۔ جب وہ باہر آئی تو عائشہ کی آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی: "شانزے... کہاں مر گئی تم صبح صبح؟" وہ بستر پر بیٹھی چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ شانزے دوڑتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی: "جی باس!" "یہ چائے ہے؟ اِسے تم چائے کہتی ہو؟" وہ کہتے ہوئے کھڑی ہوئی۔ شانزے دو قدم پیچھے ہوئی۔ عائشہ نے کپ وہیں سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور دھیرے دھیرے شانزے کی طرف بڑھنے لگی۔ اُس کی آنکھوں سے غصہ صاف ظاہر تھا۔ شانزے پیچھے ہٹتی ہوئی دیوار سے لگ گئی۔ عائشہ نے اُس کا کان پکڑا اور غصے سے کچھ بولتی ہوئی اُسے مروڑنے لگی۔ "باس، بہت درد ہو رہا ہے... باس، معاف کر دیجیے باس... پلیز!" شانزے درد سے کراہ رہی تھی۔ عائشہ کی بلیک پینٹ کی جیب میں فون تھر تھرا نے لگا تو اُس نے اُسے چھوڑا اور فون نکال کر بات کرنے لگی۔ شانزے نے کان چھُوا جو پوری طرح سرخ ہو چکا تھا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل گر رہے تھے۔ عائشہ نے فون نیچے کیا اور زور سے کپ نیچے گرا دیا۔ "ایک کام کرو، اِسے تم ہی پی لو!" وہ یہ کہتی ہوئی باہر نکل گئی۔ شانزے نے دکھتے جسم کے ساتھ اُسے اُٹھایا اور کپ کے ٹکڑے اُٹھانے لگی۔ پاس پڑا فریم بھی جھٹکے سے نیچے گر چکا تھا۔ اُس نے اُسے اُٹھایا... ٹوٹا ہوا شیشہ اب خطرناک لگ رہا تھا۔ فریم میں لگی تصویر میں عائشہ کی شبیہ الگ ہو چکی تھی۔ شانزے نے اُسے احتیاط سے اُٹھایا اور دراز میں رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد عائشہ بالوں کو درست کرتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ شانزے سیدھی ہوئی، اپنا کام پورا کرنے کے بعد وہ کوٹ لے کر عائشہ کے قریب گئی۔ "ہٹو، میں خود ہی پہن لیتی ہوں۔" عائشہ نے اُس کے ہاتھ سے کوٹ کھینچ لیا اور آئینے میں دیکھتے ہوئے پہننے لگی۔ شانزے نے جوتے صاف کیے اور احتیاط سے عائشہ کے پاؤں میں پہنانے لگی۔ عائشہ لاپروائی سے آگے بڑھ گئی۔ اُسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ اُس کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے شانزے کے دماغ پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ وہ بس پیسوں اور شہرت کے لالچ میں انسانیت کو بھول چکی تھی۔ شانزے نے گیٹ کھولا اور پھر اُس کی گاڑی کو دور جاتے ہوئے دیکھا۔ "سب کچھ پہلے جیسا کر دو نا خدا... میں واقعی میں پرانی عائشہ کو بہت مس کرتی ہوں۔ میں کیسے رہوں گی اُس کے بغیر؟ میرا تو اس دنیا میں کوئی نہیں ہے..." وہ خود سے بڑبڑاتی ہوئی اندر آئی جہاں اُسے اب بہت سا کام کرنا تھا۔ لیکن وہ اس درد کے ساتھ کیسے کام کرے گی؟ ====================================================================== Night had fully fallen. Ayesha was lying on the bed, still in her office clothes. Shanzay came down from the rooftop and slowly walked toward the room where Ayesha was sleeping. It was time for her to press Ayesha's feet. She quietly entered the room. In the dim light, Ayesha's face was glowing. Shanzay came closer and looked at her. She reached out her hand and moved Ayesha's hair from her face. Her hands were shaking. When Ayesha moved a little, Shanzay quickly stood straight near her feet. Ayesha slowly woke up a bit and said, "Shanzay! Press my feet! Where did you go, huh?" Shanzay sat down, still breathing heavily, and started pressing her feet. Her hands were still shaking. "Is this how you press feet?" Ayesha pushed her with her other leg, and Shanzay hit the side table behind her. It hurt, but she quickly sat straight again. The pain was too much, but she didn't stop. She pressed Ayesha's feet until 2 a.m. When she tried to get up, she felt dizzy and fell asleep right there near Ayesha's feet. She had no strength left to move. Morning The sound of the Azaan (call to prayer) woke her up. She was still lying beside the bed. Ayesha was still sleeping. Shanzay held her back. The pain was worse than ever, but this was her daily routine now. Loving Ayesha had become very painful. She quickly got up and fixed her hair. Standing in front of the mirror, she saw her swollen eyes— It showed she had cried for a long time last night. She turned to look at Ayesha, Wearing a white shirt and pants, she looked really beautiful. A little smile was on Ayesha's lips. That smile... That's why Shanzay bore so much pain every day— Just to see her smile once. Seeing her happy, Shanzay also smiled a little. Suddenly, the alarm sound shocked her. She didn't know how long she had been staring at Ayesha. She was so beautiful... Anyone would keep looking at her. And Shanzay? She could do anything for her. When Ayesha slowly opened her eyes, Shanzay quickly turned away and went to the kitchen to make tea. Ayesha got up and went to the bathroom. Shanzay came in with the tea tray. She placed it on the table where a photo frame was kept. In the photo was a young woman, a handsome man, and a small girl. They were all smiling at the camera. Shanzay gently touched the photo with her fingers and then put it back. After that, she went to another room to change clothes. When she came out, she heard Ayesha's voice: "Shanzay! Where did you go this early in the morning?" Ayesha was sitting on the bed, sipping tea. Shanzay ran into the room. "Yes, boss!" "This is tea? You call this tea?" Ayesha stood up angrily. Shanzay stepped back. Ayesha put the cup on the side table and slowly walked toward Shanzay. Her eyes were full of anger. Shanzay stepped back until her back hit the wall. Ayesha grabbed her ear and twisted it, yelling at her. "Boss... it hurts a lot... please forgive me, boss... please..." Shanzay cried in pain. Suddenly, Ayesha's phone rang from her black pants pocket. She let go of Shanzay and answered the phone. Shanzay touched her ear— It had turned red. Tears were falling from her eyes. Ayesha ended the call and threw the cup down hard. "Do one thing— You drink this tea yourself!" She said this and left the room. Shanzay, in pain, picked up the broken pieces of the cup. The photo frame had also fallen down. She picked it up... The glass was cracked and sharp. Ayesha's part in the photo had become separate. Shanzay carefully placed it back in the drawer. A little later, Ayesha came back inside, fixing her hair. Shanzay stood up and took her coat to her. "Move! I'll wear it myself." Ayesha pulled the coat from her hand and wore it while looking in the mirror. Shanzay cleaned her shoes and gently helped her wear them. Ayesha walked away without looking back. She didn't even realize how her actions were hurting Shanzay deeply. For money and fame, she had forgotten how to be kind. Shanzay opened the gate and saw Ayesha's car going far away. "Please God... make everything like before. I really miss the old Ayesha. How will I live without her? I have no one else in this world..." She whispered to herself and walked back inside. She had a lot of work to do. But how could she work in this pain? =====================================================================
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD