Maraasim Part 1

1655 Words
جب کہ دیکھا گیا کہ کمپنی بہت زیادہ نقصان میں جا رہی ہیں تو فائنلی یہ فیصلہ ہوا اور بزنس ٹائیکونز کے کہنے پہ کہ کمپنی کو ایک پرافٹیبل کمپنی بنانا ہے تو کمپنی کے پریزیڈنٹ کو چینج کرنا پڑے گا ہر جگہ اب اس بات کی اناؤنسمنٹ ہو چکی تھی کہ اب پریزیڈنٹ کو تبدیل کیا جائے گا اور کسی اور کو پریزیڈنٹ بنایا جائے گا جو کہ کمپنی کو پرافٹیبل بنائیں۔ اب ہر جگہ یہ بات پھیل چکی تھی اب یہی بات چل رہی تھی کہ نیا پریزیڈنٹ کون بنے گا؟ اج کمپنی میں بہت بڑا فیصلہ ہونے والا تھا جانے اس فیصلے کا انجام کیا ہوتا لیکن اج تو اس فیصلے کا ہونا طے تھا چیئرمین کمپنی میں انے والے تھے اور اج یہ فیصلہ بھی ہونے والا تھا لوگ اپس میں بہت زیادہ اس بات کا ڈسکشن کر رہے تھے کہ اج کا فیصلہ نہ جانے کس کے حق میں ہوگا کیونکہ پریزیڈنٹ ی تبدیلی ہونے والی تھی اور کسی اور کو سی ای او بنایا جا رہا تھا یعنی ابھی تک یہ کنفرم نہیں تھا کہ اج سی ای او کون بنے گا لیکن اس فیصلے کا ہونے میں ابھی کچھ ٹائم تھا کیا اج چیئرمین کے بیٹے کو واپس سی او بنایا جائے گا یا کوئی اور سی او بنے گا اس بارے میں لوگ بہت زیادہ ڈسکشن کر رہے تھے کیونکہ اج کا فیصلہ بہت ہی بڑا تھا یا کوئی اور ائے گا لیکن لوگ امید نہیں کر سکتے تھے کہ اب سی ای او کون بنے گا کیوںکہ جو چیئرمین کے بیٹے تھے صرف وہیں کمپنی کو لیڈ کر رہے تھے لیکن اب کون لیڈ کرے گا یہ کسی کو پتہ نہیں تھا سو وہیں چیرمین افس کی طرف اتے ہیں اور میٹنگ میں بیٹھے لوگ بھی وہاں ہو تے ہیں ہر کوئی اپس میں بات کرنا چھوڑ دیتا ہے اور صرف چیئرمین کی طرف ہی دھیان دیتے ہے تو وہاں پہ اب ایک فیصلہ ہونے والا تھا جو کہ اس کمپنی کے لیے سب سے بڑا تھا کیونکہ کمپنی میں لاسز کی وجہ سے بزنس ٹیکنز انویسٹ نہیں کرنا چاہتے تھے اور بہت زیادہ پیسہ ڈوب چکا تھا تو اپ کمپنی کو کوئی اور لیڈ کرے گا جو اس کمپنی کو پرافٹیبل بنا سکے لیکن چیئرمین کا صرف ایک بڑا بیٹا تھا اور چیرمین کا کوئی بیٹا نہیں تھا جو اس کمپنی کو لیڈ کر سکے تو اب اس کمپنی کو کون لیڈ کرے گا کوئی بھی اس بارے میں نہیں جانتا تھا اور بزنس ٹائیکونز بھی وہیں پہ موجود تھے چیئرمین اتے ساتھ ہی اپنی میٹنگ شروع کر دیتے ہیں اور سارے کلیگز بزنس ٹائیکونز کو اور جو بھی ایمپلوئز ہوتے ہیں سب کو اپنی بات کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ لوگ ان کی بات سن سکیں تو اس پر ہی چیئرمین ایک فیصلہ لینے والے تھے کیونکہ اب یہ کمپنی کوئی اور ٹیک اور کرنے والا تھا لیکن کسی کو پتہ نہیں تھا تو وہیں پہ اب وہ اپنی میٹنگ کا اغاز کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب یہ کمپنی جو ہے وہ میرا بیٹا لیڈ نہیں کرے گا اب یہ کمپنی کوئی اور یعنی کہ کوئی اور جو ہے وہ "سوچ اور گمان میں نہیں تھا کہ یہ کوئی اور کون ہو سکتا ہے یا تو کوئی اؤٹ سائیڈر ہو سکتا ہے یا اب یہ کون ہوگا" تو وہیں پہ ان کی بیٹی بھی اتی ہیں اس کو دیکھتے ہی ہر کوئی سوچ میں پڑ جاتا ہیں کہ یہ کبھی ایاز گروپ اف کمپنیز میں نظر نھیں آئی تو اج کیسے؟ جو کہ شاید اس کمپنی کو لیڈ کریں یا تو پھر اسے کمپنی کی طرف سے صرف میٹنگ میں بلایا گیا تھا۔ السلام علیکم! اس نے اتے ہی سلام کیا پر اپنا تعارف نھیں دیا۔ وہاں کھڑے چیئرمین ابد نے اپنی بیٹی کا تعارف کروانا شروع ہی کیا تھا کہ بیچ میں اس نے بات کاٹ دی اور کہنے لگی کے کے میرے تعارف کے لئے میرا نام ہی کافی یے ائے ام تاشا جمال پریزیڈنٹ ائیڈ کؤفاونڈر اف جمال گروپزر ائنڈ یاقوب گروپرز اف کمپنیزر ۔ یہ سن کے مسٹر عابد خاموش ہو چکے تھے۔ جب اپنی میٹنگ اسٹارٹ کرنے والے ہوتے ہیں تو ان کا دھیان اپنے بیٹے کی سی ای او والی سیٹ پہ جاتا ہے وہ اپنے بیٹے کو جو ہے اس میٹینگ میں ڈھونڈتے ہے لیکن ان کا بیٹا میٹنگ روم میں نہیں ہوتا تو یہ جو ہے چیئرمین کے لیے سب سے زیادہ افسوس دھہ بات تھی لیکن وہ اس بات کو اگنور کر کے میٹنگ کو کنٹینیو کرتے ہیں اور وہاں پہ ان کی بیٹی بھی موجود ہوتی ہے جو کہ اب اس بزنس کو لیڈ کرے گی اور اب لوگ اس بات کو سننے کے لیے بہت زیادہ بے چین تھے کیونکہ لوگ اس بات کے بارے میں امید ہی نہیں کر سکتے۔ وہ اب کہتے ہیں کہ مجھے افسوس ہو رہا ہے یہ فیصلہ کرنے میں اور بہت سوچ سمجھنے کے بعد بہت زیادہ ٹائم دینے کے بعد یہ ڈیسیژن بنایا جا رہا ہے کیونکہ یہ کمپنی بہت زیادہ ایک پرافٹیبل کمپنی تھی جس کو جب میں پریزیڈنٹ تھا لیڈ کرتا تھا اس کا سی ای او پہلےمیں تھا لیکن اب کرنٹ سی او میرا بیٹا ہے لیکن اج یہ افسوس سے میں اس کمپنی کو کسی اور کو ٹیک اور کرنے والا ہوں مسں تاشا کو جو الریڈی بہت کامیاب بسنزز رن کرتی ہے مجھے افسوس ہے اپنے بیٹے کے لیے اور یہ میرے لیے بھی سب سے زیادہ دکھ دینے والی بات ہے لیکن اگر میں اپنی کمپنی کو اور زیادہ سب سے کامیاب کرنا چاہتا ہوں تو شاید یہ ڈیسیژن لینا پڑے گا تو اب میں نے دل پہ پتھر رکھ کے اج میں ڈیسیژن لے رہا ہوں میں اپنی کمپنی کسی لوسز کے ہاتھوں برباد نہیں ہونے دوں گا کیونکہ میں نے اور میرے والد نے اس کمپنی کو بنانے میں بہت سال لگائے لیکن جب میں نے یہ کمپنی اپنے بیٹے کو دی تو میرے بیٹے نے کمپنی میں لوسز کیے اور اس نے یہ ڈرامہ کیا کہ وہ ذہنی بیمار ہے اور ذہنی بیماری کی وجہ سے وہ اب اس کمپنی کو نہیں چلا سکتا وہ اس کمپنی سے جان چھڑانا چاہتا ہے اور پھر بھی میں اگر اس کو اس کمپنی میں رکھوں گا تو شاید میں اپنا نقصان کروں گا یا میں زبردستی اس کو اس کمپنی کو چلانے میں یا پروفٹ بنانے کے لیے میں نہیں فورس کر سکتا کیونکہ یہ کمپنی اس کے لائق نہیں ہے یا وہ اس کمپنی کے لائق نہیں ہے شاید یہ بہت تلخی سے کہے جانے والے الفظ اور جملے چیئرمین عابد کے لیے بھی تکلیف دھ تھے۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد ہی جب لوگ اپنے کام پہ لگ جاتے ہیں تو پھر لوگوں میں ایک تہلکہ ہی مچ جاتا ہے لوگ بہت زیادہ یہ بولنے لگتے ہیں کہ چیئرمین نے بہت غلط کیا انہوں نے اپنی بیٹی کو سی ای او بنا دیا جبکہ سی ای او تو بیٹے کو رہنے دینا چاہیے تھا یا بیٹا کو سی ای او رکھنا ہی نھیں تھا تو اس کو بزنس ٹیک اور کیوں کیروایا تھا لیکن لوگ جانتے تھے کہ یہ بزنس لاس میں تھا تو زیادہ اپنے بیٹے کو دینے سے اور زیادہ نقصان ہوتا اور جو کمپنی کی ریپوٹیشن تھی جس جگہ پہ یہ کمپنی لیڈ کر رہی تھی وہاں سے شاید کمپنی بہت بڑا لوس کھاتی ہے اور جلدی بینکرپٹ ہو سکتے تھے چیئرمین عابد تو پھر یہی فیصلہ تھیک تھا۔ ان کی بیٹی تاشا جمال جو کہ بہت بڑی دو کمپنیز کو لیڈ کرتی تھی اور بزنس وومن بھی تھی اس کے لیے اس کمپنی فائدہ دینا کوئی مشکل بات نہیں تھی کیوکہ اس کے لیے کمپنی کو پرافٹیبل بنانا کوئی بڑی بات نہیں تھی اول ریڈی اتنے سکسسفل بزنسز رن کر رہی تھی لیکن پھر بھی اس سے کیا ضرورت تھی کہ وہ اپنے بھائی کی کمپنی پر قبضہ کر لے اور اپنے بھائی کو اس جگہ سے ہٹا کر خود وہ گجہ لے لے لیکن یہ صرف ایک حسد میں کیا گیا فیصلہ تھا کیونکہ تاشا اپنے بھائی کو پسند نہیں کرتی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ جو بھی اس کے بھائی کے پاس ہے وہ سب اسے مل جائے ایک طرفہ یہ جلن بھی تھی لیکن شاید اس جلن کا بہت بڑا نقصان ہونے والا تھا لیکن یہ کمپنی تو شاید بہت زیادہ منافہ کما سکتی ہے لیکن اس بھائی بہن کا رشتہ اب ختم ہو چکا تھا یا ختم ہونے والا تھا۔ ********* جہاں تک محبت کا سوال ہے وہ میں اب تم سے نہیں کرتی اور شاید کبھی کر بھی نہیں پاؤں گی وہ ہچکچاتے ہوئے بولنے لگی تم مجھے بھول جاؤ اخری یہ الفاظ بول کر وہ اٹھنے لگی جانے کے لیے سامنے بیٹھا وہ شخص اسے روکتے ہوئے بولا کیا سب ختم وہ سنتے ہوئے بولنے لگی ہاں جو بھی تھا سب ختم اور خاموش ہو گئی تو سامنے بیٹھا وہ شخص بھی کھڑا ہوا اور اس کے قریب کھڑے ہو کر بولنے لگا کیا کوئی مراسم تھا؟ سوالیہ انداز سے پوچھ رہا تھا وہ خاموشی سے سنتے ہوئے بولی ہاں تھا تمہارا مجھ سے میرا تم سے دنیا کا سب سے بڑا رشتہ جو زبردستی قائم ہوا یہ کہہ کر وہ چپ ہو گئی پھر ایک سانس لے کر بولنے لگی ہٹ جاؤ مجھے جانے دو۔ وہ بھی یہ سب سن رہا تھا اور پھر کہنے لگا کہ رکو اور میری بات سنو یہ رشتہ کبھی تم نے قبول نہیں کیا تھا ہے نا؟ عابد کی انکھوں میں درد تھا وہ اس درد بھری انکھون سے پوچھنے لگا؟ یہ سن کر وہ بولنے لگی عابد اب بھی یہ سوال پھر اس نے جواب دیا اگر تم جیسے انسان کی اصلیت جاننے کے جانے کے بعد کون یہاں رہے گا اور وہ بھی تمہارے ساتھ ارزو یہ کہتے ہوئے جانے لگے عابد اس کے سامنے ہٹ چکا تھا۔ ارزو جاؤ میں ہمیشہ تمہاری زندگی سے ہٹا ہوا ہی رہوں گا کبھی تمہیں تنگ نہیں کروں گا یہ کہہ کر عابد بھی چلا گیا ۔
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD