### *Chapter 11: پہلا امتحان*
*Writer: Sana Qureshi*
1 دسمبر۔ جمعہ۔
آئشہ نے صبح جلدی نہا کر کپڑے استری کیے۔ سفید سوٹ۔
آئینے میں دیکھ کر خود سے کہا: "آج تو مضبوط رہنا ہے"
دوپہر 2:15۔
دکان میں مشین چل رہی تھی۔ باہر سے آواز آئی: "آئشہ؟"
آواز سنتے ہی دل بند ہو گیا۔ پھر 1 سیکنڈ میں 100 بار چلا۔
وہ دروازے میں کھڑا تھا۔ وہی جیکٹ۔ وہی خوشبو۔
2 سال۔ 8 مہینے۔ اور آج۔
آئشہ کے ہاتھ میں کینچی تھی۔ ہاتھ ایک بار کانپا۔ پھر رک گیا۔
اس نے کینچی میز پر رکھی۔ سیدھی کھڑی ہوئی۔
"ہاں؟" آئشہ کی آواز نارمل تھی۔ اسے خود حیرت ہوئی۔
"بس... ادھر سے گزر رہا تھا۔ سوچا دیکھ لوں۔ دکان کیسی جا رہی ہے؟"
آئشہ نے شیلف پر رکھے جوڑے ٹھیک کیے۔ نظریں نہیں ملائیں۔
"آئشہ ڈیزائنز۔ اپنے نام سے۔ اپنے دم پر۔ اچھی جا رہی ہے"
خاموشی۔ بہت بھاری خاموشی۔
پرانے دنوں کی 100 باتیں زبان پر آئیں۔ "یاد ہے؟" "معاف کر دو؟"
لیکن آئشہ نے کچھ نہیں کہا۔
وہ بولا: "تم... بدلی بدلی لگ رہی ہو"
"ہاں" آئشہ نے کپڑا اٹھایا۔ کاٹنے لگی۔ "8 مہینے لگے بدلنے میں۔
8 بار ٹوٹی۔ اب جوڑ لگا لیا ہے۔ مضبوط والا"
"میں بات کرنا چاہتا تھا... صفائی دینا چاہتا تھا..."
آئشہ نے سر اٹھایا۔ آنکھیں سرخ نہیں تھیں۔ صاف تھیں۔ تھکی ہوئی نہیں تھیں۔ پکی ہوئی تھیں۔
"دیکھو" اس کی آواز نرم تھی لیکن لفظ پتھر تھے۔
"اگر آرڈر دینا ہے تو دو۔ ریٹ لسٹ وہاں لگی ہے۔
اگر باتیں کرنی ہیں تو معذرت۔ میرے پاس وقت نہیں۔
کیونکہ اب میرا وقت، میری زندگی، میری دکان... سب میرا ہے"
وہ 30 سیکنڈ کھڑا رہا۔ شاید معافی مانگنا چاہتا تھا۔ شاید کچھ اور۔
پھر بغیر کچھ کہے مڑا اور چلا گیا۔
شٹر کی چڑچڑاہٹ کی آواز آئی۔
آئشہ 5 منٹ تک ویسے ہی بیٹھی رہی۔ سانس روک کر۔
پھر اچانک ہنسی۔ زور سے ہنسی۔ آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
لیکن یہ درد کے آنسو نہیں تھے۔ یہ آزادی کے آنسو تھے۔
شام کو دکان بند کی۔ گھر آ کر ڈائری کھولی۔ ہاتھ اب بھی تھوڑا کانپ رہا تھا۔
لکھا:
_"آج 1 دسمبر ہے۔
آج میرا پہلا امتحان تھا۔
اور میں A+ سے پاس ہو گئی۔
اس نے آ کر خود ثابت کر دیا کہ 29 جون والا اندھیرا مر چکا ہے۔
اور 29 نومبر والی روشنی... وہ سچ تھی۔
PS: آج کسی نے دل نہیں توڑا۔
آج میں نے خود کو بچا لیا۔"_
رات کو سونے سے پہلے آئینے میں دیکھا۔
بال بکھرے تھے۔ آنکھیں سرخ تھیں۔
لیکن پیٹھ سیدھی تھی۔
اور ہونٹوں پر فتح والی مسکراہٹ۔
---
*Chapter 12: چھوٹی چھوٹی جیتیں* ❤️