### _Chapter 5_
### _ناول: 29 جون کا بعد 📖_
_مصنفہ: Sana Qureshi_ ✍️
_قسط: 5_
عائشہ کو شہریار کے گھر آئے 1 ہفتہ ہو گیا تھا۔
یہ گھر نہیں محل تھا۔ 10 کمرے، 3 لاؤنج، نوکر ہی 8 تھے۔
پر عائشہ کے لیے یہ جیل تھی۔
آج پہلی بار ناشتے کی ٹیبل پر سب جمع تھے۔
عائشہ کے دل میں ڈر تھا۔ پتہ نہیں آج کیا ہوگا۔
*1. Sasur - Rais Ahmed | عمر 55 سال*
شہر کے سب سے بڑے Textile کے مالک۔ 3 فیکٹریاں۔
سفید شلوار قمیض، ہاتھ میں سونے کی گھڑی۔
عائشہ کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور بولے:
*"ہاں یہی ہے؟ 10 لاکھ دیے ہیں"*
پھر اخبار کھول لیا۔ دوبارہ نظر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔
دل پتھر کا۔ رشتے پیسوں سے تولتے تھے۔
*2. Saas - Farzana Begum | عمر 50 سال*
گھر کی ملکہ۔ مہنگا لان، گلے میں ہیرے۔
آتے ہی بولیں: *"نئی بہو ہو؟ چلو کچن سنبھالو"*
عائشہ نے کہا: *"جی بیگم صاحبہ"*
وہ چلائیں: *"امی مت کہو۔ مجھے بیگم صاحبہ کہو"*
ان کا کام تھا حکم چلانا اور طعنے دینا۔
*"عائشہ! نوکروں والا کام کرو"*
بہت مغرور اور سخت دل تھیں۔
*3. Nand - Sarah | عمر 28 سال*
2 بچوں کی ماں۔ شوہر دبئی میں۔
سارا دن TV اور گپ شپ۔ کوئی کام نہیں۔
عائشہ کو دیکھ کر بولی: __"واہ! اتنی کم عمر میں شادی؟
شکر کرو ایسا گھر مل گیا"__
اس کا کام تھا دوسروں کی برائی کرنا۔ دن بھر فارغ۔
*4. Nand - Mehwish | عمر 22 سال*
یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔ بہت مغرور۔
ہاتھ میں نیا iPhone اور مہنگا بیگ۔
عائشہ کے کمرے میں آ کر حکم دیا: *"میرے کپڑے استری کرو"*
عائشہ نے کہا: *"میں نوکرانی نہیں ہوں"*
مہوش ہنسی: *"تم 10 لاکھ کی نوکرانی ہو۔ کام کرو"*
*5. Devar - Hammad | عمر 20 سال*
پڑھائی چھوڑ دی۔ دن بھر دوستوں کے ساتھ۔
رات کو 2 بجے گھر آتا۔
عائشہ کو دیکھ کر سیٹی مارتا: *"بھابھی پیاری ہیں"*
شہریار ڈانٹے تو چپ ہو جاتا۔ پر عزت نہیں کرتا تھا۔
*6. Shohar - Shearyar | عمر 32 سال*
ابا کی Factory کا نام کا مالک۔
کام: شراب، جوا، اور غصہ۔
عائشہ سے ضد میں شادی کی تھی۔ محبت نہیں۔
رات کو نشے میں آ کر کہتا: *"تمہیں خریدا ہے"*
عائشہ کے آنسو اسے نظر نہیں آتے تھے۔
---
دوپہر کو عائشہ کچن میں اکیلی 10 لوگوں کا کھانا بنا رہی تھی۔
ساس آئیں: *"نوکر کہاں ہیں؟ تم کام کرو"*
نند آئی: *"میرے کپڑے کہاں ہیں؟"*
کسی نے نہیں پوچھا: *"بیٹی تم نے کھایا؟"*
شام کو عائشہ washroom میں جا کر روئی۔
شاور کھول دیا تاکہ کسی کو آواز نہ آئے۔
رات کو کمرے میں جا کر ڈائری نکالی۔
لکھا:
__"یا اللہ یہ کیسا گھر ہے؟
یہاں انسان کی کوئی قدر نہیں۔
پیسہ ہے لیکن محبت نہیں۔
محل ہے لیکن سکون نہیں۔
29 June ka Baad میری زندگی جہنم بن گئی۔
لیکن میں ہار نہیں مانوں گی۔
میں ٹوٹوں گی نہیں۔
ایک دن میں آزاد ہو کر رہوں گی"__
باہر بارش شروع ہو گئی۔
عائشہ نے کھڑکی کھول دی۔
ٹھنڈی ہوا چہرے پر لگی۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: *"یا اللہ مجھے ہمت دینا"*
اسی رات اسے خواب آیا۔
حمزہ بارش میں کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا:
*"میں نے ہار نہیں مانی عائشہ۔ میں واپس آؤں گا"*
عائشہ کی آنکھ کھل گئی۔ تکیہ آنسوؤں سے بھیگ گیا تھا۔
_To Be Continued..._
_Chapter 6 میں:_
کیا حمزہ واقعی واپس آئے گا؟
عائشہ پہلی بار کس سے بغاوت کرے گی؟
اور شہریار کا راز کیا ہے؟