Chapter 3: Darwaza Khula

333 Words
### *Chapter 3: Darwaza Khula* ### _ناول: 29 جون کا بعد 📖_ _مصنفہ: Sana Qureshi_ ✍️ _قسط: 3_ ہال میں روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔ شہنائی کی آواز دھیمی دھیمی بج رہی تھی۔ قاضی صاحب نے نکاح نامہ میز پر رکھا اور عائشہ کی طرف دیکھا۔ "بیٹا، تین بار قبول ہے کہنا ہے" ان کی آواز نرم تھی۔ عائشہ نے سر جھکا لیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ دلہے نے مسکرا کر اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ عائشہ نے ابھی قلم اٹھایا ہی تھا کہ... *دھڑام!!!* پورے ہال میں سناٹا چھا گیا۔ سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ بارش میں شرابور، سانس پھولی ہوئی، آنکھیں سرخ... حمزہ دروازے پر کھڑا تھا۔ اس کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے، جوتے کیچڑ سے بھرے ہوئے۔ "رک جائیے!" اس نے اونچی آواز میں کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ "یہ نکاح نہیں ہو سکتا۔" عائشہ کی امی فوراً کھڑی ہو گئیں۔ "یہ بدتمیز کون ہے؟ نکالو اسے یہاں سے!" حمزہ نے ایک نظر عائشہ کو دیکھا۔ پھر جیب سے بھیگا ہوا لفافہ نکالا۔ "آنٹی، میں بدتمیز نہیں ہوں۔ میں عائشہ کا شوہر ہوں" اس نے لفافے سے کاغذ نکال کر ہوا میں لہرایا۔ "یہ کورٹ میرج کا سرٹیفکیٹ ہے۔ تاریخ 28 جون 2025۔ میں اور عائشہ قانونی طور پر میاں بیوی ہیں" عائشہ کے ہاتھ سے قلم چھوٹ کر گر گیا۔ `28 جون؟` اس کی آنکھوں کے سامنے وہ رات گھوم گئی جب حمزہ نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ ہال میں لوگ سرگوشیاں کرنے لگے۔ دلہے کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ حمزہ نے ہجوم چیرتے ہوئے آگے بڑھ کر عائشہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ "عائشہ، میں مانتا ہوں میں نے غلطی کی۔ میں ڈر گیا تھا۔ پر میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا" اس نے عائشہ کا ہاتھ تھام لیا۔ "پلیز ایک بار میری بات سن لو۔ میرے ساتھ چلو" عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ایک طرف اس کی 2 سال کی محبت کھڑی تھی... دوسری طرف اس کے گھر والوں کا فیصلہ۔ وہ کیا فیصلہ کرے گی؟ *To Be Continued...* ---
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD