Chapter 4

468 Words
### _Chapter 4_ ### _ناول: 29 جون کا بعد 📖_ _مصنفہ: Sana Qureshi_ ✍️ _قسط: 4_ ہال میں سناٹا تھا۔ صرف پنکھے کی آواز اور عائشہ کی ہچکیاں۔ قاضی صاحب کا ہاتھ ہوا میں رک گیا۔ دلہا... یعنی شہریار... کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔ *"کیا بکواس ہے؟"* شہریار دھاڑا۔ *"کون ہو تم؟ اور یہ کیا کاغذ لہرایا ہے؟"* حمزہ نے قدم آگے بڑھایا۔ بارش سے بھیگے کپڑے، بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ __"میں حمزہ ہوں۔ عائشہ کا منگیتر۔ اور یہ کورٹ میرج کا سرٹیفکیٹ ہے۔ 28 جون، کل۔ عدالت میں نکاح ہوا تھا ہمارا"__ امی دوڑ کر آئیں۔ کاغذ چھین کر دیکھا۔ اس پر مہر تھی۔ دستخط تھے۔ عائشہ اور حمزہ کے نام۔ امی کا چہرہ کالا پڑ گیا۔ *"یہ جھوٹ ہے! یہ فراڈ ہے!"* وہ چیخیں۔ *"عائشہ! بولو! یہ سچ ہے؟"* سب کی نظریں عائشہ پر تھیں۔ عائشہ کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس نے دھیرے سے سر ہلایا۔ *"ہ... ہاں امی۔ سچ ہے"* پورے ہال میں "ہائے" کی آواز گونجی۔ عائشہ کی خالہ بے ہوش ہو کر گر گئیں۔ شہریار کا باپ رئیس احمد آگے بڑھا۔ وہ شہر کے بڑے بزنس مین تھے۔ آنکھوں میں آگ تھی۔ __"تو تم نے ہمیں دھوکا دیا؟ 10 لاکھ کا وعدہ کر کے؟ میں پولیس بلاتا ہوں۔ جیل بھجواؤں گا تم دونوں کو"__ حمزہ نے عائشہ کا ہاتھ اور زور سے پکڑا۔ __"پولیس کو جو بلانا ہے بلا لیں۔ نکاح ہو چکا ہے۔ عائشہ اب میری بیوی ہے"__ عائشہ نے حمزہ کی طرف دیکھا۔ 2 سال کی محبت۔ وعدے۔ خواب۔ اور ایک طرف... ابو کی دوائی۔ بھائی کی فیس۔ 10 لاکھ کا قرض۔ امی گھٹنوں کے بل گر گئیں۔ __"بیٹا مان جا۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہ لوگ 10 لاکھ دیں گے۔ ابو کی جان بچ جائے گی"__ عائشہ کا دل ٹوٹ رہا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ... دھیرے سے... حمزہ کے ہاتھ سے نکال لیا۔ حمزہ کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ *"عائشہ؟ کیا کر رہی ہو؟"* عائشہ نے روتے ہوئے کہا: __"معاف کر دو حمزہ۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ پر ابو کی سانسوں سے بڑی محبت نہیں کر سکتی"__ حمزہ پیچھے ہٹ گیا۔ جیسے کسی نے گولی مار دی ہو۔ *"تو تم بھی پیسے کی نکلیں عائشہ؟"* اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ اس نے کاغذ کا ٹکڑا کر کے زمین پر پھینک دیا۔ اور ہال سے باہر نکل گیا۔ بارش میں۔ عائشہ اسے جاتا دیکھتی رہی۔ دل چاہا چلا جائے۔ پر پاؤں زمین میں گڑ گئے تھے۔ قاضی صاحب نے کھنکار کر کہا: *"چلیں نکاح مکمل کریں؟"* عائشہ نے آنکھیں بند کیں۔ اور آہستہ سے بولی: *"قبول ہے"* _دھڑام_ اس کے دل کے ٹکڑے ہو گئے۔ باہر حمزہ کی گاڑی کی بریک کی آواز آئی... اور سب ختم۔ _To Be Continued..._ _Chapter 5_ میں: کیا حمزہ واپس آئے گا؟ اور شہریار والا گھر کیسا ہوگا؟ عائشہ جی پائے گی یا ٹوٹ جائے گی؟
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD