29 June ka Baad

308 Words
--- ### *Chapter 2* ### _ناول: 29 جون کا بعد 📖_ _مصنفہ: Sana Qureshi_ ✍️ _قسط: 2_ وہ دن 14 فروری تھا۔ سردی کی رات تھی اور ہم چھت پر بیٹھے تھے۔ آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔ حمزہ نے عائشہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کے ہاتھ بہت ٹھنڈے تھے۔ اس نے عائشہ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا: __"عائشہ سنو، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں۔ میں مر جاؤں گا پر تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ تم میری سانس ہو۔ تمہارے بغیر میں ایک لمحہ نہیں رہ سکتا۔"__ عائشہ ہنس دی تھی۔ اس وقت اسے کیا پتہ تھا یہ اس کا آخری وعدہ ہو گا۔ ہم نے سو وعدے کیے تھے۔ بارش میں بھیگنے کے وعدے، گرمی میں ایک گلاس ٹھنڈا پانی پینے کے وعدے، رات کو چھت پر بیٹھ کر چاند دیکھنے کے وعدے۔ سب سے بڑا وعدہ یہ تھا کہ ہم بوڑھے ہونے تک ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلیں گے۔ اور آج 29 جون تھی۔ آج وہ تاریخ تھی جس سے عائشہ سب سے زیادہ ڈرتی تھی۔ وہ سفید جوڑے میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ہاتھوں پر مہندی، آنکھوں پر کاجل، چہرے پر شرم۔ سب اس کی تعریف کر رہے تھے۔ "ماشاءاللہ کتنی پیاری دلہن ہے"۔ لیکن عائشہ کا دل بیٹھ رہا تھا۔ کیونکہ اس کے ساتھ کھڑا لڑکا حمزہ نہیں تھا۔ وہ کوئی اور تھا۔ عائشہ کا فون وائبریٹ کر رہا تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے جیب سے نکالا۔ `3 missed calls from Hamza` اور پھر ایک نیا میسج آیا۔ __"عائشہ میں آ رہا ہوں۔ بس 5 منٹ رک جاؤ۔ پلیز مت جانا۔ میں سب ٹھیک کر دوں گا۔"__ عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے جواب لکھنا چاہا... لیکن اسی لمحے قاضی صاحب نے کہا "بیٹا قبول ہے"۔ اور جب تک وہ کچھ بولتی... حمزہ کا نمبر بند ہو گیا۔ ہمیشہ کے لیے۔
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD