28 June Ka Baad

204 Words
### *Chapter 3* ### _ناول: 29 جون کا بعد 📖_ _مصنفہ: Sana Qureshi_ ✍️ _قسط: 3_ قاضی صاحب نے کہا "بیٹا قبول ہے" عائشہ کے منہ سے آواز نہیں نکلی۔ دلہا نے اس کا ہاتھ پکڑا ہی تھا کہ... *دھڑام* ہال کا دروازہ زور سے کھلا۔ سب پلٹے۔ بارش میں بھیگا ہوا، سانس پھولا ہوا، آنکھوں میں خون اترا ہوا... حمزہ کھڑا تھا۔ "رک جاؤ!" اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ "نکاح نہیں ہو سکتا۔ عائشہ میری ہے" پورے ہال میں سناٹا چھا گیا۔ عائشہ کی امی بھاگیں: "یہ کیا بدتمیزی ہے؟ نکالو اسے" حمزہ نے جیب سے کاغذ نکالا اور ہوا میں لہرایا۔ __"یہ کورٹ میرج کا ثبوت ہے۔ 28 جون کا۔ میں اور عائشہ پہلے ہی میاں بیوی ہیں۔"__ عائشہ کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ `28 جون؟` کل کی تاریخ؟ حمزہ آگے بڑھا اور عائشہ کا ہاتھ تھام لیا۔ __"میں لیٹ نہیں ہوا عائشہ۔ میں نے وعدہ توڑا تھا، پر نبھانے آ گیا ہوں۔ پلیز میرے ساتھ چلو۔"__ عائشہ نے ایک بار دلہے کو دیکھا... ایک بار حمزہ کو۔ اس کے آنسو رک نہیں رہے تھے۔ *To Be Continued... *Chapter 4* میں بتاؤں کیا ہوا؟ گھر والے مانے یا نہیں؟ اور وہ کورٹ میرج والا کاغذ سچا تھا یا جھوٹ؟ لکھوں اگلا؟
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD