Chapter 7
عائشہ کو شہریار کے گھر آئے 15 دن ہو چکے تھے۔
ہر دن پہلے سے زیادہ مشکل تھا۔ صبح 5 بجے اٹھنا، پورے گھر کا ناشتہ بنانا، کپڑے دھونا، اور رات تک نوکروں کی طرح حکم ماننا۔
آج جمعہ تھا۔ گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے۔
ساس فرزانه بیگم نے باورچی خانے میں آ کر کہا "عائشہ! 20 لوگوں کا کھانا بنانا ہے۔ جلدی کرو"
عائشہ نے کہا "بیگم صاحبہ میں اکیلی کیسے بناؤں گی؟"
ساس نے آنکھیں نکالیں "نوکر کہاں ہیں؟ تم بہو ہو۔ یہی تمہارا کام ہے"
اور منہ بنا کر چلی گئیں۔
دوپہر کو کھانے کے دوران مہمانوں کے سامنے ساس نے کہا "دیکھیں ہماری نئی بہو کتنی ہنر مند ہے"
سب نے تعریف کی۔ پر جیسے ہی مہمان گئے ساس چلائیں "برتن کون دھوئے گا؟ جاؤ کام کرو"
عائشہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے کہا "بیگم صاحبہ میں بھی انسان ہوں۔ تھک جاتی ہوں"
بس پھر کیا تھا۔ ساس نے ہاتھ اٹھا کر تھپڑ مار دیا۔
"زبان چلاتی ہے؟ بھول گئی 10 لاکھ میں خریدی ہے تمہیں؟"
عائشہ زمین پر بیٹھ کر رہ گئی۔ پورے گھر نے سن لیا۔
نند مہوش ہنسی "دیکھا امی؟ یہ بڑی تیز ہے"
دیور حماد نے سیٹی ماری "بھابھی غصہ میں بھی پیاری لگتی ہیں"
شام کو شہریار آیا۔ نشے میں دھت۔
ساس نے شکایت لگائی "دیکھو تمہاری بیوی کیسے زبان چلاتی ہے"
شہریار نے عائشہ کا بازو پکڑ کر مروڑا "تمہاری اوقات کیا ہے؟ چپ کر کے رہو"
عائشہ نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا "میں چیز نہیں ہوں شہریار۔ میں بیوی ہوں"
شہریار نے زور سے دھکا دیا "بیوی؟ تم سودا ہو۔ سمجھی؟"
عائشہ کمرے میں گئی اور دروازہ بند کر لیا۔
ڈائری نکالی اور کانپتے ہاتھوں سے لکھا:
"یا اللہ یہ کیسی زندگی ہے؟
29 June ka Baad میری زندگی جہنم بن گئی۔
آج مجھے مار پڑی۔ عزت بھی نہیں بچی۔
پر میں وعدہ کرتی ہوں میں ٹوٹوں گی نہیں۔
ایک دن میں اس گھر سے سر اٹھا کر نکلوں گی۔
اپنے پیروں پر کھڑی ہوں گی"
رات کو 2 بجے اسے بخار چڑھ گیا۔
کسی نے پوچھا تک نہیں۔
وہ چھت کی طرف دیکھ کر سوچتی رہی "حمزہ کہاں ہوگا؟ کیا وہ مجھے یاد کرتا ہے؟"
باہر بارش شروع ہو گئی۔
عائشہ نے کھڑکی کھول دی۔
ٹھنڈی ہوا چہرے پر لگی تو تھوڑا سکون آیا۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا "یا اللہ مجھے ہمت دے دے۔ میں ہار ماننا نہیں چاہتی"
اس رات عائشہ نے فیصلہ کر لیا۔
وہ اب خاموش نہیں رہے گی۔
وہ پڑھے گی۔ کام سیکھے گی۔ اور ایک دن آزاد ہو گی۔