The Voice of a Daughter
With the new rhythms of life,
I want to comfort you.
With my tiny, innocent words,
I want to bring a smile to your heart.
Why have you become distant from me already?
I only want to come into your arms,
Rest my head on your chest
And fall asleep in peace.
Fathers hold their daughters too,
They lift them lovingly in their arms.
I also wish to stay for a moment
In the shade of your love.
What is the reason you are upset with me?
Is it only because I am a daughter?
I just want to call you
“Papa” with my little voice.
I wish you would hold my finger,
So I could learn to walk with your support.
All my little stories and words,
I want to share them only with you.
Along with a mother’s embrace,
I also need a father’s affection
Growing up in your love,
I want to build my little world.
At least tell me now,
Why are you so distant from me?
Is it really
Just because… I am a daughter?
بیٹی کی آواز
زندگی کے آغاز کی نئی حرکات کے ساتھ
میں تمہیں بہلانا چاہتی ہوں۔
اپنے ننھے اور معصوم لفظوں سے
میں تمہارے دل میں مسکراہٹ لانا چاہتی ہوں۔
تم مجھ سے اتنے دور کیوں ہو گئے ہو؟
میں تو بس تمہاری بانہوں میں آنا چاہتی ہوں،
اپنا سر تمہارے سینے پر رکھ کر
سکون سے سو جانا چاہتی ہوں۔
باپ بھی اپنی بیٹیوں کو گود میں اٹھاتے ہیں،
محبت سے انہیں اپنے سینے سے لگاتے ہیں۔
میں بھی ایک لمحے کے لیے
تمہاری محبت کے سائے میں رہنا چاہتی ہوں۔
آخر وجہ کیا ہے
کہ تم مجھ سے ناراض ہو؟
کیا صرف اس لیے
کہ میں ایک بیٹی ہوں؟
میں تو بس اپنی ننھی سی آواز میں
تمہیں “بابا” کہنا چاہتی ہوں۔
کاش تم میری انگلی تھام لو،
تاکہ میں تمہارے سہارے چلنا سیکھ سکوں۔
اپنی ساری ننھی باتیں اور کہانیاں
میں صرف تم سے ہی بانٹنا چاہتی ہوں۔
ماں کی آغوش کے ساتھ ساتھ
مجھے باپ کی محبت بھی چاہیے۔
تمہاری محبت میں پل کر
میں اپنی ایک چھوٹی سی دنیا بنانا چاہتی ہوں۔
بیٹی کی آواز
زندگی کے آغاز کی نئی حرکات کے ساتھ
میں تمہیں بہلانا چاہتی ہوں۔
اپنے ننھے اور معصوم لفظوں سے
میں تمہارے دل میں مسکراہٹ لانا چاہتی ہوں۔
تم مجھ سے اتنے دور کیوں ہو گئے ہو؟
میں تو بس تمہاری بانہوں میں آنا چاہتی ہوں،
اپنا سر تمہارے سینے پر رکھ کر
سکون سے سو جانا چاہتی ہوں۔
باپ بھی اپنی بیٹیوں کو گود میں اٹھاتے ہیں،
محبت سے انہیں اپنے سینے سے لگاتے ہیں۔
میں بھی ایک لمحے کے لیے
تمہاری محبت کے سائے میں رہنا چاہتی ہوں۔
آخر وجہ کیا ہے
کہ تم مجھ سے ناراض ہو؟
کیا صرف اس لیے
کہ میں ایک بیٹی ہوں؟
میں تو بس اپنی ننھی سی آواز میں
تمہیں “بابا” کہنا چاہتی ہوں۔
کاش تم میری انگلی تھام لو،
تاکہ میں تمہارے سہارے چلنا سیکھ سکوں۔
اپنی ساری ننھی باتیں اور کہانیاں
میں صرف تم سے ہی بانٹنا چاہتی ہوں۔
ماں کی آغوش کے ساتھ ساتھ
مجھے باپ کی محبت بھی چاہیے۔
تمہاری محبت میں پل کر
میں اپنی ایک چھوٹی سی دنیا بنانا چاہتی ہوں۔
کم از کم اب تو مجھے بتا دو،
تم مجھ سے اتنے دور کیوں ہو؟
کیا واقعی
صرف اس لیے… کہ میں ایک بیٹی ہوں؟ 💔
Daughter — A Silent Blessing
When a daughter is born, she does not just bring life into the world; she brings new smiles, hopes, and words of love. Her first smile feels like spring blooming in her mother’s heart. When she speaks her first word, her mother’s eyes shine with happiness. When she learns to sit, the house fills with joy, and when she takes her tiny first steps, it feels as if light has entered the home.
But some people in the world cannot bear such happiness. They say, “Do not spoil her too much; one day she will become a reason for shame.” Hearing these words, a father often becomes silent. He loves his daughter deeply, yet fear of society builds a wall inside his heart.
As the daughter grows, she asks her mother for toys, but often those toys are little kitchen utensils. In her innocent play, she is unknowingly learning the roles life may one day give her.
One day she learns her father’s name. Wherever she goes, she proudly says, “This is my father’s name.” She even carries his name with her own because she feels proud of him.
If daughters were a burden, God would never have called them a blessing. The truth is, daughters are not disgrace—they are the most beautiful honor of a home.
:
بیٹی — ایک خاموش رحمت
جب ایک بیٹی پیدا ہوتی ہے تو وہ صرف ایک بچی نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے ساتھ مسکراہٹیں، امیدیں اور محبت کے نئے رنگ لے کر آتی ہے۔ اس کی پہلی مسکراہٹ ماں کے دل میں بہار پیدا کر دیتی ہے۔ جب وہ اپنا پہلا لفظ بولتی ہے تو ماں کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگتی ہیں۔ جب وہ بیٹھنا سیکھتی ہے تو گھر خوشیوں سے بھر جاتا ہے، اور جب وہ اپنے ننھے قدموں سے چلنا شروع کرتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گھر میں روشنی اتر آئی ہو۔
مگر اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایسی خوشیوں کو برداشت نہیں کر پاتے۔ وہ کہتے ہیں، “اسے اتنا سر پر مت چڑھاؤ، کل یہی بدنامی کا سبب بنے گی۔” یہ باتیں سن کر ایک باپ خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی سے بے حد محبت کرتا ہے، مگر لوگوں کے خوف سے اپنے دل کے جذبات چھپا لیتا ہے۔
جب بیٹی تھوڑی بڑی ہوتی ہے تو وہ اپنی ماں سے کھلونے مانگتی ہے، مگر اکثر اس کے کھلونے چھوٹے برتن ہوتے ہیں۔ کھیل ہی کھیل میں وہ وہی چیزیں سیکھ رہی ہوتی ہے جو شاید کل اس کی زندگی کا حصہ بن جائیں۔
پھر ایک دن وہ اپنے باپ کا نام جان لیتی ہے۔ جہاں بھی جاتی ہے فخر سے کہتی ہے، “یہ میرے باپ کا نام ہے۔” وہ اپنے نام کے ساتھ بھی اپنے باپ کا نام لگاتی ہے، کیونکہ اسے اپنے باپ پر فخر ہوتا ہے۔
اگر بیٹیاں بری ہوتیں تو اللہ تعالیٰ انہیں رحمت قرار نہ دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بیٹیاں بدنامی نہیں، بلکہ گھر کی سب سے خوبصورت عزت اور رحمت ہوتی ہیں۔