POEM😣😣
I was in pain, never knew the world would burn like this,
It would peel away my beauty in such a cruel abyss.
In front of me, they would meet me knowing my character’s truth,
I was unaware that even the beginning of blood would play with me, uncouth.
نظم 😣
تکلیف میں تھی، نہ جانتی تھی دنیا یوں جلے گی،
میری خوبصورتی کو اس طرح چھیلے گی۔
میرے آگے میرے کردار کو جان کر ملے گی،
میں ناآشنا تھی کہ میرے ساتھ خون کی ابتدا بھی کھیلے گی۔
“Blood 🩸”
Sehresh’s life was already filled with pain and silence, but she didn’t know that the real story was only just beginning. A strange fear had started living inside her, as if a storm was slowly making its way toward her. Every day, she looked at the walls of her own house—walls that once felt safe, but now seemed cold and unfamiliar.
That day felt normal too. People came, laughed, talked, and then left. But Sehresh had noticed something in their eyes—a glint that hid the truth. As night fell, the silence grew heavier. Every small sound made her uneasy, as if shadows were following her.
Then suddenly… a scream shattered the quiet.
Her heart started pounding. She looked toward the door, which was slowly creaking open. The darkness made it hard to see, but deep down, she knew—everything was about to change. Her steps moved back on their own, but there was nowhere left to go.
And then came the moment that changed her world forever.
The first drop of blood fell on the ground.
Her eyes widened. Her breath froze. In that instant, she understood—this wasn’t just an accident. It was a beginning… and somehow, she was a part of it. The same people who smiled during the day were now standing in their true form.
She couldn’t speak. Her voice was lost somewhere inside her. Her hands trembled as one question echoed in her mind: “Is there any way back?”
But the silence gave no answer.
That night, Sehresh didn’t die… but she wasn’t the same anymore. Something inside her had broken, and in its place, a new reality had taken hold—a reality where every step was stained with blood.
This wasn’t just an incident.
This was the start of Sehresh’s
“The Beginning of Blood 🩸”
“خون 🩸”
💔سہریش کی زندگی پہلے ہی درد اور خاموشی سے بھری ہوئی تھی، مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اصل کہانی ابھی شروع ہونے والی ہے۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا خوف رہنے لگا تھا، جیسے کوئی طوفان اس کے قریب آ رہا ہو۔ وہ روز اپنے ہی گھر کی دیواروں کو دیکھتی، جو اب اسے محفوظ نہیں بلکہ اجنبی لگتی تھیں۔
اس دن بھی سب کچھ عام لگ رہا تھا۔ لوگ آئے، ہنسے، باتیں کیں، اور چلے گئے۔ مگر سہریش نے ان کی آنکھوں میں کچھ دیکھا تھا—ایک ایسی چمک جو سچ کو چھپا رہی تھی۔ رات گہری ہوئی تو خاموشی اور بھی بھاری ہو گئی۔ ہر آواز اسے چونکا دیتی، جیسے کوئی سایہ اس کا پیچھا کر رہا ہو۔
اچانک ایک چیخ نے سکوت کو توڑ دیا۔
سہریش کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے دروازے کی طرف دیکھا، جو آہستہ آہستہ کھل رہا تھا۔ اندھیرے میں کچھ صاف نظر نہیں آ رہا تھا، مگر اسے احساس ہو چکا تھا کہ اب سب کچھ بدلنے والا ہے۔ اس کے قدم خود بخود پیچھے ہٹنے لگے، مگر راستہ ختم ہو چکا تھا۔
پھر وہ لمحہ آیا جس نے اس کی دنیا ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
خون کی پہلی بوند زمین پر گری۔
سہریش کی آنکھیں پھیل گئیں، سانس رک سی گئی۔ اسے سمجھ آ گیا کہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا، بلکہ ایک شروعات تھی—ایک ایسی شروعات جس میں اس کا نام بھی شامل تھا۔ اس کے اپنے لوگ، وہی چہرے جو دن میں ہنستے تھے، اب اپنے اصل روپ میں سامنے آ چکے تھے۔
وہ کچھ بول نہ سکی۔ اس کی آواز جیسے کہیں کھو گئی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، جو کانپ رہے تھے، اور دل میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا: “کیا اب واپسی ممکن ہے؟”
مگر جواب خاموشی تھا۔
اس رات سہریش مر نہیں گئی، مگر وہ وہی سہریش بھی نہیں رہی۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹ چکا تھا، اور اس کی جگہ ایک نئی حقیقت نے لے لی تھی—ایک ایسی حقیقت جہاں ہر قدم خون سے رنگا ہوا تھا۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا۔
یہ سہریش کی زندگی میں
“سہریش کی زندگی پہلے ہی درد اور خاموشی سے بھری ہوئی تھی، مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اصل کہانی ابھی شروع ہونے والی ہے۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا خوف رہنے لگا تھا، جیسے کوئی طوفان اس کے قریب آ رہا ہو۔ وہ روز اپنے ہی گھر کی دیواروں کو دیکھتی، جو اب اسے محفوظ نہیں بلکہ اجنبی لگتی تھیں۔
اس دن بھی سب کچھ عام لگ رہا تھا۔ لوگ آئے، ہنسے، باتیں کیں، اور چلے گئے۔ مگر سہریش نے ان کی آنکھوں میں کچھ دیکھا تھا—ایک ایسی چمک جو سچ کو چھپا رہی تھی۔ رات گہری ہوئی تو خاموشی اور بھی بھاری ہو گئی۔ ہر آواز اسے چونکا دیتی، جیسے کوئی سایہ اس کا پیچھا کر رہا ہو۔
اچانک ایک چیخ نے سکوت کو توڑ دیا۔
سہریش کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے دروازے کی طرف دیکھا، جو آہستہ آہستہ کھل رہا تھا۔ اندھیرے میں کچھ صاف نظر نہیں آ رہا تھا، مگر اسے احساس ہو چکا تھا کہ اب سب کچھ بدلنے والا ہے۔ اس کے قدم خود بخود پیچھے ہٹنے لگے، مگر راستہ ختم ہو چکا تھا۔
پھر وہ لمحہ آیا جس نے اس کی دنیا ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
خون کی پہلی بوند زمین پر گری۔
سہریش کی آنکھیں پھیل گئیں، سانس رک سی گئی۔ اسے سمجھ آ گیا کہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا، بلکہ ایک شروعات تھی—ایک ایسی شروعات جس میں اس کا نام بھی شامل تھا۔ اس کے اپنے لوگ، وہی چہرے جو دن میں ہنستے تھے، اب اپنے اصل روپ میں سامنے آ چکے تھے۔
وہ کچھ بول نہ سکی۔ اس کی آواز جیسے کہیں کھو گئی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، جو کانپ رہے تھے، اور دل میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا: “کیا اب واپسی ممکن ہے؟”
مگر جواب خاموشی تھا۔
اس رات سہریش مر نہیں گئی، مگر وہ وہی سہریش بھی نہیں رہی۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹ چکا تھا، اور اس کی جگہ ایک نئی حقیقت نے لے لی تھی—ایک ایسی حقیقت جہاں ہر قدم خون سے رنگا ہوا تھا۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا۔
یہ سہریش کی زندگی میں
“سہریش کی زندگی پہلے ہی درد اور خاموشی سے بھری ہوئی تھی، مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اصل کہانی ابھی شروع ہونے والی ہے۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا خوف رہنے لگا تھا، جیسے کوئی طوفان اس کے قریب آ رہا ہو۔ وہ روز اپنے ہی گھر کی دیواروں کو دیکھتی، جو اب اسے محفوظ نہیں بلکہ اجنبی لگتی تھیں۔
اس دن بھی سب کچھ عام لگ رہا تھا۔ لوگ آئے، ہنسے، باتیں کیں، اور چلے گئے۔ مگر سہریش نے ان کی آنکھوں میں کچھ دیکھا تھا—ایک ایسی چمک جو سچ کو چھپا رہی تھی۔ رات گہری ہوئی تو خاموشی اور بھی بھاری ہو گئی۔ ہر آواز اسے چونکا دیتی، جیسے کوئی سایہ اس کا پیچھا کر رہا ہو۔
اچانک ایک چیخ نے سکوت کو توڑ دیا۔
سہریش کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے دروازے کی طرف دیکھا، جو آہستہ آہستہ کھل رہا تھا۔ اندھیرے میں کچھ صاف نظر نہیں آ رہا تھا، مگر اسے احساس ہو چکا تھا کہ اب سب کچھ بدلنے والا ہے۔ اس کے قدم خود بخود پیچھے ہٹنے لگے، مگر راستہ ختم ہو چکا تھا۔
پھر وہ لمحہ آیا جس نے اس کی دنیا ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
خون کی پہلی بوند زمین پر گری۔
سہریش کی آنکھیں پھیل گئیں، سانس رک سی گئی۔ اسے سمجھ آ گیا کہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا، بلکہ ایک شروعات تھی—ایک ایسی شروعات جس میں اس کا نام بھی شامل تھا۔ اس کے اپنے لوگ، وہی چہرے جو دن میں ہنستے تھے، اب اپنے اصل روپ میں سامنے آ چکے تھے۔
وہ کچھ بول نہ سکی۔ اس کی آواز جیسے کہیں کھو گئی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، جو کانپ رہے تھے، اور دل میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا: “کیا اب واپسی ممکن ہے؟”
مگر جواب خاموشی تھا۔
اس رات سہریش مر نہیں گئی، مگر وہ وہی سہریش بھی نہیں رہی۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹ چکا تھا، اور اس کی جگہ ایک نئی حقیقت نے لے لی تھی—ایک ایسی حقیقت جہاں ہر قدم خون سے رنگا ہوا تھا۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا۔
یہ سہریش کی زندگی میں
“خون کی ابتدا 🩸” ” تھی۔