A Barve Man

300 Words
اس کتاب میں میرے مرحوم والد اور میرے زندگی کی داستان ھے جو کہ سو فیصد سچ پر مبنی ھے میں قاسم آباد حیدرآباد سندھ پاکستان کی قدیمی گوٹھ ڈومرا باگرانی کا رھائشی ھو میرے آبا و اجداد قیام پاکستان سے پہلی کی رھ رھیں ھیں یہاں آئین داستان کی طرف چلتی ھی میرے ابو ایک غریب گھرانے میں جب پیدائش ھوئی تو وہ سن 1930 تھا اور اپنی تمام عمر محنت مشقتوں کی بعد وہ دن آیا پڑھ لکھ کر تو وہ سن 1951 جب ابو مکمل 7 کلاس فائنل کر چکی تو سرکاری جوب ملی جو ایک ٹیچرز کی تھی اور 39سال اور 126 دن ابو اس عھدی فائز رھتی ھوئی ایک ھیڈ ماسٹر ھوکر 1990 میں اپنی نوکری سے ریٹائر ھوئی اور تب میں صرف 3 سال عمر کو پہنچا تھا اور ھم 3 بھائی ایک بہن ابو کی دوسری نکاح سے اولاد ھیں اور ابو کی پہیلی زوجہ جو وفات پا چکی تھیں اس سے ابو جو 3 بیٹیاں تھی جو میرے پیدا ھونی سے پہلے ابو نے شرعتن رخصت کر لیں تھی اب میں جب 5 سال ھوا قریب 1992 میں میرا ایک ایکسیڈنٹ ھوا سندھ شھر نواب علی محمد لغاری میں اور میرا پیٹ پہٹ گیا جس آنتیں اور دیگر اعضاء باھر آگئی قریب کی ایک چائے والے کی پاس میرا کزن بیٹھا تھا جو یے شور سن کر پہنچا کہ کسی حیدرآباد سے تعلق رکنی والے بچی کا ایکسیڈنٹ ھوا ھے تو آتی ھی میرے کزن نے میرے آنتیں اور دیگر اعضاء واپس پیٹ میں دال کر کندھے سی رومال لیا وہ لپیٹ کر مجھی قریب سرکاری ھاسپتال جو واقع ھے نواب شاھ شھر میں وھان آیا تو ادھر کی ڈاکٹروں نے میرا علاج کرنی سے صاف انکار کردیا بولی یے بچا نہیں بچی گا لحاظ آپ اس کہیں اور لے جائیں ادھر
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD