# محبت کا شور
### باب اول — شادی، جو ابھی ہوئی ہی نہیں تھی
حورین نے آئینے میں خود کو دیکھا اور پھر اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو گھورتے ہوئے بڑبڑائی،
"یا اللہ! آج ہی سب کو شادی کی پڑی ہے۔"
پیچھے سے آواز آئی۔
"کیونکہ تمہاری عمر بھی تو آج ہی ہوئی ہے۔"
حورین نے فوراً پلٹ کر دیکھا۔
دروازے پر اس کا چھوٹا بھائی حمزہ کھڑا تھا، ہاتھ میں چائے کا کپ لیے اور چہرے پر ایسی مسکراہٹ سجائے جیسے ابھی ابھی کوئی بہت بڑا جرم کر کے آیا ہو۔
"کیا مطلب؟"
"مطلب یہ کہ اماں کہہ رہی تھیں کہ اب تمہاری شادی کر دینی چاہیے۔"
حورین نے آنکھیں پھیلا دیں۔
"کیا؟"
حمزہ نے اطمینان سے چائے کا گھونٹ لیا۔
"ہاں۔ اور میں نے کہا ہے کہ اگر لڑکا اچھا ہو تو مجھے اعتراض نہیں۔"
"تمہیں کس نے رائے دینے کو کہا؟"
"میں گھر کا ذمہ دار بیٹا ہوں۔"
حورین نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا۔
"تم؟ ذمہ دار؟ کل تم نے ابو کے نئے جوتے پہن کر محلے میں کرکٹ کھیلی تھی!"
حمزہ نے فوراً جواب دیا،
"وہ جوتے خود میرے پاؤں میں آ گئے تھے۔"
"اور گیند بھی خود ہی ابو کی گاڑی کے شیشے پر لگی تھی؟"
حمزہ نے نظریں چرا لیں۔
"اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔"
حورین ہنسنے ہی والی تھی کہ باہر سے اماں کی آواز آئی۔
"حورین! جلدی نیچے آؤ۔ مہمان آنے والے ہیں!"
حورین کا چہرہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔
"مہمان؟ کون سے مہمان؟"
حمزہ نے بڑی معصومیت سے کہا،
"وہی جو تمہیں دیکھنے آ رہے ہیں۔"
"حمزہ!"
وہ تیزی سے اس کے پیچھے بھاگی۔
حمزہ ہنستا ہوا کمرے سے باہر نکلا۔
"اماں! حورین مجھے مار رہی ہے!"
"ماروں گی نہیں، زندہ دفن کروں گی!"
نیچے سے دادی کی آواز آئی۔
"ارے اسے چھوڑ دو! لڑکا ہے، شرارت تو کرے گا۔"
حمزہ فوراً سیڑھیوں سے نیچے بھاگا اور دادی کے پیچھے چھپ گیا۔
"دیکھا دادی؟ بہن مجھے قتل کرنا چاہتی ہے۔"
دادی نے عینک درست کی۔
"بیٹا، تمہیں دیکھ کر تو مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ کبھی کبھی قتل جائز ہونا چاہیے۔"
پورا گھر قہقہے سے گونج اٹھا۔
حورین نے منہ بنا لیا۔
"دادی! آپ بھی!"
دادی نے اسے اپنے پاس بلایا اور پیار سے اس کا چہرہ دیکھا۔
"میری بچی، ناراض نہ ہو۔ بس لڑکے والے آ رہے ہیں، دیکھیں گے، بات کریں گے۔ شادی تھوڑی ہو رہی ہے آج۔"
حورین نے آہستہ سے کہا،
"لیکن مجھے شادی نہیں کرنی۔"
دادی نے مسکرا کر پوچھا،
"کیوں؟"
"بس نہیں کرنی۔"
"کوئی پسند ہے؟"
حورین نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
"نہیں۔"
دادی نے شرارتی انداز میں کہا،
"یہ 'نہیں' بہت مشکوک تھا۔"
حورین نے کچھ جواب نہ دیا۔
اسی وقت دروازے پر گاڑی رکنے کی آواز آئی۔
حمزہ نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔
"آ گئے!"
اماں نے فوراً اسے گھورا۔
"تم خاموش رہو۔"
حمزہ نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا، مگر آنکھوں میں شرارت صاف نظر آ رہی تھی۔
چند لمحوں بعد مہمان اندر آ گئے۔
سب سے آگے ایک باوقار سی خاتون تھیں، ان کے ساتھ ایک بزرگ اور ایک نوجوان۔
حورین کی نظریں جیسے ہی اس نوجوان پر پڑیں، وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئی۔
وہ زید تھا۔
سادہ لباس، سنجیدہ چہرہ، اور آنکھوں میں عجیب سا سکون۔
زید نے بھی اسے دیکھا۔
صرف ایک لمحے کے لیے۔
پھر دونوں نے نظریں ہٹا لیں۔
حمزہ نے یہ منظر دیکھ لیا۔
اس نے دادی کے کان میں سرگوشی کی،
"دادی، کچھ تو گڑبڑ ہے۔"
دادی نے پوچھا،
"کیا؟"
"دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہے۔"
دادی نے مسکرا کر کہا،
"تمہیں ہر چیز میں فلم کیوں نظر آتی ہے؟"
حمزہ نے سنجیدگی سے کہا،
"کیونکہ ہماری فیملی میں ٹی وی سے زیادہ ڈرامہ ہے۔"
دادی اپنی ہنسی نہ روک سکیں۔
---
کچھ دیر بعد سب بیٹھ گئے۔
زید کی والدہ نے حورین کی طرف دیکھا۔
"بیٹا، آپ کیا کرتی ہیں؟"
حورین نے جواب دیا،
"میں لکھتی ہوں۔"
"کیا لکھتی ہیں؟"
"کہانیاں۔"
حمزہ فوراً بول پڑا،
"اور کبھی کبھی ہماری شکایتیں بھی۔"
حورین نے اسے گھورا۔
"حمزہ!"
زید کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
حورین نے پہلی بار اسے مسکراتے دیکھا۔
اور جانے کیوں اسے وہ مسکراہٹ اچھی لگی۔
بہت اچھی۔
زید کے والد نے پوچھا،
"بیٹا، شادی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟"
حورین خاموش ہو گئی۔
کمرے میں اچانک سکوت چھا گیا۔
اس نے ایک نظر دادی کی طرف دیکھا، پھر اپنی والدہ کی طرف۔
آخرکار اس نے آہستہ سے کہا،
"میری رائے یہ ہے کہ شادی دو لوگوں کے درمیان ہونی چاہیے، صرف دو خاندانوں کے درمیان نہیں۔"
زید نے پہلی بار پوری توجہ سے اسے دیکھا۔
حورین نے بات جاری رکھی۔
"اگر دو لوگ ایک دوسرے کو سمجھتے ہوں، عزت دیتے ہوں، تو رشتہ اچھا ہو سکتا ہے۔ ورنہ صرف خاندانوں کی رضامندی کافی نہیں ہوتی۔"
زید کے والد نے اثبات میں سر ہلایا۔
"بالکل درست۔"
زید خاموش تھا۔
حورین نے سوچا شاید اسے اس کی بات پسند نہیں آئی۔
مگر چند لمحوں بعد زید نے کہا،
"میں بھی یہی سمجھتا ہوں۔"
حورین نے چونک کر اسے دیکھا۔
زید کی نظریں اس پر تھیں۔
"رشتہ تب ہی خوبصورت ہوتا ہے جب دونوں لوگ اپنی مرضی سے اسے نبھانا چاہیں۔"
حورین کے دل میں عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔
وہ شخص، جسے وہ صرف چند منٹ پہلے دیکھ رہی تھی، اچانک اسے باقی سب سے مختلف کیوں لگنے لگا تھا؟
---
رات کو مہمان چلے گئے۔
حورین اپنے کمرے میں بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
حمزہ نے دروازہ کھولا۔
"اندر آ سکتا ہوں؟"
"نہیں۔"
وہ پھر بھی اندر آ گیا۔
"ویسے زید بھائی اچھے ہیں۔"
حورین نے چونک کر پوچھا،
"تمہیں کیسے پتا؟"
"میں نے ان کی گاڑی دیکھی ہے۔"
"گاڑی سے انسان اچھا کیسے ثابت ہوتا ہے؟"
حمزہ نے فخر سے کہا،
"گاڑی صاف تھی۔"
حورین نے تکیہ اٹھا کر اس کی طرف پھینکا۔
"نکل جاؤ!"
حمزہ ہنستا ہوا باہر چلا گیا۔
مگر جاتے جاتے رک گیا۔
"ویسے آپ مسکرا رہی تھیں۔"
حورین کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
"میں نہیں مسکرا رہی تھی!"
"اچھا۔"
حمزہ نے سر ہلایا۔
"تو آئینہ جھوٹ بول رہا تھا۔"
وہ بھاگ گیا۔
حورین نے دروازہ بند کیا اور بستر پر بیٹھ گئی۔
اس کے ذہن میں بار بار زید کی بات آ رہی تھی۔
"رشتہ تب ہی خوبصورت ہوتا ہے جب دونوں لوگ اپنی مرضی سے اسے نبھانا چاہیں۔"
وہ بے اختیار مسکرا دی۔
پھر خود ہی چونک گئی۔
"حورین! یہ کیا ہو رہا ہے؟"
اس نے تکیہ اٹھا کر اپنا چہرہ چھپا لیا۔
---
اگلے دن صبح حورین ناشتے کی میز پر بیٹھی تھی کہ دادی نے اعلان کیا،
"ہم نے فیصلہ کیا ہے۔"
حورین نے فوراً پلیٹ رکھ دی۔
"کیا فیصلہ؟"
دادی نے مسکرا کر کہا،
"شادی کی بات آگے بڑھائیں گے۔"
حورین کا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔
"لیکن میں نے تو..."
دادی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"ہم تم پر کوئی زبردستی نہیں کریں گے۔ پہلے تم دونوں ایک دوسرے کو سمجھو۔"
حورین نے حیرت سے پوچھا،
"دونوں؟"
حمزہ فوراً بولا،
"جی ہاں۔ آپ اور زید بھائی۔"
"تم چپ کرو!"
حمزہ نے ناشتہ جاری رکھا۔
"میں تو بس مستقبل کی بھابھی کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔"
حورین نے اسے گھورا۔
"میں تمہیں آج واقعی مار دوں گی۔"
دادی ہنس پڑیں۔
"یہی تو ہماری حورین ہے۔"
---
اسی وقت زید اپنے گھر میں بیٹھا اپنے موبائل کو دیکھ رہا تھا۔
اس کی بہن نے پوچھا،
"کیا دیکھ رہے ہو؟"
"کچھ نہیں۔"
"حورین کا نمبر ہے؟"
زید نے فوراً موبائل بند کر دیا۔
"تمہیں کیسے پتا؟"
وہ ہنسنے لگی۔
"بھائی، آپ کے چہرے پر پہلی بار کچھ لکھا ہوا نظر آ رہا ہے۔"
زید نے سر جھکا لیا۔
"وہ اچھی لڑکی ہے۔"
بہن نے شرارتی انداز میں پوچھا،
"صرف اچھی؟"
زید خاموش ہو گیا۔
پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
"شاید... کچھ زیادہ۔"
---
حورین کو ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں آنے والا شخص صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک ایسی کہانی بننے والا ہے جس میں محبت بھی ہوگی، خاندان بھی، بے شمار غلط فہمیاں بھی، اور حمزہ جیسا ایک ایسا بھائی بھی...
جو ہر سنجیدہ لمحے کو کامیڈی میں بدلنے کی پوری صلاحیت رکھتا تھا۔
اور شاید سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ زید اور حورین کی محبت شروع ہونے سے پہلے ہی...
ان دونوں کے خاندان ان کی شادی تین بار کروا چکے تھے۔
جبکہ دونوں نے ابھی ایک دوسرے کو "السلام علیکم" سے آگے کچھ کہا بھی نہیں تھا۔