ناول:- دھند کا قیدی
مصنفہ:- مہوش رضا
*"دھند کا قیدی" – قسط 2: کیبن کی آگ [ریوائزڈ]*
### *قسط 2: کیبن کی آگ*
*لوکیشن: مارگلہ ہلز، رُوحان کا کیبن۔ رات 7:12۔*
20 منٹ کا راستہ... دھند میں 2 گھنٹے لگ رہا تھا۔
سفید دھند اتنی گہری تھی کہ مہرماہ کو بس لالٹین کی روشنی اور آگے چلتا سایہ نظر آ رہا تھا۔ اس کے شولڈر پر بلیک جیکٹ تھی۔ گرم۔ اس کی خوشبو والی۔
"پہنچ گئے،" بھاری آواز آئی۔
سامنے لکڑی کا کیبن تھا۔ چیڑ کے درختوں میں چھپا ہوا۔ کھڑکیوں سے زرد روشنی ٹپک رہی تھی۔
دروازہ کھلا۔ اندر *گرم فائر پلیس* جل رہی تھی۔ لکڑی چٹخ رہی تھی۔ کمرے میں جنگل اور کافی کی مہک تھی
"اندر آؤ۔ دروازہ بند کرو۔" حکم تھا، لیکن آواز میں فکر تھی۔۔
مہرماہ اندر آئی۔ کانپ رہی تھی۔ دروازے پر کھڑا وہ شخص اسے سر سے پیر تک دیکھ رہا تھا۔ بھیگے بال، کانپتے ہونٹ، اس کی جیکٹ میں لپٹی ہوئی۔
"تم برف بن رہی ہو۔"
مہرماہ نے جیکٹ اتارنی چاہی۔ "میں ٹھیک ہوں۔ شکریہ۔
"نہیں ہو۔" جیکٹ اس کے ہاتھ سے کھینچ لی گئی۔ "بیٹھو۔"
اسے فائر پلیس کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ خود وہ کچن میں چلا گیا۔
2 منٹ بعد واپس آیا۔ ہاتھ میں ایک بڑا گرے اوورسائزڈ سویٹر اور گرم کافی کا مگ۔
"یہ پہنو۔ اور یہ پیو۔"
مہرماہ نے سویٹر پکڑا۔ بہت بڑا تھا۔ آستینیں ہاتھوں سے باہر لٹک رہیں۔
"میں... میں نہیں پہن سکتی۔ یہ آپ کا ہے۔"
ایک ابرو اٹھی۔ نظریں تیز ہو گئیں۔ "تو بھیگی حالت میں فائر کے سامنے بیٹھ کر بیمار پڑنا چاہتی ہو؟"
مہرماہ چپ ہو گئی۔ وہ سچ تھا۔
اس نے جلدی سے بھیگا سویٹر اتارا اور وہ گرے سویٹر پہن لیا۔
خوشبو... وہی۔ جنگل + کافی + وہ۔
سویٹر گھٹنوں تک آ رہا تھا۔ بالکل ڈریس کی طرح۔۔
کافی کا مگ ہاتھ میں تھمایا گیا۔ انگلیاں ایک لمحے کے لیے چھوئیں۔
مہرماہ کا دل دھڑکا۔
وہ نوٹس کر کے بھی انجان بنا۔ فائر کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔ ٹانگیں پھیلا کر۔
سناٹا۔ صرف آگ کی چٹخ۔
"تو..." مہرماہ نے ہمت کی، "آپ ہر اتوار یہاں آتے ہیں؟ اکیلے؟
کافی کا گھونٹ۔ نظریں آگ میں۔ "ہاں۔"
"کیوں؟"
"کیونکہ شہر میں شور ہے۔ یہاں... سکون ہے۔" وہ رکا۔ پھر سیدھا اسے دیکھا۔ "اور تم۔"
مہرماہ کا سانس رک گیا۔ "میں؟"
"تم شور لے کر آئی ہو، مہرماہ خان،" سرگوشی میں بولا۔ "میرے سکون میں۔"مہرماہ نے فوراً نظریں جھکا لیں۔ گال سرخ۔ سویٹر کی آستینیں کھینچیں۔وہ اٹھا۔ "اوپر ایک کمرہ ہے۔ تم وہاں سو جاؤ گی۔"
"اور آپ؟"
"میں یہیں۔"
"لیکن... رات بہت ٹھنڈی ہے۔"
وہ مڑا۔ سایہ اس پر پڑا۔ فائر کی روشنی میں آنکھیں اور بھی ڈارک لگ رہی تھیں۔
"مہرماہ،" آواز دھیمی ہو گئی، "تم میرے کیبن میں ہو۔ میرے سویٹر میں ہو۔ میری آگ کے سامنے بیٹھی ہو۔"
وہ رکا۔ "اور تم مجھ سے پوچھ رہی ہو کہ میں ٹھنڈ میں سوؤں گا؟" مہرماہ کا دل ڈوب گیا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ سویٹر گھٹنوں سے پھسل رہا تھا۔"میں... سوری۔ میں اوپر چلی جاتی ہوں۔" وہ بھاگی۔ سیڑھیاں چڑھ گئی۔ نیچے وہ کھڑا رہ گیا۔ فائر کو گھورتا ہوا۔ جبڑا جکڑا ہوا۔
مٹھی بند کی۔ اور سرگوشی میں کہا: "ڈیول..."
*کیونکہ اس کیبن میں... آگ صرف فائر پلیس میں نہیں جل رہی تھی۔*