قبر کی پہلی سانسUpdated at Jun 22, 2026, 02:37
Awrites سبق آموز افسانہ قبر کی پہلی سانس ات کا تیسرا پہر تھا۔ سردی ایسی تھی کہ ہڈیوں تک اتر رہی تھی۔ چاروں طرف اندھیرا تھا۔ اور قبر... بالکل سنسان۔ صرف مٹی کی بو اور خاموشی۔حامد نے کانپتے ہاتھوں سے قبر کا دروازہ بند کیا۔ "دھم" کی آواز ہوئی اور دل جیسے منہ کو آ گیا۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ لگتا تھا ابھی سینہ چیر دے گی۔ سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔"یا اللہ... یہ میں نے کیا کر لیا؟" اس نے سوچا تھا قبر کرائے پر لے کر لوگوں کو ڈرائے گا۔ وائرل ویڈیو بنائے گا۔ لوگ واہ واہ کریں گے۔ لیکن اب... اب جب وہ خود قبر کے اندر لیٹا تھا، تو ہر لمحہ صدی لگ رہا تھا۔اوپر سے مٹی گرنے کی آواز آئی۔ "ٹپ... ٹپ..." حامد کا جسم جھنجھوڑ کر رہ گیا۔ پسینہ پیشانی سے بہہ کر آنکھوں میں چلا گیا۔ آنکھیں جلنے لگیں لیکن وہ مل بھی نہ سکا۔اچانک... ٹک ٹک... ٹک ٹک...کوئی آہستہ آہستہ قبر کی مٹی پر چل رہا تھا۔ قدم بہت ہلکے تھے۔ جیسے کوئی بے وزن چیز ہو۔حامد کا سانس رک گیا۔ اس نے زور سے آنکھیں بند کر لیں۔"کون ہے؟ کون ہے وہاں؟" اس نے کانپتی آواز میں پوچھا۔ آواز خود اسے عجیب لگی۔کوئی جواب نہیں۔ صرف مٹی گرنے کی آواز... سر... سر...اس کے ذہن میں ماں کی آخری بات گونجنے لگی: "بیٹا، قبر کا خوف جسے آ جائے، اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ مرنے سے پہلے مر جانا بہتر ہے، تاکہ مرنے کے بعد سکون مل جائے..."حامد کو اپنی پوری زندگی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے گھومتی نظر آئی۔ جھوٹ... دھوکہ... نماز چھوڑنا... ماں کو اونچی آواز میں جواب دینا... "نہیں... نہیں..." وہ سر جھٹکنے لگا۔ "میں تو اچھا ہوں... میں نے کسی کا قتل تو نہیں کیا..."لیکن ضمیر نے چیخ کر کہا: "قتل نہیں کیا؟ تو کیا ہر گناہ کے لیے قتل ضروری ہے؟"اسی لمحے قبر کی دیوار سے مٹی کا ایک ڈھیلا گرا۔ سیدھا اس کے پاؤں پر۔ حامد چیخ پڑا۔ چیخ قبر کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس اسی کے کانوں میں گونجی۔اس نے محسوس کیا کہ قبر تنگ ہو رہی ہے۔ دیواریں اس کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ سانس گھٹنے لگا۔آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ پہلی بار دل سے دعا نکلی۔ "یا اللہ... اگر یہ سچ میں قبر کا عذاب ہے... اگر یہ جھلک ہے جہنم کی... تو مجھے معاف کر دے... میں وعدہ کرتا ہوں... میں سچا مسلمان بنوں گا... نماز پڑھوں گا... ماں کے پاؤں دباؤں گا... کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا..."اس کی سسکیوں کی آواز قبر کی خاموشی میں گونج رہی تھی۔ اچانک... سب خاموش ہو گیا۔ قدموں کی آواز بند۔ مٹی گرنا بند۔ صرف حامد کی ہچکیاں۔اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔ اوپر ایک چھوٹا سا سوراخ تھا۔ اس میں سے چاند کی ہلکی سی روشنی آ رہی تھی۔حامد نے آسمان کی طرف دیکھا اور سرگوشی کی: "یا اللہ... شکریہ... شکریہ کہ تو نے مجھے مہلت دی..."اس رات حامد سو نہیں سکا۔ لیکن وہ بدل چکا تھا۔ قبر نے اسے جگا دیا تھا۔*[ختم - Chapter 2]