۔
جج ۔۔جی ۔۔آ رہی ہو
ایشال نے جلدی سے سر پر دوپٹہ لیا اور کچن میں کھانا گرم کرنے چلی گئی ۔۔۔
اپ کا کھانا . تیار ہے آ جائے ۔۔۔
همم ۔۔تم نے کھایا کھانا
جی ۔۔۔
اچھا بیٹھو میری بات سنو ۔۔۔۔۔
جج۔۔جی
اب میری والدہ ٹھیک ہو رہی ہے تو اگے کا کیا سوچا تم نے ۔
ابھی تو میرا کوئی پلان نہیں ہے ۔۔ ابھی کچھ ڈیسائیڈ ہی نہیں کیا .گڈ ۔ تمھارے لیے میں نے سب پلان کر رکھا ہے بس تمهیں کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں
جی ۔مم ۔میں جاؤ ۔۔
همم جاؤ ۔
( تمهیں جانے کی اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے ۔۔) زيان نے صرف سوچا بولا کچھ نہیں ۔
ایشال کمرے میں آئی اور خوش ہو رہی تھی ۔کہ زيان اسے یہاں اپنی کمپنی میں جاب دے گا ۔۔۔لیکن وہ بے خبر تھی۔۔۔اس کی زندگی اب کونسا موڑ لینی ہے ۔
🦋🎀🦋🎀🦋🎀🦋🎀🦋🎀🦋
اس نے آئینے میں خود کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرا دی ۔
"شاید... سب ٹھیک ہو جائے گا" اس نے سرگوشی کی ۔
ادھر زيان اپنی کرسی پر ٹیک لگائے چھت کو گھور رہا تھا ۔
"میں تمہیں اس گھٹن سے نکال دوں گا ایشال... چاہے تم مجھ سے نفرت ہی کیوں نہ کرو" ۔
اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں ۔ فیصلہ ہو چکا تھا ۔
Next month start
ایک مہینہ گزر چکا تھا ۔
موسم بدل چکا تھا ۔ اور ایشال کی زندگی بھی ۔
یونیورسٹی کے ہال میں شور تھا ۔
" ایشال! ہمہارے پیپرز فائنل ہیں۔۔ نیہانے اس کا ہاتھ پکڑا ۔
ایشال نے کتابیں سینے سے لگائیں اور گہرا سانس لیا ۔
"ہاں... فائنل ہیں ۔" اس کی آواز میں تھکاوٹ تھی پر آنکھوں میں ضد ۔
گزشتہ ایک مہینے میں زيان نے واقعی کچھ نہیں کہا تھا ۔ نہ جاب کی بات ۔ نہ کوئی پلان ۔
آج پہلا پیپر تھا ۔اور ایشال پوری تیاری کے ساتھ آئی تھی ۔۔
ایشال تمہاری کیسی تیاری ہے ۔۔۔۔
بہت اچھی ۔تم بتاؤ کیسی تیاری ہے ۔
نیہا:بس ٹھیک ہی ہے ۔یار مجھے نہ اسٹڈی میں کوئی انٹرسٹ نہیں ۔میں تو بس دنیا گھومنا چاہتی ہو ۔۔
اچھا ۔بس اب چلے پیپر ٹائم ہو گیا ۔۔
همم ۔ ایشال تم میری درد بھری کہانی سن بھی لیا کرو ۔
پھر کبھی چلو اب
________________________________
پیپر ختم ہونے کے بعد اب دونوں ہال کے باہر تھی ۔۔۔
ایشال میرا پیپر اچھا نہیں ہوا ۔۔۔
توتیاری کرتی نہ نیہا۔۔۔
کرتی تو ہوں بٹ میرا دماغ کام ہی نہیں کرتا ۔۔ کیا کرو ۔۔
کچھ نہیں بس تھوڑا دھیان سے پڑھا اور یاد کیا کرو ۔۔
اوہ ۔۔میری گاڑی آ گئی میں اب چلتی ہو پیپر کا کیا ہے پاس تو ہو ہی جاؤ گی ۔۔اللّه حافظ ۔۔۔
اللّه حافظ ۔۔۔کتنا بولتی ہو ۔۔۔۔پیپر کی تیاری اچھی طرح کرنا ۔۔۔ ایشال نے نیہاکو پیچھے سے آواز لگا کر کہا۔اتنی میں گاڑی بھی آ گئی ۔
گھر آ کر ایشال کو بس پیپر کی ہی ٹینشن تھی ۔اب بھی سوچتے ہوے کھانا بنا رہی تھی۔۔
Ji.woo ....ji.woo..
ادھر آؤ ۔۔ادھر آؤ ۔۔۔
ا۔۔آ۔۔۔آ رہی ہو ۔
کیم۔یے۔یون ۔کی طبیت آج پھر بگڑ گئی ۔۔۔
میں آ گئی ۔اپ ریلیکس کریں ۔۔میں یہیں ہو اپ کے پاس ۔۔
مم۔مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔
نہیں جا رہی۔۔آپ پریشان نہ ہو۔ انٹی اپ کچن کا کام دیکھ آئیں میں تب تک انٹی کو سمبھالتی ہو ۔۔
کم۔یے۔یون کو سمبھالنے کے لیے زیان نے کیئرٹیکر رکھی ہوئی ہے ۔لیکن ایشال ہی سمبھال پاتی ہے۔
کچھ دیر بعد ۔۔۔
ایشال کھانا تیار ہو گیا ہے ۔
اچھا انٹی اپ کیم۔یے۔یون کا کھانا لےآئیں ان کو دوائی دینی ہے پھر۔
جی۔۔
جی۔وو ۔۔مجھے بھو۔۔۔۔بھوک نہیں ہے ۔
انٹی کھانا تو کھانا ہو گا نہ ۔ورنہ اپ کیسے ٹھیک ہونگی ۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔
همم گڈ۔۔
(کیم۔یے۔یون کافی ٹھیک ہو چکی تھی ۔ اب باتیں بھی نارملی کر لیتی ہے۔ طبیعت میں کافی سدھار آ چکا ہے۔ )
انٹی کو دوائی دینے کے بعد ایشال خود کھانا کھانے کے بعد اب اپنے اگلے پیپر کی تیاری میں مشغول ہو گئی۔
کافی تیاری ہو گئی بس اللّٰه جی میں اچھے سے اچھے نمبرز سے پاس ہو جاؤ۔ آمین ۔❤️
اب زيان جی آ جائے ان کو کھانا دے دوں تو پھر سو جاؤ تا کہ کل کے پیپر کے لیے فریش اٹھو۔۔۔
اتنے میں گیٹ پر ہارن کی آواز آئی ۔۔
لگتا ہے آ گئے۔میں تب تک کھانا گرم کر لوں ۔
السلام علیکم۔ ( زيان نے سلام کیا)
وعلیکم السلام !! اپ کا کھانا تیار ہے فریش ہو کر آئیں۔
همم آتا ہوں ۔
کچھ دیر بعد۔۔۔
تم ابھی تک یہی ہو۔ کھانا کھا لیا تم نے۔
جی کھا لیا ۔ وہ ۔۔انٹی اب کچھ بہتر ہوئی ہے ۔
( ایشال اس بات سے کافی خوش تھی کہ کیم۔یے۔ یون کافی ٹھیک ہو گئی ہے۔)
همم جانتا ہوں۔ تمھارے پیپر کیسے چل رہے ہیں ۔۔۔
بہت اچھے ۔
همم۔ ٹھیک ہے ۔جاؤ سو جاؤ صبح جانا ہے پیپر کے لیے ۔
اپ کھانا کھا لے تو پھر میں سب سمیٹ کر سو جاؤ گی ۔
میں کر لونگا تم جاؤ ۔۔
لیکن ۔۔
جاؤ ایشال۔۔
جج۔۔ جی ۔۔
اگلا ایک ہفتہ ایسا مصروف گزرا کہ ایشال پپرز میں بزی اور زيان اپنے نئے پروجیکٹ میں بزی تھا ۔
افف ۔۔ ایشال۔۔فائنلی ہمارے پپیرز ختم ہو گئے ۔۔
ہاں نیہابس دعا کرو کہ رزلٹ اچھا آئے۔
آمین ۔۔آمین ۔۔۔
آؤ آج پارٹی کرتے ہیں ۔
همم۔ آؤ چلتے ہیں ۔
کافی انجوائے کر لیا نیہااب گھر چلتے ہیں ۔
ارے یار ایشال ابھی تو اتنا وقت نہیں ہوا ۔
نہیں مجھے گھر جانا ہے ۔کھانا بنانا ہے ۔۔
همم ۔پر پہلے اپنے بارے میں بتاؤ نہ کو اسٹوری ادھی بچ گئی تھی وہ سناؤ
نیہا ابھی نہیں بہت ضروری ہے گھر پہنچنا ۔۔
پر ایشال۔۔
بتاؤ گی تمهیں لیکن ابھی نہیں اگر میں نے اپنی کہانی ابھی بتائی میں ابھی خود کو سمبھال نہیں پاؤ گی
ایشال تمہاری کہانی آخر ہے کیا ۔
چھوڑو نہ نیہاوہ دیکھو تمہاری گاڑی آ گئی ۔ اب چلو ۔
لیکن ایشال اب ہم بات کیسے کریں گے ۔
میں تمھارے ہوسٹل کیسے آؤ گی ۔کیونکہ ہاسٹل رولز بہت سخت ہے ۔اس لیے اپنا فون نمبر دو ۔
ایشال میں ہوسٹل نہیں رہتی میں اپنے ہسبنڈ کے ساتھ ہی رہتی ہوں ۔یہ لو گھر کا ایڈریس ۔کبھی یاد آے میری تو آ جانا۔اب جاؤ ۔
ایشال حیران سی چل دی ۔۔۔۔
(سب بتاؤ گی نیہالیکن ابھی نہیں ۔ ایشال خود سے ہی باتیں کر رہی تھی ۔)
اگے کیا ہو گا کیا زيان ایشال کو پاکستان واپس بھیج دے گا یا کرے گا زندگی کی نئی شروعات ۔۔۔جاننے کے لیے ہمارے ساتھ جوڑے رہیے ۔۔۔
To be continue...
ab agy kiya ho ga...
Kiya eshal ceo bn paye gii janny k liyy jory rehye writer anna k sath..