"اور ہاں ایشال یاد آیا... تم میرڈ ہو، بتایا نہیں تم نے۔"
ایشال نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں۔ ہاتھ میں پین زور سے پکڑا ہوا تھا۔
"وہ... میں بتانا بھول گئی تھی۔ ہاں ہو گئی ہے شادی۔"
نیہاکی آنکھیں پھٹ گئی:
"کیا؟ شادی؟ اور مجھے بتایا بھی نہیں؟ چلو کینٹین، وہاں بیٹھ کر سب بتاؤ۔ کیسے ملے، کب ہوئی شادی، اور جیجو کا نام ۔۔۔۔
نیہا نے کندھوں سے پکڑ لیا ایشال کو :
"نام نہیں بتاؤ گی؟ ٹھیک ہے۔ پر یہ تو بتاؤ... تم خوش ہو نا اپنی شادی سے؟"
ایشال نے فوراً مسکرانے کی کوشش کی
"جی... خوش ہوں۔ میں پھر کبھی بتاؤ گی ۔۔اب چلو کلاس کا ٹائم ہو گیا۔اور ڈیٹ شیٹ آ گئی تو بعد میں
سہی . "
پر ہاں تیرے جیجو کا نام زيان ہے ۔۔۔۔
کیا زيان ۔ مسٹر زيان جو ساؤتھ کوریا بیسٹ بزنس ٹائیکون میں سے ایک ہے ۔۔۔۔
همم ۔۔۔۔وہی
واو ایشال اس کا مطلب تم کوئی عام لڑکی نہیں ہو ۔۔۔۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔ چلو اب کلاس اٹینڈ کرنے ۔۔۔پھر سہی میری زندگی کی کہانی ۔۔۔
اوکے پر پھر بتاؤ گی مجھے ۔۔۔
اوکے۔۔۔۔
نیہا نے ہار مان لی:
"چلو ٹھیک ہے۔
گھر آتے ہی ایشال سیدھا کمرے میں گئی۔
اس نے جائے نماز بچھا لی اور سجدے میں رو پڑی۔
"یا اللہ... میں جھوٹ نہیں بول رہی۔ بس وقت سے پہلے سچ نہیں کہہ رہی۔ میری مدد کرنا..."
نماز کے بعد اس نے ڈیٹ شیٹ کھولی۔
اور بکس اوپن کیا قلم ہاتھ میں پکڑا، پر لکھااور پڑھا . کچھ نہ گیا
دل میں صرف زیان کی وہ بات گونج رہی تھی:
"چھوڑ دو یہ دیسی عادتیں..."
ایشال نے آنکھیں بند کر لیں۔
(کیا میں کبھی زیان کی معیار کی بن پاؤ گی ۔۔۔۔پر اللّه جی مجھے سمپل رہنا پسند ہے میں کیسے خود کو بدلو ۔۔۔۔
وہاں آفس میں زيان بھی پریشان تھا کہ کیسے وہ ایشال سے روڈ ہو گیا ۔۔۔
مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ اس کے پیپر ہونے والے ہے ۔۔۔
ایشال مجھے معاف کرنا میں تمهیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہو ۔ . . . . . . .
ٹھک ۔۔۔۔۔ٹھک ۔۔۔
کک ۔۔۔۔کون ۔۔۔
میں ہوں زیان۔۔مجھے کھانا دو ۔۔۔
جج ۔۔جی ۔۔آ رہی ہو
ایشال نے جلدی سے سر پر دوپٹہ لیا اور کچن میں کھانا گرم کرنے چلی گئی ۔۔۔
اپ کا کھانا . تیار ہے آ جائے ۔۔۔
همم ۔۔تم نے کھایا کھانا
To be continue...
guys agy story bhuut msalha sar hoti jye gii so jory rehye writer anna k sath