........
گھر آ کر ایشال بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی۔ اس کے پیپرز ختم ہو چکے تھے، اس لیے اب ٹینشن بھی ختم۔ وہ بالکل ریلیکس تھی۔
آج وہ بےحد خوش تھی اور خوشی خوشی کھانا بنا رہی تھی۔ خوشی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آنٹی کِم یے یون کی طبیعت اب کافی بہتر تھی۔ اسی خوشی میں وہ زیان کا پسندیدہ کھانا تیار کر رہی تھی۔
کھانا بنانے کے بعد ایشال نے میز پر کھانا لگا دیا۔
"بس اب زیان جی آ جائیں، پھر ہم سب مل کر کھانا کھائیں گے..."
*ایشال:* "کلثوم آنٹی، ادھر آئیں!"
(کِم یے یون کی کیئر ٹیکر ہیں) ایشال نے انہیں آواز دی۔
*کلثوم آنٹی:* "جی بیٹا، بتائیے کیا ہوا ہے؟"
*ایشال:* "آنٹی، میں نے کھانا تیار کر لیا ہے۔ آپ اور آنٹی کِم یے یون کو لے آئیں، تاکہ ہم آج ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔ آپ بھی ہمارے ساتھ کھائیے گا۔"
*کلثوم آنٹی:* "جی بیٹا، میں ابھی آتی ہوں۔"
اتنے میں زیان بھی گھر آ گیا۔ ایشال جلدی سے اٹھی اور زیان کے ہاتھ سے آفس بیگ لے لیا۔
*ایشال:* "زیان جی، آپ فریش ہو کر آئیں۔ میں تب تک یہ بیگ رکھ آتی ہوں۔"
*زیان:* "ٹھیک ہے۔"
اس وقت سب بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے۔
*زیان:* "ماما، آپ کی طبیعت کیسی ہے؟"
*کِم یے یون:* "میں ٹھیک ہوں بیٹا۔ بس جی وو میرا بہت خیال رکھتی ہے۔"
*زیان:* "ماما، میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ یہ جی وو نہیں ہے... یہ آپ کی بہو ایشال ہے۔"
[آنٹی کِم یے یون اب ٹھیک تو ہیں، لیکن کبھی کبھی ان کی یادداشت چلی جاتی ہے۔ اسی لیے وہ ایشال کو بار بار 'جی وو' کے نام سے بلاتی ہیں۔]
سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد ایشال سب برتن سمیٹ رہی تھی۔
*ایشال (دل میں):* "اے اللہ جی، شکر ہے کام ختم ہو گیا۔ اب جا کر نماز پڑھتی ہوں، ویسے بھی نماز کا وقت ہے۔ پھر سو جاؤں گی۔"
نماز پڑھنے کے بعد...
ایشال لیٹنے ہی والی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
*ایشال:* "کون ہے؟"
*زیان:* "میں ہوں، زیان۔"
*ایشال:* "اندر آ جائیں۔"
*ایشال:* "آپ کو اس وقت کچھ چاہیے؟" ایشال نے زیان سے پوچھا۔
*زیان:* "نہیں، کچھ چاہیے نہیں تھا۔ بس سر میں تھوڑا درد ہے۔ مجھے چائے بنا دو۔"
*ایشال:* "جی، ابھی بنا کر دیتی ہوں۔"
ایشال کچن میں چائے بنانے چلی گئی۔ زیان وہیں ایشال کے بیڈ پر لیٹ گیا۔
تھوڑی دیر بعد...
*ایشال:* "زیان جی، آپ کی چائے بن گئی ہے۔"
ایشال نے آواز لگائی۔ زیان بیڈ پر جوتوں سمیت لیٹا ہوا تھا، پاؤں نیچے لٹکائے، تکیے پر سر رکھے، آنکھیں بند کیے نیند کی وادیوں میں کھو چکا تھا۔
ایشال نے ایک دو بار آواز دی، لیکن آگے سے کوئی جواب نہیں آیا۔
*ایشال:* "اللہ جی، کہیں یہ سو تو نہیں گئے؟ اب میں کہاں سوؤں گی؟ اب کیا کروں میں...؟"
"ہاں، آئیڈیا! صوفے پر ہی سو جاتی ہوں۔"
ایشال نے چادر لی اور صوفے پر لیٹ گئی۔
*ایشال (سوچتے ہوئے):* "انہوں نے مجھے چائے بنانے کا کہا تھا اور خود سو گئے۔ کہیں ان کے سر میں درد تو نہیں تھا؟ جب بھی ان کے سر میں درد ہوتا ہے تو یہ مجھ سے چائے منگواتے ہیں۔"
"ایسا کرتی ہوں، ان کا سر دبا دیتی ہوں۔ شاید صبح اٹھیں تو بہتر محسوس کریں۔"
ایشال اٹھی، کٹوری میں تیل ڈالا اور زیان کے سرہانے بیٹھ گئی۔
*ایشال:* "اب دیکھیے گا زیان جی، میں آپ کے سر کی مالش کروں گی تو آپ کو نیند بھی بہت اچھی آئے گی اور آپ صبح بالکل فریش اٹھیں گے۔"
ایشال مالش کرتے کرتے خود بھی وہیں بیٹھے سو گئی...
رات ایک بج کر پینتالیس منٹ پر زیان کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے آس پاس دیکھا تو وہ اپنے کمرے میں نہیں تھا۔ پھر اس نے ساتھ بیٹھی ایشال کو دیکھا۔
*زیان (خود سے):* "شاید میں یہیں سو گیا تھا..." زیان کو یاد آ گیا کہ وہ رات ایشال سے چائے بنوانے آیا تھا اور پھر پتہ ہی نہیں چلا کب آنکھ لگ گئی۔
"کتنی معصوم لگ رہی ہے ابھی۔ چھوٹی سی، معصوم سی۔ میں کتنا برا ہوں نا... جب سے یہ آئی ہے، نہ اس سے اچھے سے بات کرتا ہوں اور نہ ہی کبھی اس سے پوچھا کہ اسے کچھ چاہیے یا نہیں۔"
آج پتہ نہیں زیان کو ایشال پر اتنا پیار کیوں آ رہا تھا۔
زیان نے جلدی سے ایشال کے چہرے سے نظریں ہٹائیں اور اٹھ کھڑا ہوا۔
*زیان (خود سے):* "نہیں، نہیں... یہ میں غلط سوچ رہا ہوں۔ مجھے اپنے کمرے میں جانا چاہیے۔ اسے اپنے خوابوں کو پورا کرنا ہے اور ابھی اسے آگے، بہت آگے تک جانا ہے۔"
"یہ تو نادان سی، معصوم سی بچی ہے۔ اسے اپنے خوابوں کو پورا کرنا ہوگا۔"
زیان اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا اور اپنے کمرے میں آ کر پانی پینے لگا۔
زیان نے جب اپنے بالوں کو ہاتھ لگایا تو وہ تیل سے بھرے ہوئے تھے۔
*زیان:* "یہ اتنا تیل کہاں سے آیا میرے بالوں میں؟"
زیان جلدی سے واپس ایشال کے کمرے میں آیا۔ سائیڈ ٹیبل پر تیل کی کٹوری دیکھی۔
*زیان:* "اوہ، تو اچھا... یہ میرے سر میں تیل لگاتی رہی ہے۔ معصوم ہونے کے ساتھ ساتھ دل کی بھی کتنی معصوم اور صاف ہے۔"
*زیان (دل میں):* "مجھے معاف کرنا ایشال، لیکن میں تمہیں بیوی والا درجہ نہیں دے پاؤں گا۔ تم مجھ سے بہتر ڈیزرو کرتی ہو۔ میں بہت جلد تمہیں اس بےنام رشتے سے آزاد کر دوں گا۔"
زیان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا وہ اس لڑکی سے پیار کرنے لگا ہے؟ یا آج وہ اسے الگ سی لگی؟ یا پہلے کبھی اس نے اسے ان نظروں سے دیکھا ہی نہیں؟ شاید اس نے کبھی اس پر پہلے دھیان ہی نہیں دیا۔
زیان نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور باہر گارڈن میں آ گیا۔
*زیان (فون پر):* "ہیلو، میں زیان بات کر رہا ہوں۔ پاکستان کی ایک ٹکٹ بک کر دو۔ تاریخ وہی جو میں نے پہلے بتائی تھی۔"
زیان فون پر بات کرنے کے بعد اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اور چاند بھی اپنی منزل کی طرف رواں تھا، کیونکہ اسے سورج کو بھی آنے کا موقع دینا تھا۔ دھیرے دھیرے رات گزرتی گئی اور صبح کی اذان شروع ہو گئی۔
اذان ہونے کے بعد ایشال کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے نماز پڑھی، دعا کی اور اٹھ کر کچن کی طرف چل پڑی۔
*زیان:* "ایشال!"
پیچھے سے کسی نے ایشال کو پکارا۔ وہ مڑی تو دیکھا زیان کھڑا ہے۔
*ایشال:* "آپ کی طبیعت کیسی ہے؟" ایشال نے زیان سے اس کی طبیعت پوچھی۔
*زیان:* "میں ٹھیک ہوں... میری رات..."
*To be continued...*
---
*آگے کیا ہوگا؟* کیا زیان ایشال کو پاکستان واپس بھیج دے گا یا کرے گا زندگی کی نئی شروعات؟ جاننے کے لیے جڑے رہیے رائٹر انا کے ساتھ۔
کمنٹس میں ضرور بتائیں آپ کو یہ ایپیسوڈ کیسا لگا اور فالو بھی کریں۔ بہت بہت شکریہ آپ کی محبتوں کا