🌸حادثاتی شاعرہ کی حادثاتی شاعری🌸
مجھے پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ میرا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا۔میں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو فرسٹ ائیر کے ایڈمشن کے لئے کالج جانا چاہتی تھی میرا گاؤں شہر سے تین کلومیٹر دور تھا۔ میرے لئے آنے جانے کا مسئلہ تھا۔میرا ایک سال اسی طرح سے مس ہو گیا آخرکار میں نے اپنے گاؤں کےپرائمری سکول کی ٹیچر سے بات کی اس نے مجھے فیڈر ٹیچر کے طور پر رکھ لیا۔سکول ٹائم میں میں پڑھاتی تھی اور رسیس کے وقت میں خود پڑھتی تھی اس طرح سے میں نے اس ٹیچر کی مدد سے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد اس ٹیچر کی شادی ہو گئی اور اس کا تبادلہ ہو گیا گھر میں بیٹھ کر گریجویشن کی تیاری کرنا میرے لئے ایک بہت بڑا چیلنج تھا جس کو پورا کرنے کی میں نے بھرپور کوشش کی مگر ناکام رہی۔ شعر و شاعری کا مجھے بہت شوق تھاایک دن ٹیلی ویژن پر مشاعرہ لگا ہوا تھا جس کو سنتے سنتے میں نے خود بھی ایک شعر کہہ دیا اسی طرح آہستہ آہستہ میرا شوق بڑھتا گیا۔ زیادہ تر شاعری میں اس وقت کرتی تھی جب میں اداس ہوتی تھی۔ گریجویشن کے امتحانات کے بعد میری شادی ہو گئی اور میری تعلیم ادھوری رہ گئی۔ گھر کا ماحول سخت ہونے کی وجہ سے والدین کے گھر میں اپنی شاعری کو کتاب کی شکل میں پبلش کرنا میرے لئے مشکل تھا شادی کے بعد میں نے اپنے شوہر کے فون سے اپنے خواب کو پورا کیا
🌺بسم اللہ الرحمن الرحیم🌺
آس ہے بخشش کی لکھنےمیں اگر کوئی خطا ھو جائے اےبندہءگدانواز پھر کیوں نہ بسم اللہ ابتدا ھو جائے
🌼🌼🌼🌼🌼
نور چاہیے دل بے نور کے لیے
لکھنا چاہتی ہوں توصیف محمدی
🌸🌸🌸🌸🌸
ان اشعار سے میں نے اپنی شاعری کا آغاز کیا۔
🤲حسرت🤲
یہی ھے دل میں حسرت
کہ کھل جائےمیری قسمت
سنور جائے میری عاقبت
ہو نصیب ان کی گدائی
مل جائے ان کی پیشوائی
میں گدا ہوں ان کے در کا
طالب ہوں نظر کرم کا
وہی سب کے مدعا ہیں
وہی میرے پیشوا ہیں
نہیں مانگتا میں شہرت
نہ ہی دنیا کی یہ دولت
یہی ہے دل میں حسرت
کہ ہو جائے ان سے نسبت
خدا کی خدائی ان سے ہے
گدا کی گدائی ان سے ہے
وہ امام الانبیاء ﷺ ہیں
وہ خاتم النبیین ﷺ ہیں
وہی حق کے ہیں پیامبر
وہی خاتم المرسلین ہیں
ہو نصیب ان کی شفاعت
یہی ہے دل میں حسرت
کہ کھل جائے میری قسمت
🕋🕋🕋🕋🕋
شاعری کے آغاز ہی میں جب میں نے کچھ لکھنا چاہا
تو سب سے پہلا کلام یہی لکھا تھا
🌞☁فطرت☁🌞
طلوع ہوتے ہوئے سورج کو کبھی دیکھا ہے تم نے
علم کی روشنی دل میں پھیل رہی ہو جیسے
صبح کے وقت پرندوں کو کبھی سنا ہے تم نے
ہر پرندہ ذکر خدا میں مصروف ہو جیسے
آسمان پر اڑتے ہوئے بادلوں کو کبھی دیکھا ہے تم نے
پریاں آ رہی ہوں کسی پرستاں سے جیسے
شام کے منظر کو کبھی دیکھا ہے تم نے
ہر شے آشیانے کو لوٹ رہی ہو جیسے
رات کی خاموشی کو کبھی محسوس کیا ہے تم نے
تاروں تلے سب یاد میں کسی کی گم ہو ں جیسے
🌠🌠🌠
ایک دن میں اپنے صحن میں بیٹھی مطالعہ📚✏ کر رہی تھی۔ بیٹھے بیٹھے تھک گئی تو پیچھے کی طرف
لیٹ گئی کہ میری نظر آسمان میں بادلوں پر پڑی جو اڑتے ہوئے ایک طرف سے دوسری جانب جا رہے تھے جن کو دیکھ کر میں فطرت کے بارے میں سوچنے💭
لگی اور اسی طرح سوچتے سوچتے میں نے یہ کلام
بھی لکھ دیا۔
🦋میرے ارمان🦋
اپنے ارمانوں کی خاطر کیا کیا نہ کیا ہم نے
خود اپنے ارمانوں کو کچل کر بھی جیا ہم نے
خود ہی ان کو بلند کیا خود ہی پھر کچل دیا
علم کی پیاس بجھانےکےلیےآنسوؤں کو بھی پیا ہم نے
وہ مل جل کر پڑھنا کبھی سننا لائق فائق دوست بنانا
جو بھی سوچ رکھا تھا سب بھلا دیا ہم نے
اپنے ارمانوں کی خاطر کیا کیا نہ کیا ہم نے
اپنے حق کے لیے آوازیں بھی اٹھائیں بہت
پھر تھک کر جام خاموشی بھی پیا ہم نے
دیکھو خود پر ستم بھی کیا کیا
خود کو دل کی نہ سننے پر مجبور کیا ہم نے
خود سے حوصلہ پا کر خود کو سہارا دینے کے لیے
خود کو خود سے جدا بھی کیا ہم نے
🍂🍂🍂🍂🍂
یہ کلام میں نے اپنے ارمان ٹوٹتے دیکھ کر دل برداشتہ ہو کر لکھا۔
🌺استاد کی اہمیت 🌺
اگر ہے اقبال تو خواب ضروری ہے
اگر ہے کتاب تو استاد ضروری ہے
اگر چاہتا ہے علم سے شناسائی
تو ضروری ہے قید سے رہائی
جیسے انسان کے لیے علم
قلم کے لیے روشنائی ضروری ہے
نہیں بات بنتی بن فقیروں کی غلامی کے
بات بنانے کے لئے گدائی ضروری ہے
بن استاد کے نہیں بنتا کوئی قائد
رہنما بننے کے لئے رہنمائی ضروری ہے
گھر بیٹھے نہیں حاصل ہوتا علم
اس کے لئے سفر انتہائی ضروری ہے
💁📖➡👦👧
یہ میں نے اس وقت لکھا جب میٹرک کے بعد مجھے کہا جا رہا تھا کہ گھر میں بیٹھ کر خود ہی پڑھ لو۔
جن کے پاس میں نے قرآن پاک پڑھا تھا ان کی بیٹی طیبہ شیرازی کو معلوم تھا کہ میں کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی ہوں وہ ہمارے گھر آئیں تو مجھ سے کہنے لگیں! شکیلہ دکھاؤ اگر کچھ نیا لکھا ہے تو میں نے یہ دکھایا۔ اس نے پڑھ کر کمنٹ میں very good👍 کہا جس سے میری حوصلہ افزائی ہوئ کیونکہ
وہ خود بھی ناول وغیرہ لکھتی رہتی تھیں۔
💰 کاش 💰
کاش ! کہیں ایسا ہوتا
میرے پاس بھی پیسہ ہوتا
اگر کہیں پھر ایسا ہوتا
ہر کوئی میرے جیسا ہوتا
غریب کو اس کا حق ملتا
امیر کو نہ پھر ہیضہ ہوتا
مفلس کے گھر میں روٹی بنتی
مشکل نہ ہوتی جینے میں
نفرت کو پھر جگہ نہ ملتی
محبت ہوتی سینے میں
ہر ایک کو تعلیم ملتی
آنسو نہ ملتے پینے میں
💧💧💧💧💧
یہ میں نے اس وقت لکھا جب انٹر میڈیٹ کے بعد میرا وقت ضائع ہو رہا تھا
✍️تنہائی کا ساتھی✍️
صبح کی ٹھنڈی سحر میں
دن کی تپتی دوپہر میں
رات کے پچھلے پہر میں
جذبات کے اٹھتے کہر میں
تم ہی میرے ساتھی ہو
جب دعائیں اثر چھوڑ جائیں
جب اپنے ساتھ توڑ جائیں
جب امیدیں بھی نہ رنگ لائیں
جب ہم خود کو تنہا پائیں
تو تم ہی میرے ساتھی ہو
جب ستارے آغوش میں نہ آئیں
اور پرندے بھی سب سو جائیں
جب پانی میں مینڈک ٹرائیں
اور مجھ کو نیندیں نہ آئیں
تو تم ہی میرے ساتھی ہو
جب رات کی تاریکی چھا جائے
اور چاند بھی دور سے مسکرائے
جب چاندی بھی ہاتھ نہ آئے
جب تنہائی کاٹنے کو آئے
تو تم ہی میرے ساتھی ہو
میرے ✒قلم✒ تم مجھے بہت عزیز ہو
ایک دن بیٹھے بیٹھے یوں ہی مجھے شاعری کی آمد ہونے لگی اور میں نے یہ کلام لکھ دیا۔ جب آپی طیبہ شیرازی نے میرا یہ کلام پڑھا تو انہوں نے کمنٹ میں
i inspire u کہا
🌳 غائبی طاقت 🌳
جڑیں زمین میں ہوتی ہیں درخت باہر ہوتا ہے
اگر جڑیں نہ ہوں تو درخت ہو نہیں سکتا
ارادہ دل میں ہوتا ہے ظاہر زبان کرتی ہے
اگر دل میں نہ ہو تو زبان کہہ نہیں سکتی
نظر آنکھوں سے آتا ہے پیچھے نور ہوتا ہے
اگر نور نہ ہو تو آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں
دن ہو تو رات ضرور آتی ہے
اگر رات نہ ہو تو دن بدل نہیں سکتا
سب کچھ ہو تو حکم ربی ہوتا ہے
اگر حکم ربی نہ ہو تو کچھ ہو نہیں سکتا
🌸🌸🌸🌸🌸
ایک دن میں یہ سوچ رہی تھی کہ دنیا کی ہر چیز
ہمیں ﷲ تعالیٰ کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے
یہ احساس ہمیں گناہوں سے بچاتا ہے۔ ہمارے ہر کام
کے پیچھے ایک غیر معمولی طاقت ہے۔