bc

~ تم ہو تو میں ہوں ~🌚👀

book_age18+
0
FOLLOW
1K
READ
mythology
lies
like
intro-logo
Blurb

writer: MAHI Mughal

* sweet love

* villain handsome

* Singer women

* biker boy

* hacker boy

* cars obsessed girl

* crusted past villain

funny czns friendship based novel

interesting happy ending

chap-preview
Free preview
~دوستی سے زِندگی تک~🌚👀
Episode 1 --- رات کا آخری پہر تھا۔ ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ وہ دھیرے قدم بڑھاتا اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا، فون کی ٹارچ جلائے ہوئے۔ بلیک جینز پر وائٹ ٹی شرٹ، کندھے پر جیکٹ ڈالے وہ تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ جیون جنگ کوک کی طرح بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔ اتنے رف حلیے میں بھی وہ بہت کیوٹ لگ رہا تھا۔ --- وہ اس وقت آیا تھا، اُسے لگا سب سو گئے ہوں گے، لیکن اُس کی آفات کی پوریا جاگ رہی تھی اور کچن میں مزے سے کھانا کھا رہی تھی۔ "آہ...!" حمنہ چیخنا ہی چاہتی تھی کہ کسی کی مضبوط ہتھیلی نے اس کا منہ بند کر دیا۔ "چپ! کیا کر رہی ہو اتنی رات کو یہاں، بندری؟" ابھی وہ اپنے کمرے کی طرف جاتا کہ اُسے پیاس کا احساس ہوا، تو وہ اوپن کچن کی جانب بڑھا۔ وہاں حمنہ کمال زیدی کو دیکھ کر اُس کی نیلی آنکھوں میں ناگواری آ گئی۔ ہر بار کی طرح، ابھی وہ چیخ کر سب کو اٹھاتی اور اُس کی کلاس لگواتی، تو اُس نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔ "مجھے ڈرا دیا! Archaeopteryx بھوت نہ ہوتا تو ابھی بتاتی ہوں سب کو، پھر آئے گا مزا جب تمہاری دُرگت بنے گی۔" حمنہ کو رات دیر تک مووی اور K-drama دیکھنا پسند تھا، اس لیے ساری رات جاگ کر بس وہی دیکھتی رہتی۔ اس لیے اسے بھوک لگی تھی۔ موبائل کی ٹارچ جلا کر مزے سے کھانا کھا رہی تھی، اور اس بھوت کو دیکھ کر ڈر گئی، پھر شیطانی دماغ نے کام کیا۔ وہ کب ارمان کو تنگ کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے دیتی تھی۔ "سوچ لو، اگر تم نے کسی کو بتایا تو میں کل تمہارا کنسرٹ کینسل کر دوں گا۔" مقابل نے اُس کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔ "تم کر کے دکھاؤ، پھر سب کو بتاؤں گی، محان بزنس ٹائیکون ارمان زمان زیدی راتوں کو بائیکر بن کر آوارہ گردی کرتے ہیں!" حمنہ پیر پٹختی وہاں سے واک آؤٹ کر گئی۔ اُسے پتہ تھا ارمان کچھ بھی کر سکتا ہے، لیکن جانے سے پہلے اُسے جلا گئی تھی۔ "بندری! نہیں تو سب کو بتا دوں گی!" ارمان منہ بگاڑ کر حمنہ کی نقل کرتے بڑبڑاتا فریج سے پانی کی بوتل نکال کر پانی پینے لگا۔ اچانک اُسے محسوس ہوا کوئی اسکے پیچھے بلکل قریب کھڑا ہے ۔ ارمان نے موڑ کر پیچھے دیکھا پر وہاں کوئی نہیں تھا وہ اپنا وہم سمجھ کر روم کی جانب چل دیا۔ دو آنکھوں نے کچن کے پلر کی اوٹ سے اسکے کمرے تک جانے تک پیچھا کیا ۔ کون سا تاثر تھا؟ اُن دو سیاہ آنکھوں میں پُراسرار مسکراہٹ جیسا ہاں ایسا ہی کُچھ!!!!!! ------------------------------------- "Good morning everyone." آتش نے سب کی جانب دیکھ کر کہا اور زین کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ سب اس وقت ناشتے میں مصروف تھے۔ ناشتے کے بعد سب نے اپنے کام پر چلے جانا تھا۔ ------------------------------------- (زیدی مینشن میں تین بھائی رہائش پذیر تھے، جو فاروق زیدی و اقراء بیگم کی اولادیں ہیں۔) سب سے بڑے حسین زیدی، اُن کی بیگم زینب صاحبہ، جن کے دو بیٹے: آتش حسین زیدی، زین حسین زیدی۔ دوسرے بھائی زمان زیدی و عشاء بیگم: بیٹا ارمان زمان زیدی، بیٹی سمن زیدی اور عروہ زیدی۔ تیسرے بھائی کمال زیدی، حسنا بیگم، اُن کی اکلوتی و ضدی اولاد: حمنہ کمال زیدی۔ ----------------------------------- "بھائی! مجھے نا لگتا ہے ہمارے گھر میں بھوت ہیں۔" زین اپنی طرف سے بہت ہی سنجیدگی سے گویا ہوا ، جیسے بہت ہی کوئی عقل کی بات کی ہو آنکھوں میں شرارت واضح تھی وہ ارمان کے دیر سے آنے کا حوالہ تھا جو ارمان سمجھ گیا تھا ۔ اس کی بات سن کر ارمان کے حلق میں پانی اٹکا۔ اکھیوں سے اُس نے زین کو دیکھا۔ کون نہیں جانتا تھا زین کی مذاق کرنے کی عادت کو، اور ارمان کی ٹانگ کھینچنا تو اس کا پسندیدہ کام تھا۔ "ہاں یار، میں نے بھی کچن میں چڑیل کو دیکھا، کیا بتاؤں بہت ڈراؤنی تھی۔" ارمان نے بھی حمنہ کے رات کو کچن میں ہونے پر چوٹ کرتے اسی کے انداز میں بولا، مقصد حمنہ کو آگ لگانا تھا — جو لگ بھی گئی۔ "ہاں، جب آوارہ لوگ رات کو آوارہ گردی کر کے آئیں گے، تو یہی سب دیکھیں گے نا!" حمنہ کو آگ تو لگی، پر مقابل کو بھی لگا دی۔ یہ سنا تھا کہ زمان زیدی سنجیدگی سے اٹھے اور اپنی اسٹڈی کی جانب بڑھے۔ "ارمان، کچھ بات کرنی ہے۔ ناشتے کے بعد اسٹڈی میں ملو۔" ارمان بھی اٹھ کر جانے لگا۔ اب پتہ تھا کلاس لگے گی، اس چھچھوندر کی وجہ سے۔ حمنہ کو ارمان نے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو: "تمہیں تو دیکھ لوں گا۔" اور اسی وقت حمنہ نے بھی اسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو: "چڑیل بولنے کا بدلہ بعد میں لوں گی۔" سب سے بے نیاز، وہ ایک دوسرے کو آنکھوں سے جلانے کی کوشش میں تھے۔ "ارمان برو، رومینس بعد میں کرے گا، ابھی چاچو کی بات سن لے جا کر!" زین کی زبان میں کانٹا چبھا — اسے کہاں چپ رہنا تھا۔ "بیٹا، تیرا بھی انتظام کرواتا ہوں، بہت زبان چل رہی ہے!" ارمان پورا جل گیا تھا، اس لیے زین پر غصہ نکال کر چلا گیا۔ ----------------------------------- "لگتا ہے مر گیا اب! کچھ پتہ نہیں یہ Archaeopteryxکیا کرے گا میرے ساتھ۔ میں تو معصوم ہوں، ابھی تو اسٹڈی کمپلیٹ کی ہے، ہٹلر کہیں کا!" زین اونچا بڑبڑاتے ناشتا کرنے لگا۔ "تم جیسے معصوم اور آ گئے اس دنیا میں، تو دنیا تباہ ہو جائے گی۔ خود کو معصوم بول کر معصوم لفظ کی توہین نہ کرو!" سمن نے بھی موقعے پر چوکہ مارا۔ "تم جیسی شاطر عورت سے تو بہت اچھا ہوں، معصوم، کیوٹ سا بچہ ہوں!" زین گردن اکڑا کر بولا۔ "اے عورت، کس کو بولا تم نے؟" "میرے حساب سے یہاں ساری عورتیں ہی ہیں میرے علاوہ۔ کیوں، تم نہیں ہو؟" اب ناشتے کی میز پر صرف حسنا، عشاء، زینب بیگم، عروہ اور سمن ہی تھے، باقی سب جا چکے تھے۔ "تمہیں تو ابھی بتاتی ہوں!" زین پہلے ہی تیار تھا، اس لیے تیزی سے بھاگا۔ ابھی سمن اس کے پیچھے جاتی کہ عشاء بیگم نے اُسے ٹوکا۔ انہیں پتہ تھا، نہ روکا تو جنگِ عظیم شروع ہونی ہے۔ --- (بچپن سے یہی کرتے تھے دونوں) "سمن بیٹا، بھائی ہے، بری بات ہے، ایسا نہیں کرتے۔" "آپ ہمیشہ مجھے ہی بولتی ہیں!" سمن منہ پھولا کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ --- دوسری طرف... ارمان سنجیدہ چہرہ لیے اسٹڈی روم کے باہر آیا۔ (یا اللہ بچا لینا) دروازے پر دستک دی۔ "Come in." زمان زیدی اپنی کرسی پر نیوز پیپر پڑھ رہے تھے۔ ارمان اندر آیا، تو انہوں نے نظر اٹھا کر اُسے دیکھا۔ "یہ سب میں کیا سن رہا ہوں؟" "کیا، Dad؟" "، تم آوارہ گردی چھوڑو اور بزنس پر دھیان دو۔ میں تمہیں منع نہیں کر رہا بائیک ریسنگ کے لیے، پر روز روز ٹھیک نہیں ہے۔" "Ok Dad، میں دھیان رکھوں گا۔" "ٹھیک ہے، جاؤ۔" "اللہ حافظ، Dad۔" کوئی اس مرد کو بتائے جب سر کو خم دے کر سلام کرتا تھا تو کورین لڑکوں کی طرح دنیا کا سب سے ہینڈسم مرد لگتا تھا۔ کسرتی بدن جس پر سیاہ پینٹ اور سفید شرٹ کوٹ کندھے پر ، نیلی آنکھیں معصوم نقوش بال ماتھے پر بکھرے کلین شیو چہرہ وہ واقعی ہی کسی کورین ہیرو جیسا لگتا تھا ۔ ہائے! ایسے خوبصورت نوجوان دُنیا میں ہوتے ہیں سوچنے پر کوئی خیال لگتا تھا کوئی مرد اتنا خوبصورت کسے ہو سکتاہے۔ 👀❤️ --- زین پھر نمودار ہوا۔ وہ عشاء بیگم کی بات سن چکا تھا۔ "چاچی جان، میں بھائی نہیں ہوں سمن کا۔ دیکھیں کتنا ہینڈسم ہوں، کہاں وہ کویل کے منہ والی... انہہہ!" ابھی عشاء کچھ کہتیں کہ زینب بیگم نے چپل اٹھائی اور کھینچ کر ماری۔ وہ جو باہر کے دروازے سے منہ نکال کر بات کر رہا تھا، فوراً ہی دیوار کے پیچھے چھپ گیا۔ --- دوپہر کا وقت تھا۔ کچن میں مصالحوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، جہاں عشاء بیگم مصروف تھیں۔ تبھی زین ڈرامائی انداز میں اندر داخل ہوا، جیسے کوئی زخمی سپاہی میدانِ جنگ سے واپس آیا ہو۔ "تائی جان..." اس نے لمبی سانس لی، "آپ کا بیٹا ظلم کا شکار ہو چکا ہے۔" عشاء بیگم نے پلٹ کر اسے دیکھا، آنکھوں میں ہلکی سی مسکراہٹ تھی وہ زین کےڈراموں سے واقف تھی۔ "اب کیا کر دیا تم نے؟" "میں نے کچھ نہیں کیا! بس سچ بولا تھا..." زین نے سینے پر ہاتھ رکھا۔ اسی وقت عروہ تیزی سے اندر آئی، ہاتھ میں کار کی چابی گھماتے ہوئے۔ "سچ؟ تمھارا سچ تو Netflix سے بھی زیادہ فکشنل ہوتا ہے۔" "اوئے!" زین نے فوراً اعتراض کیا، "میں ایک معصوم، شریف اور نہایت ہی ہینڈسم لڑکا ہوں۔" "ہینڈسم؟" عروہ نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا، "آئینہ دیکھا ہے کبھی؟" "تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی ٹیلنٹ کی قدر نہیں ہوتی..." زین نے دکھ بھری آواز میں کہا۔ عروہ ہنستے ہوئے باہر نکل گئی، اور زین اس کے پیچھے۔ --- کچن میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ عشاء بیگم نے ہلکا سا سر ہلایا، "یہ بچے بھی نا..." لیکن انہیں کیا پتہ تھا کہ اسی گھر میں چلنے والی یہ ہلکی پھلکی لڑائیاں جلد ہی ایک بڑی کہانی کا رخ بدلنے والی تھیں.. ✨`☠︎︎ ꧁𒆜 𝕸𝕬𝕳𝕴 𝕸𝖚𝖌𝖍𝖆𝖑 𒆜꧂ ☠︎︎`❤️ رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے۔ رات ہمیشہ کی طرح جاگ رہی تھی۔ سڑکوں پر روشنیوں کا سمندر پھیلا ہوا تھا جبکہ سمندر کی ٹھنڈی ہوا ماحول کو عجیب سا وائب دے رہی تھی۔ باہر لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ ہر طرف modified cars کھڑی تھیں۔ نیون لائٹس، loud music، لوگوں کی چیخیں اور جلتے ٹائروں کی smell… پورا ماحول کسی Korean street racing movie جیسا لگ رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنی بلیک helmet اتاری۔ بلیک کار کے ساتھ ٹیک لگائے وہ خاموشی سے سامنے track کو دیکھ رہی تھی۔ بلیک cargo pants، leather jacket اور سفید sneakers میں وہ عام لڑکیوں جیسی بالکل نہیں لگ رہی تھی۔ اس کے دوست نے قریب آکر کہا"لگتا ہے آج تو پورا کراچی یہاں موجود ہے۔” وہ ہلکا سا مسکرائی۔ “لوگوں سے ہی تو مزا ہے .” اتنے میں اچانک crowd زور سے چلانے لگا۔ “JAY! JAY! JAY!” سامنے سے ایک matte black sports car دھیرے دھیرے track کی طرف آئی۔ اس کے headlights سیدھا اس کی آنکھوں پر پڑے۔ ڈرائیور باہر نکلا۔ بلیک ہُڈی، ہاتھ میں gloves، ماتھے پر بکھرے چہرہ ماکس سے ڈھکا ہوا تھا اس نے عروہ کے قریب آتے ہوئے کہا، “تو تم ہو tonight’s mystery racer?” لڑکی نے بظاھر مسکراتے ہوئے جواب دیا، “آپ سے مل کر خوشی ہوئی jams۔Mr.” آس پاس کھڑے لوگ شور مچانے لگے۔ پورے ہال میں لاؤڈ میوزک گونج رہا تھا ۔ Announcement ہوئی: “Tonight’s final street drift race… پورا track چیخوں سے گونج اٹھا۔ وہ اپنی car میں بیٹھی۔ Steering wheel مضبوطی سے پکڑا۔ اس نے شیشے سے باہر دیکھا اور اور ہلکی مسکراہٹ پاس کی یہ مسکراہٹ فاتح والی مسکراہٹ تھی چیلنج اُسکی آنکھوں میں واضح تھا آج اُسے ٹاپ کے کار ریسر کو ہرانا تھا جو کبھی نہیں ہارا تھا۔ پر وہ آج ریس کے ساتھ اپنا دل بھی ہارنے والا تھا!!!!! سامنے وہی لڑکا اپنی car میں بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا ۔ 3… 2… 1… Green light جلتے ہی دونوں cars بجلی کی رفتار سے آگے نکل گئیں۔ ٹائروں سے دھواں اٹھنے لگا۔ لوگ پاگلوں کی طرح چیخ رہے تھے۔ اس کی car drift کرتے ہوئے dangerously slide ہوئی مگر اس نے فوراً steering control کر لیا۔ Crowd حیرت سے چلایا، “DAMNNN!” وہ ہلکا سا مسکرائی۔ بہت وسیع میدان میں بڑے پیمانے پر کارز کی ریسنگ کا انتظام کیا گیا تھا۔ `☠︎︎ ꧁𒆜 𝕸𝕬𝕳𝕴 𝕸𝖚𝖌𝖍𝖆𝖑 𒆜꧂ ☠︎︎` Lights on camera Fast life stamina Nowhere to hide on a satellite Life on camera Even if you stars align And you're light years away I'll be the same I'll be the same Tell me if my stars align And I'm light years away Will you do the same Could you could you please Please don't change Please please don't change اسٹیج پر کھڑی لڑکی کی آواز کا جادو پورے ہال میں گونج رہا تھا اُسکے fans پاگل ہونے کو تھے ۔ پورا ہال Hk کے نام سے گونج رہا تھا۔ پورا ہال اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور اسپاٹ لائٹ کی روشنی میں دمکتی اسٹیج پر پرفارم کر رہی تھی۔ Could you could you please Please don't change Please please don't change اس لائن پر junkook کی طرح گردن ہلا کر step کرتے اُسکی خوبصورت آنکھوں میں جن پر کورین سٹائل میک اپ کیا گیا تھا الگ سی چمک تھی اسکے پیچھے اسٹیج پر کھڑی لڑکیاں بھی اسکے جیسے ہی اسٹیپ کر رہی تھی ۔ اسٹیج پر کھڑی لڑکی کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا وہ کس قدر خوش ہے۔ بلیک جینز پر وائٹ ٹی شرٹ جس پر واضح الفاظ میں junkook کی Hk لکھا گیا تھا اوپر ڈینم جیکٹ پہنے پورے کروفر سے کھڑی تھی آج اُسکا خواب پورا ہو گا وہ اپنی کیفیت بیان نہیں کر سکتی تھی ۔ آج حمنہ کمال زیدی (Hk)کا خواب پورا ہو گیا jeon junkook کا song آج وہ پورے کراچی کے سامنے اسٹیج پر پرفارم کر رہی تھی ابھی اُس نے junkook کے اس song کا فیوریٹ اسٹیپ پرفوم کیا ۔ 'cause I love you yeah I love you Oh I love you love the way you are Please please don't change

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

Unscentable

read
1.8M
bc

He's an Alpha: She doesn't Care

read
668.3K
bc

Claimed by the Biker Giant

read
1.3M
bc

Holiday Hockey Tale: The Icebreaker's Impasse

read
907.6K
bc

A Warrior's Second Chance

read
321.3K
bc

Not just, the Beta

read
325.9K
bc

The Broken Wolf

read
1.1M

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook