انتقام محبت فاطمہ اور عماد۔۔۔۔۔۔
ترکیہ استنبول میں زندگی عام معمول کے مطابق چل رہی تھی۔۔ہر کوئی اپنے کام میں مگن تھا۔۔۔۔انقرہ کے ایک گاؤں (beypazari) بیپازاری میں دو خاندان ایک ساتھ جڑنے والے تھے ۔۔حسن ایک بہت خوبصورت نوجوان تھا اس کی عمر تئیس سال تھی جو سکینہ کے عشق میں پاگل تھا۔۔۔سکینہ بائیس سال کی لڑکی جو دکھنے میں معصوم تھی مگر اس کا زہن شیطانی کے ساتھ چلتا تھا۔۔۔حسد اس کے خون میں تھا اپنی بہن سلمہ کو ہمیشہ شرمندہ کرتی اور اپنی محبت پر گھمنڈ رہتا اسے لیکن اسے نہیں پتا تھا قسمت اس کے ساتھ کیا کرنے والی ہے۔۔۔اس کا یہی غرور اور گھمنڈ اس کا سب سے بڑا مداعوا تھا
سلمہ ایک سکول میں ٹیچر تھی بچوں کے ساتھ کھیلنا اسے بہت پسند تھا ہمیشہ ان کے ساتھ پیار سے باتیں کرتی۔بچون کے ماں باپ سملہ کی اچھی فطرت کی وجہ سے اپنے بچوں کے مستقبل لو لے کر بے فکر تھے۔۔۔
رات کے نو بجے سکینہ بال بنارہی تھی۔سکینہ نے سلمہ کی طرف دیکھ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا
"سکینہ تمہیں عجیب نہیں لگتا کیا پورا دن بچوں کے ساتھ رہنا میرا تو ایک لمحہ بھی بچوں کے ساتھ اچھا نا گزرے دیکھو مجھے میں خوبصورت ہوں جواں ہو اور وہ حسین شہزادہ میرے پیار میں پاگل"
سکینہ نے بس یہی کہا تھا سملہ غصہ سے اٹھی۔۔۔
اگر سہ تمہارا اتنا ہی دیوانہ ہے تو جاؤ اس کے پاس یہاں تمہارا کیا کام لیکن مجھے یوں باتیں کرںا بند کردو تمہارا یہ گھمنڈ اچھا نہیں ہے ۔۔۔اور یہی ایک دن تمہارے منہ پر تھپڑ بنے گا۔۔۔۔لگتا ہے تم مجھ سے حسد کرتی یو سکیںہ نے مسکراتے کہا ۔یہ تمہاری خوش فہمی ہے یہ بات زہن میں رکھنا اور رہی بات اس رئیس زادے کی تو وہ تمہیں کبھی نہیں اپناے گا بلکہ تمہارے سامنے کسی اور کا ہوگا اور تم منہ دیکھتی رہ جاؤ گی اب بھی وقت ہے بدل لو خود کو آگے مرضی تمہاری ہے۔۔۔تم یہ مت سمجھنا میں تم سے جلتی ہوں کہ مجھے تم جیسا امیر انسان نہیں ملے گا۔۔میں تمہیں حقیقت کا آئینہ دکھا رہی ہوں وہ کبھی نہیں اپناۓ گا تمہیں صرف استعمال کررہا ہے تمہارا ۔۔۔۔۔باقی مرضی تمہاری ہے۔۔۔جو کہا ہے اس کا سوچو ضرور کیونکہ ان سب کے بدلے تم جو کھو گیا وہ خود کو اور اپنی عزت نفس کیونکہ یہی لالچی لوگوں کا پہلا شکار ہوتے ہیں ۔۔۔۔شب بخیر یہ کہتے سلمہ کمرے کی لائٹ آف کی ۔۔۔۔سکینہ حیرت میں تھی لیکن اس کے لۓ یہ بات سوچنے والی تھی ۔۔۔صبح ملوں گی حسن سے پوچھوں گی کب شادی کرے گا وہ مجھ سے۔۔۔۔
صبح کی ہلکی روشنی پورے گاؤں میں پھیل کر قدرت کے رنگ بکھیر رہی تھی۔۔۔امی جان میں شہر جاؤں گا اج۔۔۔۔خیریت تو ہے حسن بیٹا ۔۔۔جی ہاں وہ ایک دوست کے ساتھ مل کر کام شروع کرنا ہے بہت جلد ہم استنبول چلے جائیں گے اور وہاں ایک اچھی زندگی ہوگی ۔۔۔۔ٹھیک ہے حسن بیٹا دیھاں سے جانا اور پہنچتے ہی کال کرنا مجھے اور ہاں باںا کی جائیداد کے جو کاغزات تھے وہ میرے پاس ہیں ۔۔۔۔میرے پاس بہت پیسے ہیں اس سے کام شروع کروں گا اور جائیداد بیچ کر شہر چلے جائیں گے ہم ۔۔۔۔ٹھیک ہے بیٹا جیسے تم چاہو اب تمہارے بابا کے بعد تم ہی ہو میرے پاس کی امی جان اپنا خیال رکھیے گا ۔۔۔میں نے زرینہ اماں سے کہ دیا ہے وہ آپ کے پاس آجائیں گی ۔۔۔۔اور یہی رہے گی جب تک میں واپس نہیں آجاتا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے میرے بچے اپنا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔حسن اپنے ماں کے ہاتھ چومتے گھر سے نکلا تھا۔۔۔سامنے موجود کسی کو دیکھ وہیں رک گیا۔۔۔۔تم ۔۔۔۔۔تم اتنی صبح یہاں ۔۔۔۔۔کیون ۔۔۔۔کہیں فرار ہونے والے ہو تم ۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہے سکینہ میں زرا شیر جارہا ہوں اپنا بزنس شروع کرنے ۔۔۔اچھا تو تم اب وہاں رہو گے اور میں یہاں تمہارے انتظار میں بورھی ہوجاؤں گی ۔۔۔نہیں سکینہ ایسا نہیں ہے بس کچھ دن کی بات ہے ۔۔۔میں چھ دن میں آجاوں گا اور آتے ہی تم سے شادی کروں گا اور اپنی ماں کے ساتھ شہر رہیں گے ہمیشہ کے لۓ۔۔۔۔۔کیا سچ میں حسن تم یہی کرو گے ۔۔۔۔کیوں تمہیں شک ہے مجھ پر حسن نے غور سے دیکھتے کہا۔۔۔۔"نہیں۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔" ٹھیک ہے میں چلتا ہوں۔۔۔۔تیار رہنا چھ دن بعد تم میرے دل کی ملکہ کو جاؤ گی۔۔حسن نے سکینہ کے ماتھے پر محبت بھر بوسہ دیا اور چلا گیا۔۔۔۔۔۔
یا اللہ یہ پھر چلے گئی اگر اس کے پہلے بابا گھر آۓ تو آج خیر نہیں سکینہ کی۔۔۔۔۔سلمہ کی سکینہ کی وجہ سے جان پر بنی تھی ۔۔۔۔کیا ہوا تمہیں کدھر گم ہو تم ۔۔۔۔۔اور یہ سملہ کدھر ہے۔۔۔۔سلمہ کی ماں ظاہرہ نے سلمی کے ہاتھ میں لکڑیوں کا گھٹہ دیتے کہا۔۔۔وہ امی یہی ہے سکینہ آجاۓ گی ابھی۔۔۔اپ چلیں اندر سردی بہت ہے ۔۔۔۔ٹھیک ہے باہر اور بھی لکڑیاں ہی۔ وہ بھی لے اؤ
جی ٹھیک ہے آپ چلیں میں لے کر آتی ہوں۔۔۔۔یا اللہ آج مجھے بچائے یہ لڑکی جہاں بھی ہے جلدی آجاۓ ورنہ آج خیر نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔خیر تو ہے۔۔۔۔۔شکر ہے سکینہ تم اگئ پتا نہیں کب تک مجھے یہ سب کرنا پڑے گا تمہارے لۓ۔۔۔۔۔کیا ہوگیا ۔۔۔۔۔کیا ہوا تم پوچھ رہی ہو۔۔۔۔۔شکر کرو بابا ابھی گھر نہیں آۓ۔۔۔ورنہ جان سے جاتی تم۔۔۔اب جلدی چلو اندر امی انتظار کررہی ہیں۔۔۔۔۔۔صبح بخیر بابا۔۔۔۔صبح بخیر میری بچیو۔۔۔۔۔بابا جلدی کریں ۔۔۔۔کھانا ٹھنڈا ہوجاے گا۔۔۔۔۔ ہان ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔کھانے سے فارغ ہوتے معمول کے مطابق سلمہ نے کچن کا رخ کیا تھا اور سکینہ اپنے کمرے میں چلے گئی ۔۔۔سلمہ میری طرف دیکھو ۔۔۔جی امی۔۔۔۔مجھے سچ بتاو۔۔۔۔کیا ۔۔۔۔۔سکینہ صبح کہاں جاتی ہے۔۔۔۔۔امی کہاں جاۓ گی وہ آپ خود سوچیں ۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر بس گھومنے جاتی ہے اور کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔تم اپنی دادی پر گئی ہو۔۔۔۔جھوٹ بالکل بھی بولنا نہیں آتا ۔۔۔۔۔جب بھی جھوٹ بولتی ہو۔۔۔۔چہرے ہر پسینہ آجاتا یے۔۔۔۔۔۔امی جان آپ یہ بات سکینہ سے خود پوچھیں وہ زیادہ بہتر بتاے گی آپ کو۔۔۔۔مین للں بس یہی کہوں گی وہ کسی سے پیار کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ سنتے ظاہرہ کے چہرے کے تاثر بدلے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔یاللہ کیا کروں میں اس لڑکی کا۔۔۔۔۔امی میں نے بہت سمجھایا ہے اسے لیکن نہیں وہ اب اسی کے پاس جانا چاہتی ہے ۔۔۔میرگمے خیال سے آپ کو بابا سے سکینہ کے رشتے کی بات کرنی چاہے یہی بہتر ہے ۔۔۔۔۔۔۔میں سکول جارہی ہوں آپ سوچ لیں چاہے تو سکینہ سے بھی بات کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا حسن واپس آۓ گا یا محظ اس نے سکینہ کو دھوکا دیا ہے؟ ۔۔۔۔۔کیا سکینہ سلمی کو سچ بتانے ہر معاف کرے گی؟ کیا سکینہ کے باںا رشتے کے لۓ راضی ہوں گے؟؟؟؟؟؟؟؟؟جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔