A Story of Forced Love, Family, and Emotional Romance
عائشہ بڑے ہال کے کنارے کھڑی تھی، اس کے ہاتھ لرز رہے تھے جب وہ اپنی لال شادی کے لباس کا کنارہ پکڑے ہوئے تھی۔ اس کے اردگرد نرم جامنی روشنی چمک رہی تھی، مگر اسے خوشی نہیں تھی، صرف ایک زندگی کا بوجھ محسوس ہو رہا تھا جو دوسروں نے اس کے لیے طے کی تھی۔ آج وہ زایان سے شادی کرنے والی تھی—ایک آدمی جسے وہ بمشکل جانتی تھی، اور جسے اس کے خاندان نے اس کی رائے کے بغیر منتخب کیا تھا۔
زایان محراب پر کھڑا تھا، اس کا کالا شیروانی بالکل فٹ تھا، اور اس کی گہری آنکھیں پرسکون مگر ناقابلِ فہم تھیں۔ وہ بظاہر دور اور غیر دلچسپی والا لگ رہا تھا، مگر عائشہ نے اس کی نظر میں ایک مختصر نرمی دیکھ لی۔ ہال میں مبارکبادوں اور خوشی کا شور تھا، مگر عائشہ کے لیے ہر قدم اسے اس سے قریب لاتا ہوا بوجھل محسوس ہو رہا تھا۔
اس نے وہ باتیں یاد کی جو کبھی نہ ہو سکیں، وہ خواب جو اسے دفن کرنے پڑے، اور آنسو جو چھپانے پڑے۔ پھر بھی، اس کے خوف کے نیچے ایک چھوٹی سی تجسس کی شعاع باقی تھی—کیا وہ ایک اجنبی کی آنکھوں میں سکون پا سکتی ہے؟ کیا محبت اُگ سکتی ہے جہاں کبھی بیجی ہی نہ گئی ہو؟
جیسا ہی تقریب شروع ہوئی، اس کا دل خوف، امید اور ہلکی سی خواہش کے درمیان لڑ رہا تھا۔ عائشہ کو احساس ہوا کہ یہ شادی، چاہے زبردستی بھی کیوں نہ ہو، ایک ایسے سفر کی شروعات ہے جس کا اس نے کبھی تصور نہیں کیا تھا—لیکن یہ اسے ہمیشہ کے لیے بدل سکتی ہے۔