bc

بندھن محبت کے

book_age18+
0
FOLLOW
1K
READ
love-triangle
forced
drama
sweet
bxb
highschool
mythology
pack
nanny
naive
like
intro-logo
Blurb

**بندھن محبت کے**

ملتان کی تاریخی حویلی کی خاموش دیواروں کے پیچھے پنپتی، رشتوں کے مان اور انا کی کشمکش میں الجھی ایک بے حد لمس اور دل چھو لینے والی داستان۔

زرنش کے دل میں بچپن سے ہی اپنے چچا زاد فارس کے لیے ایک بے نام سی محبت دھڑکتی تھی، لیکن برطانیہ سے پلٹنے والا فارس اب وہ پرانا انسان نہیں رہا تھا۔ اس کی سنجیدگی، تلخ رویہ اور اپنے جذبات کو اصولوں کے پیچھے چھپانے کی عادت نے دونوں کے درمیان فاصلوں کی ایک بلند دیوار کھڑی کر دی تھی۔

بات تب بگڑتی ہے جب حویلی میں زرنش کے رشتے کی بات چلتی ہے اور فارس خود اپنے ہاتھوں سے اس کے رشتے کی توثیق کر دیتا ہے۔ کیا فارس کی یہ خاموشی اس کی انا تھی یا کوئی بڑی قربانی؟ کیا زرنش اپنی محبت کی قربانی دے کر خاندانی فیصلوں کے آگے سر جھکا دے گی، یا بارش کی ایک بھیگی رات میں سالوں سے دبے ہوئے راز اور اعترافات ان کے مقدر بدل دیں گے؟

خاندانی اقدار، روایتی محبت اور جذباتی موڑ سے سجی ایک ایسی کہانی جو آپ کو اپنوں کی قربانی اور سچے رشتوں کی خوبصورتی کا احساس دلائے گی۔

chap-preview
Free preview
Untitled Episode
ناول: بندھن محبت کے باب اول: آویزش اور شام کی چائے سحری کا وقت گزرے ابھی کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے اور حویلی کے صحن میں لگے پرانے نیم کے درخت پر چڑیاں اپنے پروں کو پھڑپھڑا رہی تھیں۔ ملتان کی گرمیوں کی آمد آمد تھی، لیکن صبح کے اس پہر میں اک عجب سی خنکی اور خاموشی ہوتی تھی جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتی۔ عنائت اللہ صاحب اپنی روایتی لکڑی کی کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ ان کی عینک کی ناک پر ٹکنے کی ناکام کوشش اور بار بار اسے اوپر سرکانے کی عادت سے حویلی کا ہر فرد واقف تھا۔ انہی کے قریب، ماربل کی تپائی پر گرما گرم چائے کا کپ رکھا تھا جس سے نکلتا دھواں فضا میں عجیب سی مہک گھول رہا تھا۔ "زرنش! بیٹی، ذرا چائے میں الائچی تھوڑی اور ڈال دیا کرو، تمہاری دادی اب بھی کہتی ہیں کہ لاہور والی حویلی جیسی ذائقے دار چائے یہاں نہیں بنتی،" عنائت صاحب نے مسکراتے ہوئے اخبار کا صفحہ پلٹا۔ زرنش، جو کچن کے دروازے پر دوپٹہ سنبھالتی کھڑی تھی، ہلکا سا مسکرائی۔ اس کی آنکھوں میں ایک شرارت سی چمکی۔ "چچا جان! دادی اماں کو تو ہر بات میں پرانے زمانے کی یادیں سمیٹنے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ اب آپ ہی بتائیں، کیا اس چائے میں میری محنت اور محبت شامل نہیں؟" "محبت تو شامل ہے بیٹی، لیکن اگر اس میں قدرے ادراک بھی شامل ہو جائے تو بات ہی کیا ہے،" ایک روبدار آواز صحن میں گونجی۔ یہ فارس تھا۔ لمبا قد، سنجیدہ چہرہ، اور آنکھوں میں ایک عجیب سی گہرائی جس میں اکثر لوگ اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے سے قاصر رہتے۔ وہ اپنے والد (عنائت صاحب) کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ کی فائلیں تھیں، لیکن اس کی نگاہیں ایک پل کے لیے زرنش کے چہرے پر ٹھہریں اور پھر فوراً ہی سامنے لگے گلاب کے پودے کی طرف مڑ گئیں۔ زرنش نے اس کی اس سنجیدگی کو ہمیشہ کی طرح نظر انداز کرنے کی کوشش کی، مگر اس کا دل ایک پل کو دھڑکنا بھول گیا۔ زرنش اور فارس بچپن سے ایک ہی حویلی میں بڑھے تھے۔ زرنش، عنائت صاحب کے مرحوم چھوٹے بھائی کی بیٹی تھی، جسے عنائت صاحب نے کبھی اپنی سگی بیٹی سے کم نہیں چاہا تھا۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے زرنش اور فارس کے درمیان ایک ان کہی دیوار کھڑی ہو گئی تھی—ایک ایسی دیوار جو نادانی، خاموش محبت، اور خاندانی انا سے مل کر بنی تھی۔ "فارس بھائی، آپ کی چائے بغیر چینی کے بنائی ہے، جیسے آپ کو پسند ہے،" زرنش نے کپ اس کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔ فارس نے چائے کا کپ اٹھایا اور بغیر دیکھے کہا، "شکریہ زرنش۔ ویسے اگر تم اپنی تعلیم پر بھی اتنی ہی توجہ دو جتنی چائے کے ذائقے پر دیتی ہو، تو تمہارا بی اے کا رزلٹ بہتر آ سکتا ہے۔" زرنش کا دل دکھا۔ اس نے اپنے لب بینچ لیے۔ وہ جانتی تھی کہ فارس کا انداز ہمیشہ سے ایسا ہی سخت اور سیدھا رہا ہے، لیکن اس کی یہ بے نیازی زرنش کو اندر سے توڑ دیتی تھی۔ وہ بغیر کچھ کہے واپس کچن کی طرف بڑھ گئی۔ عنائت صاحب نے فارس کو گھور کر دیکھا۔ "فارس! یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا؟ وہ تمہاری چھوٹی بہن جیسی… میرا مطلب ہے، گھر کی بچی ہے۔ اسے اس طرح ٹوکنا ضروری تھا؟" فارس نے چائے کی ایک چسکی لی اور دور دیکھ کر بولا، "بابا، دنیا بدل رہی ہے۔ اگر زرنش خود کو وقت کے ساتھ نہیں بدلے گی تو کل کو خاندانی کاروبار یا اپنی زندگی کے فیصلے کیسے کرے گی؟ میں صرف اسے مضبوط بنانا چاہتا ہوں۔" لیکن کیا وہ صرف اسے مضبوط بنانا چاہتا تھا؟ یا اس کے دل کے کسی کونے میں اس خوف کا بسیرہ تھا کہ اگر اس نے زرنش کو اپنے دل کا حال بتا دیا، تو خاندانی رشتوں کی توازن بگڑ جائے گی؟ باب دوم: ادھوری باتیں اور پرانی یادیں دوپہر کے وقت حویلی کا توازن ہمیشہ بدل جاتا تھا۔ دادی اماں (بیگم جہاں آرا) صحن کے ایک گوشے میں رکھی پلنگڑی پر بیٹھی پان دان کھولے بیٹھی تھیں، اور گھر کی تمام خواتین ان کے گرد جمع تھیں۔ "سنو بھائی،" دادی اماں نے سپاری کاٹتے ہوئے کہا، "ہمارے زمانے میں محبت خاموشی سے کی جاتی تھی۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں بات ہوتی تھی اور پورا سال گزر جاتا تھا بغیر ایک لفظ کہے۔ آج کل کے بچے تو ذرا سی بات پر روٹھ جاتے ہیں۔" زرنش جو قریب ہی دادی کے پاؤں دبا رہی تھی، بس خاموش رہی۔ "کیا ہوا زرنش؟ آج تیری زبان کو سانپ سونگھ گیا ہے؟" زرنش کی ممانی (ثریا بیگم) نے سوئی دھاگا سنبھالتے ہوئے پوچھا۔ "کچھ نہیں ممانی جان، بس ذرا سر میں درد ہے،" زرنش نے دھیمے سے کہا۔ حقیقت یہ تھی کہ زرنش کے ذہن میں فارس کی وہی صبح والی باتیں گھوم رہی تھیں۔ فارس پچھلے دو سالوں سے برطانیہ سے اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے واپس آیا تھا اور تب سے اس کا رویہ زرنش کے ساتھ عجیب سا ہو گیا تھا۔ بچپن میں جو فارس اس کے ایک ایک آنسو پر تڑپ اٹھتا تھا، جو اس کے لیے باغ سے ملتان کے مشہور آم توڑ کر لاتا تھا، وہی فارس اب اس سے اتنے فاصلے پر رہتا تھا جیسے دونوں دو الگ دنیاؤں کے رہائشی ہوں۔ اسی شام حویلی میں ایک بڑی خبر آئی۔ عنائت صاحب نے شام کے کھانے کے بعد تمام گھر والوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ "دیکھو، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خاندانی فیصلوں کو آگے بڑھائیں۔ مجھے اپنے پرانے دوست ملک اسلم کا فون آیا تھا۔ وہ اپنے بیٹے سفیان کے لیے زرنش کا ہاتھ مانگ رہے ہیں۔" کھانے کی میز پر اچانک ایک سناٹا چھا گیا۔ زرنش کے ہاتھ سے چمچ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ اس نے بے ساختہ فارس کی طرف دیکھا، جو اپنے پانی کے گلاس کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا، جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ "زرنش ابھی چھوٹی ہے عنائت،" دادی اماں نے اپنی لاٹھی ٹکاتے ہوئے کہا۔ "ابھی تو اس کے پڑھنے کی عمر ہے۔" "اماں جان، سفیان اچھا لڑکا ہے، برمنگھم سے انجینئرنگ کی ہے اور ان کا خاندان بھی ہمارے معیار کا ہے۔ فارس، تم کیا کہتے ہو؟ تم تو مل چکے ہو نا سفیان سے؟" عنائت صاحب نے فارس کی طرف رخ کیا۔ فارس نے کچھ لمحات کے لیے خاموشی اختیار کی۔ پورے کمرے میں اس کے بولنے کا انتظار تھا، لیکن سب سے زیادہ بے تابی زرنش کو تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ فارس کہے 'نہیں۔ یہ رشتہ نہیں ہو سکتا۔' وہ چاہتی تھی کہ فارس اپنے حق کا دعویٰ کرے۔ فارس نے نظریں اٹھائیں، زرنش کی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں میں دیکھا، اور انتہائی سرد لہجے میں بولا: "بابا، سفیان ایک سلجھا ہوا انسان ہے۔ اگر زرنش کو کوئی اعتراض نہ ہو، تو یہ رشتہ اس کے مستقبل کے لیے بہترین رہے گا۔" زرنش کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ مزید ایک پل بھی وہاں نہ رک سکی اور اپنا دوپٹہ سنبھالتی ہوئی تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔ فارس نے اس کے جاتے ہوئے قدموں کی چاپ سنی، لیکن اس نے اپنی مٹھیاں بھیچ لیں اور خاموش رہا۔ اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا، مگر خاندانی انا اور اپنے والد کے سامنے جھکنے کی عادت نے اس کی زبان پر تالے لگا دیے تھے۔ باب سوم: دل کی خلش اور اعتراف کا موڑ اگلے چند دن حویلی میں ایک عجیب سی گھٹن کے ساتھ گزرے۔ زرنش نے خود کو اپنے کمرے تک محدود کر لیا تھا اور فارس اکثر رات گئے تک دفتری کاموں کا بہانہ بنا کر باہر ہی رہتا۔ ایک رات، تیز بارش شروع ہو گئی۔ ملتان کی گرمی کو دھونے کے لیے آسمان سے جلا دوز مینہ برس رہا تھا اور حویلی کے پرانے نالوں سے پانی کا شور آ رہا تھا۔ زرنش کو اپنے کمرے میں گھٹن محسوس ہوئی۔ وہ چھت پر چلی گئی۔ بارش کے قطرے اس کے چہرے پر پڑ رہے تھے، مگر وہ اپنے دل کے اندر کی آگ کو بجھانے کے لیے نڈھال کھڑی رہی۔ اس کے آنسو بارش کے پانی میں مل کر بہہ رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں اسے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا، فارس چھتری لیے کھڑا تھا۔ "پاگل ہو گئی ہو زرنش؟ اتنی تیز بارش میں باہر کیا کر رہی ہو؟ بیمار پڑ جاؤ گی،" فارس نے آگے بڑھ کر چھتری اس کے سر پر تاننے کی کوشش کی۔ زرنش نے غصے سے اس کی چھتری کو دور دھکیل دیا۔ "مجھے بیمار پڑنے دیں! آپ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے فارس بھائی؟ آپ کو تو بس اس بات سے غرض ہے کہ دنیا کے سامنے آپ کتنے بڑے اصول پسند اور عقلمند انسان ہیں!" فارس کے ہاتھ سے چھتری چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ وہ دونوں اب بارش میں بھیگ رہے تھے۔ "تمہیں کیا لگتا ہے زرنش؟" فارس کی آواز میں پہلی بار وہ ضبط ٹوٹا تھا جو اس نے سالوں سے قائم رکھا تھا۔ "تمہیں کیا لگتا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا؟ تم سوچتی ہو کہ میں پتھر کا ہوں؟" "ہاں! آپ پتھر کے ہیں!" زرنش چیخی۔ "آپ نے ایک بار بھی میرے دل کی بات جاننے کی کوشش کی؟ آپ نے اتنی آسانی سے بابا کے سامنے کہہ دیا کہ سفیان میرے لیے اچھا ہے؟ آپ کو ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ میں بچپن سے کس کو اپنا سب کچھ مان چکی ہوں؟" بارش کا شور تیز ہو گیا تھا، لیکن دونوں کی سانسوں کی آوازیں ایک دوسرے کو صاف سنائی دے رہی تھیں۔ فارس نے آگے بڑھ کر زرنش کے دونوں شانوں کو مضبوطی سے تھام لیا۔ اس کی آنکھوں میں سرخی تھی، اور ان میں وہ تمام درد چھپا تھا جو اس نے اتنے عرصے سے اندر دبا رکھا تھا۔ "زرنش! میں نے وہ فیصلہ تمہاری خوشی کے لیے کہا تھا!" فارس نے چلا کر کہا۔ "میں نے دیکھا ہے کہ میں تمہیں ہمیشہ ڈانٹتا ہوں، میں تمہیں اپنی طرح سخت بنانا چاہتا ہوں تاکہ اس بے درد دنیا میں تم کبھی ٹوٹ نہ سکو۔ لیکن سفیان… وہ تمہیں وہ خوشی دے سکتا ہے جو شاید میں اپنی اس عجیب اور تلخ طبیعت کی وجہ سے نہ دے سکوں! میں تم سے محبت کرتا ہوں زرنش! اتنی محبت کہ تمہاری خوشی کے لیے خود کو مٹا سکتا ہوں!" زرنش کا وجود ساکت ہو گیا۔ بارش کے قطرے اس کے رخساروں پر گرتے رہے، مگر اس کا دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک گیا۔ "آپ… آپ کو لگتا ہے میری خوشی آپ کے بغیر ہو سکتی ہے؟" زرنش نے ہچکی لیتے ہوئے کہا۔ "آپ کتنے بیوقوف ہیں فارس! میں نے آپ کی تلخی سے کبھی نفرت نہیں کی۔ میں نے ہمیشہ اس کے پیچھے چھپی آپ کی فکر سے محبت کی ہے۔" فارس نے زرنش کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا۔ اس کی انگلیاں کاپ رہی تھیں۔ "کیا تم واقعی…؟" "ہاں فارس، ہمیشہ سے فقط آپ،" زرنش نے دھیمی آواز میں اعتراف کیا۔ اس رات بارش نے حویلی کی پرانی گرد ہی نہیں دھوئی تھی، بلکہ ان دونوں کے درمیان کھڑی خاموشی اور غلط فہمی کی دیواروں کو بھی ہمیشہ کے لیے گرا دیا تھا۔ باب چہارم: نیا سویرا اور خاندانی بندھن اگلی صبح حویلی کی فضا بالکل بدل چکی تھی۔ سورج کی پہلی کرنیں جب صحن میں بکھریں تو گلاب کے پھول بارش کے بعد اور بھی تروتازہ لگ رہے تھے۔ عنائت صاحب اپنے کمرے سے باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ فارس دادی اماں کے پاس بیٹھا ہے اور ان کے لیے چائے بنا رہا ہے۔ اس کے چہرے پر برسوں بعد وہ مسکراہٹ تھی جو کہیں گم ہو چکی تھی۔ زرنش کچن سے ناشتے کی ٹرے لے کر باہر آئی۔ اس کی نظریں فارس سے ملیں تو اس نے جلدی سے نظریں جھکا لیں، مگر اس کے رخساروں پر آئی سرخی کسی سے چھپی نہ رہ سکی۔ دادی اماں نے اپنی تجربہ کار آنکھوں سے دونوں کا چہرہ دیکھا اور مسکرا دیں۔ "عنائت!" انہوں نے اپنے بیٹے کو آواز دی۔ "جی اماں جان؟" عنائت صاحب پاس آ کر بیٹھ گئے۔ "وہ جو ملک اسلم کے بیٹے کا رشتہ آیا تھا نا… اسے معذرت کے ساتھ منا کر دو،" دادی اماں نے صاف گوئی سے کہا۔ عنائت صاحب حیران ہوئے، "اماں جان! کیوں؟ اتنی اچھی جگہ رشتہ مل رہا ہے—" "رشتہ وہاں اچھا ہوتا ہے عنائت جہاں دل ملتے ہوں،" دادی اماں نے فارس اور زرنش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "تمہاری آنکھیں بوڑھی ہو گئی ہیں، مگر میری آنکھیں اب بھی دلوں کے حال پڑھ سکتی ہیں۔ ذرا دیکھو ان دونوں کو۔ یہ بچپن کا بندھن ہے، جسے رب نے بہت پہلے باندھ دیا تھا، ہم تو بس درمیانی ذریعہ ہیں۔" عنائت صاحب نے غصے کے بجائے ایک لمبی سانس لی اور پھر فارس کی طرف دیکھا، جو احترام سے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ "فارس… کیا یہ سچ ہے؟" عنائت صاحب نے نرمی سے پوچھا۔ فارس نے سر اٹھایا اور اپنے والد کی آنکھوں میں دیکھا۔ "بابا… اگر آپ کی اجازت ہو، تو میں زرنش کا ہاتھ اپنے لیے مانگنا چاہتا ہوں۔ میں اسے زندگی بھر وہ عزت اور محبت دوں گا جو اس کا حق ہے۔" عنائت صاحب کے چہرے پر ایک اطمینان بخش مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر فارس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پھر زرنش کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ "نادانو! اگر یہی بات تم دونوں پہلے بتا دیتے تو کیا مجھے اپنی بیٹی کی خوشی سے بڑھ کر کوئی اور چیز عزیز ہوتی؟" عنائت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ پورے گھر میں جیسے خوشیوں کی لہر دوڑ گئی۔ ممانی نے فوراً مٹھائی کا ڈبہ نکالا اور دادی اماں نے دونوں کو اپنے قریب بلا کر ان کے سر پر دعائیں دیں۔ شام کو جب حویلی کے صحن میں دیئے جلائے گئے، تو فارس اور زرنش حویلی کے پرانے بالکونی میں کھڑے تھے۔ "تو جناب فارس عنائت صاحب، اب بھی آپ مجھے تعلیم اور اصولوں پر لمبا لیکچر دیں گے؟" زرنش نے شرارت سے پوچھا۔ فارس نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں بولا، "لیکچر تو اب بھی ملیں گے محترمہ، لیکن فرق صرف اتنا ہو گا کہ اب ان لیکچرز میں ڈانٹ کے بجائے صرف اور صرف محبت ہو گی۔" زرنش نے آسمان پر چمکتے تاروں کو دیکھا اور ایک سکون کی سانس لی۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی میں کتنے ہی طوفان کیوں نہ آئیں، اگر خاندانی رشتوں کا مان اور سچی محبت ساتھ ہو، تو ہر شام خوبصورت اور ہر صبح نئی امید لے کر آتی ہے۔ ختم شد

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

The Slaved Virgin Offering

read
4.4K
bc

Twin Billionaires and Their Mafia Queen Vet

read
5.8K
bc

The Alpha Twins; My Mates

read
22.5K
bc

Primal Howlers Motorcycle Club Stories

read
33.2K
bc

Forsaken Luna becomes Luna Queen

read
14.5K
bc

Finding Love With A Biker At Christmas

read
217.2K
bc

The Mafia Kingpins Lost Love

read
63.2K

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook