bc

Do Saal ki khamosh

book_age12+
0
FOLLOW
1K
READ
family
HE
drama
sweet
no-couple
lighthearted
serious
mystery
scary
highschool
small town
sassy
naive
like
intro-logo
Blurb

Ayesha is the daughter of a rich shopkeeper, who has everything. Zain is the poorest boy in the street, whose father sells clothes on a bicycle and mother stitches clothes late at night.There is a distance of only three houses between them, but a distance of status of years.For two years, 730 days, Ayesha comes to the rooftop every morning at 7:20 AM on the pretext of drying clothes. But she waits for 7:32 AM, when Zain leaves his house with his old polished boots and a torn blue bag, with his eyes lowered.He never looked up. She never came down.Until one rainy day, when both got wet in the rain for each other. That day, for the first time in two years, Zain looked up and saw her. And for the first time, he felt worried for her.Can a rich girl's love for a poor boy's modesty win? Or will this two-year-long silence remain silent forever?A pure, innocent, and emotional love story about respect, not money.---

chap-preview
Free preview
Episode 1 -- Do Saal Ki Khamoshi-
اس گاؤں کی پہلی صبح دوسری صبحوں جیسی نہیں ہوتی تھی۔ یہاں صبح اذان سے بھی پہلے شروع ہوتی تھی۔ جب مسجد کے پرانے لاؤڈ سپیکر سے کھرکھراہٹ کے ساتھ اللہ اکبر کی آواز آتی تھی، جب دودھ والا اپنی پرانی سائیکل کی گھنٹی ٹن ٹن بجاتا ہوا گزرتا تھا، جب تندور پر پہلی روٹی لگتی تھی اور اس کی خوشبو پوری گلی میں پھیل جاتی تھی۔ گلی ابھی آدھی سوئی ہوئی، آدھی جاگی ہوئی ہوتی تھی۔ کچے مکانوں کی دیواروں پر رات کی نمی جمی ہوتی تھی اور گلی میں کل کی بارش کا کالا کیچڑ ابھی تک خشک نہیں ہوا تھا۔ لیکن عائشہ کے لیے صبح کا مطلب یہ اذان نہیں تھی، دودھ والا نہیں تھا، تندور نہیں تھا۔ اس کے لیے صبح کا مطلب صرف ایک تھا۔ سات بج کر بیس منٹ۔ وہی اس کی صبح تھی۔ دو سال سے، سات سو تیس دن سے، اس کی زندگی کی گھڑی اسی ایک منٹ پر آ کر رکتی تھی، پھر چلتی تھی۔ اس کے لیے دن کا آغاز سورج نکلنے سے نہیں، اس ایک لمحے سے ہوتا تھا۔ عائشہ کی آنکھ روزانہ چھ بجے خود بخود کھل جاتی تھی، بغیر کسی الارم کے۔ اس کے اندر ایک محبت والا الارم لگا ہوا تھا جو دو سال سے کبھی خراب نہیں ہوا تھا۔ وہ اٹھتی، وضو کرتی، امی کے ساتھ ناشتے کے برتن سمیٹتی۔ لیکن اس کا دل برتنوں میں نہیں ہوتا تھا۔ وہ بار بار دیوار پر لگی ٹک ٹک والی سوئی والی گھڑی کو دیکھتی۔ چھ بج کر دس منٹ... چھ بج کر تیس منٹ... چھ بج کر پچاس منٹ... سات بجے... جیسے جیسے سوئی سات بج کر بیس منٹ کے قریب آتی، اس کے ہاتھ کانپنے لگتے، برتن ہاتھ سے چھوٹنے لگتے، دل کی دھڑکن دھک دھک تیز ہونے لگتی، ماتھے پر سردی میں بھی پسینے کے قطرے آ جاتے۔ یہ کیسا خوف تھا، یہ کیسی خوشی تھی، یہ وہی جانتی تھی۔ "امی، میں کپڑے ڈال آؤں چھت پر؟" یہ اس کا دو سال سے روز کا جھوٹ تھا، روز کا میٹھا بہانہ۔ امی چولہے کے پاس آٹا گوندھتے ہوئے کہتی، "ابھی تو دھوئے بھی نہیں، کون سے کپڑے؟ تو پاگل ہو گئی ہے کیا؟ ہر وقت چھت، چھت کرتی رہتی ہے۔" عائشہ نیا رنگ دیتی، "کل والے کپڑوں میں نمی رہ گئی تھی، بدبو آ رہی ہے، سیلی ہوئی ہے، دھوپ لگوا دوں ورنہ گل جائیں گے۔" امی ہنس کر کہتی، "تجھے بڑا خیال ہے کپڑوں کا، بڑی سیانی ہو گئی ہے، جا ڈال آ، جلدی آ جائی۔" امی کو کیا پتہ تھا کہ اس کی بیٹی کپڑوں کے لیے نہیں، کسی کے دیدار کے لیے چھت پر جا رہی ہے۔ کسی کی ایک جھلک کے لیے جو اس کی پوری کائنات تھی، جس کا نام زین تھا۔ عائشہ سیڑھیوں کی طرف بھاگتی نہیں تھی، آہستہ آہستہ جاتی تھی تاکہ امی کو شک نہ ہو۔ پاؤں میں پائل نہیں تھی، لیکن دل میں چھن چھن پائل بج رہی تھی۔ ہر قدم پر دل زور سے دھڑکتا تھا۔ چھت پر جا کر وہ کپڑے نہیں ڈالتی تھی۔ وہ سیدھا اس کونے میں جا کر کھڑی ہو جاتی تھی جہاں پانی کی نیلی ٹینکی کے پیچھے دیوار تھی، جہاں سایہ تھا اور نیچے سے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وہاں، کچی دیوار پر اس نے اپنے ناخن سے ایک چھوٹا سا ٹیڑھا میڑھا دل بنایا ہوا تھا۔ اس دل کو بنانے میں اسے سات دن لگے تھے۔ روز تھوڑا تھوڑا کھرچتی تھی، ناخن ٹوٹ جاتے تھے، خون نکل آتا تھا۔ اب وہ دل گہرا، کالا، پکا ہو گیا تھا، ایسا کہ بارش بھی نہ مٹا سکے۔ اور اس دل کے اندر اس نے انگریزی کا 'Z' لکھا تھا۔ زین کا Z۔ اس Z کو دیکھ کر وہ اکیلی مسکراتی تھی۔ وہ دل پر انگلی پھیرتی، جیسے کسی کا چہرہ چھو رہی ہو، اور نیچے گلی کو جھانک کر دیکھتی۔ اس کی آنکھیں صرف ایک دروازے پر لگی ہوتی تھیں۔ گلی میں ابھی بھی کالا کیچڑ اور بارش کا جوہڑ بنا ہوا تھا۔ بچے بستے لٹکائے سکول جا رہے تھے۔ عورتیں دروازوں میں کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔ اور اسی گلی کے آخری حصے میں، تین گھر چھوڑ کر، ایک پرانا لوہے کا دروازہ تھا، جس کا رنگ اتر گیا تھا، زنگ لگ گیا تھا، لکڑی کو دیمک نے کھا لیا تھا، جو کھلتے بند ہوتے چوں چوں کرتا تھا۔ ٹھیک سات بج کر بتیس منٹ پر، نہ ایک منٹ آگے نہ پیچھے، وہ دروازہ چوں چوں کر کے کھلتا تھا۔ یہ وقت اتنا پکا تھا کہ عائشہ اس پر گھڑی ملا سکتی تھی۔ زین نکلتا تھا۔ اس کے پاؤں میں ابو والے پرانے بوٹ ہوتے تھے، جنہیں وہ روز اخبار کے کاغذ اور سرسوں کے تیل سے پالش کرتا تھا تاکہ نئے لگیں۔ کندھے پر نیلا بیگ، جس کا ایک تسمہ پھٹا ہوا تھا، جسے اس نے خود رات کو سوئی دھاگے سے ٹیڑھا میڑھا سی رکھا تھا۔ سفید شلوار قمیض دو سال پرانی تھی، لیکن اس کی ماں رات کو اپنے ہاتھوں سے دھوتی تھی تاکہ اس کا بیٹا صبح صاف ستھرا لگے۔ دو سال سے زین کا یہی معمول تھا۔ وہ نظریں جھکا کر زمین کی طرف دیکھ کر چلتا تھا۔ گلی میں کوئی اور لڑکا ہوتا، شاہد جیسا، تو آنکھ مار کر گزرتا، سیٹی بجاتا، لیکن زین کی نظر کبھی کسی لڑکی پر نہیں اٹھتی تھی۔ وہ اپنی مفلسی کو بھی عزت دے رہا ہوتا تھا۔ جیسے آنکھوں سے کہہ رہا ہو، میں غریب ہوں لیکن بے غیرت نہیں ہوں، میری ماں نے مجھے شرافت سکھائی ہے۔ عائشہ اوپر کھڑی سانس بند کر کے ایک ٹک اسے دیکھتی تھی۔ دو سال سے صرف دیکھنا، بات نہیں۔ کبھی اس نے زین کو آواز نہیں دی، کبھی زین نے اوپر نہیں دیکھا۔ یہ ایک خاموش، بغیر لکھا ہوا معاہدہ تھا، ایک ان کہی محبت تھی۔ لیکن آج کا دن بالکل مختلف تھا۔ کل رات تیز بارش ہوئی تھی، بجلی کڑک رہی تھی، بادل گرج رہے تھے۔ عائشہ جان بوجھ کر سفید سوٹ میں چھت پر کھڑی بارش میں بھیگی تھی، اسی آس میں کہ زین دیکھے گا۔ اس کی امی نے چیخ کر ڈانٹا بھی تھا، "پاگل لڑکی، بیمار ہو جائے گی، اندر آ جا۔" لیکن وہ نہیں ہٹی۔ اور سچ میں، کل دو سال میں پہلی بار، زین نے تین سیکنڈ کے لیے اوپر دیکھا تھا۔ عائشہ کے لیے وہ تین سیکنڈ تین صدیوں کے برابر تھے۔ عائشہ نے رات کو اپنی گلابی ڈائری میں لال پین سے بڑے بڑے لفظوں میں لکھا تھا، "آج اس نے دیکھا! دو بج کر تین منٹ پر! اللہ تیرا شکر ہے!" اور اس صفحے پر بھیگے ہاتھوں سے بارش کے اصلی قطرے گرائے تھے۔ آج اسی تین سیکنڈ کی خوشی کو سینے میں لے کر وہ چھت پر آئی تھی۔ اس کا بخار 102 تھا، چہرہ بخار سے سرخ، ہونٹ پیاس سے خشک، آنکھیں نیند سے جل رہی تھیں، لیکن دل دو سال میں پہلی بار بہت خوش تھا۔ نیچے گلی میں سات بج کر بتیس منٹ ہو رہے تھے۔ عائشہ نے سانس روک لی۔ دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ لگا خالہ سلمہ سن لے گی۔ دروازہ کھلا، وہی چوں چوں کی آواز آئی، اور زین نکلا۔ آج بھی نظر جھکائی ہوئی تھی، لیکن قدموں میں بے چینی تھی۔ دل کی مجبوری سے، محبت کی مجبوری سے اس نے ہلکی سی نظر اوپر چھت کی طرف اٹھائی۔ اور اس کی نظر سیدھا عائشہ کی نظر سے جا ملی، ٹکرا گئی۔ دو سال کی خاموشی، سات سو تیس دن کا انتظار، ایک سیکنڈ میں ٹوٹ گیا۔ وقت رک گیا، گھڑی رک گئی۔ گلی کی آوازیں، بچوں کا شور، عورتوں کی باتیں، سائیکل کی گھنٹی، سب بند۔ صرف دو آنکھیں رہ گئیں، آمنے سامنے۔ عائشہ کا سفید دوپٹہ ہوا میں لہرا گیا۔ زین نے شرم سے جلدی سے نظر جھکا لی، لیکن اس ایک نظر نے دونوں کی دنیا بدل دی تھی۔ اس میں وہ ساری بات کہہ دی گئی تھی جو دو سال میں نہیں کہی گئی تھی۔ زین تیزی سے سر جھکا کر بھاگ گیا، جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔ چہرہ سرخ، کان لال۔ پہلی بار اس نے محسوس کیا تھا کہ کوئی اس کا انتظار کرتا ہے، کوئی روز اس کے لیے چھت پر آتا ہے۔ اسی ایک سیکنڈ کو، اسی چھوٹی سی نظر کو، ایک تیسری آنکھ نے بھی دیکھ لیا تھا۔ خالہ سلمہ نے۔ خالہ سلمہ اپنے دروازے میں پیاز کاٹ رہی تھی، لیکن وہ پورے محلے کی زندہ، بغیر بجلی والی سی سی ٹی وی تھی۔ اس کی نظر سے کوئی نہیں بچتا تھا۔ شام کو جب سورج ڈھل گیا اور عائشہ کی امی صحن میں چولہے پر چائے بنا رہی تھی، خالہ سلمہ بغیر بلائے سٹیل کی پلیٹ میں آم کا اچار لے کر آ گئی، خیر خواہ بن کر۔ چائے پیتے ہوئے کھنکھارنے کے بعد اس نے شہد جیسے میٹھے لیکن سانپ کے زہر میں بجھے لہجے میں کہا، "بہن، بچی کو سمجھاؤ، جوان ہے، خوبصورت ہے، چھت پر زیادہ نہ جایا کرے، خاص کر صبح کے وقت۔ زمانہ خراب ہے، گلی خراب ہے، لوگ باتیں بناتے ہیں۔ میں تو تمہاری سگی ہوں، خیر خواہ ہوں، اس لیے کہہ رہی ہوں، باہر والے تو گندی باتیں کریں گے۔ کل میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ اوپر سے کسی کو دیکھ رہی تھی۔" ایک ہی چھوٹا سا جملہ تھا، لیکن تیر کی طرح، خنجر کی طرح عائشہ کی امی کے دل میں لگا۔ رات کو جب عائشہ کچن میں چولہے کے پاس برتن دھو رہی تھی، امی نے پیچھے سے اچانک بھاری، غصے والی آواز میں کہا، "عائشہ، سنا ہے تم چھت پر کسی کو دیکھتی ہو؟ سچ بتاؤ، وہی غریب والا؟ زین؟" چھن کی آواز کے ساتھ سٹیل کی پلیٹ عائشہ کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گر گئی۔ پوری کچن میں آواز گونجی۔ پلیٹ نہیں ٹوٹی، لیکن عائشہ کا دل چکنا چور ہو گیا۔ اسی رات، زین اپنے چھوٹے سے کمرے میں، اپنی پرانی اردو کی کتاب کلیاتِ اقبال کے آخری سفید پاک صفحے پر، جہاں کبھی کچھ نہیں لکھا تھا، کانپتے ہوئے ہاتھوں سے، سستے پین سے، جیسے گناہ کر رہا ہو، پہلی بار بہت چھوٹا سا لکھا، "عائشہ" صرف پانچ حروف کا ایک نام، لیکن اس میں دو سال کی خاموشی ٹوٹ گئی، اس کا دل تھا، اس کی جان تھی۔ اگلی صبح سات بج کر بیس منٹ ہو رہے تھے، وہ وقت جب عائشہ کی زندگی شروع ہوتی تھی۔ لیکن آج اس کی ماں نے باہر سے لوہے والی موٹی کنڈی لگا دی تھی اور سخت لہجے میں کہہ دیا تھا، "عائشہ تم آج کے بعد چھت پر نہیں جاؤ گی۔ تم نے ہماری ناک کٹوا دی ہے۔" زین نے حسب معمول ٹھیک سات بج کر بتیس منٹ پر وہی چوں چوں والا دروازہ کھولا۔ دو سال میں پہلی بار اس کا دل چھت کی طرف دیکھ رہا تھا۔

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

Twin Billionaires and Their Mafia Queen Vet

read
7.4K
bc

Primal Howlers Motorcycle Club Stories

read
34.0K
bc

The Slaved Virgin Offering

read
4.7K
bc

Forsaken Luna becomes Luna Queen

read
17.0K
bc

Finding Love With A Biker At Christmas

read
221.1K
bc

The Mafia Kingpins Lost Love

read
66.0K
bc

Claimed by My Bully Alpha

read
18.3K

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook