شیخ شہباز شاہین میری اہلیہ کی اپنے محلہ میں قائم بیوٹی پارلر کی مالکن سے اچھی خاصی دوستی تھی۔وہ اکثر اس کی تعریفیں کرتی رہتی۔پھر ایک روز اُس نے شہلا نامی اس خاتون کے بارے میں مجھے بتایا کہ اس کی زندگی میں کیسے خوشیوں کی جگہ غموں نے بسیرا کر لیا۔ شہلا کی کہانی میں اپنی اہلیہ کی زبانی بیان کر رہا ہوں۔ شہلا سے میری ملاقات ایک بیوٹی پار لر میں ہوئی تھی۔میں نے اس پارلر کی بہت تعریف سنی تھی اور جب میں نے اپنی آنکھوں سے پارلر اور اس کی مالکن شہلا کو دیکھا تو یہ بات سو فیصد درست تھی۔ شہلا ایک خوش شکل اور سمارٹ لڑکی تھی ۔اس کے کام کے ساتھ ساتھ اُس کا اخلاق بھی بہت اعلیٰ تھا ۔ہر ایک سے بڑے تپاک سے ملتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دوسروں کا احساس بھی بہت کرتی تھی اور کم پیسے لے کر بھی کام کر دیتی تھی۔ (جاری ہے) جو خاتون ایک دفعہ اُس کے پارلر جاتی دوسری مرتبہ بھی ضرور جاتی۔ اس کی وجہ شہلا کا کم معاوضہ پ

