راؤجی اُن چارگہرے دوستوں کی عمریں25سال کے لگ بھگ تھیں۔وہ ٹرین میں ایک شہر سے دوسرے شہر جارہے تھے۔ریل کے ڈبے میں بیٹھے وہ چاروں خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ ان کی نظرالگ تھلگ بیٹھے شخص پر پڑی جو سونے کے فریم کی عینک لگائے قیمتی لباس پہنے ہوئے تھا۔ اس کے سر پر قیمتی ٹوپی ، گلے میں سونے کی موٹی زنجیر تھی ۔اس کی واسکٹ میں بھی ایک سونے کی زنجیر لٹک رہی تھی جس کا دوسرا سِرا واسکٹ کی جیب میں جارہا تھا ۔ کچھ دیر بعد اس نے اس زنجیر کی مدد سے جیبی گھڑی نکالی،وقت دیکھا اور واپس جیب میں ڈا لی ،گھڑی بھی سونے کے فریم میں جڑی ہوئی تھی ۔ غرض کہ اس کی ہر ایک چیز اور اس کا حلیہ،اس کے امیروکبیر ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔چاروں دوست اس کا غورسے جائزہ لے رہے تھے ۔ (جاری ہے) فرسٹ کلاس کے اس ڈبے میں ان پانچ کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ ایک دوست ،عمردراز بولا:”مجھے تویہ کوئی بڑاوڈیرہ یا جاگیردار لگتاہے۔ “ ”وڈیرے ،جاگیرد
Download by scanning the QR code to get countless free stories and daily updated books


