bc

29 June ka Baad

book_age18+
0
FOLLOW
1K
READ
dark
forbidden
family
arranged marriage
drama
tragedy
serious
city
cheating
like
intro-logo
Blurb

--- ### *Chapter 1: 29 June Ki Raat* Raat ke 12 baj rahe the. Barish ki boondein khidki se takra rahi thin. Ayesha phone haath mein liye bethi thi... aur intezar kar rahi thi. Aaj 29 June thi. Hamza ka waada tha. Kehta tha "Ayesha, aaj sab khatam. Ammi se baat kar li hai." 1 baj gaya. Koi call nahi. 2 baj gaye. Koi message nahi. 3 baj gaye... aur Ayesha ki aankhon se aansu behne lage. Usne apna dil to tor diya tha na uske liye? Ghar walon se jhooth bola tha. Dosti tor di thi. Aur aaj? Aaj wo bhi chala gaya. Phone screen pe sirf ek hi naam tha: `Hamza ❤️` Last message: "Bas thori dair aur ruk jao jaan" Wo "thori dair" kabhi khatam hi nahi hui. Ayesha ne phone side pe rakha aur khidki ke bahar dekhne lagi. Barish tez ho gayi thi... bilkul uske dil ki tarah. *To be continued...* Kaisa laga? Agla chapter bhi chahiye? 😊

chap-preview
Free preview
29 June ka Baad
--- ### *Chapter 2* ### _ناول: 29 جون کا بعد 📖_ _مصنفہ: Sana Qureshi_ ✍️ _قسط: 2_ وہ دن 14 فروری تھا۔ سردی کی رات تھی اور ہم چھت پر بیٹھے تھے۔ آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔ حمزہ نے عائشہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کے ہاتھ بہت ٹھنڈے تھے۔ اس نے عائشہ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا: __"عائشہ سنو، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں۔ میں مر جاؤں گا پر تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ تم میری سانس ہو۔ تمہارے بغیر میں ایک لمحہ نہیں رہ سکتا۔"__ عائشہ ہنس دی تھی۔ اس وقت اسے کیا پتہ تھا یہ اس کا آخری وعدہ ہو گا۔ ہم نے سو وعدے کیے تھے۔ بارش میں بھیگنے کے وعدے، گرمی میں ایک گلاس ٹھنڈا پانی پینے کے وعدے، رات کو چھت پر بیٹھ کر چاند دیکھنے کے وعدے۔ سب سے بڑا وعدہ یہ تھا کہ ہم بوڑھے ہونے تک ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلیں گے۔ اور آج 29 جون تھی۔ آج وہ تاریخ تھی جس سے عائشہ سب سے زیادہ ڈرتی تھی۔ وہ سفید جوڑے میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ہاتھوں پر مہندی، آنکھوں پر کاجل، چہرے پر شرم۔ سب اس کی تعریف کر رہے تھے۔ "ماشاءاللہ کتنی پیاری دلہن ہے"۔ لیکن عائشہ کا دل بیٹھ رہا تھا۔ کیونکہ اس کے ساتھ کھڑا لڑکا حمزہ نہیں تھا۔ وہ کوئی اور تھا۔ عائشہ کا فون وائبریٹ کر رہا تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے جیب سے نکالا۔ `3 missed calls from Hamza` اور پھر ایک نیا میسج آیا۔ __"عائشہ میں آ رہا ہوں۔ بس 5 منٹ رک جاؤ۔ پلیز مت جانا۔ میں سب ٹھیک کر دوں گا۔"__ عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے جواب لکھنا چاہا... لیکن اسی لمحے قاضی صاحب نے کہا "بیٹا قبول ہے"۔ اور جب تک وہ کچھ بولتی... حمزہ کا نمبر بند ہو گیا۔ ہمیشہ کے لیے۔

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

Unscentable

read
2.0M
bc

He's an Alpha: She doesn't Care

read
796.1K
bc

Claimed by the Biker Giant

read
2.0M
bc

Holiday Hockey Tale: The Icebreaker's Impasse

read
1.0M
bc

A Warrior's Second Chance

read
373.9K
bc

Not just, the Beta

read
357.4K
bc

The Broken Wolf

read
1.2M

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook