Chapter Hamza ki Call

544 Words
Chapter 7 Hamza Ki Call عائشہ کو شہریار کے گھر آئے 1 مہینہ ہو گیا تھا۔ اس 1 مہینے میں اس نے 100 بار رونے کے بعد دل کو پتھر کر لیا تھا۔ موبائل اس سے چھین لیا گیا تھا۔ گھر سے باہر نکلنا منع تھا۔ اس کی دنیا صرف 4 دیواریں اور نوکروں کے طعنے تھے۔ آج دوپہر کو عائشہ کچن میں برتن دھو رہی تھی۔ نوکرانی زینب صفائی کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں پرانا سستا موبائل تھا۔ زینب نے دھیرے سے کہا "باجی یہ لیں۔ آپ کے لیے فون آیا ہے" عائشہ کا دل زور سے دھڑکا۔ "کس کا؟" زینب نے کہا "پتہ نہیں۔ 3 دن سے call کر رہا ہے۔ نام حمزہ لکھا آتا ہے" عائشہ کے ہاتھ کانپ گئے۔ حمزہ؟ 2 مہینے بعد حمزہ کا نام سنا تھا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے فون کان کو لگایا۔ 3 سیکنڈ خاموشی رہی۔ پھر دوسری طرف سے آواز آئی۔ "ہیلو؟ عائشہ؟" بس۔ عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ "حمزہ؟ تم؟ تم زندہ ہو؟" دوسری طرف حمزہ سسکیاں لے کر رونے لگا۔ "عائشہ! میں نے تمہیں ہر جگہ ڈھونڈا۔ تھانے گیا۔ عدالت گیا۔ تم کہاں ہو؟ تم ٹھیک ہو نا؟" عائشہ نے جلدی سے کہا "حمزہ میری بات سنو۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔ مجھے یہاں قید کر کے رکھا ہے۔ شہریار بہت ظالم ہے" حمزہ بولا "میں نے وکیل سے بات کی ہے۔ ہمارا کورٹ میرج کا نکاح ابھی بھی valid ہے۔ میں تمہیں یہاں سے نکالوں گا۔ بس 2 دن دو مجھے" عائشہ روتے ہوئے بولی "جلدی آؤ حمزہ۔ میں یہاں دم گھٹ کر مر جاؤں گی۔ وہ لوگ مجھے انسان نہیں سمجھتے" حمزہ نے کہا "میں ہار نہیں مانوں گا عائشہ۔ میں وعدہ کرتا ہوں" اتنے میں پیچھے سے آواز آئی "کس سے بات کر رہی ہو؟" عائشہ کا خون خشک ہو گیا۔ پیچھے شہریار کھڑا تھا۔ آنکھیں شراب سے لال۔ ہاتھ میں بوتل۔ عائشہ نے گھبرا کر فون بند کر دیا۔ "کو... کسی سے نہیں" شہریار نے جھپٹا مار کر فون چھینا۔ نمبر دیکھا۔ "حمزہ؟" اس نے زور سے فون دیوار پر دے مارا۔ فون کے ٹکڑے ہو گئے۔ "میں نے کہا تھا نا؟" شہریار چلایا۔ "اگلی بار اگر کسی مرد سے بات کی تو تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا" عائشہ زمین پر گر گئی۔ شہریار نے اس کے بال پکڑ کر کھڑا کیا۔ "تم میری ملکیت ہو۔ سمجھی؟" عائشہ نے درد سے کہا "میں انسان ہوں۔ آپ کی جاگیر نہیں" شہریار نے زور کا تھپڑ مارا۔ "چپ!" عائشہ زمین پر گر کر ہنسی۔ آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں پر ہنسی۔ "تم جسم قید کر سکتے ہو شہریار۔ میری روح نہیں" شہریار غصے سے کمرے سے نکل گیا۔ رات کو عائشہ کمرے میں بند تھی۔ اس نے ٹوٹے ہوئے فون کے ٹکڑے سمیٹے۔ اس میں سے سم نکالی اور چھپا لی۔ ڈائری کھولی اور لکھا: "آج حمزہ کی آواز سنی۔ لگا جیسے مردہ میں جان آ گئی۔ اس نے کہا وہ مجھے نکالے گا۔ یا اللہ مدد کر دے۔ میں مزید 1 دن بھی یہاں نہیں رہ سکتی" باہر چاند نکلا ہوا تھا۔ عائشہ نے کھڑکی سے چاند کو دیکھا اور سرگوشی کی۔ "حمزہ انتظار کرو۔ میں آ رہی ہوں" اس رات عائشہ 2 بجے تک جاگتی رہی۔ پلان بناتی رہی۔ کیسے بھاگنا ہے۔ کہاں جانا ہے۔ دل میں صرف ایک بات تھی۔ "آزادی۔ بس آزادی"
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD