bc

muhabbatzilla

book_age12+
0
FOLLOW
1K
READ
dark
BE
HE
mafia
drama
tragedy
serious
mythology
another world
like
intro-logo
Blurb

*Title: Muhabbatzilla* Muhabbatzilla is not a place you will find on any map, but it exists in every heartbeat that has ever loved too deeply. It is a district built out of late-night conversations, unsent letters, and promises whispered under the rain. The streets of Muhabbatzilla are paved with memories, some sweet like the first smile, others sharp like the last goodbye. Here, people don’t live by rules or time. They live by glances, by waiting, and by the hope that one day the person they miss will walk through the same crowded lane again. Muhabbatzilla hurts, it heals, and it ruins you all at once. Because in this city, love is not just an emotion. It is the law, the language, and the only home anyone ever wants.

chap-preview
Free preview
muhabbatzilla 🥀
جیل کی وہ کوٹھری نم تھی، دیواروں سے پانی ٹپک رہا تھا اور ہوا میں سڑی ہوئی مٹی اور خون کی ملی جلی بو اس قدر گھٹی ہوئی تھی کہ سانس لینا بھی اذیت بن گیا تھا۔ چھت پر لگا اکلوتا بلب ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا جیسے وہ خود بھی اس لمحے کی سنگینی سے لرز رہا ہو۔ کمرے کے بیچوں بیچ لکڑی کا وہ تختہ نصب تھا جس کے اوپر موٹی رسی کا پھندا لٹک رہا تھا۔ پھندا خالی تھا مگر اس کی خاموشی میں صدیوں کی سزائیں اور ہزاروں چیخیں دبی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ فرش پر ایک لاش پڑی تھی۔ سفید دوپٹہ خون سے لت پت تھا۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھیں جیسے وہ اب بھی کسی کے لوٹنے کا انتظار کر رہی ہوں۔ ہونٹوں پر وہ آخری مسکراہٹ جمی ہوئی تھی جو شاید محبت کے نام پر دی گئی تھی۔ اچانک دروازہ چرچرایا اور زنجیروں کی جھنکار کے ساتھ ایک قیدی کو اندر دھکیلا گیا۔ اس کے ہاتھ پیچھے بندھے تھے، قمیض جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی اور چہرے پر مار کے نیلے نشان گواہی دے رہے تھے کہ وہ آخری حد تک لڑا تھا۔ مگر جیسے ہی اس کی نظر فرش پر پڑی اس کے قدم وہیں منجمد ہو گئے۔ "تم۔" اس کی آواز گلے میں گھٹ کر رہ گئی اور لفظ ادھورا رہ گیا۔ جیلر نے رعب سے کہا "وقت کم ہے۔ پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس۔ جو کہنا ہے کہہ لو"۔ وہ گھٹنوں کے بل لاش کے پاس بیٹھ گیا۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے چہرے سے جمے ہوئے خون کو صاف کیا۔ پیشانی اب بھی ہلکی گرم تھی جیسے سانس کسی کونے میں چھپی بیٹھی ہو۔ "تم نے وعدہ کیا تھا نا۔ کہ ہم ساتھ ہوں گے۔ تم سفید جوڑا پہنو گی اور میں تمہارا دوپٹہ سنبھالوں گا" وہ ہنسا، پر اس ہنسی میں پاگل پن اور ٹوٹ کے سوا کچھ نہیں تھا۔ "دیکھو تم نے سفید جوڑا تو پہن لیا، مگر دوپٹہ خون سے بھر دیا"۔ لاش کی آنکھ کے کونے سے ایک آنسو بہہ نکلا۔ کیا وہ واقعی بہا تھا یا اس کے اپنے آنسو تھے جو اس کے چہرے پر گرے تھے؟ اس نے سرد پڑتے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے لگایا اور سرگوشی کی "میں تمہارے بغیر کیسے جیوں گا۔ تمہیں اکیلا چھوڑ کر میں کہاں جاؤں گا"۔ باہر سے نقیب کی آواز آئی "مجرم کو پھانسی کے لیے پیش کیا جائے۔ وقت ہو چکا ہے"۔ دو سپاہی آگے بڑھے اور اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کر دیا۔ وہ مزاحمت نہیں کر رہا تھا۔ وہ بس ایک بار پھر اس چہرے کو دیکھ رہا تھا، ان آنکھوں کو دیکھ رہا تھا جن میں اس نے اپنی پوری دنیا بسائی تھی۔ تختے پر چڑھایا گیا۔ گردن میں پھندا ڈالا گیا۔ اس نے آخری بار سانس لی اور دھیرے سے کہا "میں آ رہا ہوں۔ اس بار کوئی ہمیں جدا نہیں کرے گا"۔ رسہ کھینچا گیا۔ لکڑی کا تختہ گرا۔ اور جیل کی موٹی دیواروں پر ایک ایسی چیخ گونجی جو وقت کے ساتھ دفن ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ فرش پر لاش پڑی رہی اور اوپر ایک اور جسم ہوا میں جھولنے لگا۔ محبت مکمل ہو گئی تھی۔ موت کے ساتھ۔ --- *.* محبت زلّہ وہ علاقہ ہے جہاں داخلے کی اجازت سب کو ہے، مگر نکلنے کا راستہ کسی کو نہیں ملتا۔ * یہ زلّہ سرحدوں سے آزاد ہے — یہاں صرف دل کی حکومت چلتی ہے، اور قانون بھی وہی بناتا ہے جسے چوٹ لگتی ہے۔ ** محبت زلّہ میں زلزلے نہیں آتے، لوگ خود ہی اپنی بنیادیں ہلا دیتے ہیں یہاں کے باشندے جانتے ہیں کہ یہ قید نہیں، پھر بھی ہر کوئی عمر بھر کی سزا کاٹنے کو تیار بیٹھا ہے۔ * محبت زلّہ کا نقشہ کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ ہر شخص اپنے آنسوؤں سے راستے بناتا ہے اور اپنی ہی آہوں میں بھٹک جاتا ہے۔ .* یہ واحد زلّہ ہے جہاں تباہی کے بعد بھی لوگ دوبارہ بسنے کی دعا مانگتے ہیں۔ * یہاں کی ہوا میں سانس لینا آسان ہے، مگر جینا مشکل۔ کیونکہ ہر سانس کے ساتھ کوئی نہ کوئی یاد چبھ جاتی ہے۔ پردوں کی درز سے چھن کر آتی دھوپ بیریم کے چہرے پر پھسل رہی تھی۔ وہ نیند میں بھی کسی ٹوٹے ہوئے چاند کا ٹکڑا لگ رہی تھی۔ گھنی پلکیں، گلابی ہونٹ، اور وہ آنکھیں... جو بند ہوں تو بھی لگے جیسے سرمئی بادل تھم گئے ہوں۔ "بیریم... بیریم بیٹا اٹھو، ناشتے کا وقت ہو گیا ہے۔" انیتا کی آواز میں وہی روز والی نرمی تھی، مگر آج کچھ جلدی بھی۔ وہ دروازہ تھوڑا سا کھول کر اندر جھانک رہی تھیں۔ بیریم نے کروٹ لی۔ سرمئی آنکھیں کھلتے ہی کمرہ روشن ہو گیا۔ وہ اٹھتے ہی کھڑکی سے باہر دیکھنے کی عادی تھی، جیسے صبح کا پہلا سلام روشنی کو دیتی ہو۔ "امی، پانچ منٹ اور..." اس نے کمبل کھینچ کر منہ چھپا لیا۔ آواز میں نیند گھلی ہوئی تھی، شہد جیسی میٹھی۔ انیتا مسکرا دیں۔ "تمہارے پانچ منٹ میں آکاش اور انمول ناشتہ ختم کر کے کالج نکل جائیں گے۔ پھر اکیلی بیٹھی روتی رہنا۔" یہ سنتے ہی بیریم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اس کے لمبے سیاہ بال بستر پر بکھر گئے۔ "ہائے اللہ! آکاش بھائی پھر طعنہ ماریں گے کہ شہزادی صاحبہ دوپہر کو جاگتی ہیں۔" انیتا آگے بڑھیں اور اس کے بال سمیٹتے ہوئے ماتھا چوما۔ "میری شہزادی تو چوبیس گھنٹے جاگتی بھی اچھی لگے۔ چلو اٹھو، تمہارا فیورٹ پراٹھا بنایا ہے۔" بیریم نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔ "آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے کہ مجھے کب کیا چاہیے؟" "کیونکہ تم میری بیٹی نہیں، میری دعا ہو،" انیتا نے اس کی سرمئی آنکھوں میں جھانک کر کہا، "اور دعائیں مانگنے والے کو پتا ہوتا ہے اس نے کیا مانگا تھا۔" باہر سے انمول کی آواز آئی: "امی! آپ کی لاڈلی ابھی تک سو رہی ہے کیا؟ آکاش بھائی کہہ رہے ہیں اس کا حصہ بھی ہم کھا لیں؟" بیریم نے منہ بنایا۔ "امی دیکھیں، صبح صبح ہی میرے دشمن شروع ہو گئے۔" انیتا ہنس دیں۔ "دشمن نہیں، تمہارے محافظ ہیں پگلی۔ چلو منہ دھو، سب انتظار کر رہے ہیں۔" بیریم اٹھی تو لگا صبح کی روشنی بھی اس کے قدموں میں سمٹ آئی ہو چیکرڈ فلیگ لہراتے ہی پورا گراؤنڈ چیخوں سے گونج اٹھا۔ سیاہ بائیک پر جھکا ہوا وہ وجود ہوا کو چیرتا ہوا فنش لائن کراس کر گیا۔ ایک سیکنڈ کی خاموشی... اور پھر قیامت۔ "اریز! اریز! اریز اعوان!" ہیلمٹ اترا تو لگا سورج زمین پر اتر آیا ہو۔ گھنے سیاہ بال، تیکھی جاب لائن، گندمی رنگت پر پسینے کے قطرے ہیرے کی طرح چمک رہے تھے۔ آنکھیں... بھوری نہیں، شہد میں ڈوبی ہوئی شام۔ اور ان آنکھوں میں غرور ایسا کہ دیکھنے والا خود کو بھول جائے۔ لڑکیاں بیرئیر پھلانگنے کو تھیں۔ ہاتھوں میں پوسٹر، ہونٹوں پر اس کا نام۔ "اریز ایک سلیفی!" "اریز آئی لو یو!" "بس ایک بار دیکھ لو!" مگر اریز اعوان نے کسی کو نہ دیکھا۔ بائیک سے اترا، جیکٹ کے بازو چڑھائے، اور گردن میں لٹکا سیاہ تولیہ اتار کر چہرے کا پسینہ صاف کیا۔ اس کا ہر انداز بتا رہا تھا کہ وہ جانتا ہے... وہ عام نہیں۔ "یار یہ لڑکا انسان ہے یا قیامت؟" کوئی لڑکی سہیلی سے سرگوشی کر رہی تھی۔ "قیامت بھی اس سے پناہ مانگے،" دوسری نے آہ بھری، "دیکھو تو ذرا، کیسے اکڑ کر کھڑا ہے جیسے پوری دنیا خرید لی ہو۔" کلب کا مینیجر ٹرافی لیے بھاگا آیا۔ "اریز بھائی، کمال کر دیا! لگاتار پانچویں ریس۔۔" اریز نے ٹرافی لی، ایک نظر ڈالی، اور بغیر مسکرائے سائیڈ پر کھڑے لڑکے کو تھما دی۔ "سنبھال لے۔" آواز میں وہی روکھا پن، وہی رعب۔ نہ شکریہ، نہ خوشی۔ جیت اس کے لیے نئی بات نہیں تھی۔ کالے چشمے آنکھوں پر چڑھائے اور ہجوم کو چیرتا ہوا پارکنگ کی طرف بڑھ گیا۔ پیچھے چیخیں اور بڑھ گئیں۔ "اتنا Attitude! کسی کو منہ نہیں لگاتا۔" "اسی لیے تو مرتی ہیں سب اس پر۔ جو مل جائے وہ خاص کیا؟" ایک لڑکی ہمت کر کے سامنے آ گئی، سرخ گلاب لیے۔ "اریز... یہ آپ کے لیے۔" اریز ایک لمحے کو رکا۔ چشمہ اتار کر اس لڑکی کو دیکھا۔ بھوری آنکھوں میں برف تھی۔ نہ نرمی، نہ دلچسپی۔ "میرے پاس ان فضول چیزوں کے لیے ٹائم نہیں ہے۔" کہہ کر آگے بڑھ گیا۔ لڑکی کی آنکھیں بھر آئیں، مگر باقی لڑکیاں پھر بھی اس کے پیچھے دوڑ پڑیں۔ کیونکہ اریز اعوان تھا ہی ایسا... حسن بھی زلزلہ، اور غرور بھی زلزلہ۔ دور کھڑا اس کا دوست سر پیٹ کر رہ گیا۔ "ابے کسی ایک کو تو ہاں کر دے! اتنی لڑکیاں ترس رہی ہیں۔" اریز نے بائیک سٹارٹ کی اور صرف ایک جملہ اچھالا: "میں محبت زِلا کا رہنے والا نہیں ہوں۔ مجھے کسی زِلا کی ضرورت نہیں۔" اور دھواں چھوڑتی بائیک کے ساتھ وہ غرور بھی ہوا میں تحلیل ہو گیا... مگر لڑکیوں کے دلوں میں قیامت چھوڑ گیا۔ --- ریس گراؤنڈ سے نکلتے ہی اریز نے بائیک ایک سنسان گلی میں روکی۔ ہیلمٹ اتارا، جیب سے فون نکالا، اور ایک نمبر ملایا۔ "ہاں بول۔" آواز میں برف تھی۔ دوسری طرف احمد ہانپ رہا تھا۔ "باس... BOD، ساؤتھ زون والا مسئلہ ہو گیا ہے۔ رائول کے بندے ہماری شپمنٹ روک رہے ہیں۔" اریز نے تھوک نگلا۔ آنکھوں میں لمحے بھر میں وہ آگ اتری جو ریس ٹریک پر نہیں تھی۔ "میں نے کہا تھا نا، رائول اگر میرے علاقے میں سانس بھی لے تو اس کی لاش دریا میں تیرنی چاہیے۔" "باس وہ... وہ کہہ رہا ہے BOD سامنے آئے۔ اسے یقین نہیں کہ آپ ہی..." اریز نے کال کاٹ دی۔ چشمہ اتارا اور بائیک کے آئینے میں خود کو دیکھا۔ یہ وہ چہرہ تھا جسے دنیا اریز اعوان، ریس جیتنے والا بائیکر کہتی تھی۔ مگر انڈرورلڈ اسے *BOD — Boss of Devil* کے نام سے جانتی تھی۔ دنیا کا سب سے بڑا ڈھیٹ۔ ضد کا پکا۔ جو بات زبان سے نکال دے، پتھر پر لکیر۔ نہ جھکتا تھا، نہ بکتا تھا، نہ رکتا تھا۔ عام لڑکے اس کی بائیک کے دیوانے تھے۔ لڑکیاں اس کے غرور پر مرتی تھیں۔ مگر گینگسٹر اس کے نام سے کانپتے تھے۔ ایک فون کال پر شہر بند، ایک اشارے پر تباہی۔ یہ راز صرف دو لوگ جانتے تھے — *آکاش* اور *احمد*۔ اسی لمحے ایک لڑکے کی کال آ گئی۔ "ابے BOD، تُو پھر سے ہیرو بن رہا تھا؟ تیری وجہ سے کالج کی ساری لڑکیاں میری بہن کا دماغ کھا رہی ہیں۔ ہر کوئی تیرا پوچھ رہا ہے۔" اریز کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ آئی۔ "تیری بہن کو بول دے، اریز اعوان عام لڑکیوں کے لیے نہیں بنا۔" ہنسا۔ "تو BOD بن کر کیا کرے گا؟ شیطان بھی تجھ سے پناہ مانگتا ہے، کوئی لڑکی کیا خاک سنبھالے گی تجھے۔" "اسی لیے میں کسی کے چکر میں نہیں پڑتا،" اریز نے بائیک کک ماری۔ "محبت زِلا میں رہنے والے لوگ کمزور ہوتے ہیں۔ اور BOD کمزور نہیں ہوتا۔" فون بند کر کے اس نے جیکٹ کی اندر والی جیب ٹٹولی۔ وہاں سونے کا ایک سکہ تھا جس پر *BOD* کندہ تھا۔ گینگ کا نشان۔ ریس جیتنے والا اریز اعوان ایک چہرہ تھا۔ اصل چہرہ وہ تھا جسے دیکھ کر موت بھی دو قدم پیچھے ہٹ جائے۔ اور فی الحال، اس اصل چہرے کو صرف آکاش اور احمد نے دیکھا تھا۔ --- گودام کی زنگ آلود چھت سے پانی ٹپک رہا تھا۔ بیچ میں ایک کرسی پر بندھا ہوا رائول کانپ رہا تھا۔ منہ سے خون، ایک آنکھ سوج کر بند۔ سامنے اریز اعوان کھڑا تھا۔ بائیکر والا جیکٹ، گندمی رنگت پر سختی جمی ہوئی۔ آنکھوں میں وہی برف... جہاں رحم کا گزر نہیں۔ دیوار سے ٹیک لگائے *آکاش* کھڑا تھا۔ لمبا قد، چوڑا سینہ، بکھرے بال اور ہونٹوں میں دبی سگریٹ۔ موبائل کی روشنی اس کے وجیہہ چہرے پر پڑ رہی تھی۔ خوبصورت اتنا کہ لڑکیاں دیکھ کر دعا مانگیں، مگر دل؟ دل اریز جیسا ہی پتھر۔ وہ سگریٹ کا کش لے کر دھواں چھوڑتا رہا، جیسے سامنے کوئی انسان نہیں، کرسی پڑی ہو۔ "باس، اس کے گھر میں ماں ہے،" احمد نے دھیرے سے کہا۔ احمد اکیلا تھا جس کی آنکھوں میں ابھی بھی کچھ نمی باقی تھی۔ "بوڑھی ہے باس۔" اریز نے جھک کر رائول کی ٹھوڑی پکڑی۔ "تو نے میری شپمنٹ نہیں روکی رائول... تو نے BOD کے لفظ کو چیلنج کیا ہے۔" آکاش نے موبائل جیب میں ڈالا، سگریٹ کا آخری کش لیا اور پیر کے نیچے مسل دی۔ "احمد، رونا بند کر۔ یہاں سب کی مائیں ہیں۔ BOD کا اصول بھول گیا؟" اس کی آواز میں بھی وہی سفاکی تھی۔ خوبصورتی کے پیچھے چھپا ہوا قاتل۔ اریز کا بچپن کا دوست، اور اس کا سایہ۔ *رحم دل صرف احمد تھا۔* باقی دونوں کے لیے خون پانی سے سستا تھا۔ اریز نے جیب سے سونے کا سکہ نکالا۔ *BOD* کندہ تھا۔ رائول کی پیشانی پر رکھ دیا۔ "بول، آخری خواہش؟" رائول سسکا۔ "پانی... بس پانی۔" اریز نے آکاش کو دیکھا۔ آکاش نے کندھے اچکائے اور بوتل رائول کے منہ سے لگا دی۔ "لے پی لے۔ BOD مہمان نواز ہے۔" لہجے میں زہر میں بجھا ہوا مذاق تھا۔ رائول نے دو گھونٹ پیے۔ "شکریہ... تم لوگ اتنے برے نہیں جتنا..." *ٹھاہ!* گولی کی آواز دیواروں سے ٹکرائی۔ سکہ فرش پر گر کر گھوما۔ ٹن... ٹن... ٹن... خاموشی۔ صرف پانی ٹپکنے کی آواز: ٹپ... ٹپ... ٹپ... احمد نے منہ پھیر لیا۔ آکاش نے دوبارہ موبائل نکالا اور سکون سے لاک کھولا، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ "تصویر سینڈ کر دوں باس؟ سب کو پتا چل جائے BOD سے کھیلنے کا انجام۔" اریز نے پستول جیکٹ میں رکھی۔ "نہیں۔ لاش ٹھکانے لگاؤ۔ اور ہاں... اس کی ماں کو ہر مہینے پیسے بھجوا دینا۔" احمد چونکا۔ "باس لیکن..." "میں شیطان ہوں احمد،" اریز دروازے کی طرف بڑھا۔ "بے حس نہیں۔ فرق یاد رکھنا۔" آکاش نے سگریٹ کا نیا پیکٹ کھولا۔ "چل احمد، روئے گا بعد میں۔ پہلے کام ختم کر۔ BOD کو انتظار پسند نہیں۔" دروازہ بند ہوا۔ گودام میں اندھیرا، فرش پر خون، اور دو چہرے... ایک خوبصورت، ایک وحشی۔ دونوں کے دل ایک جیسے — پتھر۔ *BOD — Boss of Devil* اور اس کا سایہ *آکاش*۔ دونوں کے نام ہی کافی تھے شہر ہلانے کے لیے۔ --- گودام کی خون آلود ہوا سے نکل کر اریز جب حویلی کے گیٹ پر پہنچا تو رات اور گہری ہو چکی تھی۔ بائیک کی آواز سنتے ہی اندر ہلچل مچ گئی۔ سیاہ جیکٹ اتار کر وہ کندھے پر ڈالے اندر داخل ہوا۔ پسینے سے بھیگی شرٹ جسم کے ساتھ چپکی تھی۔ بکھرے بال، تھکن سے سرخ بھوری آنکھیں، اور چہرے پر وہی خدا ترسی سختی... اس وقت وہ *خطرناک حد تک حسین* لگ رہا تھا۔ جیسے موت خود اتر کر آئی ہو، مگر حسن کا لبادہ اوڑھے۔ دروازہ *عرشے* نے کھولا۔ پورا ہال سرخ گلابوں سے بھرا تھا۔ دیواروں پر فیری لائٹس، صوفوں پر سرخ چادر، ہوا میں مہنگے پرفیوم اور گلاب کی خوشبو گھلی ہوئی۔ بیک گراؤنڈ میں کوئی پرانا رومانوی گانا ہلکی آواز میں چل رہا تھا... _"تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا۔"_ اور عرشے؟ سرخ باڈی کون ڈریس میں قیامت ڈھا رہی تھی۔ کھلے گھنے بال، سرخ لپ اسٹک، گلے میں نازک چین۔ وہ اریز کی سوتیلی بہن تھی، مگر دل میں *بہن والا رشتہ کب کا دفن کر چکی تھی۔* آنکھوں میں وہی چاہت، وہی پاگل پن جو باقی لڑکیوں میں تھا۔ "ویلکم ہوم اریز..." وہ شرما کر آگے بڑھی۔ "سرپرائز کیسا لگا؟ پورا دن لگایا ہے سجانے میں۔ صرف تمہارے لیے۔" اریز نے ایک نظر پورے ہال پر ڈالی۔ گلاب، لائٹس، گانا، عرشے کا لباس... کچھ بھی اس کی پتھر آنکھوں کو پگھلا نہ سکا۔ اس نے جیکٹ صوفے پر پھینکی اور بغیر عرشے کو دیکھے سیدھا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ "اریز رکو تو... تمہاری پسند کا کھانا بنایا ہے۔ تم تھکے ہوئے ہو گے نا؟" عرشے کی آواز میں منّت تھی۔ سیڑھی کے پہلے زینے پر اریز رکا۔ مڑ کر دیکھا۔ بھوری آنکھوں میں وہی برف، وہی ویرانی۔ "عرشے،" آواز اتنی سرد تھی کہ گلاب کی پتیاں مرجھا جائیں۔ "آئندہ میرے گھر کو کوٹھا مت بنانا۔ مجھے یہ فضول ڈرامے پسند نہیں۔" عرشے کا چہرہ فق ہو گیا۔ لپ اسٹک کے پیچھے ہونٹ لرزے۔ "مگر اریز میں... میں تو بس..." "بس کیا؟" اریز نے ایک قدم نیچے اتر کر اس کے قریب آیا۔ اتنا قریب کہ عرشے کی سانس رک گئی۔ وہ سمجھی شاید اب... مگر اریز صرف اس کے کان کے پاس جھکا اور سرگوشی کی: *"BOD کو پھولوں سے نہیں، خون سے فرق پڑتا ہے۔ اور تو میری بہن ہے۔ یہ بات دماغ میں بٹھا لے۔"* اور اسے وہیں پتھر کا بت چھوڑ کر اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ دروازہ زور سے بند ہوا۔ گانا اب بھی چل رہا تھا۔ گلاب اب بھی مہک رہے تھے۔ مگر عرشے کے لیے پوری دنیا ویران ہو چکی تھی۔ اس نے دیوار پر لگی اریز کی تصویر کو دیکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ آنسو سرخ لپ اسٹک کے ساتھ بہہ کر گالوں پر لکیر بنا گئے۔ *

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

Yüzbaşının Cerrahı

read
1.5M
bc

The Silver Wolf

read
591.6K
bc

The Billionaire’s Intern

read
1.1M
bc

Chosen, just to be Rejected

read
899.3K
bc

Inferno Demon Riders MC: My Five Obsessed Bullies

read
1.2M
bc

Claimed by the Biker Giant

read
2.3M
bc

Unscentable

read
2.3M

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook