قسط نمبر 1 - مغرور شہزادہ
لاہور کی سب سے مہنگی سوسائٹی میں اذان سکندر کا نام ہر زبان پر تھا۔ اکلوتا بیٹا، باپ کا بے حساب پیسہ، مہنگی گاڑیاں اور راتوں کی محفلیں۔ بظاہر اس کے پاس سب کچھ تھا مگر دل کے اندر ایک عجیب سا خالی پن تھا جو کسی چیز سے بھر نہیں رہا تھا۔
اذان کی زندگی صرف دوستوں، کلبوں اور فضول خرچی تک محدود تھی۔ ماں کہتی بیٹا نماز پڑھ لو، تو وہ ہنس کر ٹال دیتا کہ امی ابھی تو عمر پڑی ہے۔ باپ کہتے بیٹا بزنس سنبھال لو، تو اسے یہ سب ایک بوجھ لگتا تھا۔ اسے لگتا تھا زندگی کا مطلب صرف مزے کرنا ہے۔
ایک شام وہ اپنی سپورٹس کار میں مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی۔ سفید عبائے میں ملبوس، ہاتھوں میں قرآن پاک، چہرے پر حیا کی چادر۔ یہ حورین تھی، محلے کے امام صاحب کی بیٹی، حافظہ قرآن۔ اس کی چال میں اتنا وقار تھا کہ دیکھنے والا نظریں جھکا لیتا۔
اذان نے شرارت سے گاڑی کا ہارن زور سے بجایا۔ حورین کا دوپٹہ ہوا سے ہلا مگر اس نے اپنی نظریں نہ اٹھائیں۔ اذان ہنسنے لگا۔ تب حورین نے ایک نظر اس پر ڈالی، نہایت سنجیدگی سے کہا، "آنکھیں روشنی کے لیے ہوتی ہیں، غرور کے لیے نہیں۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔"
یہ جملہ اذان کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گیا۔ آج تک کسی نے اس سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ سب اس کے پیسے سے ڈرتے تھے۔ وہ ساری رات سو نہ سکا۔ وہی جملہ بار بار اس کے کانوں میں گونج رہا تھا۔ اللہ ہدایت دے۔
کیا ایک مغرور لڑکا ہدایت پا سکے گا؟ کیا حورین اس کی اندھیر زندگی میں نور بنے گی؟ جانئے اگلی قسط میں۔
از قلم - کوئین رائٹس
اسی رات اذان نے کروٹیں بدلتے ہوئے گزاری۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار وہی سفید عبائے والی لڑکی اور اس کا جملہ آ رہا تھا۔ "اللہ آپ کو ہدایت دے"۔ آج تک لڑکیاں اس کی ایک جھلک کے لیے ترستی تھیں، اس کی گاڑی کے پیچھے بھاگتی تھیں، اور یہ لڑکی... اس نے تو اسے آنکھ اٹھا کر دیکھا تک نہیں۔
"عجیب لڑکی ہے،" اذان بڑبڑایا۔ "سمجھتی کیا ہے اپنے آپ کو؟"
لیکن دل ہی دل میں وہ جانتا تھا کہ اسے غصہ نہیں، ایک عجیب سا سکون محسوس ہو رہا ہے۔ پہلی بار کسی نے اسے اس کے پیسے کی وجہ سے نہیں، اس کی آخرت کی وجہ سے ٹوکا تھا۔
اگلی صبح فجر کے وقت اذان کی آنکھ اذان کی آواز سے کھلی۔ وہ حیران ہوا۔ آج سے پہلے تو وہ اس وقت تک جاگتا ہی نہیں تھا۔ اس کی ماں جائے نماز پر بیٹھی دعا کر رہی تھیں۔
"امی؟ آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں؟"
نائلہ بیگم نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، "بیٹا، جب سے تو پیدا ہوا ہے، میں نے ایک فجر بھی ایسی نہیں چھوڑی جس میں تیرے لیے ہدایت کی دعا نہ مانگی ہو۔ لگتا ہے میرے رب نے سن لی۔"
اذان کچھ بول نہ سکا۔ وہ چپ چاپ اٹھا، وضو خانے گیا۔ ٹھنڈے پانی نے جیسے اس کے دل کا غبار دھو دیا۔ آئینے میں اس نے اپنے آپ کو دیکھا۔ بکھرے بال، لال آنکھیں۔ کیا یہی وہ شہزادہ تھا جس پر زمانہ رشک کرتا تھا؟
وہ دبے پاؤں مسجد کی طرف چل پڑا۔ محلے کے لوگ حیران تھے۔ قاری اشرف صاحب مسجد میں فجر پڑھا رہے تھے۔ اذان آخری صف میں کھڑا ہو گیا۔ نماز میں اس کا دل کانپ رہا تھا۔ سجدے میں جاتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ پہلی بار اسے لگا جیسے وہ اپنے رب سے بات کر رہا ہے۔
نماز کے بعد قاری صاحب نے اسے دیکھا تو مسکرا دیے۔ "بیٹا اذان؟ ماشاءاللہ۔ آج کیسے؟"
اذان نے نظریں جھکا کر کہا، "بس قاری صاحب، دل نے کہا آج یہیں آنا چاہیے۔"
اسی وقت حورین اپنے والد کے لیے ناشتہ لے کر مسجد کے حجرے میں آئی۔ اس نے اذان کو وہاں دیکھا تو ٹھٹھک گئی۔ اذان نے بھی اسے دیکھا۔ دونوں کی نظریں ایک لمحے کے لیے ملیں۔ حورین نے فوراً نظریں جھکا لیں اور اندر چلی گئی۔
اذان کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ یہ کیسا احساس تھا؟
اس دن کے بعد اذان روز مسجد آنے لگا۔ کبھی فجر میں، کبھی عشاء میں۔ محلے والے باتیں کرنے لگے کہ سکندر صاحب کا بیٹا سدھر گیا ہے۔ لیکن اذان کا مقصد صرف اللہ نہیں، کہیں نہ کہیں حورین کی ایک جھلک بھی تھی۔
ایک دن مدرسے میں بچیوں کی چھٹی ہوئی تو حورین اکیلی بیٹھی قرآن کی تفسیر لکھ رہی تھی۔ اذان ہمت کر کے مدرسے کے دروازے تک آیا۔
"حورین... مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔"
حورین نے بغیر دیکھے کہا، "یہاں بات کرنا منع ہے۔ آپ چلے جائیں۔"
"میں بدل رہا ہوں حورین، سچ میں۔ اس دن کے بعد سے میں نے کلب جانا چھوڑ دیا ہے، شراب کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ میں... میں نماز پڑھنے لگا ہوں۔"
حورین نے قلم رکھا اور پہلی بار نرمی سے کہا، "اگر بدل رہے ہیں تو اللہ کے لیے بدلیں، میرے لیے نہیں۔ انسانوں کے لیے بدلا ہوا رنگ زیادہ دیر نہیں چڑھتا۔ اللہ کے لیے بدلو گے تو کبھی نہیں اترے گا۔"
یہ کہہ کر وہ چلی گئی، لیکن اذان کے دل میں ایک نیا دیا جلا گئی۔
اس رات اذان نے اپنی ساری مہنگی شراب کی بوتلیں توڑ دیں، اپنے دوستوں کو بلاک کر دیا اور اپنی ماں کے گلے لگ کر پہلی بار کہا، "امی، مجھے معاف کر دیں۔"
نائلہ بیگم کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ ان کی سالوں کی دعا آج قبول ہو گئی تھی۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اذان کے پرانے دوست، اس کا پرانا ماضی، کیا وہ اسے اتنی آسانی سے چھوڑ دے گا؟ اور کیا حورین کا باپ ایک امیر بگڑے ہوئے لڑکے کو اپنی بیٹی دے گا؟
لیکن اذان کی آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ اس کے پرانے دوستوں کا گروپ، خاص طور پر اس کا بچپن کا دوست ریان، اس کی اس تبدیلی سے بالکل خوش نہیں تھا۔
ایک شام ریان اس کے گھر آیا۔
"یار اذان! کیا ہو گیا ہے تجھے؟ تو تو کلب کی جان تھا، پارٹیز تیرے بغیر ادھوری تھیں۔ اب سنا ہے تو مسجدوں میں بیٹھنے لگا ہے؟ کسی مولوی کی بیٹی نے جادو کر دیا ہے کیا؟"
اذان نے غصے سے اسے دیکھا۔ "ریان! زبان سنبھال کر بات کر۔ وہ مولوی کی بیٹی نہیں، حورین ہے۔ اور وہ جادو نہیں کرتی، وہ دل جگاتی ہے۔"
"دل؟" ریان ہنسا۔ "تیرا دل تو کب کا مر چکا تھا یار۔ دیکھ، آج رات تیرے لیے خاص پارٹی رکھی ہے۔ سارے پرانے دوست آ رہے ہیں۔ تو آئے گا تو سب واپس آ جائے گا۔"
اذان کا دل ایک لمحے کے لیے ڈگمگایا۔ پرانا ماحول، روشنیاں، دوست۔ لیکن پھر اسے حورین کا جملہ یاد آیا۔ "اللہ کے لیے بدلو گے تو کبھی نہیں اترے گا۔"
اس نے کہا، "نہیں ریان۔ میں نہیں آؤں گا۔ میں نے توبہ کر لی ہے۔"
ریان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔ "تو پچھتائے گا اذان۔ تو اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے اپنے دوستوں کو چھوڑ رہا ہے؟"
اذان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دروازے سے باہر نکال دیا۔ "وہ دو ٹکے کی نہیں، وہ لاکھوں کی ہے۔ اور آئندہ اس کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو دوستی ختم۔"
دروازہ بند کر کے اذان زمین پر بیٹھ گیا۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ ہدایت کا راستہ اتنا آسان نہیں ہے۔ شیطان ہر موڑ پر واپس کھینچنے کی کوشش کرے گا۔
دوسری طرف حورین کے گھر میں بھی ایک طوفان آنے والا تھا۔
قاری اشرف صاحب کی مسجد کے کمیٹی کے ایک ممبر نے اپنے بیٹے کے لیے حورین کا رشتہ بھیجا۔ لڑکا دبئی میں انجینئر تھا، اچھا کماتا تھا۔ قاری صاحب نے سوچا بیٹی کے لیے اچھا رشتہ ہے۔
شام کو انہوں نے حورین کو بلایا۔
"بیٹی، تمہارے لیے ایک رشتہ آیا ہے۔ لڑکا دیندار ہے، کماتا ہے۔ میں نے سوچا تم سے پوچھ لوں۔"
حورین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے نہیں معلوم کیوں، لیکن اسے اذان کا وہ سجدے میں روتا ہوا چہرہ یاد آ گیا۔ وہ اذان جسے اس نے بدلتے ہوئے دیکھا تھا۔
"ابا جان، جیسا آپ بہتر سمجھیں۔ لیکن کیا میں ایک بار استخارہ کر لوں؟"
"ہاں بیٹی، ضرور کرو۔"
حورین نے استخارہ کیا۔ دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔ اسی رات اس نے خواب دیکھا کہ ایک اندھیرے کمرے میں ایک لڑکا اکیلا بیٹھا رو رہا ہے اور وہ اسے قرآن کی طرف بلا رہی ہے۔ آنکھ کھلی تو اس کا دل کہہ رہا تھا کہ اس کی زندگی کا مقصد صرف مدرسہ نہیں، کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا بھی ہے۔
اگلے دن اذان کی ماں نائلہ بیگم قاری صاحب کے گھر آئیں۔ وہ حورین کو بہت پسند کرتی تھیں۔ جب سے اذان نے حورین کا ذکر کیا تھا، وہ روز اس کے لیے دعا کرتی تھیں۔
"قاری صاحب، میں ایک خاص بات کے لیے آئی ہوں۔ میں اپنے بیٹے اذان کے لیے آپ کی بیٹی حورین کا ہاتھ مانگنے آئی ہوں۔"
قاری صاحب حیران رہ گئے۔ "بہن جی، آپ تو جانتی ہیں، آپ کا بیٹا... مطلب... اس کا ماضی..."
نائلہ بیگم نے ہاتھ جوڑ دیے۔ "قاری صاحب، میں مانتی ہوں میرا بیٹا بگڑا ہوا تھا۔ لیکن میرا رب توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ میرا بیٹا بدل گیا ہے۔ وہ اب پانچ وقت کا نمازی ہے۔ وہ ساری رات قرآن سنتا ہے۔ یہ سب آپ کی بیٹی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اللہ نے اسے آپ کی بیٹی کے ذریعے ہدایت دی ہے۔"
قاری صاحب خاموش ہو گئے۔ انہوں نے حورین کو بلایا۔
حورین آئی تو نائلہ بیگم نے اسے گلے لگا لیا۔ "بیٹی، کیا تم میرے بیٹے کو ایک موقع دو گی؟ اسے ایک نیک بیوی کی ضرورت ہے جو اسے تھامے رکھے۔"
حورین کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔ اس نے آہستہ سے کہا، "آنٹی، نکاح تو سنت ہے۔ لیکن میں ایک شرط پر نکاح کروں گی۔"
"کیسی شرط بیٹی؟"
"نکاح کے بعد بھی میں اپنا مدرسہ نہیں چھوڑوں گی۔ میں بچیوں کو قرآن پڑھاتی رہوں گی۔ اور اذان کو بھی ہر جمعہ کو مسجد میں بچوں کو دین کی بات بتانی ہو گی۔"
نائلہ بیگم نے خوشی سے کہا، "مجھے منظور ہے بیٹی!"
اس طرح دونوں گھروں میں بات پکی ہو گئی۔ اذان کو جب پتہ چلا تو اسے یقین نہیں آیا۔ وہ سیدھا مسجد گیا اور شکرانے کے دو نفل پڑھے۔
"یا اللہ تیرا شکر ہے۔ تو نے مجھ جیسے گنہگار کو حورین جیسی نعمت دی۔"
نکاح کا دن آ گیا۔ سادہ سا نکاح، مسجد میں۔ کوئی ڈھول، کوئی مہندی، کوئی فضول خرچی نہیں۔ قاری صاحب نے خود نکاح پڑھایا۔
"بیٹی حورین بنت اشرف، کیا آپ کو نکاح اذان سکندر بن ارسلان سکندر، حق مہر پچاس ہزار اور ایک قرآن پاک کے عوض قبول ہے؟"
حورین نے کانپتی آواز میں کہا، "قبول ہے۔"
تین بار قبول ہے کہتے ہی وہ اذان کی نکاح میں آ گئی۔ اذان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے دل میں عہد کیا کہ وہ اس حافظہ قرآن بیٹی کو کبھی دکھ نہیں دے گا۔
رخصتی کے بعد جب حورین اذان کے کمرے میں آئی تو کمرہ بدل چکا تھا۔ جہاں پہلے شراب کی بوتلیں اور فحش تصویریں تھیں، وہاں اب جائے نماز، قرآن پاک اور تسبیح رکھی تھی۔
اذان نے آہستہ سے کہا، "حورین، میں جانتا ہوں میں تمہارے قابل نہیں ہوں۔ لیکن میں کوشش کروں گا کہ تمہارا شوہر نہیں، تمہارا جنت کا ساتھی بنوں۔"
حورین نے پہلی بار مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔ "اذان، اللہ نے فرعون کی بیوی آسیہ کو بھی جنت دی، کیونکہ اس کا دل پاک تھا۔ آپ کا ماضی اللہ نے معاف کر دیا، تو میں کون ہوتی ہوں نہ کرنے والی۔ بس آئندہ کبھی اللہ کو نہ چھوڑنا۔"
اذان نے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا، "وعدہ۔ آج سے میری ہر سانس اللہ کے لیے اور تمہارے لیے۔
جاری ہے۔۔۔