Episode 3

3394 Words
#Professor Khan ? Zanoor Writes Episode 3 (Series 2 in Professor Shah Novel) "آپ کی بیوی نورے پر ہاتھ اٹھاتی ہے۔۔" شاہزیب نے میر شاہ کو سرد آواز میں بتایا تھا۔پہلے نورے اور پھر افرحہ کی یونی میں ہونے والے واقع نے اس کا دماغ اچھا خاصا ہلا دیا تھا۔ "تم جھوٹ بول رہے ہو فاطمہ ایسا نہیں کرتی۔۔" میر شاہ جو بغور اس کی بات سن رہے تھے وہ ایک دم ہتھے سے اکھڑ گئے تھے۔ "کیا آپ کو لگتا ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں؟" اس نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔ "ہاہاہا۔۔ آپ سے امید بھی کیا کی جاسکتی ہے ؟ جب آپ نے پہلے کبھی اعتبار نہیں کیا تو اب کیسے کریں گے۔۔؟ اگر اپنی بیوی پر اندھا اعتماد کرنے کی بجائے نورے پر تھوڑی توجہ دے لیتے تو وہ اس پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت بھی نہ کرتی۔۔" وہ غصے سے چلایا تھا۔میر شاہ اس کی بات پر اپنی مٹھیاں بھینچ گئے تھے۔ "مجھے مت سکھاو کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔۔میں اپنی بیٹی سے خود بات کرلوں گا۔۔" میر شاہ تلخی سے بولے تھے۔ "میں آپ کے اندھے اعتماد کی وجہ سے اپنی بہن پر ظلم برداشت نہیں کروں گا۔۔اگر اس عورت نے دوبارہ نورے پر ہاتھ اٹھایا میں ہر حد سے گزر جاوں گا۔۔" وہ سرد ترین لہجے میں وارن کرتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا ان کے آفس سے چلا گیا تھا۔ان کی بےاعتباری نے اسے ان سے مزید بدظن کردیا تھا۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ "کیا ہوا نورے تمھارے چہرے کے رنگ کیوں اڑے ہوئے ہیں؟" افرحہ نے اس کے گھبراتے ہوئے چہرے پر نظر ڈالتے پوچھا تھا۔ "ک۔کچھ نہیں بھابھی۔۔ آپ نے شاپنگ کرلی ؟" وہ اپنے لب تر کرتی فورا سنجیدہ ہوتی پوچھنے لگی تھی۔ "ہاں چلو چلیں۔۔" افرحہ کے بولنے پر وہ اس کے پیچھے چل پڑی تھی۔جبکہ اس کی سوچیں شازل کے گرد گھوم رہی تھیں۔سارے راستے اسے نہیں خبر افرحہ کیا بول رہی تھی وہ تو بس شازل کی باتیں سوچتی رہی تھی۔ گھر پہنچ کر اس کا تھوڑا بہت ٹھیک موڈ کا بھی بیڑا غرق ہوچکا تھا۔اس کا موڈ بدلتا افرحہ نے بھی محسوس کیا تھا۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی فاطمہ بیگم کو دیکھ کر وہ لب بھینچتی تیزی سے اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔افرحہ اسے آوازیں دیتی رہ گئی تھی مگر وہ نہیں رکی تھی۔ وہ فریش ہوتی لیٹ گئی تھی۔بیڈ پر چت لیٹے اس کی سوچیں شازل کے گرد گھوم رہی تھیں۔وہ چاہ کر بھی اس کا خیال ذہن سے جھٹک نہیں پا رہی تھی۔ دروازے پر ناک ہونے کی وجہ سے وہ سوچوں سے باہر آتی سیدھی ہوئی تھی۔میر شاہ کو اتنے سالوں بعد اپنے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔ "بابا آپ کو کوئی کام تھا ؟" اس نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔میر شاہ نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا تھا جو اپنی عمر سے کئی گنا زیادہ سنجیدہ لگ رہی تھی۔ "مجھے تم سے بات کرنی ہے نورے۔۔" وہ اس کے پاس آتے بیڈ کے قریب کھڑے ہوگئے تھے۔ "جی۔۔؟" نورے نے نظریں زمین پر گاڑھتے پوچھا۔ "کیا فاطمہ تم پر ہاتھ اٹھاتی ہے ؟" میر شاہ کے سوال کو سن کر اس نے جھٹکے سے اپنی نظریں اٹھائی تھیں۔ "آپ نے دیر کر دی پوچھتے پوچھتے۔۔اب مجھے عادت ہوگئی ہے۔۔" اس کی باتوں نے میر شاہ کو چپ کروا دیا تھا۔ وہ اذیت سے مسکراتی بولی تھی۔ "تم نے مجھے کبھی کچھ بتایا نہیں۔۔" انھوں نے دھیمی آواز میں پوچھا۔ "آپ کو شاہزیب کے جانے کے بعد کبھی میرے لیے وقت ہی نہیں ملا تھا۔" وہ سپاٹ آواز میں بولی تھی۔اس کے لہجے کی تلخی میر شاہ کو اپنے اندر گھلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔وہ تیزی سے پلٹتے بنا کچھ بولے نکل گئے تھے۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ "موم میرے لیے ایک چائے روم میں بھجوا دیں۔۔" شازل جو ابھی گھر میں داخل ہوا تھا۔گل خان کو تیزی سے بولتا ہوا اپنے کمرے میں بڑھ گیا تھا۔ "اس کو زرا تمیز نہیں رہی باپ بیٹھا ہے اسے ہی سلام کردے۔۔" محب خان اس کے یوں اگنور کرکے چلے جانے پر جی جان سے جل اٹھے تھے۔گل خان جوابا خاموش ہی رہی تھیں۔وہ باپ بیٹے کے درمیان کم ہی آتی تھیں۔ شازل فریش ہوتا اپنا لیپ ٹاپ اٹھاتا ٹیبل پر رکھ چکا تھا وہاں ڈھیروں کاغذ اور چیزیں بکھری پڑی تھیں۔اس کے کمرے میں کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی تبھی اسے ان چیزوں کی فکر نہیں تھی۔ گل خان ناک کرتی کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔شازل نے فورا ان کے ہاتھ سے چائے پکڑتے گرم گرم چائے کا گھونٹ اپنے اندر انڈیل لیا تھا۔اسے شروع سے ہی گرم گرم چائے پینے کی عادت تھی۔ "تم کیا کر رہے ہو شازل؟" انھوں نے بکھری تصویروں اور چیزوں کو دیکھتے پریشانی سے پوچھا تھا۔ "جب تک میں بدلہ نہ لے لوں مجھے سکون نہیں ملے گا موم۔۔" وہ دو منٹ میں چائے کا کپ خالی کرتا انھیں واپس پکڑا چکا تھا۔ "شازل مت کرو ایسا الله پاک ہیں انصاف کرنے کے لیے۔۔اپنا فیصلہ ان پر چھوڑ دو۔۔" گل خان نے اس کا بازو پکڑتے اسے التجائیہ انداز میں کہا تھا۔ "جب تک میں نے اس گناہ میں شامل ہر شخص کو اپنے ہاتھوں سے انجام تک نہ پہنچا دیا میں سکون سے نہیں بیٹھوں گا۔۔اس کے لیے چاہے مجھے اپنی جان ہی کیوں نہ گنوانی پڑے۔۔" اس کے لہجے کی شدت ، تلخی اور مختلف جذبات نے گل خان کو ساکت کردیا تھا۔کتنے جذبات وہ اپنے اندر چھپائے پھر رہا تھا اس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ "تم صرف تباہی مچا رہے ہو۔۔" گل خان نفی میں سر ہلاتی بولی تھی۔ "مجھے کوئی نہیں روک پائے گا۔۔" وہ سرد ترین لہجے میں غرایا تھا۔ "تمھارے نام پر ایک لڑکی بیٹھی ہے اس کا ہی خیال کرلو۔۔" گل خان نے اسے احساس دلایا۔۔ "میں اپنی ذمہ داریوں سے کبھی منہ نہیں پھیروں گا صحیح وقت آنے پر اسے اس کا حق بھی دے دوں گا۔ اب جائیں یہاں سے اور ایک اور چائے بھجوا دیجیے گا۔۔" شازل خان بولتا لب بھینچ گیا تھا ناجانے ایک دم کہاں سے اس کی آنکھوں کے آگے چھن کرکے نورے کی تصویر لہرائی تھی۔جسے وہ اپنا سر جھٹک کر ختم کرچکا تھا۔گل خان ایک نظر اس پر ڈالتی تیزی سے نکل گئی تھی۔۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ شازل یونیورسٹی میں داخل ہوا ہی تھا جب اسے ڈین نے اپنے آفس میں بلوایا تھا۔وہ ہلکے آسمانی رنگ کے سوٹ میں ملبوس نیوی بلیو کلر کا کوٹ پہنے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ڈین کے آفس کی طرف بڑھ گیا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی اس کا سامنا ڈین اور اس کے سامنے بیٹھی نورے سے ہوا تھا۔وہ سمجھ گیا تھا اس لڑکی نے ہی کچھ کیا ہے۔۔ "مسٹر خان بیٹھیں۔۔ہم آپ کا ہی انتظار کر رہے تھے۔" ڈین نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا تھا۔ایک طرف نورے میر شاہ ان کے دوست کی بیٹی تھی تو دوسری طرف شازل خان کے نام سے کون ناواقف تھا محب خان کا بزنس کی دنیا میں نام بولتا تھا۔ "میرا لیکچر سٹارٹ ہونے والا ہے آپ نے کیا بات کرنی ہے ؟" وہ جذبات سے عاری لہجے میں بولا تھا۔گرے سوٹ میں ملبوس نورے نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا تھا۔ "آپ کے خلاف شکایت ملی ہے۔۔۔نورے کے ساتھ آپ نے اچھا بہیو نہیں کیا۔۔" ڈین شازل خان کا بڑھتا غصہ دیکھ کر ایک دم چپ ہوگیا تھا۔ "آپ کی مس نورے لیکچر کے دوران اپنی لمبی زبان چلاتی سب کو ڈسٹرب کر رہی تھیں۔میں نے ان کو سمپلی روکا تھا اور اس فضول بات کے لیے آپ نے مجھے یہاں بلایا تھا۔" وہ ایک دم کھڑا ہوتا غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مار کر غرایا تھا۔ نورے کی آنکھیں پھیل گئی تھی۔اس کی ڈین کے سامنے جرت دیکھ کر اسے لگ رہا تھا ابھی وہ اپنی گن نکالے گا اور ڈین کو اڑا دے گا۔۔ "ن۔۔نو یو آر راٙئیٹ آپ جاسکتے ہیں۔۔مس نورے کو میں سمجھا دوں گا وہ آپ کی کلاس میں بات نہیں کیا کریں گی۔۔" ڈین کی بات سن کر اب کی بار نورے کو غصہ چڑھا تھا مگر وہ شازل خان کی طرح چلا نہیں سکتی تھی۔تبھی اپنا غصہ پی گئی تھی۔وہ تو صبح صبح یہ سوچتی آئی تھی کہ اس کی ڈین سے اچھی سے بےعزتی کروائے گی اور یہاں تو ڈین کی ہی بےعزتی ہوگئی تھی۔ "مس نورے مجھے امید ہے دوبارہ آپ اپنا اور میرا وقت فضول ضائع کرنے کے لیے ڈین کے پاس نہیں آئیں گی۔۔" شازل غصے سے نورے کو بولتا وہاں سے چلا گیا تھا۔ڈین نے اس کے جاتے ہی اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا تھا۔نورے ایک ملامتی نظر ان پر ڈالتی وہاں سے نکل گئی تھی۔ شازل کی بات سے اسے پتا چل گیا تھا۔وہ اسے چھوڑے گا نہیں۔۔ وہ راہداری سے گزرتی ہوئی جارہی تھی جب اچانک کسی نے اسے کلاس روم کے اندر کھینچا تھا۔وہ جو اس کے تیار نہیں تھی کٹی ہوئی ڈالی کی طرح روم میں کھینچتی چلی گئی تھی۔ شازل نے دروازہ بند کرتے نورے کو کھینچ کر دروازے سے لگاتے اپنے کوٹ سے گن نکالتے اس کے سر پر رکھی تھی۔ "ہلکی سی بھی آواز مت نکالنا ورنہ تمھاری سانسیں بند کردوں گا۔۔" شازل کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئی تھی۔گن اپنے ماتھے پر دیکھ کر اس کے سانس خشک ہوگئے تھے۔ اس نے شازل کے سینے پر ہاتھ دھرتے اسے زور سے پیچھے دھکیلا تھا۔لیکن وہ ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا تھا بلکہ اس کے دونوں بازو تھامتے اس نے دیوار سے لگا دیے تھے۔ "تمھیں لگتا ہے تمھارے یہ نازک ہاتھ مجھے پیچھے ہٹا سکتے ہیں۔۔؟" اس نے نورے کے اوپر جھکتے استہزایہ لہجے میں پوچھا تھا۔ "دور ہٹو مجھ سے۔۔" وہ غصے سے بل کھاتی چیخی تھی۔شازل نے غصے سے اسے گھورتے اس کے بازوں پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی۔ "شش۔۔ چپ۔۔ سنائی نہیں دیا تمھیں میں نے کیا کہا تھا ؟" وہ غصے سے غرایا تھا۔نورے کو خوف سے اپنے وجود میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی تھی۔ "نہیں مجھے کچھ سنائی نہیں دیا دور ہٹیں ورنہ چیخ چیخ کر سب کو یہاں بلا لوں گی۔۔" وہ بنا اپنا ڈر ظاہر کیے ڈھٹائی سے بولی تھی۔شازل کے ہونٹ طنزیہ انداز میں اوپر اٹھے تھے۔اس کے دونوں بازو ایک ہاتھ سے پکڑتے اس نے گن والا ہاتھ مضبوطی سے اس کے ہونٹوں پر دھڑ دیا تھا۔ "میری ایک بات غور سے سن لو اور اسے اپنی اس خالی کھوپڑی میں اچھے سے بٹھا لو۔۔" وہ نورے کو اپنی گرفت میں بےبس دیکھتا اکھڑے ہوئے لہجے میں بولا تھا۔نورے بےبسی سے اس کی باتیں سننے کو مجبور تھی۔ورنہ دل تو کر رہا تھا مقابل کے ہاتھ نوچ لے جس سے وہ اسے پکڑے ہوئے تھا۔ "میرے راستے میں آنا چھوڑ دو۔۔ اپنے کام سے کام رکھو۔۔ اگر تم باز نہ آئی اس کا انجام بہت برا ہوگا تمھیں مار کر ایسی جگہ دفنا دوں گا تمھارے گھر والے ساری زندگی تمھیں ڈھونڈتے رہیں گے۔۔" وہ نورے کے کان کے قریب جھک کر سور پھونکتا اس کے سفید پڑتے چہرے سے محظوظ ہوتا تیزی سے اسے چھوڑ کر وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔ نورے نے اس کے جاتے ہی گہرا سانس بھرا تھا۔خود کو اکیلے اندھیرے کمرے میں پاکر اس کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے تھے۔تیزی سے خود کو سنبھالتی وہ وہاں سے نکل گئی تھی۔اسے اپنی کلائیوں ہر اس پاگل شخص کے انگلیوں کے نشان صاف دکھائی دے رہے تھے۔جسے وہ اپنی سلیوز سے اچھے سے چھپا چکی تھی۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ نورے نے آج اس کا لیکچر نہیں لیا تھا۔اس کا دل کر رہا تھا وہ اس سے بدلہ لے۔۔پارکنگ لاٹ میں جاتے اس نے سکیورٹی گاڑد سے شازل خان کی گاڑی کا پوچھا تھا۔ جس نے اسے عجیب نظروں سے دیکھتے بتا دیا تھا۔ نورے اس کے بعد وہاں سے چلی گئی تھی۔تھوڑی دیر بعد گارڈ کے ڈیوٹی پر چلے جانے کے بعد وہ واپس پارکنگ لاٹ میں آئی تھی۔خالی پارکنگ لاٹ کو دیکھتے وہ تیزی سے شازل کی کار کے پاس گئی تھی۔اپنے بیگ میں سے لپ اسٹک نکالتے اس نے اس کی گاڑی کے شیشے پر بڑا سا " غنڈا " ، "پاگل " اور "سنکی" الفاظ لکھ دیے تھے۔ اس کی نئی بی ایم ڈبلیو پر اپنا کارنامہ دیکھتے اسے ایک الگ ہی خوشی محسوس ہوئی تھی۔ایک انوکھی خوشی اسے محسوس ہو رہی تھی۔ اپنا کارنامہ انجام دینے کے بعد ختم ہوئی لپ اسٹک بیگ میں ڈالتے اس نے ہاتھ جھاڑے تھے۔اپنے کندھے پر ہاتھ مار کر خود کو شاباشی دیتی وہ ادھر ادھر دیکھتی تیزی سے وہاں سے نکل گئی تھی۔ شازل لیکچرز ختم ہوتے وہاں سے نکل آیا تھا۔پارکنگ لاٹ میں جاتے اپنی گاڑی پر نظر پڑتے ہی اس کا منہ اور آنکھیں دونوں کھل گئے تھے۔ اپنی نئی گاڑی کی یہ حالت دیکھتے غصے سے اس کی رگیں ابھر آئی تھیں۔ "یہ کس نے کیا ہے ؟" وہ غنڈا ، پاگل اور سنکی لفظ پڑھ کر آگ بگولا ہوا تھا۔شازل نے وہاں موجود سکیورٹی گارڈ کے پاس جاتے پوچھا تھا۔ "سر مجھے نہیں پتا ابھی تو یہ گاڑی بالکل ٹھیک تھی میں نے خود دیکھا تھا ایک لڑکی پوچھ رہی تھی تب یہ ٹھیک تھی۔" گارڈ اس کے غصے سے ڈرتا تیزی سے بولا تھا۔جبکہ اس کی گاڑی پر لکھے الفاظ پڑھ کر اسے خود ہنسی آرہی تھی۔ "کونسی لڑکی ؟" شازل کے کان کھڑے ہوئے تھے۔اس کے ذہن میں فورا نورے کا خیال آیا تھا۔ "سر گرے کلر کا ڈریس پہنا ہوا تھا اس نے۔۔بس اور کچھ خاص نہیں پتا۔۔" وہ سوچتا ہوا بولا تھا۔اس کے بتانے پر اس کا یقین پکا ہوگیا تھا۔یہ سب نورے نے کیا ہے۔۔ "اس کا گلا میں اپنے ہاتھوں سے دباوں گا۔۔" وہ غصے سے بولتا گارڈ کو گھورتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا۔اسے حیدر سلطان کا میسج آیا تھا۔اس کی گنز کی شپمنٹ آچکی تھی۔اب اس حالت میں گاڑی کو لے کر جانے کا سوچ کر اس کا غصہ سوا نیزے پر تھا۔ اس کے غصے کو مزید ہوا حیدر سلطان کی ہنسی نے دی تھی وہ اس کی گاڑی ہر لکھے الفاظ پڑھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا تھا۔ شازل نے غصے سے اسے گھور کر دیکھا تھا۔وہ اس کے وئیر ہاوس میں موجود تھا جہاں گنز موجود تھیں۔ "ویسے یہ کس ہستی کا کام ہے ؟" حیدر نے ہنسی دباتے اسے گن دکھاتے ہوئے پوچھا۔ "مجھے مجبور نہ کرو کہ میں اس گن کو تم پر سب سے پہلے ٹرائے کروں۔۔" حیدر سلطان اس کی بات سنتا ہنس پڑا تھا۔وہ کتنا پاگل انسان تھا یہ تو وہ بچپن سے دیکھتا آرہا تھا۔ "اوکے سوری سر۔۔" وہ مودب طریقے میں بولا تھا۔شازل نے سر جھٹکا تھا۔اچھے سے ساری گنز کو چیک کرتے اس نے حیدر کو اپنے فلیٹ پر اس کی ڈیلیوری کا کہا تھا۔حیدر کو اچھے سے سمجھاتا وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔اپنی گاڑی میں بیٹھتے اسے پھر ایک دم نورے پر جی بھر کر غصہ آیا تھا۔ وہ پہلی لڑکی تھی جو اس کے پیچھے پاگل ہونے کی بجائے اسے پاگل کر رہی تھی۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ روحان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا رات کو چند گھنٹے سونے کے لیے وہ اپنے کمرے میں آجاتا تھا۔۔کرسی پر بیٹھ کر اس نے اپنے پاوں سامنے میز پر ٹکا دیے تھے۔ آنکھیں بند کیے اس کے سامنے چھن کرکے دانین کا گھبرایا سا چہرہ اور سہمی سی آنکھوں کا منظر آیا تھا۔اس کی آنکھوں میں کتنا خوف تھا۔وہ جاننے سے قاصر تھا۔ "پاگل ہوگیا ہوں میں۔۔روحان بیٹا تو یہاں اس کی حفاظت کرنے آیا ہے عشق لڑانے نہیں۔۔" وہ خود کو ڈپٹتا سیدھا ہوا تھا۔مگر ناجانے کیوں اس سے دور جانے کے خیال سے اسے بےچینی ہونے لگی تھی۔ وہ خود سے گھبراتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔کمرے سے نکل کر وہ بنا آواز پیدا کیے نیچے اتر گیا تھا۔کیچن سے آتی روشنی اور ہلکی گنگناہٹ سن کر اس کے قدم ایک دم ساکت ہوگئے تھے۔ وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا کیچن کے قریب گیا تھا۔آہستہ سے جھک کر اس نے کچن میں جھانکا تھا جہاں وہ مزے سے کاونٹر سے ٹیک لگا کر اشتیاق سے اون کو دیکھ رہی تھی۔جس میں کوئی چیز بیک ہورہی تھی۔ وہ خاموشی سے کھڑا اس کے چہرے پر نظریں ٹکائے ہوئے تھا۔کسی کی نظروں کے احساس سے دانین نے گھبراتے ہوئے آنکھیں اٹھائی تھیں اپنے سامنے روحان کو دیکھ کر ایک باریک سی چیخ اس کے منہ سے بےساختہ نکلی تھی۔ "آئی ایم سوری۔۔" روحان نے اسے گھبراتے دیکھ کر اپنے ہاتھ اوپر کو اٹھائے تھے۔اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے دانین نے نظروں کا زوایہ بدل کر زمین پر کر لیا تھا۔اس کو اپنا جسم ہلکا ہلکا کانپتا محسوس ہو رہا تھا۔ "آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔یہ وقت تو آپ کے سونے کا ہے۔۔" اس نے کانپتی آواز میں پوچھا تھا۔روحان کے لب اوپر کو اٹھے تھے۔ "مجھے بھوک لگی تھی۔لیکن لگتا ہے آپ یہاں بزی ہیں میں کچھ دیر بعد آجاوں گا۔۔" وہ جھوٹ بولتا ہوا واپس مڑنے لگا تھا جب دانین کی باریک آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی۔اس کے ہونٹوں پر ایک فاتحین مسکراہٹ نمایا ہوئی تھی۔جسے وہ لب دبا کر چھپا گیا تھا۔ "رکیں۔۔ میں نے کوکیز بنائی ہیں آپ کھائیں گے ؟" اس کی پکار پر روحان سنجیدہ چہرہ لیے پلٹا تھا۔ "نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔" وہ ہلکی مسکراہٹ سے بولا تھا۔اون کی بل بجتے ہی دانین نے روحان کی نظروں سے گھبراتے سیدھا ہاتھ سے ہی گرم گرم ٹرے کو پکڑ لیا تھا۔ "آہ۔۔" تکلیف کی شدت سے اس کے منہ سے چیخ نکلی تھی۔ روحان نے تیزی سے حرکت کرتے اس کا ہاتھ پکڑ کر ٹھنڈے پانی کے نیچے کیا تھا۔وہ ہلکی ہلکی پھونک بھی مار رہا تھا۔دانین آنکھیں پھیلا کر اس کو دیکھ رہی تھی۔ "دھیان کہاں تھا تمھارا سارا ہاتھ ریڈ ہوگیا ہے۔۔" وہ اسے ڈانٹ رہا تھا۔جبکہ وہ اس کی مضبوظ گرفت سے ہاتھ نکالنے کی مسلسل کوشش کر رہی تھی۔ روحان کی نظر اس کے چہرے پر گئی تھی جہاں خوف کے سائے پھیلے ہوئے تھے۔اس نے فورا اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ "دوبارہ مجھے چھونے کی کوشش مت کیجیے گا۔۔" وہ چیخ کر بولتی اپنا ہاتھ کمر پر باندھ کر چھپاتی اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔روحان اسے چاہ کر بھی روک نہیں پایا تھا۔ساری کوکیز دانین کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئی تھیں۔اسے جی بھر کر خود پر غصہ آیا تھا۔وہ جانتا تھا اس کی وجہ سے دانین کا ہاتھ جلا ہے۔۔ "ڈیم اٹ۔۔" اس نے زور سے اپنا ہاتھ شلف پر مارا تھا۔اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ کوکیز اٹھا کر باسکٹ میں پھینک چکا تھا۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ "بڑی خوش لگ رہی ہو نورے کیا بات ہے ؟" افرحہ جو اسے کھانا دینے آئی تھی۔اس نے نورے کا خوشی سے چمکتا چہرہ دیکھ کر پوچھا تھا۔ "جی بھابھی آج میں بہت خوش ہوں۔۔" وہ مسکرا کر بولتی ٹرے پکڑ کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ چکی تھی۔ اس کا آج فاطمہ بیگم کا چہرہ دیکھ کر اپنا موڈ خراب کرنے کا دل نہیں تھا تبھی اس نے کھانا کمرے میں منگوا لیا تھا۔ "ماشاءاللّٰه ایسے ہی خوش رہا کرو۔۔" افرحہ نے مسکرا کر کہا تھا۔ "اچھا بھابھی مجھے بتائیں اگر کسی سے بدلہ لینا ہو تو کیا کرنا چاہیے۔۔" نورے نے کھانے کا نوالہ منہ میں ڈالتے پوچھا۔ "تم نے بالکل صحیح بندی سے مشورہ لیا ہے۔۔تمھارے بھائی کو بھی میں نے خوب تنگ کیا ہے۔۔وہ کیسے برداشت کر گئے یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔۔" وہ شاہزیب اور اپنی پرانی باتیں یاد کرکے ہنس پڑی تھی۔ "مجھے بھی دیں اچھے سے مشورے۔۔" اس نے اشتیاق سے پوچھا تھا۔اب تو شازل کی ناک میں ہر طرح سے دم کرکے رکھنے کی اس نے قسم کھا لی تھی۔ افرحہ اسے اچھے سے مشورے دے چکی تھی۔جسے اس نے غور سے سن لیا تھا۔کھانا کھانے کے بعد وہ سوگئی تھی۔ وہ گہری نیند میں تھی جب اسے ایسا لگا کوئی اس کے اوپر جھکا اس کا گلا دبا رہا ہے۔۔اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولی تھی۔جب اس کی نظریں سرد نیلی آنکھوں سے ٹکڑائی تھی۔ "تم نے میری گاڑی کی حالت خراب کرکے مجھے مجبور کر دیا ہے میں تمھارا کام تمام کردوں۔۔" اس کی بات سنتے نورے کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔۔ "چھوڑو مجھے۔۔" اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔جب وہ اچانک چیخ مارتی اپنے خواب سے اٹھ گئی تھی۔اپنے کمرے میں خود کو محفوظ پاکر اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔ "افف۔۔ وہ بس ایک خواب تھا نورے۔۔" وہ خود کو تسلی دیتی پانی پینے لگی تھی۔ "مجھے تو اب اس غنڈے کے خواب بھی آنے لگے ہیں یا الله میری حفاظت کرنا۔۔" وہ آسمان کی طرف دیکھتی بولی تھی۔اس کے کمرے میں لائٹ بلب چل رہا تھا کیونکہ مکمل اندھیرے سے اسے خوف محسوس ہوتا تھا۔ وہ دوبارہ خود کو تسلی دیتی سونے کے لیے لیٹ گئی تھی۔ جاری ہے۔۔
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD