Episode 2

3488 Words
#Professor Khan ? Zanoor Writes Episode 2 (Series 2 in Professor Shah Novel) یونیورسٹی سے گھر واپس آتے ہی اسے وحشت سی محسوس ہوئی تھی۔یہ گھر اسے کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا اگر شاہزیب اور افرحہ اس گھر میں نہ آتے تو یقینا اب تک اس نے کوئی بڑا قدم اٹھا چکے ہونا تھا۔ "نورے لنچ ریڈی ہے۔لنچ کرکے اپنے کمرے میں جانا۔۔" فاطمہ بیگم کی آواز سن کر اس نے سختی سے لب بھینچ لیے تھے۔ "مجھے بھوک نہیں لگی۔۔" وہ بولتی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی۔جب فاطمہ بیگم اس کے قریب آئیں تھیں۔ "تمھیں سنائی نہیں دیا میں نے کہا لنچ کرکے اوپر جانا۔۔تم دونوں بہن بھائیوں میری زندگی کا اعذاب ہو۔۔" فاطمہ بیگم کی بات سے وہ حیران نہ ہوئی تھیں یہ باتیں تو وہ بچپن سے سنتی آئیں تھیں۔ان کی باتوں کا زہر جو وہ سب سے چھپا کر اس کے معصوم دماغ میں بھرتی تھیں اب وہ اس کی رگوں میں سرایت کر گیا تھا۔ فاطمہ بیگم نے زور سے اس کا بازو دبوچ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔نورے نے سپاٹ نظروں سے انھیں دیکھا تھا جن کی انگلیاں اسے اپنے اندر دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ نورے نے جھٹکے سے ان سے اپنا بازو آزاد کروایا تھا۔ "میرا بھائی واپس آگیا ہے اگر اسے پتا چل گیا نہ آپ میرے ساتھ کیسا سلوک کرتی آئیں ہیں وہ آپ کا آپ کی اس حوس زادہ بہن سے بھی برا حشر کرے گا۔۔" نورے کے لہجے کی سختی اور غصے نے فاطمہ بیگم کو بری طرح حیران کردیا تھا۔وہ اس کی بات پر صدمہ میں ہی چلی گئی تھیں۔۔ "چٹاخ۔۔" فاطمہ بیگم کا ہاتھ بےساختہ اٹھا تھا اور نورے کے چہرے پر چھاپ چھوڑ گیا تھا۔نورے منہ پر ہاتھ رکھتی ساکت کھڑی تھی۔۔ "آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی نورے پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔؟" اپنے پیچھے سے شاہزیب کی آواز سن کر فاطمہ بیگم سٹپٹا گئی تھیں۔ "یہ کونسا پہلی بار ہوا ہے جو ان سے پوچھ رہے ہیں۔۔" فاطمہ بیگم کی نظروں سے نظریں ملاتی وہ تلخی سے بولتی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ "آپ کے شوہر سے تو میں بعد میں بات کروں گا لیکن دوبارہ میری بہن پر آپ نے ہاتھ اٹھانے کا سوچا بھی تو میں کوئی لحاظ نہیں رکھوں گا۔اپنے ہاتھوں اور زبان پر قابو رکھنا سیکھیں۔ورنہ ان چیزوں کو ناکارہ بنانا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔۔" وہ اپنے غصہ کو بمشکل کنٹرول کر رہا تھا۔دل تو کر رہا تھا مقابل عورت کا گلا دبا دے جو ناجانے کتنے عرصے سے اس کی بہن ہر ہاتھ اٹھاتی رہی تھی۔ "م۔۔میں۔۔ تم مجھ سے ایسے بات نہیں کرسکتے۔۔" وہ چیخ کر بولی تھیں۔ " اپنی آواز نیچی رکھیں میرے گھر میں کھڑے ہوکر مجھ سے اونچی آواز میں بات کرنے کی اجازت میں نے اپنی بیوی کو بھی نہیں دی آپ تو پھر اس کے مقابلہ میں میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔۔" شاہزیب کی سرد آواز پر وہ معاملہ بگڑتے دیکھ کر غصے میں بھری کمرے میں چلی گئی تھیں۔شاہزیب نورے سے بات نرنا چاہتا تھا مگر افرحہ کو یونیورسٹی سے پک کرنے کا ٹائم ہوگیا تھا۔اس لیے اسے مجبورا گھر سے جانا پڑا تھا۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ وہ افرحہ کو لینے کے لیے پارکنگ لاٹ میں کب سے ویٹ کر رہا تھا مگر وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔کچھ دیر بعد اسے میسج ملا تھا وہ اپنے سر سے اپنا فائنل پراجیکٹ کے بارے میں ڈسکس کر رہی ہے۔ شاہزیب گاڑی سے نکلتا اسے میسج کرکے پوچھ چکا تھا وہ اس وقت کہا موجود ہے۔۔مطلوبہ روم میں پہنچ کر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔اس کے قدموں کی آواز سن کر افرحہ اس کی جانب مڑتی ہلکا سا مسکرائی تھی۔ "بس پانچ منٹ ویٹ کر لیں۔۔" افرحہ نے شاہزیب کو کہا تھا جس پر وہ سر ہلاتا رحمان کو گھورنے لگا تھا جو مسلسل افرحہ کو گھور رہا تھا۔ اس نے ایک بار گلا کھنگارتے اسے وارن کرنا چاہا تھا جسے وہ گھور رہا ہے وہ اس کی بیوی یے مگر اس کی نظروں کا مطلب وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا آخر خود بھی تو مرد تھا اور مرد کی فطرت سے اس سے زیادہ کون واقف ہوسکتا تھا۔ اپنے غصے پر قابو نہ رکھ پانے پر وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اس کے سر پر جا پہنچا تھا۔ "تمھیں میں نے وارن کیا تھا میری بیوی سے دور رہو۔۔" شاہزیب نے رحمان کے مکہ مارتے ہوئے کہا تھا جو بظاہر تو افرحہ سے بات کر رہا تھا مگر اسے گہری نظروں سے بھی دیکھ رہا تھا۔جو افرحہ کو بھی محسوس ہو رہا تھا مگر وہ نظر انداز کر رہی تھی۔ "شاہزیب چھوڑیں کیا کر رہے ہیں۔۔" افرحہ نے آنکھیں پھیلاتے شاہزیب کو تھامنا چاہا تھا جو بھپرے شیر کی مانند رحمان پر جھپٹا ہوا تھا۔ "آج میں اس کی آنکھیں نکال دوں گا۔جس سے تمھیں یہ بار بار گھور رہا تھا۔۔" وہ غراتے ہوئے بولا تھا۔رحمان اس سے اپنا گریبان چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا جب شاہزیب نے ایک مکہ اور اس کے مارا تھا۔ "چھوڑو مجھے۔۔" رحمان نے بھی شاہزیب کو مکہ مارنا چاہا تھا جو اچانک افرحہ کے آگے آنے سے پوری شدت سے اس کی کمر میں بج گیا تھا اور بس یہاں ہی شاہزیب کا تھوڑا بہت کنٹرول بھی ختم ہوگیا تھا۔ "آہ۔۔" افرحہ کے منہ سے ایک درد بھری سسکی نکلی تھی۔شاہزیب نے اسے پیچھے ہٹاتے رحمان کے مکے مارنا شروع کیے تھے۔افرحہ نے اسے کئی بار روکنے کی کوشش کی تھی مگر شاہزیب کے سر پر تو جنون سوار تھا وہ تو کبھی خود بھی اسے تکلیف نہ دیتا تھا تو اسے کہا منظور تھا کہ کوئی اس کی بیوی کو مارے۔۔ شور سنتے کافی لوگ اکٹھے ہوگئے تھے۔بڑی مشکل سے سٹوڈنٹس نے شاہزیب کو رحمان سے دور کیا تھا جس کی حالت ابتر تھی۔ شاہزیب کے خود بھی ہاتھ زخمی ہوچکے تھے۔وہ سب سے خود کو چھڑواتا افرحہ کو نرمی سے تھام کر وہاں سے نکل گیا تھا۔ "آئی ایم سوری۔۔ میری وجہ سے تمھیں چوٹ لگی ہے۔۔" شاہزیب نے پارکنگ لاٹ میں رکتے نرمی سے اس کا چہرہ تھاما تھا۔ "میں ٹھیک ہوں شاہزیب پلیز چلیں یہاں سے۔۔" وہ شاہزیب کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاتی اس کے گرم خون کو پل میں ٹھنڈا کر گئی تھی۔ شاہزیب نے گاڑی کھولتے اسے اندر بیٹھاتے اس پر جھکتے اس کی سیٹ بیلٹ باندھتے اس کے گال پر شدت سے بوسہ لیا تھا۔افرحہ نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔جو اب بالکل ایسا ہو گیا تھا جیسے کچھ منٹ ہہلے وہ ایک شخص کا حشر بگاڑ کر نہ آیا ہو۔۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ نورے نے شیشے میں اپنا چہرہ دیکھا تھا جہاں اس کے گال پر ہلکی ہلکی انگلیوں کے نشان تھے۔ اس نے فاونڈیشن نکالتے اچھے سے اپنے چہرے کو میک اپ سے کور سے کر لیا تھا۔ آج اس کا صبح صبح ہی نوڈ خراب تھا ساری رات وہ ویسے بھی سو نہیں پائی تھی اور اب نیند سے آنکھیں سرخ اور سر بھاری تھا۔ وہ بنا ناشتہ کیے ہی یونیورسٹی کے لیے نکل گئی تھی۔شاہزیب نے اسے کافی آوازیں دی تھیں مگر وہ روکی نہیں تھی۔یونیورسٹی پہنچ کر وہ سب سے پہلے چائے پینے کیفے میں چلی آئی تھی۔صبح کا وقت تھا تو کیفے بھی خالی پڑا تھا۔بس ایک دو ٹیبلز پر سٹوڈنٹس بیٹھے ہوئے تھے۔ چائے لیتی وہ واپس مڑتی گراونڈ کی بیک سائیڈ پر موجود خالی جگہ پر چلی گئی تھی۔یہاں کافی درخت لگے ہوئے تھے۔وہ ایک درخت سے ٹیک لگا کر صبح کی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ چائے سے محظوظ ہونے لگی تھی۔ "یہ چئیر پرسن کب واپس آئے گا۔۔؟ مجھ سے مزید انتظار نہیں ہو رہا۔۔" درختوں کے پیچھے سے نورے کو کسی کی بھاری آواز سنائی دی تھی۔اس نے سر جھٹک کر اپنا رخ پھیر لیا تھا۔ "ہاں وہ شازل خان یہاں پہنچ چکا ہے۔۔" شازل کا نام سنتے ہی اس کے کان کھڑے ہوگئے تھے۔ "اگر مجھ سے پہلے شازل کے ہاتھ چئیر پرسن لگ گیا تو ہم بہت بری طرح پھنسیں گے۔۔" مقابل کی آواز میں ڈر تھا نورے نے بالکل خاموشی سے درخت کے پیچھے سے سر نکال کر اس شخص کو دیکھا تھا۔وہ اسے یونیورسٹی کا نہیں لگ رہا تھا۔ "تم فکر مت کرو اس شازل خان کو ہم اسی کے کھیل میں گھما دیں گے۔۔ہاں اب میں معلوم کرتا ہوں یہ بھگوڑا کب تک آئے گا تاکہ اس کا کام تمام کرسکیں۔۔" وہ بات ختم کرتا کال کاٹ گیا تھا۔نورے نے اپنا سانس روک لیا تھا۔اس آدمی کے جانے کے بعد تیزی سے وہ اپنی چیزیں اٹھاتی کلاس میں بڑھ گئی تھی۔اسے فرق نہیں پڑتا تھا کون کیا کرنے والا ہے اور کیا کرے گا۔۔ شازل کی کلاس کے بارے میں سوچتے ہی اس کا موڈ مزید خراب ہوا تھا۔ "یااللہ مجھے صبر دے۔۔" لاسٹ پر بیٹھتے اس نے اوپر کء طرف دیکھتے کہا تھا۔شازل معمول کے مطابق چہرے پر سخت تاثرات لیے کلاس میں داخل ہوا تھا اس کی موجودگی سے ساری کلاس میں سناٹا چھ گیا تھا۔نورے کی بےعزتی کے بعد کوئی بھی شازل سے بےعزتی نہیں کروانا چاہتا تھا۔ شازل نے ساری کلاس پر ایک سرسری نظر ڈالی تھی۔اس کی نظریں بےساختہ سکن سوٹ پہنے نورے پر گئی تھیں۔جسے وہ فورا اپنی نظریں ہٹا گیا تھا۔ سارا لیکچر سکون سے گزر گیا تھا۔جس پر بچے سکون کا سانس لیتے لیکچر فری ہوتے ہی نکل گئے تھے۔ "تم رک جاو مجھے تم سے کل کے بارے میں بات کرنی ہے۔۔" اس نے نورے کو روک لیا تھا۔نورے ضبط کرتی رک گئی تھی ورنہ کلاس سے جان خلاصی کے بعد وہ یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔ براون شلوار قمیض کے ساتھ واسکٹ پہنے اپنے کرتے کے کف فولڈ کیے شازل خان اپنی خوبصورتی کے ساتھ انتہائی خوبصورت لگ رہا تھا۔اس کے چہرے کے تنے ہوئے تاثرات دیکھ کر نور ایک پل کو گھبرا گئی تھی۔ "جی پروفیسر؟" اس نے لب بھینچ کر ائبرو اچکاتے پوچھا تھا۔ "تم جو کل کلاس کے دوران باہر چلی گئی تھی مجھے یہ سب بالکل نہیں پسند آئیندہ خیال رکھنا۔۔ورنہ سب کے سامنے بول کر عزت کرنا مجھے پسند نہیں۔۔" اس کی بات پر نورے نے زور سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔شازل کی نظر بےساختہ اس کی گال کی طرف اٹھی تھیں۔اس کی تیز نظروں سے نورے کے گال پر پڑا نشان فاونڈیشن کی وجہ سے بھی چھپ نہیں سکا تھا۔ "اوکے پروفیسر۔۔اگر آپ کی اجازت ہو تو جاوں ؟؟" اس نے دانت کچکچا کر پوچھا تھا۔شازل نے اس کے لہجے کو اگنور کرتے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا کہا تھا۔نورے ضبط کرتی تیزی سے وہاں سے نکل گئی تھی۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ "مِلی مجھے سوپ بنا دو۔۔" وہ ٹی وی لاونچ میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب اس نے بھوک کے احساس سے ملی کو آواز دی تھی۔ "اوکے میم۔۔" ملی نے جواب دیا تھا۔ روحان نے اس کی نرم آواز سن کر ایک دم اس کی طرف دیکھا تھا۔دانین نے بھی عین اسی وقت اس کی طرف دیکھا تھا۔ روحان اس کی گرے آنکھوں میں دیکھنے کے بعد ایک پل کے لیے بھی اپنی نظریں نہیں ہٹا سکا تھا۔دانین کے گھبرا کر نظریں پھیر لینے اس نے بھی اپنی نظریں اس کے چہرے سے ہٹا لی تھیں مگر ساری توجہ اس موم کی گڑیا کہ طرف ہی تھی جو انگلیوں پر کچھ گنتی گن گن کر سانس لے رہی تھی۔ اپنا سانس نارمل کرتی وہ فورا اٹھ کر اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔روحان کی نظروں نے اس کا دور تک پیچھا کیا تھا۔ ایک مہینہ گزر چکا تھا۔روحان کو یہاں ڈیوٹی دیتے ہوئے اور اس دوران اس نے ہر فرصت بھرے لمحے میں صرف و صرف ایک ہستی کے بارے میں سوچا تھا اور وہ تھی دانین۔۔ دانین ناشتہ کرتی کن اکھیوں سے روحان کو دیکھ رہی تھی وہ ایک مہینے سے اس کے ساتھ تھا شروع شروع میں جب بھی سہ روحان کی نظریں خود پر محسوس کرتی تو اس کا دل کرتا خود کو نوچ لے۔۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسے احساس ہوا تھا وہ اس کو گندی نظروں سے نہیں دیکھتا تھا۔کئی بار اس کی نظریں روحان کی نظروں سے ملیں تھیں جن میں عزت و احترام کے علاوہ اسے کوئی گنگی یا غلاظت نظر نہیں آئی تھی۔ اپنا ناشتہ کرتی وہ اٹھ کر بالکل روحان کے سامنے اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوگئی تھی۔روحان اپنے سینے پر بازو باندھے بلیک تھری پیس سوٹ میں بالکل ساکت کھڑا تھا۔وہ دانین کی نظریں خود پر محسوس کرتا بھی خاموش کھڑا رہا تھا۔اس کا دل کر رہا تھا نظر اٹھا کر اس گڑیا کو دیکھ لے لیکن اپنے دل کو سمجھاتے وہ نظریں سیدھی کر گیا تھا۔ "میری طرف دیکھو۔۔" دانین کانپتی مگر مضبوط آواز میں بولی تھی۔ اور ایسا ہوسکتا تھا دانین روحان کو کچھ کہتی اور وہ پلک جھپکنے سے پہلے نہ کر گزرتا۔۔ اس نے آنکھیں دانین کی طرف کی تھیں۔روحان کی نظریں اپنے چہرے پر محسوس کرتے اس کا تنفس بگڑا تھا۔ وہ اپنی نظریں روحان سے ہٹاتی لڑکھڑاتی ہوئی پیچھے ہٹی تھی۔روحان نے اسے بازو سے پکڑ کر گرنے سے بچایا تھا۔اس کا لمس محسوس کرتے دانین کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔اس نے زور سے اپنے ناخن روحان کے ہاتھ پر مارے تھے۔ روحان نے فورا اپنا ہاتھ اس کے بازو سے ہٹا لیا تھا۔دانین اپنے سینے پر ہاتھ رکھتی سیڑھیاں پھلانگتی تیزی سے اوپر جاکر اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔ شام تک وہ اپنے کمرے میں ہی بند رہی تھی تب تک روحان پریشان رہا تھا مگر اس کے ساتھ ملی تھی جسے سوچ کر اس نے خود کو قابو کیا تھا۔ دانین کے تیز ناخن اس کے ہاتھ کی جلد کو پھاڑ گئے تھے۔اسے ہلکی سی جلن ہوئی تھی۔جسے وہ اگنور کر گیا تھا۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ " تمھیں فرصت مل گئی آج مجھ سے ملنے کی ؟" حیدر سلطان نے اسے دیکھتے کہا تھا۔وہ کافی دنوں بعد آج اس سے ملنے آیا تھا۔شازل خان اس کا بچپن کا دوست تھا۔ "مجھے تمھاری کوئی فضول بکواس نہیں سننی تمھیں جن گنز کا کہا تھا وہ کب تک آئیں گی ؟" شازل نے سگریٹ کی ڈبی اس کے ٹیبل سے اٹھاتے اپنی پاس موجود لیٹر سے سلگائی تھی۔ "کچھ ٹائم لگے گا۔۔تم اتنے بےصبرے کیوں ہوں ؟ ان گنز کا آخر تم نے کرنا کیا ہے ؟" حیدر سلطان نے تجسس سے پوچھا تھا۔ "اپنے کام سے کام رکھو حیدر مجھے اپنے کلائنٹ کی طرح ڈیل کرو دوست ہم اس آفس کی چار دیواری کے باہر ہیں۔" شازل کا سرد لہجہ سن کر حیدر نے ہاتھ اوپر اٹھائے تھے۔ "مسٹر شازل خان آپ کے باپ کا صبح مجھے فون آیا تھا اور آپ کی نئے کارنامے کے بارے میں بتایا تھا میں اس کے بارے میں آپ سے ڈسکس کرنا چاہتا ہوں مہربانی کرکے میرے سامنے موجوس کرسی پر براجمان ہوجائیں۔۔" وہ اپنی ٹائی ٹھیک کرتا پروفیشنل انداز میں بولا تھا۔شازل نے اپنا سر جھٹکا تھا۔ "ابھی مجھے ضروری کام ہے بعد میں ملتے ہیں میری گنز کو جلدی ڈیلیور کرواو۔۔" شازل اپنے موبائل پر میسج دیکھتا تیزی سے نکل گیا تھا۔حءدر سلطان کی متجسس نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔ "کیا چھپا رہے ہو تم مجھ سے شازل خان۔۔؟" وہ منہ میں بڑبڑاتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔یہ معمہ بھی وہ جلدی حل کرنے کے بارے میں سوچتا اپنے کاموں میں جٹ گیا تھا۔ حیدر سلطان ایلیگل گنز خریدتا اور بیچتا رہتا تھا تبھی شازل نے اس سے رابطہ کیا تھا۔وہ اس کا بچپن کا دوست تھا اسی وجہ سے وہ اس پر اعتماد کرتا تھا۔ Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ نورے کو زبردستی افرحہ اپنے ساتھ شاپنگ پر لے کر آئی تھی۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی آگئی تھی۔ورنہ سر درد کی وجہ سے وہ بس سونا چاہتی تھی مگر افرحہ کے پیار سے بولنے پر وہ اس کے ساتھ آگئی تھی۔شاہزیب ضروری میٹنگ کی وجہ سے آفس تھا اس لیے وہ دونوں ڈرائیور کے ساتھ شاپنگ کرنے آئی تھیں۔ افرحہ نے اسے شاپنگ کرتے ہوئے بری طرح گھما دیا کبھی ادھر تو کبھی ادھر۔۔اس کا سر چکرانے لگا تھا۔ وہ افرحہ سے ایکسکیوز کرتی واشروم کی جانب بڑھ گئی تھی جب اندر سے آتی آوازوں نے اس کے قدم ساکت کردیے تھے۔جانی پہچانی آواز سن کر اس نے دھیرے سے دروازہ کھولا تھا۔ "جلدی سے مجھے اس شخص کا نام بتا دو۔۔مجھ میں صبر بالکل نہیں ہے تمھیں ایک منٹ میں اوپر کی سیر کروا دوں گا۔۔" شازل کی غصے سے بھری سرد آواز سن کر نورے کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہوئی تھی۔شاید وہ غصے میں دروازہ کھولنے کی آواز بھی نہیں سن پایا تھا۔ "ہاہاہا جو مرضی کرلو وہ تمھیں کبھی نہیں مل پائے گا۔۔تم جیسے ہزاروں کتے اس کے پیچھے ہیں مگر وہ شیر ہے اور شیر کا شکار کتے نہیں کرسکتے۔۔" اس آدمی کی باتوں نے اس کے خون کو گرما دیا تھا۔غصے سے اس کی رگیں پھول گئی تھیں۔ اپنی واسکٹ سے گن نکالتے اس نے مقابل کے زخمی چہرے کو دبوچ کر اس کے منہ کے اندر گھسا دی تھی۔ "پاگل سنکی انسان ہر بات پر گن نکال لیتا ہے غنڈا کہیں کا۔۔" نورے من میں بڑبڑائی تھی۔وہ پہلا ایسا غیر مرد تھا جسے دیکھ کر نورے کو اپنے جسم پر سوئیاں رینگتی ہوئی محسوس نہ لوئی تھیں۔ "وہ شیر نہیں گیدڑ ہے اور اس کا پالتو کتا تو ہے۔۔میں شیر ہوں اور اس کا شکار تمھارے بنا بھی کرسکتا ہوں۔۔" ایک زوردار مکہ اس کے پیٹ میں مارتے شازل نے غصے سے غرا کر کہا تھا۔ "آہ۔۔۔" نورے نے شازل کی حرکت کو دیکھتے بےساختہ چیخ مار دی تھی۔شازل کی سرخ آنکھیں بے اختیار نورے کی جانب اٹھ گئی تھیں۔۔نورے کی آنکھوں میں اپنی سرد آنکھیں گاڑھتے اس نے زور سے گن اس زخمی آدمی کے مار کر اسے بےہوش کردیا تھا۔ نورے تو جسے پتھر کی مورت بن گئی تھی۔شازل کی سرد آنکھوں نے جیسے اسے ساکت کردیا تھا۔شازل نے اپنا فون نکالتے بنا نورے سے نظریں ہٹائے کسی کو کال ملائی تھی۔ "اس آدمی کو یہاں سے لے جاو۔۔" وہ سرد لہجے میں بولا تھا۔نظریں ابھی بھی نورے پر تھیں۔جو شازل کو اپنی طرف قدم بڑھاتے دیکھ کر پیچھے قدم اٹھانے لگی تھی۔ نورے کی نظر بےساختہ شازل کے ہاتھ میں پکڑی گن کی طرف گئی تھی۔اس کے سفید ہاتھوں پر خون کے دھبے صاف نظر آرہے تھے۔نورے کا سانس خشک ہوا تھا۔ شازل کے قریب آنے پر ایک کانپتی سانس اس کے منہ سے نکلی تھی۔وہ پیچھے ہٹتی دیوار سے جالگی تھی۔شازل نے اپنا ہاتھ نورے کے بائیں جانب دیوار پر ٹکاتے گن اس کے چہرے کے آگے کی تھی۔ "پ۔۔پیچھے ہٹیں۔۔" وہ گن دیکھ کر آنکھیں زور سے میچ کر بولی تھی۔شازل نے گن سے اس کے دوپٹے سے نکل کر چہرے پر لہراتی آوارہ لٹوں کو دور کیا تھا۔وہ کانپتی ہوئی اس کے سامنے معصوم چڑیا لگ رہی تھی۔ "میں جہاں جاتا ہوں وہاں ہرجگہ تمھارا موجود ہونا ضروری ہے ؟" اس نے گن کی نال اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھتے اس کا چہرہ اٹھایا تھا۔نورے نے دھیرے سے نظریں اٹھاتے اس کی سرد آنکھوں میں دیکھا تھا۔جس میں انتہا کی کشش تھی۔وہ چاہ کر بھی اس کی نظروں کا سامنا نہ کرسکی تبھی فورا اپنی نظروں کا زاویہ پھیر گئی تھی۔ "اور آپ کا پاگلوں کی طرح ہر جگہ گن نکال کر لوگوں کو مارنا مجھے آپ کا پسندیدہ مشغلہ لگتا ہے۔۔" وہ اپنے لبوں کو کاٹتی اکھڑے لہجے میں بولی تھی۔شازل جو اسے سکون سے سمجھانا چاہتا تھا اس کے لہجے نے اس کو غصہ دلا دیا تھا اور غصے تو ہمیشہ ہی اس کی ناک پر بیٹھا ہوتا تھا۔ "شٹ اپ۔۔یہ گن دیکھ رہی ہو ابھی کہ ابھی اس کی ساری گولیاں تمھارے اندر اتار بھی دوں تو کسی کو خبر نہیں ہوگی۔۔پتا ہے کیوں؟۔۔" اس نے گن کی نال اس کے گال میں ہلکے سے دھنساتے سرد لہجے میں پوچھا۔نورے کا دل ایک دم رک کر پھر دھڑکا تھا۔ "کیونکہ شازل خان جو کام کرتا ہے اس کی خبر کسی ذی روح کو بھی نہیں ہوتی۔۔لوگ مجھے کلینر کہتے ہیں کیونکہ میں ہر کام بہت صفائی سے کرتا ہوں۔۔" وہ اس پر جھکا غصے سے پھولی رگوں کے ساتھ بولا تھا۔اس کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتی نورے تھوڑا سا جھک گئی تھی۔ "اوہ مجھے نہیں پتا تھا آپ چپڑاسی ہیں۔۔" وہ اس کی کلینر والی بات پر اپنا ڈر چھپاتی طنزیہ بولی تھی۔شازل نے چھوٹی آنکھیں کرکے غصے سے اسے گھورا تھا جو اس سے ڈرنے کی بجائے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھور رہی تھی۔ اور نورے پہلی لڑکی تھی جس نے شازل کے غصے کا سامنا تحمل مزاجی سے کیا تھا۔ "تمھیں تو میں دیکھ لوں گا۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔اور خبر دار کسی کو کچھ بھی بتانے کی کوشش کی تمھیں دنیا سے ایسے غائب کرواوں گا تمھارا نام و نشان بھی کسی کو نہیں ملے گا۔۔" وہ اپنا فون وائیبریٹ ہوتا محسوس کرکے جس قدر سخت لہجے میں بولا تھا۔نورے کو ناجانے پھر بھی اس سے ڈر نہیں لگا تھا۔ اور شازل خان وہ پہلا غیر مرد تھا جس کے سامنے نورے تن کر کھڑی ہوئی تھی۔ ناجانے ایسی کیا بات تھی جو وہ اس سے ڈرنے کے باوجود بھی اسے جواب دینے سے خود کو روک نہ پاتی تھی۔ شازل خان پیچھے ہٹتا اس سے دور ہوتا کال پک کرچکا تھا۔نورے اپنی جان خلاصی ہونے پر تیزی سے وہاں سے نکل گئی تھی۔ جاری ہے۔ ?
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD