bc

villian

book_age18+
0
FOLLOW
1K
READ
dark
arrogant
gangster
campus
another world
like
intro-logo
Blurb

villains are not bad they r just broken Angels

A villain isn’t born in fire. He’s made in silence.

He’s the boy who knocked on every door and no one opened. The one who prayed and the sky stayed quiet. The one who loved, and was left behind in the cold.

So he stopped asking. He stopped bleeding. He let the hurt harden into bone and called it strength.

Villains are not the opposite of heroes. They are the shadows heroes create by standing in the light.

They remember every small humiliation, every "you’re not enough," every time the world chose someone else. And one day, that memory becomes a vow.

The most dangerous part? He doesn’t think he’s evil.

He thinks he’s the only one keeping accounts. The only one who remembers. The only one who will make it right, even if it means burning the whole world down to do it.

Because when mercy never came for him, he decided it would never come from him either.

chap-preview
Free preview
زخم
1 Villian ⁱˢ ᵗʸᵖⁱⁿᵍ····˚🚩 *"پوری دنیا" تمہیں ایک عام انسان کی طرح دیکھتی ہے* *اور میں تمہیں پہلے دو لفظوں کی طرح ۔۔۔۔۔ 💔🥹 *ولن صرف برا نہیں ہوتا، وہ ٹوٹا ہوا آئینہ ہوتا ہے* — جس میں ہر کوئی اپنا خوف دیکھتا ہے، مگر کوئی اس کی دراڑیں نہیں گنتا۔ . *ہر کہانی کو ہیرو نہیں، ولن زندہ رکھتا ہے* — روشنی کی قیمت تب سمجھ آتی ہے جب اندھیرا بولتا ہے۔ *ولن پیدا نہیں ہوتا، بنایا جاتا ہے* — کسی کی بے وفائی، کسی کے طعنے، اور زمانے کی ٹھوکریں مل کر ایک عام انسان کو ولن کا لباس پہنا دیتی ہیں۔ . *سب سے خطرناک ولن وہ ہے جو مسکرا کر وار کرے* — جس کے لفظ شہد میں ڈوبے ہوں اور نیت زہر میں۔ *۔ . *ولن کی آنکھ میں بھی کبھی آنسو تھے* — فرق صرف اتنا ہے کہ دنیا نے اسے رونے نہیں دیا، اور وہ پتھر ہو گیا۔ . *ہیرو تالیاں سمیٹتا ہے، ولن کہانی سمیٹتا ہے* — انجام پر سب ہیرو کو یاد رکھتے ہیں، مگر موڑ سب ولن کی وجہ سے آتے ہیں۔ . . *ولن کا انتقام آگ ہوتا ہے* — جو پہلے اسے جلاتا ہے، پھر دنیا کو۔ 🤌🫀 دوپہر کا ایک بجا تھا۔ گورنمنٹ کالج کہروڑ کمرے نمبر 12-B میں چھت کے پنکھے ایسے گھوم رہے تھے جیسے خود بھی گرمی سے اکتا گئے ہوں۔طلباء، سفید یونیفارم میں ملبوس، لکڑی کے پرانے ڈیسکوں پر ایسے ڈھے ہوئے تھے جیسے صدیوں سے سوئے ہوں۔ *سامنے بلیک بورڈ پر پروفیسر عرفان صاحب کا چاک چرچرا رہا تھا۔ "دو درجی مساواتیں۔۔۔" ان کی آواز کلاس کی اجتماعی اونگھ کے سامنے ہار مانتی جا رہی تھی۔* *کھڑکی کے پار کالج کا صحن دھوپ میں نہایا ہوا تھا۔ اتنا سفید کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ باہر کی بالکنی، جہاں عموماً لڑکے پیریڈ کے بیچ سگریٹ کے کش لگاتے یا کاپیوں پر شعر لکھتے، آج عجیب طور پر ویران تھی۔* *پھر۔۔ ایک آواز آئی۔* *چیخ نہیں تھی۔ ایک ایسی کچی، کرخت آواز جو راہداری کی دیواروں سے ٹکرا کر سیدھی دل میں اتر گئی۔ اس ایک لمحے میں گرمی کا سارا احساس مر گیا۔* *چٹاخ!* *عرفان صاحب کے ہاتھ میں چاک دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک ہی لمحے میں بیالیس گردنیں دروازے کی طرف گھومیں۔* *انہوں نے ٹوٹا ہوا چاک فرش پر پھینکا اور لڑکھڑاتی آواز میں بولے، "سب اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔" مگر یہ حکم دینے والے خود سب سے پہلے دروازے کی طرف لپکے۔ ان کے پیچھے سفید یونیفارم کا ایک ریلا سا بہہ نکلا۔* * اساتذہ کا ایک ہجوم بالکنی کا راستہ روکے کھڑا تھا۔ کندھوں کے بیچ سے جو منظر دکھائی دیا، اس نے سانس روک دی۔* *فرش پر ایک لڑکی اوندھی پڑی تھی۔ نیوی بلو شلوار، سفید دوپٹہ جو گردن کے گرد بری طرح بل کھایا ہوا تھا۔ اس کے پاس ہیڈ گرل گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی۔ اس کی مٹھی میں ایک کاغذ دبا تھا، *دور سے ایمبولینس کا سائرن سنائی دیا۔ *پرنسپل صاحب ہجوم چیرتے ہوئے آگے بڑھے۔ وہ شخص جس کی ایک گھوری سے پوری اسمبلی سہم جاتی تھی، آج اچانک دس سال بوڑھا لگ رہا تھا۔ انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے ہیڈ گرل کی مٹھی سے وہ کاغذ چھینا۔* *ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ پھر انہوں نے پڑھنا شروع کیا۔ آواز جیسے کسی کنویں سے آ رہی ہو:* *"میرے سکول کے نام کے نام۔۔۔ تم نے مجھے ڈوبتے دیکھا اور اسے تیراکی کا نام دیا۔ تم ہنسے تھے جب میں اندر سے ٹوٹ رہی تھی۔ تم سب مجرم ہو۔ *کاغذ ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر ہوا میں لہراتا ہوا نیچے گر گیا۔* *کوئی ہل نہیں رہا تھا۔ کسی کے سینے میں سانس نہیں تھی۔ *کھڑکی سے باہر کہروڑ شہر بے رحم دھوپ میں جل رہا تھا۔ بے خبر۔ بے حس۔* *کلاس تو ختم ہو چکی تھی۔* *مگر اصل سبق اب شروع ہوا تھا۔* --- *سائرن کی آواز اب کالج کے گیٹ پر آ کر رک چکی تھی۔ ایمبولینس کے ساتھ دو پولیس موبائلیں بھی تھیں۔ نیلی بتی گھوم رہی تھی اور جولائی کی دھوپ میں بھی سب کے جسم پر کپکپی طاری کر رہی تھی۔* *ایس ایچ او وقار صاحب خود جیپ سے اترے۔ قد چھ فٹ، مونچھیں تلوار جیسی۔ آنکھوں میں وہ تیزی جو مجرم کی روح تک پڑھ لے۔ ان کے پیچھے چار سپاہی اور ایک لیڈی کانسٹیبل۔* *پرنسپل صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے وہ خط ایس ایچ او کی طرف بڑھایا۔ "جناب۔۔۔ یہ۔۔ یہ اس بچی کے پاس سے ملا ہے۔"* وقار نے خط ایک نظر پڑھا۔ اس کے چہرے کا ایک بال بھی نہ ہلا۔ اس نے گردن اٹھا کر کمرہ 12-B کے لڑکوں پر نظر ڈالی۔ بیالیس جوڑے آنکھیں۔ کچھ میں خوف، کچھ میں آنسو، کچھ میں خالی پن۔* *"پوری کلاس، میرے ساتھ تھانے چلو۔" اس کی آواز کوڑے کی طرح برسی۔ "ابھی۔"* *بھگدڑ مچ گئی۔ لڑکے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ یامور یلدرم کی ہچکی بندھ گئی۔ *تھانے کے برآمدے میں سب کو دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا۔ پسینہ، خوف اور گرمی سے سب کی سفید یونیفارم جسم سے چپک چکی تھی۔* *تفتیش شروع ہوئی۔ ایک ایک کر کے۔* *دو گھنٹے گزر گئے۔ ایک ایک لفظ نوچا گیا۔ کون ہنستا تھا؟ کس نے تنگ کیا؟ آخری بار کب بات کی؟* *آخر میں ایس ایچ او وقار نے رجسٹر بند کیا۔ سپاہیوں کو اشارہ کیا۔* *"ان سب کو جانے دو۔"* *کلاس نے بے یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ جان کی امان ملی تھی۔ لڑکے دوڑ کر گیٹ کی طرف لپکے جیسے قید سے رہائی ملی ہو۔* *برآمدہ خالی ہو گیا۔ صرف دو لوگ رہ گئے۔*ایک کونے میں *الاز یلدرم* کھڑا تھا۔ لمبا، گورا سیاہ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے۔ آنکھیں جھکی ہوئیں، مگر جبڑا سخت۔ سفید یونیفارم پر سیاہی کا ایک دھبہ، جیسے کسی نے جان بوجھ کر لگایا ہو۔ وہ شروع سے آخر تک ایک لفظ نہیں بولا تھا۔* *دوسرے کونے میں *یامور بلت*۔ آنکھیں خشک۔ وہ دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ نہ خوف، نہ آنسو۔ بس ایک ایسی خاموشی جو شور سے زیادہ ڈراؤنی تھی۔* *ایس ایچ او وقار ان دونوں کے بیچ آ کر کھڑا ہوا۔ اس نے جیب سے ایک چھوٹا سا ثبوت کا لفافہ نکالا۔ اس میں ایک ٹوٹا ہوا لاکٹ تھا۔ آدھا۔* *"یہ لاکٹ اس لڑکی کے ہاتھ میں تھا،" وقار کی آواز دھیمی تھی۔ "اور اس لاکٹ کا دوسرا حصہ۔۔" اس نے نظریں اٹھا کر پہلے الاز کو دیکھا، پھر یامور کو۔* *الاز نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ ایک زنجیر نکالی۔ اس کے ساتھ لاکٹ کا ٹوٹا ہوا دوسرا ٹکڑا لٹک رہا تھا۔* *یامور نے بھی گردن سے ہاتھ ہٹایا۔ اس کے گلے میں بھی ویسی ہی زنجیر تھی۔ مگر لاکٹ کی جگہ خالی تھی۔ ٹوٹے ہوئے کنارے اب بھی تازہ تھے۔* *کمرے میں سناٹا چھا گیا۔* *"الاز یلدرم اور یامور بلت۔۔۔" وقار نے دونوں کے نام لیے۔ "تم دونوں میرے ساتھ گاڑی میں چلو گے۔ باقی تفتیش تھانے میں ہو گی۔"* *دونوں خاموشی سے پولیس جیپ کی طرف بڑھ گئے۔* * پوری کلاس انہیں جاتا دیکھ رہی تھی۔ اور سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اصل مجرم کون ہے۔۔۔ اور اصل کہانی کیا ہے۔* *جیپ کا دروازہ بند ہوا۔ انجن سٹارٹ ہوا۔* *اور کہروڑ کی سڑکوں پر دھول اڑاتی ہوئی غائب ہو گئی۔* *پولیس جیپ کی پچھلی سیٹ پر انجن کی آواز کے سوا سناٹا تھا۔* *ایس ایچ او وقار نے ریئر ویو مرر سے گھورا۔ "نام؟"* *"الاز یلدرم،" آواز میں چنگاری تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، مگر مٹھیاں بھینچی ہوئی تھیں۔ "اور میں نے کہا تھا، مجھے ملزموں کی طرح مت گھسیٹو۔"* *پورا یلدرم۔ بجلی کڑکی تھی اس کے لہجے میں۔* *ساتھ بیٹھی یامور نے گہری سانس لی۔ اس کا دوپٹہ شکنوں سے بھرا تھا، آنکھیں سرخ۔ "وہ میری جونیئر تھی، انسپکٹر۔۔ اور یہ،" اس نے الاز کی طرف دیکھے بغیر کہا، "یہ اس دن اس ساتھ لڑا تھا *الاز ایک جھٹکے سے مڑا۔ آنکھوں میں شعلے بھڑک اٹھے۔ اس نے دانت پیسے، "تمہیں کیا لگتا ہے میں قاتل ہوں؟"* *"نہیں،" یامور نے بھی نظریں ملائیں۔ پہلی بار وہ ڈری نہیں۔ "تم قاتل نہیں ہو الاز۔ تم وہ ہو جو غصے میں سب جلا دیتا ہے، پھر خود راکھ پر بیٹھ کر روتا ہے۔"* *جیپ میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ باہر کہروڑ کی دھوپ تیز تھی، اندر دو طوفان آمنے سامنے تھے۔* *وقار مسکرایا"۔ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہو؟"* *الاز نے منہ پھیر لیا۔ "ہم دشمن ہیں۔ بس۔"* *یامور کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ آئی۔ "ہاں۔ دشمن۔ جو ایک دوسرے کے بغیر سانس نہیں لے سکتے۔"* *الاز کی گردن کی رگیں تن گئیں۔ اس نے جیب سے آدھا ٹوٹا ہوا لاکٹ نکال کر ڈیش بورڈ پر پٹخ دیا۔* *"یہ لو۔ اب بولو۔ اور ہاں۔ وہ لڑکی گری نہیں تھی۔ اسے گرایا گیا تھا۔ اور میں پتا لگا کر رہوں گا کس نے کیا ہے *جیپ کہروڑ کی سنسان سڑک پر بھاگ رہی تھی۔ تھانے کا راستہ یہ نہیں تھا۔* *الاز یلدرم نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ "یہ ہم کہاں جا رہے ہیں انسپکٹر؟" اس کی آواز میں شعلہ تھا۔* *وقار نے جواب نہیں دیا۔ بس ریئر ویو مرر سے مسکرایا۔ عجیب سی مسکراہٹ۔* *ساتھ بیٹھی یامور کو بھی کچھ گڑبڑ لگی۔ "گاڑی روکو،" وہ چلائی۔* *اچانک۔۔ ٹائر چرچرائے۔ جیپ ایک جھٹکے سے رکی۔ مگر وقار نے بریک نہیں لگائی تھی۔* *سامنے سڑک کے بیچوں بیچ ایک کالا دھواں پھیل رہا تھا۔ گاڑھا، عجیب سا۔ جیسے کسی نے دھواں بم پھوڑ دیا ہو۔* *"کیا بکواس ہے یہ؟" الاز نے دروازہ کھولنا چاہا۔ لاک تھا۔* *دھواں کھڑکیوں سے اندر آنے لگا۔ میٹھی، ناگوار سی بو۔* *یامور نے کھانس کر منہ پر دوپٹہ رکھا۔ "الاز۔۔ سانس۔۔ مت۔۔" مگر دیر ہو چکی تھی۔* *الاز کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ غصہ، بجلی، شعلہ۔۔ سب بجھ رہا تھا۔ اس نے آخری بار یامور کو دیکھا۔ وہ سیٹ پر ڈھے رہی تھی۔* *پھر سب ختم۔* *۔۔* *ٹپ۔ ٹپ۔ ٹپ۔* *پانی کے ٹپکنے کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی۔* *سر پھٹ رہا تھا۔ ہاتھ بندھے ہوئے تھے ے۔ لوہے کی کرسی سے۔* *اس نے نظریں اٹھائیں۔ *مگر کمرہ۔۔ ایک بند، حبس زدہ تہہ خانہ۔ ایک ہی دروازہ، لوہے کا۔ کھڑکی نہیں۔ صرف ایک بلب چھت سے لٹک رہا تھا۔* *اور سامنے والی کرسی پر۔۔ یامور بندھی ہوئی تھی۔ ابھی تک بے ہوش۔* *الاز نے ہاتھ کھینچے۔ رسیاں گوشت میں پیوست ہو گئیں۔ "یامور!" وہ دھاڑا۔* *تب ہی لوہے کے دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔* *وقار اندر داخل ہوا۔ اب وردی میں نہیں تھا۔ کالا کوٹ *"اٹھ گئے الاز یلدرم؟" اس کی آواز میں اب پولیس والا رعب نہیں، شکاری کی چالاکی تھی۔ "معاف کرنا، تھانے والے کھیل میں مزہ نہیں آتا۔ یہ میرا پرسنل کھیل ہے۔"* **"ڈر گئے ہیرو؟" وہ مسکرایا۔ "سنو، میں تمہارا دشمن نہیں ہوں۔ میں تو بس تمہیں وارننگ دینے آیا ہوں۔"* *الاز دھاڑا۔ "کس چیز کی وارننگ؟"* *وقار نے فائل میز پر پھینکی۔ "باران کی وارننگ۔ وہ تمہارے پیچھے ہے الاز۔ *یامور کانپ گئی۔ "باران۔ کون باران؟"* تم نہیں جانتے *دھڑام۔ دروازہ بند۔ وقار چلا گیا۔* *کمرے میں صرف الاز اور یامور رہ گئے۔* *یامور نے آہستہ سے پوچھا: "الاز۔۔ یہ باران کون ہے؟ تم نے اس کے ساتھ کیا کیا تھا؟"* *الاز نے منہ پھیر لیا۔ آنکھوں میں غصہ *"میں نہیں جانتا" وہ غرایا۔ "۔ اور ہاں۔۔ مجھے تم سے نفرت ہے یامور۔ اس لیے مجھے گھورنا بند کرو۔"* *یامور کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ مگر وہ پھر بھی بولی۔* *"تم جتنی مرضی نفرت کر لو الاز یلدرم۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ اور میں تمہیں اس باران سے بچا کر رہوں گی۔ چاہے تم چاہو یا نہ چاہو۔"* *تب ہی کمرے کی لائٹ بھک سے بند ہوئی۔* *اندھیرے میں ایک آواز گونجی۔ ٹھنڈی، مرتی ہوئی ہنسی جیسی۔* *"واہ۔۔ کیا محبت ہے۔۔"* *باران آ چکا تھا۔* ---*کمرے کی لائٹ بھک سے بند ہوئی۔* *"واہ۔۔ کیا محبت ہے۔۔"* *آواز اتنی میٹھی تھی کہ یامور کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ لڑکیوں جیسی نفیس، مگر اندر برف جیسی ٹھنڈک۔* *اندھیرے میں چٹکی کی آواز آئی۔ ایک لمحے بعد ایک چھوٹی سی ٹارچ جلی۔* *سامنے ایک لڑکا کھڑا تھا۔ لمبا قد، دودھ جیسا گورا رنگ۔ بال ہلکے براؤن، ماتھے پر بکھرے ہوئے۔ آنکھیں۔۔ شہد جیسی، بہت پیاری۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔ کوئی بھی دیکھے تو کہے "کتنا معصوم ہے"۔* *مگر الاز کی سانس رک گئی۔ اس مسکراہٹ میں کچھ غلط تھا۔ بہت غلط۔* *"کون۔۔ کون ہو تم؟" الاز دھاڑا۔* *لڑکا ہلکے سے ہنسا۔ "نام پوچھ رہے ہو؟ نام میں کیا رکھا ہے۔ تم مجھے باران کہہ لو۔"* *اس نے قدم بڑھایا۔ ٹارچ کی روشنی یامور کے چہرے پر پڑی۔* *"اور یہ کون ہے؟" اس نے نام ایسے لیا جیسے چکھ رہا ہو۔ "خوبصورت ہے۔"* *یامور کانپ گئی، مگر نظریں نہیں جھکائیں۔ "تم۔۔ تم ہمیں کیوں لائے ہو یہاں؟"* *باران نے کندھے اچکائے۔ ٹارچ کی روشنی اب الاز کے چہرے پر تھی۔* *"کیوں؟ کیوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا یامور،" وہ بولا۔ "کچھ لوگوں کو پینٹنگ پسند ہے، کچھ کو میوزک۔ مجھے۔۔" اس نے چاقو جیب سے نکالا، ہلکے سے انگلی پر گھمایا۔ "مجھے لوگوں کو ڈرتے دیکھ کر مزہ آتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ ایک دوسرے کے لیے روتے ہیں۔"* *الاز نے رسیاں کھینچیں۔ "دماغ خراب ہے تیرا؟ ہمیں کھول ابھی!"* *باران نے ایک جھٹکے سے الاز کا گریبان پکڑا۔ اس کے گورے ہاتھ میں عجیب سی طاقت تھی۔ اس کی پیاری آنکھیں اب خالی، سائیکو ہو گئی تھیں۔* *"چلاؤ مت،" وہ سرگوشی میں بولا۔ "ورنہ کھیل کا مزہ خراب ہو جائے گا۔ اور مجھے خراب مزہ بالکل پسند نہیں۔"* *اس نے گریبان چھوڑا اور واپس سیدھا کھڑا ہو گیا۔ پھر سے وہی معصوم مسکراہٹ۔* *"کھیل کا اصول سادہ ہے،" وہ یامور کو دیکھ کر بولا۔ "میں تم دونوں میں سے ایک کو چھوڑ دوں گا۔ فیصلہ تم کرو الاز یلدرم۔۔ تم بچو گے یا یہ لڑکی؟"* *اس نے چاقو الاز کی گردن پر رکھ دیا۔ ہلکا سا۔ بس جلد پر لکیر بنانے کے لیے۔* *الاز نے نفرت سے یامور کو دیکھا۔ پھر باران کو۔* *"اسے جانے دو،" وہ غرایا۔ "مجھے تم سے نفرت ہے، اس لڑکی سے بھی۔ مگر میں بزدل نہیں ہوں۔ مجھے مارو۔"* *یامور چلائی۔ "نہیں الاز!"* *باران کی ہنسی کمرے میں گونجی۔ پیاری، سائیکو ہنسی۔* *"اوہ۔۔ تو ہیرو بن رہے ہو؟ مگر مسئلہ یہ ہے الاز۔۔ مجھے لوگوں کے 'نہ' میں بہت مزہ آتا ہے۔ تم کہہ رہے ہو اسے چھوڑ دوں؟ تو اب میں اسے ہی تکلیف دوں گا۔ صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ تم کتنا چلا سکتے ہو۔"* *اس نے چاقو کا رخ یامور کی طرف موڑ دیا۔* *"ویسے،" وہ ہنستا ہوا بولا، "میں تم دونوں کو جانتا نہیں۔ تم دونوں بس میری کلاس کے نئے کھلونے ہو۔ اور کھلونے ٹوٹنے کے لیے ہی ہوتے ہیں، ہے نا؟" *باران نے چاقو یامور کی طرف کیا ہی تھا کہ رک گیا۔ اس کی شہد جیسی آنکھوں میں ایک عجیب سی بوریت آ گئی۔* *"نہیں،" وہ ہنستا ہوا بولا۔ "اتنی جلدی مار دوں گا تو مزہ کرکرا ہو جائے گا۔ کھیل لمبا ہونا چاہیے۔"* *اس نے چاقو جیب میں ڈالا اور دروازے کی طرف بڑھا۔* *"تم دونوں یہیں رہو۔ سوچو۔ ڈرو۔ میں واپس آؤں گا جب میرا دل کرے گا۔"* *دھڑام۔ لوہے کا دروازہ بند ہوا۔ باہر سے تالا لگنے کی آواز آئی۔ پھر قدموں کی چاپ دور ہوتی چلی گئی۔* *کمرے میں سناٹا۔ صرف بلب کی بھنبھناہٹ۔* *۔۔* *کافی دیر بعد یامور نے آہستہ سے کہا: "الاز۔۔ تم ٹھیک ہو؟"* *الاز نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ رسیاں اب بھی ہاتھوں کو کاٹ رہی تھیں۔ "میری فکر چھوڑو۔ "* *"میں کیسے نہ کروں؟" یامور کی آواز کانپ رہی تھی۔ "وہ پاگل ہے الاز۔ وہ واقعی مار دے گا۔"* *الاز ہنسا۔ زخمی ہنسی۔ "تو مر جانے دو۔ تمہیں کیا؟ *یامور کی آنکھوں سے آنسو گرا ۔۔ مگر تم نے اسے کہا نا کہ مجھے جانے دے؟ کیوں کہا؟"* *الاز چپ۔ جبڑا اکڑا ہوا۔* *"بولو الاز!" یامور چلائی۔ "اگر نفرت ہے تو مرنے کے لیے کیوں آگے ہوئے؟"* *الاز نے اس کی طرف دیکھا *"کیونکہ میں بزدل نہیں ہوں،" وہ غرایا۔ "اور کیونکہ۔۔ کیونکہ تو میرے سامنے مرے گی تو میری نیند خراب ہو گی۔ بس۔ اور کوئی وجہ نہیں۔ سمجھی؟ *یامور نے گہری سانس لی۔ وہ جانتی تھی یہ جھوٹ ہے۔ مگر ابھی بحث کا وقت نہیں تھا۔* *"پانی۔۔" وہ آہستہ سے بولی۔ "پیاس لگ رہی ہے۔"* *الاز نے کمرے کے کونے میں دیکھا۔ وہاں ایک گھڑا اور گلاس پڑا تھا۔ شاید باران جان بوجھ کر چھوڑ گیا تھا۔* *"رسیاں کھولو میری،" یامور بولی۔ "میں خود پی لوں گی۔"*

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

Yüzbaşının Cerrahı

read
1.4M
bc

The Silver Wolf

read
549.9K
bc

The Billionaire’s Intern

read
1.1M
bc

Chosen, just to be Rejected

read
884.2K
bc

Inferno Demon Riders MC: My Five Obsessed Bullies

read
1.2M
bc

Claimed by the Biker Giant

read
2.3M
bc

Unscentable

read
2.2M

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook