قسط 11

1090 Words
میرے دوست ا چکے تھے میں جا کر ان کو لے ایا اور ان کو ٹی وی لانچ میں لے گیا وہاں کھانا پہلے سے لگا ہوا تھا میرے دوستوں نے کہا یار ہم پورا دن یہاں ہیں کل کبھی دن یہاں ہیں پھر تم نے اتے ہی ناشتہ لگوا دیا تمہارا ارادہ کیا ہے میں نے کہا میں نے صبح سے ناشتہ نہیں کیا اب کر رہا ہوں اور میں نے سوچا تم لوگوں کو بھوک لگی ہوگی اس لیے میں نے ناشتہ لگوا دیا تو انہوں نے کا ٹی وی لانچ میں کون ناشتہ کرتا ہے میں نے کہا میری بہن کی دوستیاں ائی ہوئی ہیں اسی لیے وہ ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ کریں گی اور ہم ٹی وی لانچ میں اج وہ چلے جائیں گے ان کے جانے سے پہلے ان کے سامنے مت انا یہ میری بہن کی خواہش ہے انہوں نے کہا ہمیں اس کی دوستوں کے سامنے انے کی ضرورت نہیں ہے ویسے بھی لڑکیاں ہمارے پیچھے پڑتی ہیں ہم لڑکیوں کے پیچھے نہیں پڑتے میں نے کہا ٹھیک ہے اب بیٹھو ناشتہ کرتے ہیں میں نے کہا ٹھیک ہے۔ وہ تینوں باہر ائی اور ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئی ناشتہ تو پہلے سے لگا ہوا تھا وہ کر رہی تھی کہ وہیں پر عائشہ نے کہا یار طاہرہ تجھے یاد ہے میں نے تجھے کہا تھا جو بات تمہیں کالج کے بارے میں نہیں پتا وہ میں تمہیں بتاؤں گی اور طاہرہ بنے کہا ہاں مجھے یاد ہے۔ عائشہ نے کہا ٹھیک ہے اب میں تمہیں ایک بات بتاتی ہوں ہمارے کالج میں دو گروہ ہیں جو گنڈا گردی کرتے ہیں ایک گروہ احسن کا ہے جو ہماری کلاس کا ہے اور دوسرا گروہ اٹھ سبجیکٹ والوں کا ہے جس کا نام عدنان ہے طاہرہ نے کہا یہ احسن کون ہے اور یہ عدنان کون ہے عائشہ نے کہا تم تو ہر وقت گم سونگ رہتی تھی تمہیں کیسے پتہ کون ہے احسن ہمارے کلاس کا ایک لڑکا ہے جو ہمارے ڈیکس کے پیچھے والے ڈیکس پر بڑھتا ہے اور عدنان ار سبجیکٹ والا ہے طاہرہ نے کہا پھر ان کا ہم سے کیا تعلق۔ عائشہ نے کہا احسن اور دنان ہر مہینے کے بعد واٹ لیتے ہیں وہ ووٹ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس مہینے کون کالج کا گنڈا بننے کا اگر ہم انہیں ووٹ نہ دیں تو وہ زبردستی ووٹ لیتے ہیں تم ہماری کلاس کی مونیٹر یاد ہے وہ عدنان اور احسن دونوں کی چمچی ہے وہ کہتی ہے دونوں سے پسند کرتے ہیں۔ میرا ایک مشورہ مانو گی جب ان لڑکوں سے کبھی بھی پالا پڑے دور ہو جانا یہ بہت بدتمیز ہیں احسن کے گروپ میں چار لڑکے ہیں جو اس کے جگری دوست ہیں علی،احمد،حسین اور مدثر مدثر ان سے الگ ہے وہ ان کا دوست تو ہے لیکن وہ گنڈا کٹدی میں نہیں ہے جس طرح یہ چاروں گنڈے ہیں اس طرف مدثر بالکل سادہ سمپل ہے وہ ان کا ساتھ تو دیتا ہے مگر وہ ان جیسا نہیں ہے ایسے مان سکتے ہیں کہ ان کی ٹیم میں ایک وہی لڑکا صحیح ہے باقی سب اواریں ہیں۔ طاہرہ نے کہا پھر پرنسپل صاحب کو ان بدتمیز لڑکوں کو کچھ نہیں کہتے عائشہ نے کہا یہ بدتمیز لڑکے بہت امیر ہیں جس کی وجہ سے پرنسپل صاحب نے کچھ نہیں کہہ سکتے اور جو احسن ہے اور عدنان ان دونوں کے والد کالج کو فنڈ دیتے ہیں جس کی وجہ سے پرنسپل صاحب نے کچھ نہیں کہتے۔ وہ جو ہماری کلاس کی میٹر ہیں یہ دونوں اسی کو پسند کرتے ہیں اسی کے لیے لڑتے ہیں اگر وہ انہیں کہہ دیں کہ میں اس کے ساتھ ہوں جو میرے لیے قتل کرے تو یہ دونوں قتل کرنے سے بھی نہیں ڈریں گے طاہر نے کہ ایسے لوگوں کے ماں باپ کا قصور ہوتا ہے تو وہ اپنے بچوں کی اچھی پرورش نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ دوسروں کو تنگ کرتے ہیں فاطمہ نے کہا یا عائشہ یہ تم نے کہاں سے سنا ہے زہرہ کو پسند کرتا ہے زہرہ خود کہہ رہی تھی کہ احسن اسے پسند کرتا ہے اور بے انتہا پسند کرتا ہے۔ تو طاہرہ نے کہا جیسے تم مجھے اس لڑکا کے بارے میں بتا رہی ہو اگر یہ لڑکا کسی لڑکی کو گھٹنوں پر بیٹھ کر بھی پروپوز کرے تو اسے انکار کر دینا چاہیے اس میں کوئی خوشی والی بات تو نہیں ہے کہ اتنا بدتمیز لڑکا اسے پسند کرتا ہے اور وہ اس بات پر خوش ہو رہی ہے اور دوسروں کو بھی بتا رہی ہے بے بے وقوفی کی حد ہے۔ فاطمہ نے کہا ناشتہ کر لو پھر ہم باتیں کریں گے طاہرہ نے کہا نہیں یار مجھے گھر جانا ہے میرے دادا نے کہا تھا جلدی انا اور وہ ویسے بھی بیمار ہیں کچھ وقت ان کے پاس گزاروں گی تو عائشہ نے کہا پھر مجھے بھی گھر جانا ہے میں اپنی فیملی کے ساتھ کچھ وقت گزار لوں گی فاطمہ نے کہا ٹھیک ہے۔ انہوں نے ناشتہ کیا ناشتہ کرنے کے بعد فاطمہ انہیں چھونے چلی گئی میرے دوستوں نے کہا تمہاری بہن کی دوستوں میں تو بہت ہمت ہے کہ ہماری کالج سے ہو کر ہم پر باتیں کر رہی ہیں اور ہمیں بدتمیز کر رہی ہیں میں نے کہا یار کوئی بات نہیں کوئی تو ہے جو ہم پر باتیں کرتا ہے میں دوستوں نے کہا تم بدل گئے ہو میں نے کہا میں کیسے بدل گیا ہوں میں نے کہا ہاں جب کوئی بات کرتا تھا ہمارے خلاف تو تم سب سے پہلے ری ایکشن کرتے تھے اس بار تم خاموش ہو کیوں میں نے اپنے دوستوں کو کہا ناشتہ کر لو ہم وہی ناشتہ کر رہے تھے کہ فاطمہ اگئی اور کہنے لگی بھائی سوری میرے دوستوں نے جو باتیں کی ہیں انہیں نہیں پتہ تھا کہ اپ یہاں بیٹھے ہیں میں ان کی طرف سے معافی مانگتی ہوں پلیز اپ نے کچھ مت کہنا میرے دوستوں نے کہا ٹھیک ہے ہم تمہارے دوستوں کو کچھ نہیں کہیں گے لیکن یہ اخری بار ہے جو ہم نے انہیں معاف کیا ہے اگر پھر انہوں نے ایسا کیا تو ہم انہیں معاف نہیں کریں گے میں نے کہا اسی وجہ سے میں تم لوگوں کو کہہ رہا تھا کہ میری بہن کے دوستوں کو کچھ نہ کہو اور کوئی بات نہیں ہے میں نے اپنی بہن کو کہا کیا تم اپنے دوستوں کو چھوڑنے نہیں گئی پھر اتنی جلدی کیسے ا گئی اس نے کہا بھائی میں نے انہیں ڈرائیور کے ساتھ بھیجا ہے میں صرف ان کو دروازے تک چھوڑ کر واپس ا گئی تھی میں نے کہا ٹھیک ہے
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD