احسن شاہ اور طاہرہ خان کی پہلی ملاقات قسط 1
دسمبر کا مہینہ تھا سامنے سے وہ دوڑتے ہوئے ائی اس نے بلیو کلر کی جیز وائٹ کلر کی شرٹ پہنی ہوئی تھی کھلی زلفین ہوا میں لہرا رہی تھی میں اس کو دیکھتے ہی رہ گیا وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی معصوم اس کا چہرہ چہرے پر ایک عجیب سی رونق جیسے اسمان سے کوئی پڑی ائی ہو دسمبر کی پہلی تاریخ کو میں کالج میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا کہ اچانک ایک گاڑی ا کے رکی اس میں سے وہ باہر ائی وہ باہر اتے ہی بھاگنے لگی دوڑتے دوڑتے ہیں وہ مجھ سے ٹکرائے ٹکرانے کے بعد پیچھے مڑ کر سوری کہہ کر چلی گئی میں بھی کلاس میں جا کر بیٹھ گیا اچانک ہمارے پرنسپل صاحب ائے اسے بھی ساتھ لے ائے میں نے پنچ پر سر رکھا ہوا تھا کہ میرے دوست نے کہا یہ وہی لڑکی نہیں ہے جو تم سے ٹکرائی تھی یہ اس میں کر میں نے سر اٹھایا دیکھا وہ لڑکی پرنسپل کہ پیچھے کھڑی تھی وہ نظریں جھکا کے کھڑی تھی پرنسپل نے بتایا یہ ہماری کلاس میں پڑھے گی ہم نے بھی سن رکھا تھا کہ ایک لڑکی ہماری کلاس میں ا رہی ہے جو کوریا سے ائی ہے لیکن اس کے لباس سے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کوریا سے ائی ہے وہی ہمارے کمسٹری کے سارا اگئے پرنسپل صاحب نے ہمارے کمسٹری کے سر کو کہا کہ اس سٹوڈنٹ کا بچوں کو انٹروڈکشن دلوائیں سر نے اس لڑکی سے نام پوچھا تو اس نے اپنا نام طاہرہ خان بتایا سر نے کہا طاہرہ خان اپ ان لوگوں میں سے کسی کے ساتھ بھی بیٹھ جائیں تو وہ ایک لڑکی کے ساتھ جا کر بیٹھی وہ لڑکی میرے سامنے بیٹھی تھی ہمارے کیمسٹری کے سر نے بتایا کہ ان کو ایک ضروری کام ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیں نہیں پڑھائیں گے تو ہمیں اج پیچھے والا کام یاد کرنا ہوگا یہ سن کر ہم سب بہت خوش ہو گئے کیوں کہ اج ہمیں کیمسٹری لیکچر سے چھٹی ملی تھی اس نے یہ سن اپنا موبائل نکالا اور بلوتھ ہو نکال کر گانا لگا کر خاموشی سے بیٹھی رہی جب کہ اس کے ساتھ والی لڑکی نے اسے ہائے کیا مگر اس نے جواب نہیں دیا اور گانے سننے لگی کچھ وقت گزرنے کے بعد ہماری کلاس میں سر ائے انہوں نے نائے سٹوڈنٹ کے بارے میں پوچھا تو ساتھ والی لڑکی نے اسے بتایا کہ سر تمہیں بلا رہے ہیں تو اس نے کھڑے ہو کر سر کو جواب دیا تو سر نے اس کا نام پوچھا تو اس نے پھر سے اپنا نام بتایا سر نے اسے کہا بیٹا جو تمہارا کام رہ گیا ہے یعنی تم پہلے نہیں کر سکی وہ تم اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ مل کر کر لینا یہ تمہاری مدد کریں گے اگر ان کے بعد تمہیں سمجھ نہ ائے تم اس سے پوچھ لینا یہ کہتے ہی اس نے سر کو جواب دیا اس نے کہا سر اپ فکر نہ کریں بس اب مجھے بتا دیں کتنے کتنے چیپٹر کرنے ہیں وہ میک کر لوں گی یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی لیکن اس کی پیاری سی اواز ایسے لگتا تھا جیسے ابھی بھی کانوں میں گونج رہی ہو سر نے اس سے کہا ٹھیک ہے بیٹا تمہاری مرضی مگر نمبر کٹنے پر تمہارے پیرنٹ کو بلایا جائے گا وہ خاموش رہی سر کے جاتے ہی وہ واپس گانے سننے لگی جیسے وہ کسی سے بات نہ کرنا چاہتی ہو طاہرہ خان کے سامنے والے ڈیکس پر ایک لڑکی لڑکی بیٹھی تھی جس کا نام فاطمہ شاہ تھا اس نے طاہرہ خان کو سلیبس دیا اور پوچھا کیا تم کوریا سے ائی ہو طاہر ہ خان نے کہا جی بس اتنا ہی کہتے ہی وہ خاموشی ہو گئی اس کے ساتھ بیٹھنے والی لڑکی نے بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ خاموش رہی اور گانے سننے لگی اس طرح ایک ہفتہ گزر گیا وہ روزانہ کی طرح کالج اتی خاموشی سے بیٹھ جاتی یا پھر گانے سننے لگتی جب سر لیکچر دیتے ہیں تو وہ لیکچر اٹینڈ کرتی اگر کوئی فری پیریڈ ہو تو وہ پچھلا کام کرتی تھی مگر ہر وقت کام میں مصروف رہتی تھی جیسے وہ خود کو مصروف رکھنا چاہتی ہو جیسے سائنس سبجیکٹ کی ریڈنگ کرنا یا پھر نوٹس بنانا وہ ہر وقت مصروف رہتی تھی
عائشہ اور فاطمہ نے نوٹس لینے کی کوشش کی مگر اس نے یہ لینے سے انکار کر دیا اسی طرح ایک اور ہفتہ گزر گیا عائشہ نے طاہرہ کو ہائے کیا نہیں بدلے میں اس نے ہیلو کیا عائشہ نے کہا تم کیسی ہو طاہر نے کہا میں ٹھیک ہوں اپ کیسی ہیں عائشہ نے کہا میں ٹھیک ہوں شکر ہے خدا کا تم نے جواب تو دیا مجھے لگا اج بھی تم روزانہ کی طرح جواب نہیں دو گی عائشہ نے کہا کہ ہم دوست بن سکتے ہیں طاہرہ خاموش ہو گئے جیسے وہ کچھ سوچنے لگی ہو عائشہ نے کہا تم فکر نہ کرو جب تمہارا دل کرے تب ہم دوست بن جائیں گے پھر بھی خاموش رہی جیسے ابھی کچھ سوچ رہی ہو اس دن کے بعد عائشہ جب بھی کلاس میں اتی وہ طاہرہ کو ہائی کرتی اور طاہرہ بھی بدلے میں اسے ہائے کر دیتی تھی ایک دوسرے کا حال پوچھتے اس طرح وہ ایک دوسرے کے قریب ا رہے تھے۔ عائشہ کے دوست بننے کے بعد کی ہوئی کچھ دن گزر چکے تھے عائشہ نے پھر طارق خان سے وہی بات کی کیا ہم دوست بن سکتے ہیں اس بار طاہر خان کتے کے لیے خاموش رہی اور پھر کہا ہاں ہم بن سکتے ہیں مگر مجھے معلوم نہیں کہ میں پاکستان میں اپ تک ہوں کیونکہ میری موم ابھی بھی کوریا میں ہے انہوں نے کہا تھا وہ جلد ہی پاکستان میں شفٹ ہو جائیں گی مگر وہ ابھی تک نہیں ہوئی اور نہ جانے وہ مجھے کب اپنے پاس بلا نہیں۔ عائشہ نے کہا اسی وجہ سے تم دوستی نہیں کر رہے تھے یہ تو کوئی وجہ نہ ہوئی عائشہ نے کہا جہاں پہ جاؤ دو ست ضرور بناؤ چاہے دو دن کی دوستی ہو یا پھر کچھ ہفتوں کی مگر ایمانداری کے ساتھ نبھا