قسط 10

1102 Words
فاطمہ نے کہا تمہاری مما تمہاری زندگی کا ہر پاس کر لیتی تھی اب تم خود لو یہ مت سوچو کہ میں تمہیں تمہاری مما سے دور کر رہی ہوں میں چاہتی ہوں کہ تم اپنی زندگی کے فیصلے خود لو اب تم بڑی ہو گئی ہو اب تم وہ چھ سال کے بچے نہیں جو اپنے مما کا ہاتھ پکڑ کر چلے گی اب تمہیں خود اپنی زندگی کے فیصلے نہ ہوں گے ہاتھ تمہاری مما نے ٹھیک تمہارے بارے میں سوچ رکھا تھا اور وہ سوچ سکتی ہیں کیونکہ وہ ماں ہیں مگر کب تک تم ان کو ٹینشن ہو گئی اب پاکستان میں انے کے بعد تمہیں بنایا موقع ملا ہے ابھی تمہاری مما یہاں نہیں ہے تم اپنے فیصلے خود کرو نہ کہ دوسروں پر چھوڑ دو۔ طاہرہ نے کہاٹھیک ہے اب سے اپنے فیصلے میں خود کروں گی نہ میں اپنی مما اور نہ ہی میں اپنے پاپا کو پریشان کروں گی فاطمہ نے کہا ٹھیک ہے شکر ہے میری بات میں سمجھ ا گئی۔ عائشہ نے کہا یا رات کے دو بج گئے ہیں اب سو جاؤ صبح کو اٹھنا بھی ہے فاطمہ ہوتا ہے طاہرہ نے کہا ٹھیک ہے۔ فاطمہ نے کہا میں تم دونوں کا کمرہ تیار کرنا بھول گئی تھی ویسے بھی ہم کل ا گئے تھے اس لیے میں نے انٹی کو کل انے کو کہا تھا کہ وہ ا کر فارم ہاؤس کی صفائی اچھے سے کر دی طاہرہ ان کا کوئی بات نہیں ہم ایک ساتھ سو جاتے ہیں اگر تمہیں کوئی مسئلہ نہ ہو تو فاطمہ نے کہا مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہم سب ایک ساتھ سو سکتے ہیں۔ صبح 12 کا ٹائم ہوگا جب میرے دوستوں کی کال ائی انہوں نے کہا ہمیں کہاں انا ہے میں نے کہا تھوڑی دیر بعد میں تمہیں لوکیشن سینڈ کر دوں گا انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں اٹھا کر اپنی بہن کا کمرے کا دروازے باہر جا کر بہن کو کال کی اس نے کال اٹھائی میں نے کہا باہر اؤ مجھے بات کرنی ہے وہ باہر ائی میں نے کہا فاطمہ میرے دوستوں کے کال ائی تھی وہ کہہ رہے ہی کہ وہ ہم ا رہے ہیں تم اپنے دوستوں کو بتا دو میں نے کہا ٹھیک ہے بھائی ابھی ہم وہیں کھا رہے تھے کہ انٹی ا گئی انہوں نے کہا چھوٹے مالک ہم نے فارم ہاؤس کو اچھے طریقے سے صاف کر لیا ہے لیکن کھانا کیا بنانا ہے۔ میں نے کہا جو اپ کا دل کرے وہ بنائیں میرے تین دوست ا رہے ہیں اور دو دوست فاطمہ کے ہیں اپ ان تینوں لڑکیوں کا کھانا ٹیبل پر لگا دینا اور ہم چاولوں لڑکوں کا ٹی وی لاؤنج میں لگا دینا انٹی نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میری بہن اپنے کمرے میں چلی گئی اس نے جا کر اپنے دوستوں کو اٹھایا اور کہا کہ انٹی نے کھانا بنا لیا ہے چلو کھانا کھا لیتے ہیں اس کے دوستوں نے کہا ابھی تو میں فریش ہونا ہے اس نے کہا انٹی کو بھی کھانا بنانے میں کچھ وقت لگے گا اٹو فریش ہو جاؤ طاہرہ نے کہا ابھی تو تم نے کہا ہے کہ انٹی نے کھانا بنا لیاکہا فاطمہ نے کہا میرے منہ سے نکل گیا تھا وہ بنا رہی ہیں اٹو فریش ہو جاؤ اور اج میرے بھائی کے دوست ا رہے ہیں ہم جب تک چاہیں یا رہ سکتے ہیں لیکن میرے بھائی اور اس کے دوستوں کے سامنے مت جانا عائشہ نے کہا تم ہمیشہ اپنے بھائی کا ذکر کرتی ہو مگر ابھی تک تم نے اس سے ملوایا نہیں ہے تو فاطمہ نے کہا میرا بھائی لڑکوں سے دور رہتا ہے طاہر نے کہا کہ اسی لڑکی کے لیے عائشہ نے کہا ہاں۔ یہ تینوں باتیں کر رہی تھی کہ میرے دوست کا ل اگئی انہوں نے کہا ہمیں کہاں انا ہے میں نے انہیں لوکیشن سینڈ کی اور خود فریش ہونا چلا گیا جب میں فریش ہو کر فارغ ہوا تو انٹی نے کھانا لگا لیا تھا وہ ائی اور کہنے لگی چھوٹے مالک میں نے کھانا لگا دیا ہے ا کے کر لو میں نے کہا ابھی میرے دوست ا رہے ہیں ہم ایک ساتھ کریں گے کیافاطمہ اور اس کے دوستوں نے کر لیا ہے انٹی نے کہا نہیں ابھی اپنے کمرے میں ہیں میں نے میں نے کہا جا کر انہیں کہہ دیجیے کہ وہ ناشتہ کر لیں انٹی نے کہا ٹھیک ہے۔ انٹی میری بہن کے کمرے میں چلی گئی انہوں نے میری بہن کو کہا ناشتہ کر لو میری بہن نے کہا انٹی ٹھیک ہے ہم ابھی ا رہے ہیں عائشہ نے کہا کیا یہ تمہاری انٹی ہے فاطمہ نے کہا نہیں یہ ہمارے گھر کی نوکرانی ہے بچپن میں میرے بھائی اور ان کی وہ محبت ان کو انٹی بولا کرتے تھے اسی وجہ سے سب گھر والے انہیں انٹی بلاتے ہیں بچپن میں لیا انٹی کی جو بھائی کی محبت کو بہت اچھی لگتی تھی جب میرے بھائی کی محبت گھر اتی تھی وہ انہیں انٹی سے کھانا بنانے کی خواہش کرتی تھی جس کی وجہ سے میرا بھائی نے ان سے کھانا بنانا سیکھ لیا تھا مزہ تو تب ہے کہ میرا جس کا انتظار کر رہا ہے اس کی شادی ہو گئی ہو یا پھر وہ کسی اور سے محبت کرتی ہو اس طرح میں اپنے بھائی کی پسند کی شادی کروا سکتی ہوں طاہرہ نے کہا پھر تو تم بہت ظالم دل ہو اس نے کہا ہاں اس طرح میں ظالم دل ہوں میں اس لڑکی کو جانتی نہیں اور نہ ہی وہ کسی کو جانتی ہے بس میرے بھائی کی باتیں کی وجہ سے میرا بھائی کتنے دن سے اس کا انتظار کر رہا ہے کتنے دن تو ہے نا غلط ہوگا سالوں گزر گئے ہیں لیکن اب تک اس لڑکی کو کوئی خبر نہیں ہے اگر اس لڑکی کو تھوڑی سی میرے بھائی کی فکر ہوتی تو وہ میرے بھائی سے رابطہ کرنے کی تو کوشش کرتی میرا بھائی اس کے پیچھے پاگل ہو رہا ہے اور اسے خبر تک نہیں ہے کبھی تو میں سوچتی ہوں وہ کیسی لڑکی جس کے ساتھ بھائی نے شادی کرنے کا وعدہ کیا ہے مجھے میرے بھائی پر وہ ترس اتا ہے اگر مجھے اس لڑکی کا پتہ چل جاتا جہاں بھی وہ ہوتی میں اسے لے کر اتی اور اپنے بھائی سے اس کی شادی کرواتی عائشہ نے کہا میری بہن تو ٹھیک کہہ رہی ہے میری دعا ہے کہ تیرے بھائی کو وہ لڑکی مل جائے فاطمہ نے کہا امین طاہر نے کہا میری دعا ہے کہ تیرے بھائی کو وہ لڑکی مل جائے فاطمہ نے پھر سے امین کہا اور کہا چلو ناشتہ کرنے چلتے ہیں
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD