فاطمہ نے کہا مجھے تم لوگوں کو ایک بات بتانی ہے تو میں نے کسی کو نہیں بتایا میرے ماں باپ وفات پا چکے ہیں میرا انکل اور انٹی نے مجھے اپنے پاس لے ائے تھے جب ہم مجھے لینے ائے تھے تب میرے دادا نے کہا کہ تم کس حق سے اسے اپنی پاس رکھنا چاہتے ہو میرے انکل نے کہا میں اس کو انکل ہوں اتنا ہی کافی ہے میں دادا نے کہا نہیں یہ کافی نہیں ہے تو میرے انکل نے کہا یہ بڑے ہو کر میرے بیٹے کی بیوی بننے کی جس کی وجہ سے میں دادا نے مر جانے سے نکاح نہیں کیا اور مجھے کہنے دیا جب میرے بھائی سے پوچھا گیا تو میرے بھائی نے کہا میں فاطمہ سے شادی نہیں کروں گا ہم بہن بن کر رہ سکتے ہیں۔ سب بڑوں نے کہا جب یہ بڑے ہو جائیں گے تب ان کی شادی کی بات ہوگی۔ جب ہم 12 سال کی عمر کو پہنچے تو ہمارے گھر والوں نے ہماری منگنی کرنا نہیں چاہیے تو میرے بھائی نے کہا میں اور فاطمہ بہن بھائی بہن کر ہمیشہ رہ سکتے ہیں کزن بن کے بھی ہمیشہ رہ سکتے ہیں مگر میں اس سے شادی نہیں کر سکتا میں کسی اور کا انتظار کر رہا ہوں سب نے کہا تم کس کا انتظار کر رہے ہو اتنی سی عمر میں تمہیں کس سے محبت ہو گئی ہے میرے بھائی نے کہا مجھے جس سے محبت ہو یہ اپ کا مسئلہ نہیں ہے نہیں اپ کا اپ لوگوں کو میں نے پہلے بھی انکار کیا تھا اور اب بھی انکار کر رہا ہوں ی سن کر انٹی اور انکل نے کہا بیٹا ہم نے بچپن سے اسے تمہاری بیوی بنانے کی تمنا تھی اب تم یہ ہماری تمنا پوری کر دو تم اس سے منگنی کر لو ویسے بھی وہ بچپن سے یہی ہے میرے بھائی نے کہا میں نے ہمیشہ اسے اپنی چھوٹی بہن کی طرح دیکھا ہے میں اس سے شادی نہیں کر سکتا میری ماں نے کہا پھر اس کا کیا ہوگا وہ تو بچپن سے یہی جانتی ہے کہ تم اس کے منگے تر ہو میرے بھائی نے کہا اگر وہی کہہ دے کہ ہم شادی نہیں کرنی تو پھر کیا ہوگا یہ کہتے ہیں میرے بھائی میرے کمرے میں نہ ایا دروازہ بند کر دیا وہ کہنے لگا فاطمہ میں تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولنا چاہتا جب سب بڑوں نے ہماری شادی کی بات کی تھی تو میں نے تب بھی انکار کیا تھا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بوی ہو تم بہت اچھی لڑکی ہو لیکن میں کسی اور سے وعدہ کر چکا ہوں کہ میں اس سے شادی کروں گا ہم ہمیشہ ہمیشہ بہن بھائی بن کر رہیں گے میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں وہ بھی جیسے ایک بھائی چھوٹی بہن سے کرتا ہے۔ اپنے بھائی کی بات سن کر میں نے کہا بھائی میں اپ سے بہت پیار کرتی ہوں لیکن ایک بھائی بڑے بھائی کی طرح سے اور نہ ہی میں اپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں بس میں اتنا چاہتی ہوں کہ اپ ہمیشہ مجھے اپنی بہن کی طرح پیار کریں جیسے اپ مجھے اب پیار کرتے ہیں کوئی بھی ہمارے رشتے میں کسی قسم کا زہر نہ ہو سکے میرے بھائی نے کہا ٹھیک ہے میرے بھائی نے کہا ٹھیک ہے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں میں باہر ائی میں نے سب سے کہا کہ میں اپنے بھائی سے شادی نہیں کرنا چاہتی ہم ہمیشہ بہن بھائی بن کر ہی رہیں گے اس دن سے بات میرے بھائی میں بہت اچھا رہا اور میں اس کے ساتھ اچھی رہی طاہرہ نے سے فاطمہ کہا پھر کیا ہوا فاطمہ نے کہا مجھے میرے ماں باپ نے کھود لے لیا اب میں ان کی بیٹی ہوں عائشہ نے کہا پھر تمہارے بھائی کا کیا ہوا کیا لڑکی کیا وہ لڑکیوں سے ملی فاطمہ نے کہا میں نے اپنے بھائی سے پوچھا تھا اس نے کہا تھا یہ معاملہ تمہارا نہیں ہے تم اس دور رہو یہ سن کر میں خاموش ہو گئی تھی پھر میں نے کبھی نہیں پوچھا فاطمہ نے کہا میرے ابو امی میرا بھائی مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں اہستہ اہستہ سب مجھے گھر کی بیٹی مرنا شروع کر دیا اور اپنے گھر میں خوشی سے رہتی ہوں اب مجھے اس گھر میں ایک بیٹی جتنی حیثیت ملتی ہے طاہرہ نے کہا کیا تم نے پہلے اس گھر میں بیٹی جتنی حیثیت اور پیار نہیں ملتا تھا فاطمہ نے کہا شروعات میں میرا بھائی مجھے پیار کرتا تھا اور میرا دادا دادی کرتے تھے اور کوئی نہیں کرتا تھا پھر مما بابا نے مجھے اپنایا اپنی بیٹی بنایا اب میں اس گھر میں خوشی سے رہتی ہوں عائشہ نے کہا میں نے اپنے بارے میں تو میں ایک بات نہیں بتائی وہ یہ ہے کہ میرے بابا پہلے بزنس کرتے تھے میرے بابا کو ان کے دوست نے بزنس میں دھوکا دیا تھا شروعات میں تو ہم جب غریب ہوئے بہت مشکل تھا گزر کرنا برا اہستہ اہستہ عادت ہو گئی ہر چیز کی ہم خوشی سے رہتے ہیں طاہرہ نے کہا کیا تمہارے بابا نے بزنس ملنے کے کوشش نہیں کی عائشہ نے کہا میرے بابا نے بزنس لینے کی بہت کوشش کی تھی مگر ہر پر ناکام ہو گئے تھے اسی لیے انہوں نے لینے کے بدلے چھوڑ دیا اب ویسے بھی عادت ہو گئی طاہرہ نے کہا پھر کبھی مجھے بدلہ لینے کا موقع ملا ہے تمہیں ضرور اس شخص سے بدل لوں گی جس نے تمہارے بابا کو دھوکہ دیا ہے مجھے ابھی بزنس کتنی سمجھ نہیں ہے میں وعدہ کرتی ہوں جب میں بزنس کے بارے میں سب کچھ سیکھ لوں گی تو میں تمہارے بابا کی مدد کروں گی بزنس واپس لینے میں فاطمہ نے کہا میں بھی کوشش کروں گی ہر مشکل میں تمہیں لوگوں کا ساتھ دینے کی عائشہ نے کہا تم لوگوں کا اتنا کہنا ہی کافی ہے تم لوگوں کا بہت بہت شکریہ تم لوگوں نے میرے بارے میں سوچا طاہر نے کہا جی شکریہ کر رہی ہو تم نے خود کہا تھا شکریہ اور سوری دوستی میں کبھی نہیں ہوتے فاطمہ نے کہا اب تم اپنے بارے میں بتاؤ اگر تم ہم نے کچھ بتانا چاہتی ہو تو