قسط2

1039 Words
یہ بات سن کر طاہرہ نے عائشہ کو کہا تمہارا شکریہ عائشہ نے کہا اب ہم دوست بن چکے ہیں دوستی میں نہ تو شکریہ کرتے ہیں اور نہ ہی سوری کہتے ہیں۔ عائشہ نے کہا کیا اب میں تم سے یہ پوچھ سکتی ہوں کہ تم کوریا سے پاکستان کیوں ائی ہو اگر تمہیں برا نہ لگ جائے تو تم مجھے یہ بتا سکتی ہو۔ طاہرہ خاموش ہو گئی۔ عائشہ نے کہا کوئی بات نہیں اس کے بارے میں پھر بات کریں گے یہ سن کر طاہرہ نے کہا ٹھیک ہے عائشہ اور طاہرہ باتیں کر رہی تھی کہ وہیں پر فاطمہ اگئی فاطمہ نے عائشہ سے کہا کیا تم کلین میں بریک فاسٹ نہیں کرنے جاؤ گے عائشہ نے کہا چلتے ہیں جب عائشہ جانے لگی اس نے طاہرہ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ بریک فاسٹ کرنے چلو گی طاہرہ نے کہا تم اپنی دوست کے ساتھ جاؤ میں پھر کبھی تمہارے ساتھ جاؤں گی عائشہ کو سمجھ اگیا کہ وہ فاطمہ کی وجہ سے نہیں جا رہی عائشہ نے کہا یہ میری دوست ہے تو اس لحاظ سے۔ یہ تمہاری بھی دوست ہوئی فاطمہ نے یہ سن کر طاہرہ کو کہا کہ میرے علاوہ تم اس کے صرف ایک دوست ہو اس کی کوئی اور دوست نہیں ہے اور میری بھی صرف یہ ایک دوست ہے کیوں نہ ہم دونوں دوست بن جائیں یہ سن کر طاہرہ خاموش ہو گئی کچھ دیر بعد طاہرہ نے کہا ٹھیک ہے ہم دونوں دوست بن جاتے ہیں یہ سن کر فاطمہ بہت خوش ہوئی اس نے کہا اج سے ہم تینوں بیسٹ فرینڈ ہیں ہم ہر حالات میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور عائشہ نے کہا طاہرہ جو تمہیں اس کالج کے بارے میں نہیں پتا وہ ہم بتا دیں گے طاہرہ نے کہا ٹھیک ہے۔ ابھی بریک فاسٹ کرنے جاتے ہیں مجھے بھوک لگی ہوئی ہے فاطمہ نے کہا تمہیں بھی بھوک لگ سکتی ہے تم تو کبھی بھی نہیں کھانے جاتی طاہرہ نے کہا کیونکہ ہر وقت عائشہ میرے لیے کھانا لے اتی ہے کلین سے۔ فاطمہ نے طاہرہ سے سوال کیا تم کوریا سے ہی پاکستان کیوں ائی ہو اور وہاں تم کس کے ساتھ رہتی تھی طاہرہ پھر خاموش ہو گئی وہیں پر فاطمہ اگئی فاطمہ نے ا کر عائشہ کو کہا کہ اج کرنے نہیں جاؤ گی عائشہ نے طاہرہ کا شکر ادا کیا کہ تم نے میری بات مان کر دوست بنانے کا فیصلہ کیا ہے یہ سن کر طاہرہ نے کہا تم نے ابھی مجھے خود کہا تھا کہ دوستی میں نہ تو شکریہ کہتے ہیں اور نہ ہی سوری اب تم کیوں کہہ رہی ہو عائشہ نے کہا ٹھیک ہے فاطمہ نے کہا یہ میں کیا سن رہی ہوں کہ طاہرہ نے سلام ہیلو ہائے اور ٹھیک ہے اس کے علاوہ بھی کچھ الفاظ بولے عائشہ نے کہا اب تم اسے تنگ کیوں کر رہی ہو عائشہ نے کہا جب میں اس کالج میں ائی تھی تو ہر کسی کو معلوم تھا کہ میں سکالرشپ کے دم پر اس کالج میں ائی ہوں میں غریب ہوں جس کی وجہ سے سب مجھ سے نفرت کرتے تھے اس وقت فاطمہ ہی تھی جس نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور مجھ سے بار بار باتیں کی تاکہ ہم دوست بن جائیں اس کی کوشش دیکھ کر میں اس کے سامنے ہر گئی اور ہم دونوں بہت اچھے دوست بن گئے مجھے اگر بچے تنگ کرتے تو فاطمہ میرا ساتھ دیتی اگر مجھے کبھی برا لگتا ہے تو یہ میرے ساتھ اچھے اور فنی انداز میں باتیں کرتی تاکہ خوش ہو جاؤں وہ کہتے ہیں نا دوست بناؤ تو ضرورت کے وقت کام ائے یہ میری وہی دوست ہے جو میری ہر ضرورت میں میرے ساتھ تھی طاہر نے کہا اسی لیے جب میں ائی تھی تو تم نے مجھے اپنے پاس بٹھایا تھا تمہیں لگتا تھا کہ ہماری کلاس کے بچوں مجھے تنگ کریں گے عائشہ نے کہا ہاں مجھے ایسا ہی لگتا تھا کہ وہ تمہیں تنگ کریں گے طاہر نے کہا تم نے ایسا کیوں لگتا تھا اور اگر وہ مجھے تنگ کرتے تو تم کیا کرتی ہمیشہ نے کہا اگر وہ تمہیں تنگ کرتے تو میں تمہیں حوصلہ دیتی اور ہر وقت تمہارے ساتھ رہتی تاکہ تم کو بھی خود کو اکیلا محسوس نہ کرو فاطمہ نے کہا اگر ان لوگوں نے تمہیں دونوں کو تنگ کیا تو میں ان کا منہ توڑ کے رکھ دوں گی یہ سن کر عائشہ نے کہا ہے کہیں تو منہ تو نہ لینا طاہر نے کہا چلو بریک فاسٹ کرنے چلتے ہیں مجھے بھوک لگی ہوئی ہے عائشہ نے کہا بریک فاسٹ کرنا چلتے ہیں یہ تینوں بریک فاسٹ کرنے کے لیے چلی گئی میرے دوست میرے پاس ائے اور کہنے لگے کیا اج ہم بریک فاسٹ کرنے نہیں جا رہے میں نے کہا کیوں ہم جا رہے ہیں جب ہم گئے تو وہ تینوں ٹیبل پر بیٹھی تھی میرے دوست میرے ساتھ تھے ہم نے کھانا لیا اور جا کر میں نے کہا کیا ہم اس ٹیبل پر بیٹھ سکتے ہیں طاہرہ نے مجھے کہا نہیں اپ لوگ اس کے پر نہیں بیٹھ سکتے یہ سن کر میرے دوستوں کو غصہ ایا شاید وہ کچھ کہتے مگر میں نے انہیں بلا لیا اور ہم دوسری ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے یہ تینوں بہت مزے سے کھا رہی تھی اٹھ باتیں کر رہی تھی ہنسی مذاق کر رہی تھی جیسے انہیں اس پاس کے لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں ہو جیسے ان کے اس پاس کوئی نہ ہو لیکن طاہرہ کے منع کرنے کی وجہ سے میرے دوست بہت غصے میں تھے وہ کہہ رہے تھے اگر ہمیں کبھی بھی اس لڑکی کو مزہ سکھانے کا موقع ملا تو ہم ضرور اس سے سبق سکھائیں گے یہ سن کر میں نے کہا کوئی بات نہیں کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے ویسے بھی وہ نائی ہے ہمیں نہیں جانتی یہ سن کر میرے دوستوں نے کہا تم کچھ زیادہ ہی اس کی سائیڈ لے رہے ہو نائے ہونے کا کیا مطلب ہے کہ یہ ہماری بے عزتی کرے ہماری بےعزتی کرنے کی کسی کی ہمت نہیں ہے میں نے اپنے دوستوں کو کہا کوئی بات نہیں اسے موقع دے دیتے ہیں انہوں نے کہا چلو ٹھیک ہے اس بار تیری وجہ سے ہم اس لڑکی کو چھوڑ رہے ہیں
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD