قسط 3

1036 Words
۔وہیں پر طاہرہ کی امی کا فون ایا انہوں نے کہا کیسی ہو طاہرہ نے کہا میں ٹھیک ہوں اپ بتائیں اپ کیسی ہیں اس کی امی نے کہا میں ابھی ٹھیک ہوں طاہرہ نے کہا موم مجھے اپ کی بہت یاد اتی ہے اپ کب پاکستان ائیں گی طاہرہ کی امی نے کہا بیٹا یہ کس چیز کی اواز ہے تم کہاں ہو تمہیں تو اس وقت کالج میں ہونا چاہیے تھا طاہرہ نے کہا موم میں کالج میں ہی ہوں میرے دوست میرے ساتھ بیٹھے ہیں طاہرہ کی امی نے کہا شکر ہے تم نے بھی دوست بنائے طاہرہ نے کہا موم کیا اپ میرے دوستوں سے بات کرنا چاہیں گی اس کی امی نے کہا کیوں نہیں فاطمہ نے پہلے بات کی فاطمہ نے بتایا کہ انٹی میرا نام فاطمہ ہے اور میں اپ کی بیٹی کی دوست ہوں ہم دونوں بہت اچھے دوست ہیں پھر عائشہ نے بات کی عائشہ نے کہا انٹی میرے نام عائشہ ہے میں اپ کے بیٹے کے دوست ہوں ہم دونوں بھی بہت اچھے دوست ہیں ویسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم تینوں ہی بہت اچھے دوست ہیں یہ سن کر طاہرہ کی امی بہت خوش ہوئی انہوں نے کہا بیٹا تم لوگوں نے میری بیٹی پر کون سا جادو کیا ہے تم دونوں اس کے کزن کے علاوہ اس کی پہلی دوستیں ہوں مجھے تو ہر وقت فکر لگی رہتی تھی کہ یہ لوگوں سے کب بات کرنا شروع کرے گی یا کب لوگوں کو اپنے قریب انے دے گی۔ عائشہ نے کہا انٹی اپ فکر نہ کریں ہم ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گے جب تک یہ پاکستان میں ہے یہ سن کر طاہرہ کی امی نے کہا بیٹا اپ کا شکریہ اپ نے میرے بیٹے کے ساتھ دوستی کی فاطمہ نے کہا انٹی شکریہ تو اپ کا کرنا چاہیے کیا اپ نے اتنی اچھی لڑکی کو اس دنیا میں لائی اور وہ ہماری دوست بنی اور اپ نے اسے اتنی اچھی پرورش کی کہ وہ ہر کسی کے ساتھ اچھی ہے بہت اچھی ہیں یقینا اسی لیے تو اپ کی بیٹی بھی بہت اچھی ہے یہ سن کر طاہرہ کی امی نے کہا بیٹا کہتا ہے نہیں کالج میں کسی سے لڑائی کی ہے یہ سن کرتا ہے غصے میں بولی موم میں نے کسی کے ساتھ بھی لڑائی نہیں کی عائشہ اور فاطمہ نے بھی کہا انٹی طاہرہ کسی کے ساتھ لڑائی نہیں کرتی الٹا یہ خاموشی سے بیٹھی رہتی ہے ہم نے بھی اس کے ساتھ بہت مشکل سے دوستی کی ہے یہ سن کر طاہرہ کی امی نے کہا بیٹا مجھے ضروری کام ہے اب ہم کسی اور دن بات کریں گے ہوتا ہے کہ امی نے طاہرہ کو کہا طاہرہ جب ماما پاکستان ہوں اپنے دوستوں کو لے انا مجھ سے ملوانے طاہرہ نے کہا ٹھیک ہے موم اللہ حافظ عائشہ اور فاطمہ نے بھی اللہ حافظ کہا۔ یہ تینوں پہلے کی طرح ہنسی مذاق کرنے لگی وہیں پر فاطمہ نے کہا میں نے سنا ہے کہ کوریا میں بچوں کو پورا دن کام کرنا پڑتا ہے یعنی پڑھائی اور بھی ماشل اٹس کونفو کراٹے اور گیمیں وغیرہ یعنی ان کا پورا دن مصروف ہوتا ہے کیا یہ سچ ہے طاہر ہ نے کہا ہاں یہ سچ ہے پاکستان میں اتنی پڑھائی نہیں ہے جتنی کوریا میں ہوتی ہے ہم صبح سے جاتے تھے اور رات کو گھر اتے تھے فاطمہ نے کہا پھر تم دن میں کیا کرتے تھے طاہر نے کہا صبح کو میری موم الارم لگا کے رکھتی تھی الارم بجتے ہی ہم صبح کی نماز ادا کرتے تھے پھر میری موم مجھے قران پڑھاتی تھی اس کے بعد ہم واک پر جاتے تھے واپس اتے ہی میری ممانی نے کھانا بنایا ہوا تھا ہم اپنے اپنے کمرے میں چلے جاتے تھے میں سکول کی تیاری کرتی تھی اور میری ماں بزنس اور جانے کی تیاری کرتی تھی پھر ہم ناشتہ کرتے تھے اور ماموں اور موم اپنی اپنی کمپنی میں چاہتے تھے میں اور میرا کزن سکول جاتے تھے پھر اس کے بعد میری موم کا دوست تھا جس کا کلب تھا جو کنفو کراٹے وغیرہ اس کا تھا اس کے بعد ہم اکیڈمی جاتے تھے وہاں پر دو گھنٹے کا لیکچر ہوتا تھا وہ اٹینڈ کرتے تھے اس کے بعد اسی اکیڈمی میں گیمیں کھلائی جاتی تھی ہم گیمیں کھیلتے تھے کبھی کبھی تو ہم ناشتہ کرنا بھی بھول جاتے تھے پھر جب ہم گھر جاتے تھے تو ناشتہ کرنے کے بعد منہ مامو اور مما ہمیں بزنس کے بارے میں سکھاتے تھے مامو میرے کزن کو اپنے بزنس کے لیے تیار کر رہا تھا اور وہ مجھے۔ عائشہ نے کہا تم تو وہاں ایسے ہی زندگی جیتی تھی طاہرہ نے کہا ہاں میں بھی وہاں ایسی ہی زندگی جیتی تھی۔ فاطمہ نے کہا کیا تمہارا وہاں کوئی بوئے فرینڈ بھی تھا طاہر ہ نے کہا نہیں جیسے کوریا ڈرامے یا شٹ ڈرامے میں دکھاتے ہیں کہ بس ہم کچھ نہیں ہوتا سب مصروف ہوتے ہیں کسی کے پاس ٹائم نہیں ہوتا اور وہاں پر لڑکی لڑکے اپنا فیوچر بنانے کے بعد ڈیٹ کرتے ہیں وہ بھی زیادہ وقت تک ریلیشن شپ میں نہیں اتے یا کوئی بریکر کر لیتے ہیں یا کوئی شادی کر لیتے ہیں کوریا بالکل ویسے نہیں ہے جیسے پاکستان کے لوگ سمجھتے ہیں وہاں پر پڑھائی پر بہت سختی ہوتی ہے 18 سال تک ماں باپ کی مانو 18 سال کے بعد کمانے جاؤ اپنا خرچہ خود اٹھاؤ یہاں پر تو 19 20 سال کے بچے بھی ماں باب پرڈیپینڈ کرتے ہیں پاکستان کی نسبت کوریا میں ترقی بہت زیادہ ہے وہاں پر ہر غلطی پر سزا ملتی ہے بچوں کو بچوں سے تیار کیا جاتا ہے ہر کام کے لیے یہاں تک کہ وہاں پر جہیز دینے کا رواج نہیں ہوتا وہاں بہت اچھا رواج ہوتا ہے لڑکا لڑکی کو ایک مانی مانا جاتا ہے وہاں زادی ہوتی ہے عائشہ نے کہا کیا تمہارے وہاں دوست تھے تو اس نے کہا نہیں میرا وہاں کزن تھا جو میرا دوست تھا ہم دونوں بہت اچھے دوست تھے اور ابھی بھی ہیں لیکن وہ بھی مجھ سے ناراض ہے کیونکہ میں پاکستان اگئی اور اسے بتایا بھی نہیں مگر میں اسے منا لوں گی عائشہ نے کہا وہاں تم کس کے ساتھ رہتی تھی اپنے مامو ممانی اور کزن کے ساتھ
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD