قسط 4

1047 Words
ہاں میں وہاں اپنے مامو ممانی کزن اور اپنی موم کے ساتھ رہتی ہم وہاں پر خوشی سے رہتے تھے مجھے بہت مزہ اتا تھا اپنے کزن کے ساتھ۔ میرے مامو اور مما نے مجھ سے بہت پیار کرتے تھے وہ مجھے اپنی بیٹی ملتے ہیں فاطمہ نے کہا میں مما بابا کے ساتھ رہتی ہیں میرا ایک بھائی ہے جو مجھ سے بڑا ہے وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے میری مما اور بابا م سے بہت پیار کرتا ہوں وہ ہر وقت میرے ساتھ ہوتی ہے مجھے کسی کی کوئی ٹینشن نہیں ہے کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو میرا بھائی سنبھال لیتا ہے اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوتی ہے اگے بڑھ کر اگے بڑھ کر کو ٹھیک کرتا ہے میں خوش نصیب ہوں مجھے میرے بھائی جیسا بھائی ملا اور اتنی اچھی فیملی عائشہ نے کہا ہم چار بہن بھائی تین بہن ہیں اور ایک بھائی بھائی جان سب سے بڑا ہے ایک بہن مجھے سے چھوٹی ہے اور ایک بڑی ہے ہم سب کو خوشی سے رہتے ہیں ہماری فیملی سے دوسرے سے بہت زیادہ پیار کرتی ہے ہم ہر وقت ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اگر کوئی مشکل نہ ہو تو اس کی مدد کرتے ہیں طاہرہ نے کہا ہے یہ تو بہت اچھی بات ہے۔یہ تینوں پھر کلاس میں چلی گئی ان تینوں نے کہا ہم ایک دوسرے کو جاننے کی ضرورت ہے کیوں نا ہم کہیں ایسی جگہ پر ملے جہاں کوئی نہ ہو طاہرہ نے کہا یہ پھر تم لوگوں کے کام ہے کہ تم لوگ کون سی جگہ ڈھونڈتے ہو کیونکہ میں یہاں لائی ہوں مجھے کچھ نہیں پتا انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم ڈھونڈ لیں گے عائشہ نے کہا کیوں نہ کوئی ریسٹورنٹ پر ملے فاطمہ نے کہا نہیں ہم ایک دوسرے کو اچھے سے جاننے کی کوشش کر رہے ہیں شاید ہماری کوئی پرائیویٹ باتیں بھی ہوں جو ہم تینوں ایک دوسرے سے شیئر کریں اگر اس دوران ہم باہر ملیں گے تو اس پاس کے لوگ ہماری بات سن لیں گے جو غلط ثابت ہو سکتا ہے کیوں نہ ہم کسی پارک میں ملیں جس میں اس پاس لوگ تو ہوں گے مگر وہ ہماری باتیں نہیں سنیں گے کیونکہ وہ اپنے کام میں مصروف ہوں گے تو فاطمہ نے کہا میرے گھر کے قریب ایک پارٹ ہیں ہم اس میں ملیں گے ابھی یہ باتیں کر رہے تھے جیسا رہا اگئے سر نے کہا ان لوگوں کا اب ایگزام یعنی منتھلی ایگزام ہو رہے ہیں اور تم لوگوں نے بہت اچھی تیاری کرنی ہے جو فیل ہوا میں اس کے والدین کو بلاؤں گا یہ سن کر سب بچوں نے کہا ٹھیک ہے سر سر نے جاتے ہوئے طاہرہ سے کہا اپ ٹیچر روم میں ائی طاہرہ سر کے جاتے ہیں ٹیچر روم میں چلی گئی کچھ دیر بعد وہ واپس ائی تو عائشہ نے کہا سر نے تمہیں کیا کہا ہے طاہرہ نے کہا سر نے مجھے کہا ہے اگر اس نظام میں تم فیل ہوئی تو میں تمہاری والدین کو بلاؤں گا مجھے مت سوچو کہ تم نہ یہ ہو تو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا طاہر نے کہا تم دونوں ڈری ہوئی کیوں ہو عائشہ نے کہا اخری بات سامنے جس لڑکی کو ٹیچر روم میں بلایا تھا اسے کالج سے نکال دے گا تھا اسی لیے ہم نے ڈر لگا تھا کہ سن نکل تم نے تو نکال نہیں دیا نے کہا فکر کے کوئی بات نہیں سر نے صرف مجھ سے یہی کہا ہے کہ اپنی پرائی پر توجہ دو یہ سن کر دونوں نے کہا ٹھیک ہے اگر تمہیں ہماری ضرورت ہو تو ہمیں بتانا عائشہ نے کہا کیوں نہ ہم تینوں ایک ساتھ بیٹھ کر پڑھائی کریں اور ایک دوسرے کی مدد کریں پھر وہ تینوں ایک دوسرے کی پڑھائی میں مدد کرنے لگی وہ ہر وقت پڑھائی میں مصروف نظر اتی تھی کبھی وہ پلاٹ میں جا کر بیٹھ کر پڑتی کبھی وہ کلاس ملا کر بیٹھ کر پڑھتے ہیں یہاں تک کہ رات کے تین تین بجے تک وہ پڑھائی کرتی ایک رات جب میری بہن ٹی وی لانچ میں بیٹھی تھی میری نیند اکھڑی میں نے جا کر دیکھا میری بہن پر رہی ہے میں نے کہا تم کیا کر رہی ہو اس نے کہا میں پڑھ رہی ہوں میں نے کہا میرے کہنے کا مطلب وہ تم ابھی تک سوئی نہیں میری بہن نے کہا نہیں بھائی مجھے پیپر کی تیاری کرنی ہے ہم تینوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہے کہ ہم بہت اچھے نمبر لائیں گے میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا وہ کہ پیپر موقع کے پیپر ختم ہو اور تم بیمار پڑ جاؤ میری بہن نے کہا بھائی ایسا کچھ نہیں ہوگا ہم تینوں نے بہت اچھی تیاری کی ہے ہمیں اب کسی چیز کی فکر نہیں ہے میں نے کہا ٹھیک ہے جلدی سو جانا کہنے لگے بھائی جا کر اپ سو جائیں ویسے اپ باہر کرنے کیا تھا میں نے کہا میں پانی پلایا تھا کہنے لگی بھائی اپ نے پانی پی لیا یا میں اپ کو یہ کرتی ہوں میں نے کہا میں بھی میں نے پی لیا تم بھی جا کر سو جاؤ کہنے لگے ٹھیک ہے بھائی میں سو جاؤں گی ویسے کیا اپ نے پیپروں کی تیاری کی ہے میں نے کہا مجھے تیاری کرنے کی کیا ضرورت ہے میں تو ایسے ہی پاس ہوں جاؤں گا جس نے کر میرے بہن غصہ کرنے لگی اور کہنے لگی بھائی اپ نے اگے کمپنی کو سنبھالنا ہے کہ کمپنی کے سی او ایسے ہوتے ہیں جیسے اپ ہیں اپ کو بہت اچھے نمبروں سے پاس ہونا ہے اپ کو ہر چیز میں چھونا چاہیے تاکہ اپ اچھے سے کمپنی سنبھا سکیں میں نے کہا جب مجھے اگے کمپنی ہی سنبھالنی ہے تو مجھے بہت ہائی کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے جب میں ایک کمپنی کا مالک ہوں تو پڑھنے کے کروں گا اپنا ٹائم پڑھائی میں ضائع کرنے کے بجائے کیوں نہ میں ابھی انجوائے کروں اور اگے جا کر کمپنی سنبھالوں کیونکہ جب میں کمپنی سنبھالوں گا تب مجھے انجوائے کرنے کا موقع نہیں ملے گا جیسے اب بابا کو نہیں ملتا میری بہن نے کہا بھائی اپ غلط کہہ رہے ہیں میں نے کہا اچھا مجھے نیند ا رہی ہے میں سونے جا رہا ہوں اور میں سونے چلا گیا
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD