عائشہ نے کہا طاہرہ تم فکر نہ کرو تمہاری بات تو ہم کبھی بھی تمہاری اس دوست کی طرح باہر نہیں نکالیں گے میری بات ہمیشہ ہمارے پاس نہیں رہے کہ ہم تینوں کے علاوہ کسی اور کو یہ بات پتہ نہیں چلے گی۔ فاطمہ نے کہا طاہر ہ ہے تمہارا کزن تمہارے ساتھ کیسے ہیں اس نے کہا میرے کز ن مجھ سے بہت زیادہ نفرت کرتے ہیں ہم لوگوں کو اپس میں بنتی نہیں ہے وہ چاہتے ہیں کہ میں واپس کوریا چلی جاؤں تاکہ وہ میرے باپ کی دولت پر مزے کر سکیں اور وہ ان کے مالک بن سکیں لیکن گر میں واپس اگئے اور میرے باپ کی ساری کی ساری دولت میری ہوگی اسی لیے وہ مجھ سے نفرت کرتا ہوں لیکن ابھی تو میں اپنے باپ کے گھر نہیں گئی میں اپنے دادا دادی کے پاس ہوں ان کے گھر میں ان کا ایک الگ گھر ہے جہاں میں ان کے ساتھ رہتی ہوں میرا بابا روزانہ شام کو مجھے ملنے اتے ہیں تو ابھی کبھی تو وہی ہمارے پاس رک جاتے ہیں لیکن زیادہ تر وہ کام ہم اس کو کہتے ہیں مجھے کسی کی بات کوئی برداشت نہیں ہوتی۔ لیکن پھر بھی جب تک میں برداشت کر سکتے ہو تب تک میں کرتی ہوں کیونکہ میں نے اپنی مما سے وعدہ کہتا ہے کہ میں کسی کو بھی بلا وجہ نہیں پٹائی کروں گی نہ ہی کسی سے جھگڑا کروں گی لیکن اگر کوئی مجھ پر بات کرے تو مجھے اتنا غصہ نہیں اتا جو میرے ارد گرد کے لوگوں پر بات کریں نا مجھے بہت کچھ ہوتا ہے اور ادھر کرتا ہے تم مجھ سے سر کھول ڈالو اور وہ لوگ جو میرے لیے اہم ہوتے ہیں ان کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں اور میں تم لوگوں سے گزارش ہے کہ اگر کبھی مجھے غصہ ائے اور اگر میں کسی سے جھگڑا کروں میری مما کے پوچھنے پر بھی انہیں مت بتانا اگر انہیں پتہ چل گیا تو وہ مجھے سزا دیں گے ان کی سزا سے میرے رنگ نہیں لگتا لیکن ان کے ناراض نہیں سمجھے ڈر لگتا ہے وہ مجھ سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کیوں انہوں نے مجھے منع کیا تھا کسی سے مت کرنا لیکن میری کزن اور میں ان فٹ بال والے گراؤنڈ میں کھیلنے گئے تھے وہیں پہلے ہمارا جھگڑا ایک لڑکی سے ہو گیا تھا میں نے اس کو بہت مارا تھا میرا کزن مجھے روکتا رہ گیا تھا اس نے کہا تھا کہ انٹی تم سے ناراض ہو جائیں گی ایسا مت کرو لیکن اس وقت مجھے غصہ ایا ہوا تھا میں نے اس کے لیے اس میں تھی پھر میں نے مما نے مجھ سے تین دن نہیں کی تھی میں نے تین دن بعد انہوں نے بنایا تھا اور بات تھی کہ میں جھگڑا نہیں کروں گی وہ کہتی ہیں کہ میں نے تمہیں لڑنا اس لیے سکھایا ہے کہ تم اپنی حفاظت کر سکوں نہ کہ دوسروں کی جو دوسروں کا بھلا کرتا ہے اس کو خود کا بھلا نہیں ہوتا ٹھیک ہے وہ خود مشکل میں پھنس جاتا ہے لیکن میں ان کے بعد ایک طرف سے سن کر دوسرے طرف سے نکال لیتی تھی انہوں نے مجھ پر نظر رکوانا شروع کر دیا تھا کہ میں کسی کے ساتھ جھگڑا کرتی ہوں یا نہیں میں نے خود کو بہت زیادہ برداشت کر یعنی اپنے غصے کو اتنا برداشت کرتا کہ مجھے سمجھ نہیں اتی تو میں کہوں پھر اہستہ اہستہ برداشت کرنے کی عادت سے ہو گئی جب میں کلاس میں ائی نا میں نے بچوں کی باتیں سن لی تھی وہ جو میرے بعد میں سوچتے تھے مگر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اور نہ ہی اگے پڑے گا اگر وہ میرے بال میں بات کریں۔ لیکن اس دن جب وہ ہم فزکس کے پر تیار کرتے ہیں لڑکیوں نے باتیں کی تھی مجھے بہت غصہ ہے میں دل کرتا ہوں اٹھ کر ان کا منہ توڑ دوں یا پھر ان کی ہڈی پس نیت کر دوں لیکن پھر میں نے خود کو کہ و اگر میں ان سے لڑائی مما کو کہوں گی کہ مجھے غصہ اگیا تھا اور مجھے میرے استاد کی بات یاد ائی جنہوں نے ہمیں لڑائی دکھائی انہوں نے کہا تھا کسی کمزور پر ہاتھ ڈالنا یعنی کسی کمزور سے لڑائی کرنا بری بات ہے میں نے سوچا اگر میری گر یہاں تے تو وہ کیا کرتے ان کی بات یاد اتے میں نے اپنا غصہ چھوڑا اور پلاٹ میں جا کر بیٹھ گئے اگر ائندہ کے بعد تمہیں کوئی تنگ کرے تم مجھے اب بتا نا ان کے ساتھ کیا کرنا ہے وہ میں کروں گی لیکن شرط ایک ہے کہ میری مما کو اس کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں چلے کہ میں نے کسی کے ساتھ جھگڑا کیا ہے یا نہیں کیا۔ میری مما نے مجھے ہر وہ کام سکھایا جو ایک لڑکی کو ہونا چاہیے یا ایک لڑکے کو انہوں نے کبھی یہ نہیں دیکھا میں لڑکی ہوں مجھے ہر وہ چیز سکھائی جو چاہے لڑکا کرے یا لڑکی کرو گھر کے کام سے لے کر باہر کے ہر کام تک س مجھے ایک کام ابھی تک نہیں اتا وہ یہی ہے کہ مجھے بزنس تمہارے میں اتنا نہیں پتا انہوں نے ان کے لیے بھی سوچ رکھا تھا کہ میں کس کے پاس بزنس کرنا سیکھنے جاؤں گی جن کے پاس بزنس سیکھنے جانا تھا انہوں نے مجھے سات لینگویج سکھائی ہیں کوریا پاکستانی چائنی انگلش عربی جرمنی اور ہندی ان کی بیوی نے مجھے کھانا بنایا تھا یہ سچ ہے کہ میری مما کے پاس ٹائم نہیں ہوتا تھا کہ وہ میرے پاس گزارے ہیں مگر انہوں نے میری تعلیم اور میرے پاس میں کسی قسم کی کوئی قسم نہیں چھوڑی وہ ہر کام سکھایا ہے جو میرے لیے سیکھنا ضروری تھا اپنے لیے لڑنا اپنی حفاظت کرنا اپنے حق کے لیے بولنا انہوں نے سوچ لیا تھا کہ مجھے اگے کیا کرنا ہے مجھے تو کبھی بھی اپنی زندگی جی پلاننگ نہیں کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی سب کچھ انہوں نے سوچ رکھا تھا تو میں پاکستان میں دیکھتے ہیں کہ اب وہ کیا کریں گے اور انہوں نے سوچا ہے پھر میں اب کیا کروں گی