bc

kooh-e-ana

book_age18+
0
FOLLOW
1K
READ
dark
mafia
like
intro-logo
Blurb

QUEENZohra isn't just a girl — she's the Queen of Islamabad's most feared girl gang. Loyalty is her rule.But when a hidden camera is found in her best friend's cafe, all eyes turn to her rival, 2 is a comeback.Chapters 1-3 are LIVE: The Camera, The Proof, and The 2 AM Deal.

chap-preview
Free preview
kooh-e-ana by zunaira nawaz
--- باب اول : رات گہری تھی۔ کیفے کا شٹر آدھا گرا ہوا تھا، کیونکہ زوہرہ کا اصول تھا، پورا کھولو گے تو پولیس آئے گی، آدھا کھولو گے تو صرف اپنے آئیں گے۔ اندر زوہرہ اپنی کرسی پر بیٹھی تھی۔ سامنے ٹھنڈی چائے رکھی تھی جسے اس نے ابھی تک ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ برابر میں نور بیٹھی چپس کھا رہی تھی اور ہر بات پر ایسا جملہ کس رہی تھی کہ سامنے والا چپ ہو جائے۔ دوسری طرف عروہ لیپ ٹاپ کھولے بیٹھی تھی، اس کی انگلیاں اتنی تیز چل رہی تھیں جیسے کسی کی پوری زندگی نکال رہی ہو۔ علیزے کونے میں کھڑی اپنے ہاتھوں پر پٹی باندھ رہی تھی، جیسے اسے پہلے سے پتہ ہو آج کچھ ہونے والا ہے۔ آیت سب کے لیے نئی چائے بنا رہی تھی اور وجیہہ خاموشی سے دوائیوں والا ڈبہ ترتیب دے رہی تھی۔ آیت نے کہا، "دیکھو وہ بس آنے والی ہے، دعا، بہت اچھی لڑکی ہے، میری خالہ کہہ رہی تھیں اس نے ہسپتال میں بہت مدد کی۔ پلیز آج کوئی اسے تنگ نہ کرے۔" زوہرہ نے بنا دیکھے کہا، "دیکھتے ہیں۔" اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ آیت مسکرا کر اٹھی، "آ گئی!" اس نے شٹر تھوڑا اوپر کیا۔ باہر دعا کھڑی تھی، ہاتھ میں کیک کا ڈبہ۔ دعا بولی، "ہیلو، میں دعا ہوں۔" آیت نے سب کی طرف دیکھا، "یہی ہے وہ لڑکی جس نے ہسپتال میں میری خالہ کا خیال رکھا تھا۔" زوہرہ نے دعا کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ بس ایک نظر میں اسے وہ لڑکی زیر لگی۔ اس کی میٹھی آواز، اس کا کیک پکڑنے کا طریقہ، سب کچھ اسے بناوٹی لگا۔ ایک پل کے لیے زوہرہ کے ذہن میں دو سال پرانا بازار والا تھپڑ گونجا، جیسے یہی حساب واپس آیا ہو۔ دعا نے کیک آگے کیا۔ "یہ آپ سب کے لیے، میں نے خود بنایا ہے۔" نور نے آہستہ سے کہا، "خود بنایا ہے؟ تمہارے ہاتھ پر جو نشان ہے وہ تو کہہ رہا ہے تم کل کسی سے لڑ کر آئی ہو۔" "دعا... وہ... وہ گر گئی تھی۔" عروہ نے لیپ ٹاپ سے نظر اٹھائے بغیر کہا، "عجیب بات ہے، تم گرتی ہو تو نشان ہاتھ پر بنتا ہے، ہم گرتے ہیں تو گھٹنے پر بنتا ہے۔ تمہاری فزکس بھی الگ ہے۔" سب ہنس پڑے۔ دعا بھی زبردستی ہنسی۔ زوہرہ اب تک چپ تھی۔ پھر اس نے بہت آرام سے کہا، "دعا، تمہاری مسکراہٹ اتنی میٹھی ہے کہ میری چائے پھیکی لگ رہی ہے۔ تھوڑی کم کیا کرو، ورنہ یہاں سب کو شوگر ہو جائے گی۔" پورا کیفے پھر ہنس پڑا۔ دعا کا چہرہ لال ہو گیا۔ وہ بولی، "مجھے لوگوں کو سنبھالنا بہت اچھا آتا ہے، میں سب کو قابو میں رکھ سکتی ہوں۔" یہ لفظ سنتے ہی زوہرہ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں۔ "قابو؟ یہاں قابو صرف ایک کا چلتا ہے۔ اور وہ تم نہیں ہو۔ تم پہلے اپنے بال تو قابو کر لو جو اڑ رہے ہیں، گینگ بعد میں قابو کرنا۔" علیزے نے ہنستے ہوئے کہا، "کیک چھوٹا ہے، تمہارا دعویٰ بڑا ہے، حساب برابر نہیں ہو رہا۔" اتنے میں پھر دروازہ زور سے کھلا، اس بار بغیر دستک کے۔ ابیہا کی ایک لڑکی اندر آئی، "یہ جگہ خالی کرو، اب یہ ابیہا کی ہے۔" علیزے فوراً آگے بڑھی، لیکن زوہرہ نے اسے ہاتھ سے روک دیا۔ عروہ نے ایک بٹن دبایا۔ اگلے ہی لمحے اس لڑکی کے اپنے فون سے اس کی اپنی آواز بجنے لگی، "میں ابیہا کی نوکرانی ہوں، مجھے تنخواہ نہیں ملتی، صرف گالیاں ملتی ہیں۔" وہ لڑکی شرمندہ ہو کر بھاگ گئی۔ کیفے ہنسی سے گونج اٹھا۔ دعا نے حیران ہو کر کہا، "تم لوگ کتنے زبردست ہو، میں بھی تمہارے جیسی بننا چاہتی ہوں۔" زوہرہ نے اسے دیکھا اور کہا، "میرے جیسی بننا آسان نہیں۔ اس کے لیے پہلے سچ بولنا سیکھنا پڑتا ہے۔ اور تمہیں دیکھ کر لگ رہا ہے تم نے آج تک سچ بولا ہی نہیں۔ مجھے تم پہلے ہی لمحے سے اچھی نہیں لگی۔" "دعا کا دل بیٹھ گیا۔ وہ جلدی سے بولی، "میں کل پھر آؤں گی۔" زوہرہ نے ٹھنڈے لہجے میں کہا، "ضرور آنا۔ دروازہ سب کے لیے کھلا ہے۔ لیکن یاد رکھنا، یہاں جھوٹی مسکراہٹ زیادہ دیر نہیں ٹکتی۔" دعا کیک میز پر رکھ کر چلی گئی۔ باہر نکلتے ہی اس نے ابیہا کو کال کی، "وہ زوہرہ مجھے شک کی نظر سے دیکھ رہی تھی، اسے میں پسند نہیں آئی۔" اندر، جیسے ہی دروازہ بند ہوا، آیت کیک کی طرف بڑھی، "چلو کیک کھولتے ہیں۔" وجیہہ نے فوراً اس کا ہاتھ روک لیا۔ "اس کیک کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔" آیت نے کہا، "کیوں؟" وجیہہ نے ڈبے کو بغیر چھوئے، ایک قلم سے اس کا کونہ ہلکا سا کھولا۔ اندر کریم کے نیچے ایک چھوٹی سی کالی لائٹ جل بجھ رہی تھی۔ وجیہہ بولی، "کیونکہ اس میں آنکھ لگی ہوئی ہے۔ اور اس میں سے ابھی بھی روشنی آ رہی ہے، مطلب یہ ابھی بھی دیکھ رہا ہے۔" عروہ نے لیپ ٹاپ گھمایا۔ اسکرین پر اسی کیفے کی ویڈیو چل رہی تھی۔ "اور میں نے اس کا تار اپنے پاس جوڑ لیا ہے۔ اب وہ نہیں، ہم دیکھ رہے ہیں۔" نور نے ڈبے میں سے وہ کالا چھوٹا سا کیمرہ نکال کر میز پر رکھا۔ زوہرہ نے اسے اٹھایا، اس میں دیکھ کر مسکرائی، اور بولی، "سن ابیہا، اگلی بار جاسوس بھیجے تو ایسی بھیجنا جسے دیکھ کر الٹی نہ آئے۔ یہ والی تو مجھے پہلے دن سے ہی زہر لگ رہی ہے۔ اور ہاں، کیمرہ نیا لے کر آنا، یہ والا تو ہم دو سال پہلے استعمال کرتے تھے۔" اس نے کیمرہ زمین پر مار کر توڑ دیا۔

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

Unscentable

read
2.0M
bc

He's an Alpha: She doesn't Care

read
794.2K
bc

Claimed by the Biker Giant

read
2.0M
bc

Holiday Hockey Tale: The Icebreaker's Impasse

read
1.0M
bc

A Warrior's Second Chance

read
373.5K
bc

Not just, the Beta

read
357.1K
bc

The Broken Wolf

read
1.2M

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook