bc

128

book_age18+
0
FOLLOW
1K
READ
family
HE
like
intro-logo
Blurb

Two families living under the same roof — one upstairs, one downstairs.

Mehrma Shah, the quiet dreamer, and Zaviyal Shah, her confident cousin, never imagined love could bloom through walls.

Between teasing glances, unspoken words, and unexpected moments, a slow love begins to grow.

"The One Who Lives Upstairs" is a heart-touching tale of family, destiny, and the love that finds its way when least expected.

chap-preview
Free preview
رائٹر نام ۔زیکاش ناول ۔ وہ جو اوپر ریہتی ہے
💫 باب 1 — وہ جو اوپر رہتی ہے۔ شاہ ولا، گلبرگ کے پرسکون علاقے میں واقع ایک پرانی مگر خوبصورت کوٹھی تھی۔ گھر دو منزلوں پر مشتمل تھا۔ اوپر والے حصے میں سفیر صاحب اپنی بیوی نوشین بیگم، بیٹی مہرما اور بیٹے آزل کے ساتھ رہتے تھے۔ نیچے والے حصے میں فاروق صاحب اپنی بیوی صبیحہ بیگم، بیٹی اَریم اور بیٹے زاویال کے ساتھ۔ دونوں بھائیوں کے درمیان کبھی بے مثال محبت ہوا کرتی تھی — لیکن وقت کے ساتھ ایک چھوٹی سی خاندانی غلط فہمی نے سب بدل دیا۔ اب سلام دُعا تھی، مگر دلوں کے دروازے بند۔ صبح کے وقت اوپر سے برتنوں کی کھنک اور نیچے سے کار کے ہارن کی آوازیں آتیں، جیسے ایک ہی گھر میں دو دنیا بستیں ہوں۔ اس دن مہرما چھت پر پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ نیچے زاویال لان میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔ ہوا میں چمپا کے پھولوں کی خوشبو تھی، اور شاید کچھ ان کہے جذبات کی بھی۔ زاویال نے نگاہ اوپر اُٹھائی — “اب بھی ہر پودے سے اتنی باتیں کرتی ہو، مہرما؟” مہرما چونکی۔ اسے یاد تھا، بچپن میں زاویال اُسے “پھولوں والی مہرما” کہہ کر چھیڑا کرتا تھا۔ “جی، کیونکہ پھول دل کی بات سمجھ لیتے ہیں، انسانوں کی طرح ضدی نہیں ہوتے۔” اس نے مسکرا کر کہا، مگر دل کے اندر ہلکی سی جنبش چھپ گئی۔ زاویال ہنسا، “ہو سکتا ہے انسانوں نے بھی بدلنے کی کوشش کی ہو…” اتنے میں نیچے سے صبیحہ بیگم کی آواز آئی، “زاویال بیٹا! اوپر تمہارے تایا جی کو یہ خط دینا ہے، لے جاؤ!” زاویال نے لفافہ لیا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ دروازہ کھلا — 💫 باب 2_احساس کی شروعات ۔آنکھوں میں وہی گہرائی جو کبھی بچپن میں اسے الجھا دیتی تھی۔ “السلام علیکم،” زاویال نے ہلکی آواز میں کہا، “امی نے کہا یہ تایا ابو تک پہنچا دوں۔” مہرما چند لمحے اُسے دیکھتی رہی، پھر آہستہ سے بولی، “بابا باہر گئے ہیں، میں دے دوں گی۔” زاویال نے لفافہ آگے بڑھایا۔ مہرما نے لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا — انگلیاں لمحے بھر کو ٹکرائیں۔ دونوں نے فوراً ہاتھ پیچھے کر لیے، مگر اس چھو جانے والے پل نے جیسے دل میں ایک چھوٹی سی چنگاری جلا دی۔ “تم اب بھی اتنی جلدی گھبرا جاتی ہو؟” زاویال نے ہنستے ہوئے کہا۔ “اور آپ اب بھی ہر بات نوٹ کرتے ہیں؟” مہرما نے جواب میں کہا مگر آواز میں وہی پرانی لرزش تھی۔ “عادت ہے…” زاویال کی مسکراہٹ میں نرمی تھی، “کچھ لوگ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یادیں نہیں بدل سکتیں۔” مہرما نے نظریں جھکا لیں۔ “کبھی کبھی یادیں ہی سب سے بڑی ضد بن جاتی ہیں، زاویال۔” اسی لمحے نوشین بیگم کی آواز آئی، “مہرما بیٹا! کون آیا ہے دروازے پر؟” “زاویال ، امی…” مہرما نے کہا۔ ۔ ، “امی کو سلام کہنا، میں چلتا ہوں۔” وہ پلٹا، مگر جاتے جاتے دروازے کی چوکھٹ پر رکا — “اور ہاں… پودوں کو زیادہ پانی نہ دینا، کبھی کبھی جڑیں بھی ڈوب جاتی ہیں۔” دروازہ بند ہوا تو مہرما نے سانس لی۔ دل کے اندر جیسے ہلکی سی جنبش ہوئی۔ “کیا وہ واقعی بدل گیا ہے… یا میں اُسے نئے سرے سے دیکھ رہی ہوں؟” نیچے لان میں زاویال نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بادلوں کے بیچ سورج چھپ رہا تھا، اور اس کے دل میں ایک خیال ابھر رہا تھا — “کبھی کبھی فاصلے بھی وہ باتیں کہہ دیتے ہیں جو الفاظ نہیں کہہ پاتے…” 🌧️💞 باب 3_پہلی بار دل دھڑکا شاہ ولا میں شام اتر رہی تھی۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی، اور نیچے لان میں زاویال شاہ بیٹھا کچھ کاغذات دیکھ رہا تھا۔ اوپر بالکنی سے مہرما شاہ کے گملوں میں لگے پھولوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، کچھ بوندیں سیدھی زاویال کے کاغذوں پر گریں۔ زاویال نے اوپر دیکھا — وہی چہرہ، جو کبھی بچپن کی ہنسیوں کا حصہ تھا، اب جوانی کی خاموشی میں بدل چکا تھا۔ “اب بھی اتنی لاپرواہ ہو، مہرما؟” اس نے نیچے سے آواز دی۔ مہرما چونکی، “میں نے جان بوجھ کر نہیں گرایا۔” زاویال نے ہلکی مسکراہٹ دی، “کچھ کام بے اِرادہ بھی دل سے ہو جاتے ہیں…” مہرما نے پلکیں جھکا لیں۔ دل کی دھڑکن معمول سے تیز تھی۔ وہ خود سے الجھ گئی — “یہ سب کیوں محسوس ہو رہا ہے؟ یہ تو بس زاویال ہے… میرا کزن…” رات کو بجلی چلی گئی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ اوپر نوشین بیگم موم بتی ڈھونڈ رہی تھیں، اور مہرما ہاتھ میں موبائل کی روشنی لیے پانی لینے نیچے سیڑھیاں اُترنے لگی۔ سیڑھی کے موڑ پر روشنی کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی دی — زاویال ہاتھ میں لالٹین لیے کھڑا تھا۔ “اندھیروں سے اب بھی ڈرتی ہو؟” اس نے مسکرا کر پوچھا۔ مہرما نے نظریں اوپر اُٹھائیں، “ڈرتی نہیں… بس روشنی اچھی لگتی ہے۔” زاویال نے لالٹین آگے بڑھائی، “کبھی کبھی روشنی پاس ہو کر بھی محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ ہم دیکھنا نہیں چاہتے…” دونوں چند لمحے خاموش رہے۔ بس سانسوں کی ہلکی سی آواز، اور لالٹین کی مدھم روشنی۔ مہرما کے دل نے جیسے پہلی بار زور سے دھڑکنا شروع کیا۔ نہ یہ خواب تھا، نہ حقیقت — بس ایک احساس… جو الفاظ مانگ رہا تھا۔ اتنے میں آزل کی آواز آئی، “باچی! جنریٹر چل گیا!” مہرما نے جلدی سے قدم پیچھے کیے، زاویال نے لالٹین نیچے رکھی، مگر نگاہوں میں وہی چمک باقی تھی۔ “اندھیرا ختم ہو گیا،” زاویال نے آہستہ سے کہا، “لیکن کچھ احساس روشنی میں بھی چھپ نہیں پاتے…” مہرما نے کچھ نہ کہا۔ صرف خاموشی سے اوپر چلی گئی، مگر اس کے دل میں وہ لمحہ جیسے نقش ہو گیا۔ اس رات چھت پر چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ مہرما آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی — اس کے دل میں ہلکی سی ہلچل تھی۔ “زاویال بدل گیا ہے… یا میں بدل گئی ہوں؟” وہ خود سے بولی، “شاید محبت وہ چیز ہے جو ایک ہی گھر میں رہ کر بھی انجان بنائے رکھتی ہے…” 🌙💞💫 باب 4 — دل کی سرگوشیاں صبح کی نرم دھوپ شاہ ولا کے صحن میں پھیلی ہوئی تھی۔ نیچے زاویال لان میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا، اور اوپر بالکنی سے چائے کی ہلکی خوشبو آ رہی تھی — مہرما کی چائے۔ زاویال نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ مہرما سفید شال اوڑھے، بالوں کو کلپ سے باندھے چائے پی رہی تھی۔ ہوا میں اس کے بالوں کی لٹ اُڑ کر گال سے لگی تو زاویال کے دل کی رفتار جیسے رک گئی۔ “تمہارے اوپر رہنے کا فائدہ یہ ہے کہ چاہ کر بھی نظر ہٹانا مشکل ہوتا ہے…” اس نے دل ہی دل میں کہا، مگر لب خاموش رہے۔ دوپہر کو گھر کے صحن میں فاروق صاحب اور سفیر صاحب بیٹھے پرانی یادوں کی بات کر رہے تھے۔ ماحول میں نرمی تھی، برسوں بعد دونوں بھائی ایک ساتھ مسکرا رہے تھے۔ “اوپر تمہاری بیٹی بہت سنجیدہ لگتی ہے،” فاروق صاحب نے کہا۔ سفیر صاحب ہنسے، “بس اپنے بابا پر گئی ہے، بولتی کم ہے، سوچتی زیادہ۔” زاویال نے یہ بات سنی تو مسکرا دیا۔ “واقعی، وہ بولنے سے زیادہ آنکھوں سے بات کرتی ہے…” دل نے کہا، اور وہ خود بھی چونک گیا۔ شام ڈھلنے لگی۔ اوپر بالکنی میں مہرما گملوں کو پانی دے رہی تھی، نیچے زاویال نے کتاب بند کی اور اوپر دیکھا۔ “کتنی بار کہا ہے، پودوں کو زیادہ پانی نہ دیا کرو، جڑیں سڑ جاتی ہیں۔” زاویال کی آواز میں وہی پرانی چھیڑ چھاڑ تھی۔ “اور آپ اب بھی دوسروں کے معاملے میں ٹانگ اڑانے سے باز نہیں آتے؟” مہرما نے جواب دیا، مگر چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آ گئی۔ زاویال نے مسکرا کر کہا، “کچھ عادتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں چھوڑنا ممکن نہیں ہوتا… بالکل تمہاری طرح۔” مہرما لمحے بھر کو چپ رہی۔ دل جیسے ہلکا سا کانپا۔ پھر دھیرے سے بولی، “اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں بدلا نہیں جا سکتا، چاہے دل کتنا بھی چاہے…” زاویال نے نظریں اوپر اٹھا کر کہا، “ہو سکتا ہے کچھ لوگ بدلنا نہیں چاہتے، صرف سمجھا جانا چاہتے ہیں…” دونوں چند لمحے خاموش رہے۔ ہوا میں جیسے کوئی نرم سا احساس تیر رہا تھا۔ رات کو مہرما نے اپنی ڈائری کھولی۔ صفحے پر لکھا: “آج زاویال کی آنکھوں میں کچھ نیا تھا۔ جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر خاموشی میں چھپا ہوا ہر لفظ میرے دل تک پہنچ گیا۔ شاید… محبت ہمیشہ شور نہیں کرتی، کبھی کبھی بس دل کی سرگوشی بن کر رہ جاتی ہے…” 💞 اگلی صبح زاویال نے لان میں پڑی وہی ڈائری دیکھ لی جو مہرما بھول گئی تھی… صفحہ کھلا تھا — اور اس پر لکھی وہی تحریر، جسے پڑھ کر زاویال کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی، مگر آنکھوں میں ایک چمک سی اُبھر آئی — “وہ بھی محسوس کرتی ہے…” 🌙 💫 باب 5 — دل کا اقرار رات کے دس بج چکے تھے۔ شاہ ولا میں خاموشی تھی، مگر زاویال کے دل میں طوفان سا مچا ہوا تھا۔ ڈائری کا وہ صفحہ اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا — مہرما کے لکھے ہوئے الفاظ، جن میں احساس چھپا تھا، محبت کی وہ ہلکی خوشبو، جو دل کو قرار نہ لینے دیتی تھی۔ زاویال نے ڈائری میز پر رکھی، اور آئینے میں خود کو دیکھا — “اب چھپانے سے کیا ہوگا؟” دل نے سرگوشی کی۔ “وہ بھی محسوس کرتی ہے… اب بات کرنی چاہیے۔” اگلی صبح… اوپر بالکنی میں مہرما کتاب لیے بیٹھی تھی، اور نیچے زاویال لان میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ ہوا میں خنکی تھی، اور دلوں میں خاموش کشمکش۔ زاویال نے اوپر دیکھا، “اگر میں ایک بات کہوں، برا تو نہیں مانو گی؟” مہرما چونک گئی، مگر نرم لہجے میں بولی، “یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بات کیسی ہے…” زاویال نے مسکرا کر کہا، “بات سچی ہے… مگر دل سے نکلی ہے۔” مہرما خاموش رہی، زاویال کے قدم آہستہ آہستہ زینے چڑھنے لگے۔ دونوں کے درمیان فاصلہ کم ہو رہا تھا، مگر احساسوں کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔ زاویال سامنے آ کر رکا۔ “تم جانتی ہو، تمہارے الفاظ میرے ہاتھ لگے ہیں۔ وہ ڈائری…” مہرما کے چہرے کا رنگ بدل گیا، “وہ تم نے پڑھی؟” زاویال دھیرے سے بولا، “ہاں، اور ہر لفظ میرے دل تک اُتر گیا۔ شاید تم نے جو لکھا، وہ میں برسوں سے محسوس کر رہا تھا۔” مہرما نے نظریں چرا لیں، “میں نے تو کچھ نہیں لکھا… بس دل ہلکا کر رہی تھی…” زاویال نے قدم آگے بڑھایا، “کبھی کبھی دل ہلکا کرتے کرتے، ہم کسی کا دل چھو لیتے ہیں، مہرما۔ اور تم نے میرا دل چھو لیا ہے…” چند لمحے خاموشی رہی۔ صرف ہوا کے ہلکے جھونکے، اور دلوں کی دھڑکنیں سنائی دے رہی تھیں۔ پھر مہرما نے نظریں اٹھا کر کہا، “تمہیں نہیں لگتا ہم بہت مختلف ہیں؟ تم بے فکر، باتونی، اور میں… خاموش، ضدی…” زاویال ہنسا، “ہاں، بالکل مختلف… اسی لیے تو خوبصورت لگتے ہیں اکٹھے۔ اگر ہم ایک جیسے ہوتے تو شاید ایک دوسرے کو محسوس نہ کر پاتے…” مہرما کے چہرے پر ایک نرم مسکراہٹ آ گئی۔ “تم ہر بات کو اتنا خوبصورت بنا دیتے ہو…” زاویال نے ہلکے لہجے میں کہا، “شاید تمہارے ہونے سے سب کچھ خوبصورت لگنے لگا ہے…” رات کو زاویال نے اپنے کمرے میں بیٹھ کر وہی ڈائری دوبارہ کھولی۔ اب کے اس نے ایک نیا صفحہ پر لکھا: “آج میں نے اقرار کیا، مگر لفظوں سے نہیں — آنکھوں سے۔ محبت کبھی بول کر نہیں ہوتی، کبھی کبھی بس چپ رہ کر دل میں لکھی جاتی ہے…” 💞💐 باب 6: نئی شروعات شاہ ولا کے آنگن میں آج برسوں بعد چہل پہل تھی۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ اتنے دنوں کی خاموشی کے بعد گھر میں پھر سے ہنسی کی گونج گونجے گی۔ صفیر صاحب اور فاروق صاحب لان میں بیٹھے تھے — درمیان میں چائے رکھی تھی، اور بات وہی چل رہی تھی جو برسوں سے رکی ہوئی تھی۔ “فاروق، بچوں کے درمیان جو بھی ہوا، میرا خیال ہے اب وقت آ گیا ہے کہ سب کچھ صاف ہو جائے۔” صفیر صاحب کے لہجے میں نرمی تھی۔ فاروق صاحب نے سر ہلایا، “ہاں بھائی، زاویال نے خود مجھ سے سب کہا ہے۔ میں نے اس کی آنکھوں میں سچائی دیکھی ہے۔ اور سچ کہوں تو، مہرما جیسی لڑکی شاید قسمت والوں کو ملتی ہے…” یہ سن کر صفیر صاحب مسکرائے۔ “تو پھر فیصلہ ہو گیا۔” گھر کے اندر خبر پھیل گئی — مہرما کی ماں نے حیران ہو کر کہا، “سچ؟ یعنی… زاویال اور مہرما کی بات طے ہوگئی؟” فاروق صاحب نے ہلکے انداز میں کہا، “ہاں بھابھی، محبت کو اب عزت کا نام دینا چاہیے۔” اوپر مہرما کو جیسے یقین نہ آیا۔ آنکھوں میں آنسو تھے، مگر چہرے پر مسکراہٹ۔ اس نے آہستہ سے بالکنی سے نیچے دیکھا — زاویال لان میں کھڑا تھا زاویال نے اوپر دیکھ کر کہا، “کہا تھا نا… وقت بدلنے والا ہے۔” مہرما ہنس دی — وہ ہنسی جو زاویال کے دل کی دھڑکن بن گئی۔ 💞 آخری باب — "وہ جو اوپر رہتی ہے" بارش کی ہلکی بوندیں چھت پر ٹکرا رہی تھیں۔ شاہ ولا کے زینے بھیگ چکے تھے، مگر زاویال کے قدم نہیں رکے۔ وہ اسی بالکنی کی طرف بڑھ رہا تھا — جہاں کبھی محبت نے جنم لیا تھا، اوپر مہرما بیٹھی تھی، ہاتھ میں وہی ڈائری، جو اب اُس کے دل کی گواہ بن چکی تھی۔ آنکھوں میں نمی تھی، مگر دل میں ابھی بھی اُمید کی ایک آخری کرن باقی تھی۔ زاویال نے آہستہ سے آواز دی، “مہرما…” وہ چونکی، مگر نظریں نہیں اٹھائیں۔ زاویال آگے بڑھا، مہرما نے دھیرے سے ڈائری بند کی چند لمحے خاموشی چھا گئی۔ پھر مہرما نے ایک قدم آگے بڑھایا، “کبھی کبھی، زاویال… دل بھٹک کر بھی وہیں لوٹ آتا ہے، جہاں سے محبت نے آغاز لیا تھا۔” زاویال مسکرا دیا — وہ مسکراہٹ جو کئی دنوں بعد اُس کے لبوں پر لوٹی تھی۔ “تو کیا ہم پھر سے… وہ سب شروع کر سکتے ہیں؟” “شروع نہیں، زاویال…” مہرما نے نرمی سے کہا، “اب ہم مکمل کریں گے… وہ کہانی، جو ادھوری رہ گئی تھی۔” بارش تیز ہو چکی تھی، زاویال نے ہاتھ بڑھایا — مہرما نے پکڑ لیا۔ نیچے صحن میں درخت کے پتے جھوم رہے تھے، اور شاہ ولا کے اوپر والے حصے میں، محبت نے پھر سے اپنی سانس بحال کر لی۔ "وہ جو اوپر رہتی ہے" صرف ایک پتے کا پتہ نہیں تھا — بلکہ اُس دل کا پتہ تھا، جہاں محبت رہتی تھی، خاموش، مگر سچی۔ ❤️

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

His Redemption (Complete His Series)

read
5.7M
bc

Lauchlan The Betrayed (book 2 of Hell in the Realm series)

read
71.7K
bc

A Warrior's Second Chance

read
351.9K
bc

True Luna

read
1.3M
bc

The Warrior's Broken Mate

read
204.9K
bc

Holiday Fling with the Fae King

read
12.1K
bc

Alpha's Rejected Mate

read
1.3M

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook