bc

دی شیڈو آف ڈسٹینی (The Shadow of Destiny)

book_age18+
0
FOLLOW
1K
READ
billionaire
forbidden
drama
sweet
bxg
werewolves
highschool
mythology
pack
sassy
naive
like
intro-logo
Blurb

دی شیڈو آف ڈسٹینی (The Shadow of Destiny)

بلرب (Blurb):

ایک چمکتی ہوئی قدیم چابی... ایک صدیوں پرانا پراسرار صندوق... اور دو اجنبی جو ایک ہی ان دیکھے خواب کے دھاگے سے بندھے ہیں۔

زاویار کی زندگی اس دن بالکل بدل جاتی ہے جب اسے اپنے دادا کی پرانی تجوری سے اندھیرے میں نیلے رنگ میں چمکنے والی ایک چابی ملتی ہے۔ دوسری طرف، آثارِ قدیمہ کی طالبہ مہرین مسلسل ایک ایسے خواب کے عذاب میں مبتلا ہے جس میں وہی نیلی چابی اور ایک خوفناک حویلی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

جب میوزیم میں رکھے ایک قدیم صندوق کو چھوتے ہی پراسرار طاقتوں کا دھماکہ ہوتا ہے، تو زاویار اور مہرین کی نظریں پہلی بار ملتی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنی قسمت کے اس تعلق کو سمجھ پاتے، اندھیرے میں سے ایک تاریک سایا ان کی طرف بڑھتا ہے—ایک ایسا وجود جو اس چابی کی طاقت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

کیا زاویار اور مہرین اس قدیم راز کی تہوں کو کھول پائیں گے؟ یا وہ اپنے ہی ماضی کے اس چمکتے ہوئے جال میں ہمیشہ کے لیے قید ہو جائیں گے؟

chap-preview
Free preview
Untitled Episode
دی شیڈو آف ڈسٹینی (The Shadow of Destiny) ژانر (Genre): پراسرار (Mystery)، رومانس (Romance)، فینٹسی (Fantasy) ہدف قارئین (Target Audience): لڑکے اور لڑکیاں (Boys & Girls) زبان: اردو (Urdu) بلرب (Blurb) ایک چمکتی ہوئی قدیم چابی... ایک صدیوں پرانا پراسرار صندوق... اور دو اجنبی جو ایک ہی ان دیکھے خواب کے دھاگے سے بندھے ہیں۔ زاویار کی عام سی زندگی اس دن بالکل بدل جاتی ہے جب اسے اپنے دادا کی پرانی تجوری سے اندھیرے میں نیلے رنگ میں چمکنے والی ایک چابی ملتی ہے۔ دوسری طرف، آثارِ قدیمہ کی طالبہ مہرین مسلسل ایک ایسے خواب کے عذاب میں مبتلا ہے جس میں وہی نیلی چابی اور ایک خوفناک حویلی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ جب میوزیم میں رکھے ایک قدیم صندوق کو چھوتے ہی پراسرار طاقتوں کا دھماکہ ہوتا ہے، تو زاویار اور مہرین کی نظریں پہلی بار ملتی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنی قسمت کے اس تعلق کو سمجھ پاتے، اندھیرے میں سے ایک تاریک سایا ان کی طرف بڑھتا ہے—ایک ایسا وجود جو اس چابی کی طاقت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ باب 1: اندھیرے کا اشارہ زاویار کے لیے پرانی اور گمنام چیزیں محض تاریخ کا حصہ نہیں تھیں، بلکہ وہ ان میں سے چھپے ہوئے راز تلاش کرنے کا جنون رکھتا تھا۔ 22 سالہ زاویار ایک خاموش اور سنجیدہ مزاج لڑکا تھا جو اکثر اپنا وقت شہر کے قدیم کتب خانوں اور آثارِ قدیمہ کی سائٹس پر گزارتا۔ لیکن اس کی عام سی زندگی نے اس دن ایک نیا موڑ لیا جب اس کے دادا کی وفات کے بعد ان کی پرانی حویلی کی صفائی کے دوران اسے ایک دھاتی تجوری ملی۔ تجوری کے اندر ململ کے کپڑے میں لپٹا ہوا ایک عجیب و غریب تعویذ اور ایک بھاری چاندی کی چابی رکھی تھی۔ چابی پر قدیم لاطینی یا شاید کسی نایاب زبان کے رموز کُندہ تھے جو عام روشنی میں تو مدہم نظر آتے، لیکن جیسے ہی رات کا اندھیرا پھیلتا، وہ رموز ہلکے نیلے رنگ میں چمکنے لگتے۔ زاویار نے اس چابی پر تحقیق کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن شہر کی کسی لائبریری یا انٹرنیٹ کے کسی آرکائیو میں ان نشانات کا کوئی ذکر نہ ملا۔ دوسری طرف، شہر کے سب سے بڑے تاریخی میوزیم میں کام کرنے والی 21 سالہ مہرین اپنی ہی ایک الگ کشمکش سے گزر رہی تھی۔ مہرین ایک ذہین، خوددار اور پرجوش لڑکی تھی جو آثارِ قدیمہ میں ماسٹرز کر رہی تھی۔ پچھلے ایک ہفتے سے اسے مسلسل ایک ہی خواب آرہا تھا—ایک تاریک اور ویران حویلی، جس کے مرکزی دروازے پر نیلی روشنی سے چمکتا ہوا ایک تالا لگا تھا، اور اس تالے کو کھولنے کے لیے ایک چابی فضا میں تیر رہی ہوتی۔ ایک دن میوزیم میں ایک نایاب، صدیاں پرانا لکڑی کا صندوق نمائش کے لیے لایا گیا۔ اس صندوق کے گرد پیتل کی پٹیاں لگی ہوئی تھیں اور ان پٹیوں پر بالکل وہی نشانات تراشے گئے تھے جو مہرین اپنے خواب میں دیکھتی آرہی تھی۔ مہرین کے قدم خود بخود اس صندوق کی طرف اٹھے۔ اس نے جیسے ہی صندوق کی سطح پر اپنی انگلیاں رکھیں، ایک شدید نیلے رنگ کا شرارہ پیدا ہوا۔ پورے میوزیم میں ایک دھماکے کے ساتھ مین پاور سپلائی ٹھپ ہو گئی اور چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔ اسی لمحے میوزیم کے مرکزی دروازے سے زاویار داخل ہوا۔ اس کی جیب میں رکھی ہوئی چاندی کی چابی اتنی شدید گرم ہو چکی تھی کہ اس کی سانسیں رکنے لگیں۔ وہ اس چابی کی پراسرار کشش کا پیچھا کرتے ہوئے ہی اس میوزیم تک پہنچا تھا۔ اندھیرے میں جب زاویار اور مہرین کی نظریں ملیں، تو مہرین کی نگاہ سیدھی زاویار کے ہاتھ میں پکڑی اس چابی پر پڑی جو اس وقت نیلے رنگ کی تیز روشنی سے چمک رہی تھی۔ باب 2: تاریک سایا اور راز کا دروازہ میوزیم کا ہال سائیں سائیں کر رہا تھا۔ شیشے کے ٹوٹنے کی آوازیں اور مسلسل چمکتی ہوئی نیلی روشنی نے ماحول کو انتہائی خوفناک بنا دیا تھا۔ باہر سے آنے والا تاریک سایا اب میوزیم کے مہراب دار دروازے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ اس سائے کے گرد ایک سرد اور زہریلی دھند لپٹی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ہال کا درجہ حرارت نقطہ انجماد تک گرنے لگا۔ زاویار نے مہرین کی کلائی کو سختی سے تھام رکھا تھا اور اس کا دوسرا ہاتھ اپنی جیب میں موجود اس چابی پر تھا جو اب اتنی گرم ہو چکی تھی کہ اس کی جلد جلنے کا احساس ہو رہا تھا، لیکن اس نے چابی کو نہیں چھوڑا۔ "یہ... یہ کیا چیز ہے؟" مہرین کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی، لیکن اس کی آنکھیں اس تاریک وجود سے زیادہ اس نایاب صندوق پر جمیں تھیں جو لائٹس بند ہونے کے باوجود اب خود بخود مدہم روشنی خارج کر رہا تھا۔ "مجھے نہیں معلوم، لیکن اس کا مقصد وہی ہے جو اس چابی اور صندوق کا ہے،" زاویار نے دھیمی لیکن مضبوط آواز میں کہا۔ "ہمیں فوراً یہاں سے نکلنا ہو گا!" اس سے پہلے کہ وہ دونوں پیچھے ہٹنے کا سوچتے، اس تاریک سائے نے اپنے پروں نما ہاتھوں کو ہوا میں اٹھایا۔ میوزیم میں رکھی ہوئی شیشے کی نمائش گاہیں ایک ساتھ دھماکے سے پھٹ گئیں۔ شیشے کے ٹکڑے ہوا میں تیرنے لگے اور سیدھے ان دونوں کی طرف لپکے۔ زاویار نے مہرین کو کھینچ کر ایک بھاری پتھریلی مجسمے کی اوٹ میں کیا اور خود اس کے اوپر ڈھال بن گیا۔ شیشے کے تیز دھار ٹکڑے ان کے قریب سے گزر کر دیواروں میں پیوست ہو گئے۔ اسی لمحے، مہرین کی نظر صندوق کے بالکل سامنے بنے ایک چھوٹے سے شگاف پر پڑی۔ وہ شگاف بالکل اسی چابی کی شکل کا تھا جو زاویار کے ہاتھ میں تھی! "زاویار! چابی!" مہرین نے چلا کر کہا، "تمہاری چابی اس صندوق کا تالا ہے! اسے صندوق میں لگاؤ، ورنہ یہ سایا ہمیں زندہ نہیں چھوڑے گا!" زاویار مجسمے کی اوٹ سے باہر نکلا اور تیز قدموں سے صندوق کی طرف بھاگا۔ سائے نے ایک چیخ کے ساتھ اپنا ہاتھ زاویار کی طرف بڑھایا اور دھند کا ایک تیز جھونکا زاویار سے جا ٹکراؤ، جس سے وہ لڑکھڑا کر زمین پر گرا۔ مہرین نے بغیر اپنی پروا کیے آگے بڑھ کر زاویار کا ہاتھ تھاما اور اسے سہارا دے کر اٹھایا۔ دونوں نے ایک ساتھ صندوق تک پہنچ کر چابی کو اس کے چمکتے ہوئے شگاف میں داخل کر دیا اور اسے دائیں جانب گھما دیا۔ ایک لمحے کے لیے پورا میوزیم مکمل خاموشی میں ڈوب گیا، اور پھر صندوق کے اندر سے ایک تیز، سنہری اور نیلی مخلوط روشنی کا ایسا طوفان اٹھا جس نے پورے میوزیم کو منور کر دیا۔ وہ تاریک سایا ایک دردناک چیخ کے ساتھ پیچھے ہٹا اور اس روشنی کی شدت سے ہوا میں تحلیل ہونے لگا۔ صندوق کا بھاری ڈھکن خود بخود کھل گیا، اور اس کے اندر ایک تیرتا ہوا پراسرار نقشہ موجود تھا جو ہوا میں ہولوگرام کی طرح پھیل رہا تھا—ایک ایسا نقشہ جو شہر کے نیچے چھپی ایک قدیم زیرِ زمین دنیا کا راستہ دکھا رہا تھا۔ باب 3: زیرِ زمین دنیا کا پہلا قدم میوزیم میں خاموشی چھا چکی تھی، لیکن ہوا میں اب بھی اس پراسرار روشنی کی گرمائش محسوس ہو رہی تھی۔ سنہری اور نیلی روشنی میں تیرتا ہوا وہ نقشہ ہوا میں مسلسل گھوم رہا تھا، جس پر شہر کی قدیم گلیوں کے نیچے بنی ایک خفیہ بھول بھلیوں کا راستہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ مہرین نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ آگے بڑھا کر نقشے کی روشنی کو چھونے کی کوشش کی۔ "زاویار... یہ نقشہ ہمارے شہر کا ہی ہے، لیکن یہ وہ حصہ ہے جسے تاریخ کی کتابوں سے مٹا دیا گیا تھا۔ دیکھو، یہ وہی نشان ہے جو میرے خوابوں کی حویلی کے نیچے بنا ہوتا تھا!" زاویار نے نقشے کے مرکز پر غور سے دیکھا۔ وہاں ایک قدیم محل کا چوہٹا بنا ہوا تھا جس کے اوپر "بابِ السحر" لکھا تھا۔ "اس کا مطلب ہے کہ جو سایا ابھی ہم پر حملہ آور ہوا تھا، وہ اکیلا نہیں ہے۔ وہ کسی چیز کو آزاد ہونے سے روک رہا ہے... یا شاید اس چابی اور نقشے کو حاصل کر کے اس دروازے کو کھولنا چاہتا ہے۔" اس سے پہلے کہ وہ نقشے کی مزید تفصیلات نوٹ کرتے، میوزیم کے باہر پولیس کی گاڑیوں کے سائرن کی آوازیں گونجنے لگیں۔ "ہمیں یہاں سے فوراً نکلنا ہو گا،" زاویار نے مہرین کا بازو پکڑتے ہوئے کہا۔ "اگر پولیس نے ہمیں یہاں پایا تو ہم پر تخریب کاری کا الزام لگ جائے گا، اور یہ چابی بھی وہ ضبط کر لیں گے۔" زاویار نے جیسے ہی چابی پر اپنی گرفت مضبوط کی، ہوا میں تیرتا ہوا نقشہ ایک بار پھر نیلے شراروں میں تبدیل ہوا اور چابی کے اندر ہی غائب ہو گیا۔ لیکن اب زاویار کی آنکھوں کے سامنے وہ پورا راستہ ایک تصویر کی طرح محفوظ ہو چکا تھا۔ وہ دونوں میوزیم کے پچھلے ایمرجنسی راستے سے باہر نکلے اور رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک تنگ گلی میں روپوش ہو گئے۔ "اب ہم کہاں جا رہے ہیں؟" مہرین نے اپنے کپڑوں سے گرد جھاڑتے ہوئے پوچھا۔ زاویار نے پرانے گھنٹہ گھر کی سمت اشارہ کیا۔ "شہر کے پرانے گھنٹہ گھر کے نیچے ایک قدیم نالہ اور سرنگیں ہیں۔ نقشے کا پہلا اشارہ ہمیں وہیں لے کر جاتا ہے۔" مہرین نے ایک گہرا سانس لیا اور بولی، "ٹھیک ہے... اگر اس راز کا جواب مجھے میرے عذاب بنے خوابوں سے نجات دلا سکتا ہے، تو میں تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہوں۔" باب 4: بھٹکتی سرنگیں اور پہلا امتحان زنگ آلود لوہے کا بھاری دروازہ ان کے پیچھے ایک زوردار دھماکے کے ساتھ بند ہو گیا۔ پورے غار میں گھپ اندھیرا چھا گیا، اور باہر کی تمام آوازیں لمحوں میں دم توڑ گئیں۔ زاویار نے اپنی جیب سے چابی نکالی۔ اس کی نیلی چمک اب بھی دھیمی روشنی دے رہی تھی، جس سے آگے بڑھنے کا راستہ بمشکل نظر آ رہا تھا۔ وہ دونوں احتیاط سے قدم اٹھاتے ہوئے سرنگ کی گہرائی میں اترنے لگے۔ سرنگ جگہ جگہ سے مڑ رہی تھی اور اندر جاتے ہی راستہ تین الگ الگ سمتوں میں تقسیم ہو گیا۔ "یہ تو ایک بھٹکتی بھول بھلیاں ہے،" مہرین نے کہا۔ "اگر ہم غلط راستے پر گئے تو شاید کبھی باہر نہ نکل سکیں۔" اسی لمحے، سرنگ کی چھت سے پانی کی بوندیں ٹپکنے کی آواز تیز ہو گئی۔ دیواروں پر کندہ قدیم علامتیں اچانک لال رنگ میں چمکنے لگیں اور زلزلہ سا آنے لگا۔ ان کے پیروں تلے کی زمین ہلنے لگی اور سرنگ کی چھت سے بھاری پتھر نیچے گرنے لگے۔ دیوار کے بالکل وسط میں ایک ابھرا ہوا پتھریلا تالا نمودار ہوا جس پر دو مختلف نشانات بنے تھے—ایک سورج کا اور دوسرا چاند کا۔ نیچے قدیم زبان میں لکھا تھا: "روشنی اور اندھیرا ایک ساتھ مل کر ہی راستے کی گرہ کھول سکتے ہیں۔" "یہ ایک امتحان ہے!" مہرین نے تیزی سے سوچتے ہوئے کہا۔ "زاویار، تمہاری چابی میں نیلی روشنی ہے، لیکن اسے متحرک کرنے کے لیے دوسری طاقت یعنی گرمائش چاہیے۔" زاویار نے چابی کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھ کر زور سے رگڑا اور مہرین سے کہا، "مہرین، اپنا ہاتھ اس چابی پر رکھو!" مہرین نے زاویار کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیے۔ مہرین کی سوچ اور زاویار کے عزم کا ایک عجیب سا توازن قائم ہوا۔ چابی کی نیلی روشنی میں اچانک سنہری شعاعیں شامل ہونے لگیں—جیسے سورج اور چاند ایک ساتھ طلوع ہو گئے ہوں۔ زاویار نے اس چمکتی ہوئی چابی کو سورج اور چاند والے تالے کے درمیانی شگاف میں گھما دیا۔ ایک لمحے کے لیے زلزلہ تھم گیا۔ سرخ روشنی ختم ہوئی اور سامنے کی پتھریلی دیوار دو حصوں میں تقسیم ہو کر پیچھے ہٹ گئی۔ باب 5: جھیل کا نگہبان دیوار کے ہٹنے سے کھلنے والا زیرِ زمین ہال کسی قدیم بادشاہ کے دربار کی طرح وسیع تھا۔ ہال کے بالکل بیچوں بیچ ایک نیلی جھیل تھی، جس کے درمیانی حصے میں پتھر کے ایک چبوترے پر "بابِ السحر" کا محرابی دروازہ قائم تھا—لیکن اس دروازے کے گرد پانی میں مسلسل تیز لہریں اٹھ رہی تھیں۔ زاویار اور مہرین نے جھیل کے کنارے قدم رکھا۔ اچانک جھیل کا پانی کئی فٹ اوپر اچھلا اور پانی کے طوفان کے بیچ میں سے ایک عظیم الجثہ، سانپ کی طرح لچکدار اور پتھریلی جلد والا وجود باہر نکلا۔ اس مخلوق کی گردن پر وہی نیلے رموز کندہ تھے جو زاویار کی چابی پر بنے تھے، اور اس کی آنکھیں نیلے شعلوں کی طرح جل رہی تھیں۔ یہ اس قدیم دروازے کا نگہبان (The Guardian) تھا۔ نگہبان نے ایک ہولناک چنگھاڑ کے ساتھ اپنی وزنی دم کو پانی پر مارا، جس سے پانی کی ایک تیز دیوار ان دونوں کی طرف لپکی۔ "یہ ہم پر حملہ نہیں کر رہا مہرین... یہ ہمارا امتحان لے رہا ہے!" زاویار کو اندازہ ہوا۔ "یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا ہم اس راز کے اہل ہیں یا نہیں۔ ہمیں لڑنا نہیں ہے، ہمیں اس پر اعتماد کرنا ہو گا۔" زاویار نے اپنی چابی کو ہوا میں بلند کیا اور بغیر کسی خوف کے نگہبان کے بالکل قریب، جھیل کے کنارے جا کھڑا ہوا۔ مہرین نے بھی زاویار کے برابر میں آ کر اس کا ہاتھ تھاما۔ چابی کی نیلی اور سنہری روشنی ایک بار پھر یکجا ہوئی۔ نگہبان نے اپنی گردن کو نیچے لایا اور چابی کے سامنے اپنا سر ٹکایا۔ چابی سے ایک تیز روشنی نکلی اور نگہبان کے رموز سے جا ملی۔ نگہبان نے اپنے جسم کو جھیل کے پانی میں پھیلا دیا اور ایک پل کی شکل اختیار کر لی جو کنارے سے سیدھا درمیانی چبوترے تک جاتا تھا۔ وہ دونوں احتیاط سے قدم رکھتے ہوئے نگہبان کے پتھریلے جسم کے اوپر سے گزر کر چبوترے تک پہنچ گئے۔ تالے کے ساتھ دو ہاتھوں کے نشانات کھدے ہوئے تھے—ایک مرد کا اور ایک عورت کا۔ زاویار نے چابی کو تالے میں داخل کیا اور اپنا ہاتھ مہرین کے ہاتھ کے اوپر رکھا۔ جیسے ہی انہوں نے چابی کو گھمایا، دروازے کے اندر سے ایک سفید نوری راستے کا دروازہ کھل گیا! باب 6: نوری دروازہ اور آخری مقابلہ تاریک سائے کی چیخ اتنی شدید تھی کہ زیرِ زمین ہال کی دیواریں کانپنے لگیں۔ وہی سیاہ وجود ایک بدلی کی طرح ہوا میں تیرتا ہوا سیدھا ان کی طرف لپکا تاکہ وہ چابی چھین سکے۔ "زاویار، جلدی کرو!" مہرین نے دروازے کو کھولنے کی پوری کوشش کی۔ سائے نے اپنی لمبی، دھوئیں سے بنی انگلیاں آگے بڑھائیں اور زاویار کے کلاوے پر وار کیا۔ ایک شدید ٹھنڈی لہر زاویار کے جسم میں سرایت کر گئی اور وہ درد کی شدت سے گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ "زاویار!" مہرین نے فوراً زاویار کا ہاتھ تھاما۔ اسی لمحے، جھیل کے نگہبان نے غصے سے چنگھاڑ کر سائے پر اپنی دم سے وار کیا، جس نے ان دونوں کو چند سیکنڈ کا موقع دے دیا۔ زاویار نے اپنی تمام تر ہمت جمع کی اور مہرین کی آنکھوں میں دیکھا। "ہم اسے یہ راز حاصل نہیں کرنے دیں گے!" زاویار نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ زاویار اور مہرین نے ایک ساتھ تالے پر رکھی چابی کو اپنی پوری طاقت سے اخری حد تک گھما دیا۔ ایک چمکیلا، سنہری اور نیلا نور کا دھماکہ ہوا۔ نوری دروازہ مکمل طور پر کھل گیا اور اس کے اندر سے نکلنے والی شدید روشنی نے تاریک سائے کو اپنی لپیٹ میں لے کر ہوا میں تحلیل کر دیا۔ "اندر چلو!" زاویار نے مہرین کا ہاتھ پکڑا اور دونوں نے نوری دروازے کے اندر چھلانگ لگا دی۔ باب 7: جامنی آسمان اور قدیم محل نوری دروازے کو عبور کرتے ہی تمام خوفناک آوازیں بالکل ختم ہو گئیں۔ زاویار اور مہرین ایک ایسی دنیا میں آ چکے تھے جہاں زمین پر گھاس کے بجائے نیلے رنگ کے چمکتے ہوئے کرسٹل بچھے تھے اور آسمان جامنی رنگ کی روشنی سے نہایا ہوا تھا۔ سامنے ایک انتہائی عظیم الشان محل کھڑا تھا۔ وہ دونوں محل کی بلند سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگے، لیکن جیسے ہی انہوں نے پہلا قدم رکھا، محل کے مرکزی دروازے پر لگے دو دیو ہیکل پتھریلے مجسمے حرکت میں آ گئے اور ان کی تلواریں راستہ روکنے کے لیے آگے بڑھیں۔ "ٹھہر جاؤ!" ایک مجسمے کی گرجدار آواز گونجی۔ "صرف وہی اس محل میں داخل ہو سکتا ہے جس کے پاس روح کا توازن ہو!" زاویار نے قدم آگے بڑھایا، "ہمارے پاس چابی ہے، ہم اس راز کے وارث ہیں۔" مہرین نے زاویار کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔ "ہم دونوں کا مقصد صرف سچائی کو تلاش کرنا ہے، کسی طاقت کو حاصل کرنا نہیں۔" ان کے دلوں کی سچائی کا احساس ہوتے ہی مجسموں نے اپنی تلواریں ہٹا لیں اور محل کا بھاری دروازہ خود بخود کھل گیا۔ محل کے اندر ایک بڑا بلوریں تخت (Crystal Throne) نظر آیا، جس پر ایک پردہ دار سایہ بیٹھا ہوا تھا۔ باب 8: بلوریں تخت اور حقیقت کا انکشاف بلوریں تخت پر بیٹھا پردہ دار سایہ دھیمے سے حرکت میں آیا اور اس کے گرد موجود دھند چھٹنے لگی۔ وہ ایک نورانی چہرے والی بزرگ شخصیت تھی، جس کی آنکھوں میں صدیوں کا علم اور سکون تھا۔ "خوش آمدید، قسمت کے چنے ہوئے مسافرو،" اس وجود کی دھیمی آواز گونجی۔ "میں اس سلطنت کا محافظ ہوں۔" مہرین نے پوچھا، "مجھے ہی یہ خواب کیوں آتے تھے؟ زاویار کی چابی کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟" محافظ نے مسکرا کر کہا، "مہرین... تمہارا تعلق اس قدیم سلطنت کے شاہی ماہرینِ فلکیات کے خاندان سے ہے، جبکہ زاویار کے آباؤ اجداد اس دنیا کے چابی بردار تھے۔ تاریک طاقتوں نے جب اس سلطنت کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تو تمہارے آباؤ اجداد نے اس دنیا کو بند کر دیا اور چابی زاویار کے خاندان کے سپرد کی۔" زاویار نے پوچھا، "اور وہ کالا سایا؟" "وہ سایا تاریک بادشاہ کا بھیجا ہوا ایک ہرکارہ تھا جو اس دنیا کا 'دل'—یعنی 'کرسٹل آف ڈسٹینی' (Crystal of Destiny) چھیننا چاہتا تھا،" محافظ کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا۔ "محافظ نے تخت کے نیچے بنے گنبد کو کھولا جہاں ایک خوبصورت کرسٹل تیر رہا تھا، لیکن اس کے گرد تاریک لکیریں بن رہی تھیں۔" باب 9: تاریکی کا محاصرہ اور کرسٹل کی بیداری بلوریں تخت کا ہال ایک دم سائیں سائیں کرنے لگا۔ "کرسٹل آف ڈسٹینی" جس سے لمحہ بہ لمحہ دلکش سنہری اور نیلی شعاعیں نکل رہی تھیں، اب تیزی سے تھرتھرا رہا تھا- اس کے گرد چھائی ہوئی سیاہ، زہریلی لکیریں گہری ہوتی جا رہی تھیں جیسے کوئی مخفی زہر اس کی تمام تر روشنی کو نگلنے پر تلا ہو۔ محافظ کا چہرہ شدید تشویش میں ڈھل گیا۔ اس نے اپنا نورانی عصا زمین پر مارا، جس سے ایک بھاری آواز پورے محل کے در و دیوار میں لہرا گئی۔ "وقت ختم ہو چکا ہے،" محافظ نے کہا۔ "تاریک بادشاہ کا کمانڈر 'ارمان’ بیرونی فصیل کو توڑ چکا ہے۔ وہ اب اس ہال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے آنے سے پہلے اگر تم دونوں نے اس کرسٹل کی اصل طاقت کو بیدار نہ کیا، تو نہ صرف یہ دنیا ہمیشہ کے لیے تاریکی میں ڈوب جائے گی، بلکہ تم دونوں کا اوپر کی دنیا میں واپس لوٹنے کا ہر راستہ بند ہو جائے گا۔" زاویار نے مہرین کی طرف دیکھا۔ مہرین نے محافظ سے پوچھا، "ہم اسے کیسے بیدار کر سکتے ہیں؟" محافظ نے کہا، "کرسٹل دو مختلف روحوں کے کامل توازن اور سچی لگن سے بیدار ہوتا ہے۔ مہرین، تم اس کی قدیم زبان کو سمجھتی ہو، اور زاویار کے پاس محافظوں کا عزم ہے۔ تم دونوں کو اپنے ہاتھوں کی توانائی کو کرسٹل سے جوڑنا ہو گا۔" ابھی الفاظ مکمل ہی ہوئے تھے کہ محل کے دیو ہیکل نوری دروازے ایک ہولناک دھماکے کے ساتھ اندر کی طرف آ گڑے۔ دھوئیں کے بیچ میں سے ایک دیو ہیکل، نائٹ کے زرہ بکتر میں ملبوس وجود نمودار ہوا—یہ "ارمان" تھا! اس کے ہاتھ میں ۱۰ فٹ لمبی سیاہ تلوار تھی اور اس کے پیچھے درجنوں سیاہ سائے تھے۔ "تو... یہی وہ دو بچے ہیں جو میری فتح کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں؟" ارمان کی آواز گونجی۔ "یہ کرسٹل اب تاریک سلطنت کی ملکیت بنے گا!" ارمان نے محافظ پر حملہ کیا، جبکہ اس کے بھیجے ہوئے سیاہ سائے زاویار اور مہرین کی طرف لپکے۔ مہرین نے نچلے چبوترے پر پڑے ایک قدیم دھاتی پرچم سے پہلے سائے کو راکھ میں بدل دیا، جبکہ زاویار نے اپنی چابی سے نکلنے والی نوری شمشیر سے باقی سایوں کا خاتمہ کر دیا۔ زاویار اور مہرین کرسٹل کے بالکل قریب پہنچ گئے۔ کرسٹل اب تقریباً پورا سیاہ ہو چکا تھا، صرف اس کا مرکز ایک چھوٹے سے نیلے نقطے کی طرح دھیما دھڑک رہا تھا۔ مہرین نے اپنے دونوں ہاتھ کرسٹل کے دائیں جانب رکھے۔ زاویار نے اپنی چابی کو کرسٹل کے اوپر بنے باریک شگاف میں پیوست کیا اور اپنا بایاں ہاتھ مہرین کے ہاتھوں کے اوپر رکھ دیا۔ "ہم ڈریں گے نہیں... ہم اس دنیا کو اور اپنی دنیا کو بچائیں گے!" زاویار نے پکارا۔ ارمان نے تلوار اٹھائی اور پرواز کرتے ہوئے ان پر نازل ہونے کے لیے لپکا، لیکن ٹھیک اسی لمحے، زاویار اور مہرین کے اتحاد نے کرسٹل کو مکمل بیدار کر دیا۔ کرسٹل کا کالا خول ایک دھماکے کے ساتھ پاش پاش ہو گیا! ایک لا محدود سفید، نیلا اور سنہری نور کا طوفان اس کرسٹل سے پھوٹا جس نے سیکنڈ کے سوویں حصے میں ارمان اور اس کی تمام سیاہ فوج کو نابود کر دیا۔ باب 10: آخری فیصلہ اور نیا سفر (اختتام) نور کے عظیم طوفان کے بعد بلوریں محل کے ہال میں ایک پُرشور خاموشی چھا چکی تھی۔ ارمان اور اس کی تاریک فوج کا وجود یوں مٹ چکا تھا جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ فضا میں اب صندل اور پھولوں کی وہ دھیمی خوشبو رچ بس گئی تھی جو اس قدیم سلطنت کی اصل پہچان تھی۔ محافظ نے اپنے نورانی عصا کا سہارا لے کر کھڑا ہوا اور انتہائی عزت و احترام سے زاویار اور مہرین کی طرف بڑھا۔ "تم نے وہ کر دکھایا جو صدیوں سے کوئی نہ کر سکا۔ تم نے نہ صرف اس سلطنت کی روح کو بیدار کیا بلکہ دونوں دنیاؤں کو ایک بہت بڑے تباہ کن فتنے سے بچا لیا۔" محافظ نے اپنے عصا سے ہوا میں اشارہ کیا۔ بلوریں تخت کے پیچھے دو الگ الگ پرنور راستے نمودار ہو گئے۔ "پہلا راستہ تم دونوں کو اس قدیم سلطنت کے حاکم اور اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز کرتا ہے۔ تم چاہو تو اپنی انسانی دنیا کو چھوڑ کر یہاں کی پرسکون اور لا فانی دنیا کے مستقل حکمران بن سکتے ہو۔ دوسرا راستہ تم دونوں کو تمہاری اسی عام، فانی اور انسانوں کی دنیا میں واپس لے جائے گا۔" زاویار اور مہرین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ زاویار نے قدم آگے بڑھایا اور کہا: "ہماری اصل حقیقت، ہمارے فرض اور ہماری ذمہ داریاں اوپر کی دنیا میں ہیں۔ ہم کوئی بادشاہت یا غیر معمولی طاقت حاصل کرنے نہیں آئے تھے، ہم صرف سچائی کی تلاش میں آئے تھے۔" مہرین نے بھی تائید کی: "ہم اپنی عام زندگی میں ہی خوش ہیں۔" محافظ نے مسکرا کر چابی کو "کرسٹل آف ڈسٹینی" میں پیوست کر دیا، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی۔ پھر اس نے دوسرا راستہ روشن کر دیا۔ ایک شدید مگر پرسکون روشنی کا جھٹکا لگا... جب زاویار کی آنکھیں کھلیں، تو صبح کی پہلی کرنیں پرانے گھنٹہ گھر کی گلیوں پر پڑ رہی تھیں۔ چڑیاں چہچہا رہی تھیں اور شہر کی عام زندگی معمول کے مطابق شروع ہو رہی تھی۔ ان کے کپڑوں پر مٹی کے نشانات اب بھی موجود تھے، لیکن ان کے دلوں میں کوئی خوف نہیں تھا۔ "تو... سب کچھ ختم ہو گیا؟" مہرین نے صبح کی تازہ ہوا میں سانس لیتے ہوئے زاویار سے پوچھا۔ زاویار نے مہرین کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا: "خوف اور اندھیرے کا سفر ختم ہو گیا ہے مہرین... لیکن ہماری زندگی کا ایک نیا باب اب یہاں سے شروع ہوتا ہے۔" مہرین نے بھی کھل کر مسکرایا، اور وہ دونوں ایک ساتھ اپنے گھروں کی طرف بڑھ گئے—نہ صرف ایک عظیم راز کے محافظ بن کر، بلکہ ایک دوسرے کے دائمی ساتھی بن کر۔ (کتاب مکمل ہوئی۔)

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

All the Ways We Sin: A Diverse Collection of Erotica Tales

read
9.8K
bc

Steamy S*x Stories

read
182.1K
bc

Crazy Pleasure

read
27.1K
bc

Lustful Desires(erotic Stories Compilation)

read
82.1K
bc

30 WILD EPIC SEXCAPADES COMPILATION’s.

read
56.8K
bc

The Mafia’s Princess

read
72.5K
bc

Dirty Desires: The Wildest Stories Ever Told

read
17.7K

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook